اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کا مقصد افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا جانا تھا۔
اقوام متحدہ کی قرارداد اور انڈیا کی حمایت
اس ووٹنگ کے دوران امریکہ واحد ملک تھا جس نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی جبکہ فرانس، برطانیہ اور انڈیا سمیت 164 ممالک کے ووٹ اس تجویز کی حمایت میں آئے۔ تاہم اس نقشے میں انڈیا کی جغرافیائی حدود کو مختلف انداز میں دکھائے جانے کی بات کھلنے پر اب اس نئے نقشے نے ایک تنازعے کو جنم دے دیا اور اس بحث کی گونج سوشل میڈیا پر بھی سنائی دی۔
انڈیا کی تنازعہ خیز پوزیشن
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے سے متعلق تنازعے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی ’غلط‘ یا ’گمراہ کن‘ نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا۔
- انڈیا نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا لیکن اب نئے نقشے پر اعتراض کر رہا ہے۔
- انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چار ستمبر کو مساوی رقبے کے عالمی نقشے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ اس کا مقصد ایسے نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے جو براعظموں کے زمینی حجم کو محفوظ رکھتے ہوں۔ – رندھیر جیسوال، وزارتِ خارجہ کے ترجمان














