مجتبیٰ خامنہ ای: ایرانی رہبر اعلیٰ کی چुपی اور امریکہ، اسرائیل کے خلاف اتحاد کی اپیل
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہوں۔ تحریری پیغام اور عوامی تقریر کی عدم موجودگی یہ پیغام ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جن میں ان

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہوں۔
تحریری پیغام اور عوامی تقریر کی عدم موجودگی
یہ پیغام ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے جن میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی چوٹیں شدید نوعیت کی تھیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اتحاد کی ضرورت
ارنا کے مطابق، ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں خامنہ ای نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کو ’حقیقی دشمن کو پہچاننا، اس کی سازشوں کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا‘ چاہیے، اور ان کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب تھا۔
- امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اتحاد کی ضرورت
- خطے کی رہنماؤں کو حقیقی دشمن کو پہچاننا اور اس کا مقابلہ کرنا
- ایرانی عوام کو اپنے درمیان اختلافات پیدا نہ ہونے دیں
مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل صرف اسلامی جمہوریہ ایران اور ’محورِ مزاحمت‘ کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے تمام اسلامی ممالک کے بھی مخالف ہیں۔
ان کی تقرری کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب تمام بیانات تحریری صورت میں ہی جاری ہوئے ہیں۔ وہ اب تک عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے، جبکہ ایرانی حکام نے ان کی کوئی تصویر، آڈیو یا ویڈیو بھی جاری نہیں کی۔ اس صورتحال نے ان کی صحت اور ملک کے معاملات پر ان کے عملی کنٹرول کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ وطن نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سیاسی حالات ابھی بھی غیر یقینی ہیں۔
