کراچی: 05 اکتوبر 2026 کو کراچی کے علاقے سائٹ میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی شدید آگ — کراچی گارمنٹ فیکٹری آگ — پر چار گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم آگ نے فیکٹری کی دوسری منزل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں پلاسٹک کا سامان ذخیرہ تھا۔
آگ پر قابو پانے کی کارروائی
چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔ آگ رات 11:20 بجے کے قریب حبیب بینک چورنگی کے قریب واقع فیکٹری میں لگی۔
- 12 فائر ٹینڈرز، ایک اسنارکل، تین واٹر باؤزرز اور چھ واٹر ٹینکرز کو آگ بجھانے کے لیے تعینات کیا گیا۔
- فوم کا استعمال بھی آگ پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوا۔
- کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) نے 150,000 گیلن سے زائد پانی فراہم کیا۔

کراچی گارمنٹ فیکٹری آگ کی شدت اور پھیلاؤ
فیکٹری کی دوسری منزل پر پلاسٹک کے دانوں، پلاسٹک رولز، ربڑ اور فائبر جیسے آتش گیر مواد کی موجودگی کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی اور شدت اختیار کر گئی۔ ان مواد میں شاپنگ بیگ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک کے دانے بھی شامل تھے۔
ریسکیو آپریشن میں معاونت
فائر فائٹرز کو ابتدائی طور پر فیکٹری میں موجود آتش گیر مواد کی وجہ سے آگ سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ریسکیو آپریشن میں پاکستان رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا اور جائے وقوعہ پر سیکیورٹی کو یقینی بنایا۔
جانی نقصان سے بچاؤ
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت کچھ افراد فیکٹری میں موجود تھے تاہم وہ فوری طور پر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران کوئی بھی شخص فیکٹری کے اندر موجود نہیں تھا۔
آگ لگنے کی وجوہات
ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ حکام کے مطابق کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد ہی آگ لگنے کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔
کراچی میں فیکٹریوں میں آگ کے واقعات
کراچی میں صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں اور دیگر کمرشل عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات تسلسل کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں۔ 2025 میں شہر میں 2,400 سے زائد آگ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ شہر میں صرف 28 فائر اسٹیشن موجود ہیں۔
نتیجہ
کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی شدید آگ پر چار گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فیکٹری کے اندر موجود آتش گیر مواد کی وجہ سے آگ نے شدت اختیار کر لی تھی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی میں فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کراچی میں فیکٹریوں میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔ شہر میں فائر اسٹیشنوں کی ناکافی تعداد اور حفاظتی معیارات پر عملدرآمد میں کوتاہی جیسے مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ صنعتی علاقوں میں حفاظتی تدابیر کو سخت کریں اور فائر فائٹنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
پاکستان کی مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔
























