لاہور میں بیوی سے غیر فطری سیکس: عدالت کا تاریخی فیصلہ
لاہور کی ایک اینٹی ریپ کورٹ نے بیوی کے ساتھ غیر فطری سیکس سے متعلق ایک مقدمے میں مجرم محمد فاروق کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالتی فیصلے کی تفصیلات یہ فیصلہ جمعے کو لاہور کی خصوصی عدالت برائے اینٹی ریپ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفریاب چدھڑ نے سنایا ہے۔

لاہور کی ایک اینٹی ریپ کورٹ نے بیوی کے ساتھ غیر فطری سیکس سے متعلق ایک مقدمے میں مجرم محمد فاروق کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
یہ فیصلہ جمعے کو لاہور کی خصوصی عدالت برائے اینٹی ریپ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفریاب چدھڑ نے سنایا ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر محمد فاروق کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سناتے ہوئے پابند کیا ہے کہ انھیں 50 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
سزا کی تفصیلات
تاہم جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید مزید بھگتنا ہوگی۔ عدالت نے مجرم کو یہ حکم دیا کہ وہ تین لاکھ روپے معاوضہ اپنی سابقہ بیوی کو ادا کرنے کے بھی پابند ہیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق واقعے کے بعد میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے۔
- 10 سال قید کی سزا
- 50 ہزار روپے جرمانہ
- تین لاکھ روپے معاوضہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ مجرم کو دورانِ ٹرائل جیل میں گزارے گئے وقت کا فائدہ دیا جائے گا۔
لاہور کی ایک اینٹی ریپ کورٹ کے اس تاریخی فیصلے پر وطن نیوز کی ویب سائٹ پر تفصیلی رپورٹیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
