لاؤس کے شہر بان کیون میں ایک نئے چینی فوجی اڈے پر سیٹلائٹ تصاویر نے حملے کے طیاروں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ یہ اڈہ چین کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے مین لینڈ میں فضائی فورس کا پہلا قدم ہے، جس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔
- چین نے لاؤس میں ایک نیا مشترکہ ‘سپورٹ اور ٹریننگ سینٹر’ قائم کیا ہے۔
- سیٹلائٹ تصاویر میں آٹھ ‘Y-8’ طرز کے ہلکے حملے والے طیارے نظر آ رہے ہیں۔
- یہ اڈہ چین کے لیے جنوب مشرقی ایشیا میں فضائیہ کا پہلا بڑا فوجی مرکز ہے۔
- چین کا کہنا ہے کہ یہ مرکز کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے۔
نئے فوجی اڈے کی تفصیلات
لاؤس کے دارالحکومت وینتیان سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع بان کیون ایئرپورٹ گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر توسیع کا شاہد رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جو 7 اکتوبر 2026 کو لی گئیں، ان میں نئے تعمیر شدہ ڈھانچے اور ایک پختہ رن وے نظر آ رہا ہے، جبکہ چند ماہ قبل یہاں صرف کھیت اور کچے راستے تھے۔ ان تصاویر میں آٹھ ‘Y-8’ طرز کے ہلکے حملے والے طیارے دیکھے گئے ہیں، جنہیں بم گرانے کی صلاحیت رکھنے والے دو سیٹوں والے تربیتی طیارے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان طیاروں کے ساتھ درجنوں فوجی گاڑیاں بھی قطاروں میں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔
چین کا دعویٰ اور علاقائی خدشات
چین کی وزارت دفاع نے 29 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ یہ نیا مرکز لاؤس کی فضائیہ کے پائلٹوں کی تربیت کو بہتر بنانے میں مدد دے گا اور اس کا مقصد کسی بھی تیسرے فریق کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ تاہم، علاقائی حکومتیں اس اڈے کے ممکنہ فوجی مقاصد اور تعیناتیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ جنوب مشرقی ایشیا میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کا پہلا مکمل فوجی اڈہ ہو سکتا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی فوجی توسیع
چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں بحیرہ جنوبی چین کے تنازعہ والے جزائر پر ایئر بیسز سمیت فوجی تنصیبات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، بحری بیڑے کا واحد سمندری فوجی اڈہ افریقہ کے قرن کے ساحل پر واقع جبوتی میں ہے۔ لاؤس کا یہ معاہدہ کمبوڈیا میں بحری اڈے ریئم پر قائم اسی طرح کے پروگرام کے بعد سامنے آیا ہے، حالانکہ اس سہولت میں رن وے شامل نہیں ہے۔
نئے اڈے کی صلاحیتیں
بان کیون ایئرپورٹ پر جاری تعمیراتی کام مستقبل میں رن وے کی توسیع پر مرکوز نظر آتا ہے، جس سے یہ بمبار طیاروں جیسے بڑے طیاروں کو سنبھالنے کے قابل ہو سکتا ہے۔
توسیعی منصوبے اور ممکنہ اثرات
سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والے وسیع پیمانے پر تعمیراتی کام سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مستقبل میں رن وے کو مزید طویل کیا جائے گا۔ اس توسیع سے نہ صرف چھوٹے حملے والے طیارے بلکہ بڑے اور بھاری بمبار طیارے بھی یہاں اتر سکیں گے، جس سے اس اڈے کی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
دیگر ممالک کا ردعمل
سنگاپور میں مقیم سیکیورٹی تجزیہ کار کولن کوہ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنوب مشرقی ایشیا میں PLA کا پہلا مکمل فوجی اڈہ سمجھا جا سکتا ہے۔ دیگر ممالک اس اڈے سے متعلق کسی بھی قسم کی تعیناتی یا دفاعی سازوسامان کی تنصیب پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو چین کے وسیع تر فوجی عزائم کی عکاسی کر سکتی ہے۔
چین کی سمندری اور زمینی فوجی موجودگی
چین کی فوجی موجودگی کا زیادہ تر حصہ بحیرہ جنوبی چین کے جزائر پر مرکوز ہے، جہاں اس نے کئی ایئر بیسز اور دفاعی تنصیبات قائم کی ہیں۔ جبوتی میں اس کا واحد سمندری لاجسٹکس بیس ہے۔ لاؤس میں یہ نیا اڈہ اس کی زمینی فوجی توسیع کی ایک نئی جہت کھولتا ہے۔
نتیجہ
لاؤس میں نئے چینی فوجی اڈے پر سیٹلائٹ تصاویر سے حملے کے طیاروں کی موجودگی کا انکشاف علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ چین نے اسے تربیتی مرکز قرار دیا ہے، لیکن اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور ممکنہ اثرات پر علاقائی اور بین الاقوامی برادری کی گہری نظر رہے گی۔ یہ اڈہ جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی رسائی کا ایک اور ثبوت ہے۔

























