نیپال میں سکول ٹیچر کی حاضر دماغی: 900 بچوں کی جانیں بچ گئیں
نیپال میں ایک ہیڈ ٹیچر کی حاضر دماغی کی بدولت سیلاب آنے سے چند منٹ قبل 900 بچوں کی جانیں بچا لی گئیں۔ نیپال کے نوواکوٹ کے تری بھوون تریشولی سیکنڈری سکول کے پرنسپل راجیندر داؤدی نے وطن نیوز کو بتایا کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 10 منٹ پر چار

نیپال میں ایک ہیڈ ٹیچر کی حاضر دماغی کی بدولت سیلاب آنے سے چند منٹ قبل 900 بچوں کی جانیں بچا لی گئیں۔ نیپال کے نوواکوٹ کے تری بھوون تریشولی سیکنڈری سکول کے پرنسپل راجیندر داؤدی نے وطن نیوز کو بتایا کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 10 منٹ پر چار فون کالز موصول ہوئیں جن میں اس قدرتی آفت سے خبردار کیا گیا تھا۔
سیلاب کی پیش گوئی اور فوری کارروائی
راجیندر داؤدی نے کہا کہ ’اگر ہم نے فوری فیصلہ نہ کیا ہوتا اور 10 منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو آج نہ طلبہ اور نہ ہی میں آپ سے بات کرنے کے قابل ہوتے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ایک سٹوڈنٹ کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ بڑا سیلاب آنے والا ہے، میں اپنی بیٹی کو لینے آیا ہوں اور اسے ساتھ لے جاؤں گا۔‘
بچوں کی منتقلی اور سکول کی تباہی
ان کا کہنا تھا کہ ’والدین کسی بڑی وجہ کے بغیر اس طرح عجلت میں نہیں آتے اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ بچوں کو نکالنے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بدھ کو اس سیلاب نے نیپال کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس آفت کے نتیجے میں کم از کم 2,426 افراد لاپتہ ہیں جبکہ سکول کی عمارت مٹی اور ملبے تلے دب گئی۔
سیلاب کے اثرات اور امدادی کارروائیاں
گذشتہ ہفتے نیپال میں اس اچانک آنے والے سیلاب میں اب تک کم از کم 919 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ راجیندر داؤدی نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سیلاب نہ بھی آتا تو زیادہ سے زیادہ ایک دن کی پڑھائی متاثر ہوتی۔ مجھے فخر ہے کہ ہم اتنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔‘
- 900 بچوں کی جانیں بچ گئیں
- سیلاب کی پیش گوئی اور فوری کارروائی
- سکول کی عمارت مٹی اور ملبے تلے دب گئی
راجیندر داؤدی نے کہا کہ ’اگر ہم نے فوری فیصلہ نہ کیا ہوتا اور 10 منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو آج نہ طلبہ اور نہ ہی میں آپ سے بات کرنے کے قابل ہوتے۔‘
