جرمنی کے شہر میونخ میں جاری دنیا کے سب سے بڑے بیئر فیسٹیول، اوکٹوبر فیسٹ میں خواتین کو اپ اسکرٹنگ سے بچانے کے لیے ایک انوکھا اقدام کیا گیا ہے۔ مشہور تفریحی رائڈ تیوفلسراڈ کی 80 سالہ آپریٹر ایلیسبتھ پولازی لباس پہنے خواتین اور لڑکیوں کو مفت سائیکلنگ شارٹس تقسیم کر رہی ہیں، تاکہ ہجوم میں موجود افراد ان کی خفیہ فلم بندی نہ کر سکیں۔
یہ قدم اس وقت سامنے آیا ہے جب جرمن صحافیوں کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف میٹا پلیٹ فارمز پر اس رائڈ سے منسلک 32,000 سے زائد اپ اسکرٹنگ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں سے کچھ کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ جرمنی میں 2020 سے اپ اسکرٹنگ ایک جرم ہے جس کی سزا جرمانے یا دو سال تک قید ہو سکتی ہے، لیکن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون ناکافی ہے۔
اس خبر کو وطن نیوز پر پڑھیں۔ مزید عالمی خبریں یہاں ملاحظہ کریں۔
اہم نکات
- واقعہ: میونخ کے اوکٹوبر فیسٹ میں تیوفلسراڈ (دیول کا پہیہ) نامی رائڈ کی آپریٹر ایلیسبتھ پولازی خواتین اور لڑکیوں کو مفت سائیکلنگ شارٹس دے رہی ہیں تاکہ اپ اسکرٹنگ کی خفیہ فلم بندی روکی جا سکے۔
- پیمانہ: گزشتہ تین سال سے یہ سلسلہ جاری ہے؛ اس سال کے میلے میں اب تک 100 سے زائد جوڑے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ پولازی کی عمر 80 سال ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔
- تحقیقات: جرمن اخبار زود ڈوئچے زیتونگ کے مطابق صرف میٹا پلیٹ فارمز پر 32,000 سے زائد ویڈیوز پائی گئیں۔ نشریاتی ادارے بی آر کی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ان ویڈیوز کے پیچھے یوکرین کے پیشہ ور یوٹیوبرز اور باویریا کے چند افراد تھے؛ ایک خاتون نے ایک ہی ویڈیو سے 9,000 یورو کمائے۔
- قانون: جرمنی میں 2020 سے اپ اسکرٹنگ جرم ہے؛ سزا جرمانہ یا دو سال تک قید ہو سکتی ہے۔ باویریا کی پولیس 2025 سے میلے میں وارننگ پوسٹرز کی مہم چلا رہی ہے۔
- گرفتاریاں: اس سال ایک 45 سالہ سوئس شہری کو ایک جرمن خاتون کے ڈرنڈل کے نیچے فلم بندی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ 2025 میں اپ اسکرٹنگ کے 10 اور 2024 میں 7 افراد گرفتار ہوئے تھے۔
اوکٹوبر فیسٹ: تیوفلسراڈ رائڈ اور اپ اسکرٹنگ کا مسئلہ
تیوفلسراڈ، یعنی دیول کا پہیہ، اوکٹوبر فیسٹ کی سب سے پرانی اور مشہور رائڈز میں سے ایک ہے۔ اس میں ایک بڑا گول پلیٹ فارم تیزی سے گھومتا ہے اور شرکاء کو اس پر زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ تیز گردش کے دوران خواتین کے روایتی ڈرنڈل لباس اکثر اوپر اڑ جاتے ہیں، اور یہی لمحہ خفیہ فلم بندی کرنے والوں کا ہدف بن گیا ہے۔
جرمن صحافیوں کی تحقیقات کے مطابق ان ویڈیوز میں اکثر خواتین کے زیر جامہ نظر آتے ہیں اور کچھ ویڈیوز کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ یہ انکشاف جرمنی میں اپ اسکرٹنگ کے خلاف قوانین کے نفاذ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر جب جدید ٹیکنالوجی اس بدسلوکی کو آسان بنا رہی ہے۔
80 سالہ رائڈ آپریٹر کا اقدام: مفت سائیکلنگ شارٹس
ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد رائڈ کی آپریٹر ایلیسبتھ پولازی نے خواتین اور لڑکیوں کو مفت سائیکلنگ شارٹس دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ گزشتہ تین سال سے یہ کام کر رہی ہیں اور اس سال کے میلے میں اب تک 100 سے زائد جوڑے تقسیم کر چکی ہیں۔
پولازی کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ان کے مطابق شارٹس عطیہ کرنا سستا نہیں، لیکن ان کی اپنی ذہنی سکون کے لیے یہ قیمت قابل قدر ہے۔ رائڈ کے خیمے میں جرمن اور انگریزی زبان میں سائن بورڈز اور پولیس کے پوسٹرز لگے ہیں جو اسکرٹ کے نیچے فلم بندی سے خبردار کرتے ہیں، تاہم پولازی کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون سے فلم بندی کرنے والے ہر شخص کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ میلے میں کام کرنے والی کچھ ویٹریسوں نے بھی اپنے ڈرنڈل کے نیچے سائیکلنگ شارٹس پہننا شروع کر دیے ہیں۔

میلے کے علاقے میں باویریا کی پولیس اور اپ اسکرٹنگ کے خلاف وارننگ پوسٹرز۔ پولیس 2025 سے اس مہم کو چلا رہی ہے۔
قانون اور پولیس کی کارروائی
جرمنی میں 2020 سے اپ اسکرٹنگ، یعنی کسی کی رضامندی کے بغیر اس کے اسکرٹ کے نیچے سے خفیہ طور پر فلم بنانا یا تصویر لینا، ایک جرم ہے۔ اس کی سزا جرمانے یا دو سال تک قید ہو سکتی ہے۔ باویریا کی پولیس کے ترجمان کے مطابق 2025 سے اوکٹوبر فیسٹ میں اپ اسکرٹنگ کے خلاف خبردار کرنے والے پوسٹرز لگائے جا رہے ہیں۔
اس سال کے میلے میں پولیس نے ایک 45 سالہ سوئس شہری کو ایک جرمن خاتون کے ڈرنڈل کے نیچے موبائل فون سے فلم بندی کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ گزشتہ سال 2025 میں اپ اسکرٹنگ کے 10 افراد گرفتار ہوئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 7 تھی۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کچھ وکلاء کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون اس بدسلوکی کو روکنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ یہ صرف اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب اسکرٹ کے نیچے سے فلم بنائی جائے، نہ کہ جب لباس قدرتی طور پر اوپر اڑ جائے۔
آن لائن ویڈیوز کا نیٹ ورک اور مالی منافع
میونخ کے روزنامے زود ڈوئچے زیتونگ کی تحقیق کے مطابق صرف میٹا پلیٹ فارمز پر تیوفلسراڈ سے منسلک 32,000 سے زائد ویڈیوز پائی گئیں، جن میں سے کچھ کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا اور کچھ میں ڈیجیٹل ترمیم بھی کی گئی تھی۔
جرمن نشریاتی ادارے بی آر کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ان ویڈیوز کے پیچھے یوکرین کے پیشہ ور یوٹیوبرز کا ایک گروپ اور باویریا کے چند افراد تھے، جنہوں نے ان خفیہ ریکارڈنگز سے ہزاروں یورو کمائے۔ ایک خاتون نے صرف ایک ویڈیو سے 9,000 یورو کمائے۔ اس تناظر میں میونخ کی انتظامیہ نے میلے سے براہ راست نشریات پر پابندی لگا دی ہے اور وہاں فلم بندی کے خواہش مند افراد کو فیس کے عوض اجازت نامہ لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔



























