LIVE
اہم خبر
برطانیہ اور فرانس کا تارکین وطن کے تبادلے کا معاہدہ ختمجنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کارکراچی: منشیات کے عادی اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 38 افراد گرفتاراسرائیلی طیارے کو حادثے سے بچانے کی کوشش، پائلٹ گرفتاریورپ 2030 تک کمزور رہے گا، ڈچ چیف آف ڈیفنس کا انتباہافریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعاتپاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگابیلجیم کا انتباہ: روس کی ہائبرڈ جنگ سے یورپ کیلئے تاریک موسم سرماپاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: طارق తారرسمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہٹرمپ کا بڑا اعلان: ٹاپ ٹیکنالوجی فرمز نے AI کی خود نگرانی پر اتفاق کیااسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیںجنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ، 3 زخمیآسٹریلیا: ایندھن کی قیمتیں اور سبسڈی ختم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، چیلنجرز کا الزاماے بی سی کے معروف صحافی ایلن کولر ریٹائر، وزیر خزانہ کا خراج تحسینعالمی آلودگی: ہیٹ ویوز اور جنگلاتی آگ سے اوزون کی سطح خطرناک حد تک بلندآسٹریلیا کی 6 یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں، ایلن کولر ریٹائربرطانیہ اور فرانس کا تارکین وطن کے تبادلے کا معاہدہ ختمجنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کارکراچی: منشیات کے عادی اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 38 افراد گرفتاراسرائیلی طیارے کو حادثے سے بچانے کی کوشش، پائلٹ گرفتاریورپ 2030 تک کمزور رہے گا، ڈچ چیف آف ڈیفنس کا انتباہافریقہ کے امیر ترین شخص کی کینیا میں آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد، زمین کے تنازعاتپاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگابیلجیم کا انتباہ: روس کی ہائبرڈ جنگ سے یورپ کیلئے تاریک موسم سرماپاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: طارق తారرسمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہٹرمپ کا بڑا اعلان: ٹاپ ٹیکنالوجی فرمز نے AI کی خود نگرانی پر اتفاق کیااسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیںجنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ، 3 زخمیآسٹریلیا: ایندھن کی قیمتیں اور سبسڈی ختم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، چیلنجرز کا الزاماے بی سی کے معروف صحافی ایلن کولر ریٹائر، وزیر خزانہ کا خراج تحسینعالمی آلودگی: ہیٹ ویوز اور جنگلاتی آگ سے اوزون کی سطح خطرناک حد تک بلندآسٹریلیا کی 6 یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں، ایلن کولر ریٹائر
دنیا

جنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کار

usman javedشائع شدہ 30 ستمبر، 2026
جنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کار
خصوصی کوریج: جنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کار / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

امریکا میں ایک حالیہ مقدمے نے جنسی زیادتی کے کیسز میں پولیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر پولیس اہلکاروں کو متاثرین کے ساتھ ٹراما سے متعلق آگاہی کے ساتھ تفتیش کرنے کی تربیت کا فقدان ہوتا ہے، جس سے کیس کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کیس کا پس منظر

کورنیل یونیورسٹی میں ایک سابق طالبہ کی جانب سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے کے الزامات نے اسکول اور تفتیش کاروں کے خلاف شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ یہ کیس اس بات پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے کہ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کیسے کیں۔

  • 2024 میں ایک خاتون نے سات افراد کے خلاف جنسی زیادتی کا سول مقدمہ دائر کیا۔
  • مقدمے کی تفصیلات، خاتون کے کورنیل یونیورسٹی پولیس کو دیے گئے بیان سے مختلف تھیں۔
  • ضلعی اٹارنی می ‘تھیو وان ہاؤٹن نے بتایا کہ بیان میں نشے یا اجتماعی زیادتی کا ذکر نہیں تھا۔
  • خاتون نے بیان میں نشہ آور اشیاء کے استعمال اور جنسی سرگرمیوں میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کا ذکر کیا۔
  • تاہم، بیان میں ایسے کئی واقعات بھی شامل تھے جہاں خاتون کو تفصیلات یاد نہیں تھیں یا اس نے مخصوص سرگرمیوں پر رضامندی نہیں دی تھی۔

پولیس کی تربیت میں کمی

ڈیف تھامسن، جو کہ ایک تصدیق شدہ فرانزک انٹرویور اور تفتیش کاروں کو تربیت دینے والے کنسلٹنٹ ہیں، کے مطابق، جنسی زیادتی کے متاثرین یا گواہوں سے بات چیت کرنے والے ہر شخص کو ٹراما سے متعلق آگاہی کے ساتھ تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔

  • یہ طریقہ کار تفتیش کاروں کو اس طرح سے کام کرنے کی تربیت دیتا ہے جو ٹراما کے شکار افراد کے مختلف ردعمل کو مدنظر رکھے۔
  • اس میں متاثرین کے رویے اور یادداشت پر ٹراما کے اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔
  • یہ طریقہ کار متاثرہ شخص کو مرکز میں رکھتا ہے اور ایسے تفتیشی انداز سے گریز کرتا ہے جو ان کے ٹراما کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ٹراما سے متعلق آگاہی کی اہمیت

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے متاثرین کے ساتھ ابتدائی بیان لیتے وقت احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ٹراما کی وجہ سے ان کی یادداشت اور بیان میں تضادات ہو سکتے ہیں۔

تفتیشی طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت

کورنیل یونیورسٹی کے کیس میں، متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کئی بار کہا کہ اسے رات کے دوران کیا ہوا اس کی پوری تفصیلات یاد نہیں ہیں۔

  • ضلعی اٹارنی می ‘تھیو وان ہاؤٹن نے بتایا کہ خاتون کا بیان ایک “تجربہ کار تفتیش کار” نے لیا تھا جو جنسی زیادتی کی تحقیقات میں تربیت یافتہ تھا۔
  • تاہم، کورنیل یونیورسٹی پولیس نے انٹرویو کی لمبائی، وقت اور جگہ کے بارے میں سوالات کے جوابات نہیں دیے۔
  • ماہرین کے مطابق، ایسے معاملات میں پولیس کو متاثرہ شخص کے بیان میں تضادات کو ٹراما کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ عدم اعتبار کا ثبوت۔

متاثرین کی مدد کے لیے نئے اصول

امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں جنسی زیادتی کے کیسز کو سنبھالنے کے لیے ٹراما سے متعلق آگاہی پر مبنی تربیت کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے۔

  • یہ تربیت پولیس افسران کو سکھائے گی کہ وہ متاثرین کے ساتھ کس طرح ہمدردی اور سمجھ بوجھ سے پیش آئیں۔
  • اس سے متاثرین کو بیان دیتے وقت زیادہ محفوظ محسوس ہوگا اور وہ اپنی کہانی بہتر طریقے سے بیان کر سکیں گے۔
  • اس طرح کے کیسز میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تفتیشی طریقہ کار میں بہتری لانا ضروری ہے۔

قانونی اور سماجی اثرات

کورنیل یونیورسٹی کا یہ کیس صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے ملک میں جنسی زیادتی کے کیسز سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایک وسیع بحث کا آغاز ہے۔

  • یہ ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثرین کے ساتھ زیادہ حساسیت سے پیش آئیں۔
  • ٹراما سے متعلق آگاہی کی تربیت کو پولیس اکیڈمی کے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
  • اس سے نہ صرف متاثرین کو انصاف ملے گا بلکہ معاشرے میں جنسی زیادتی کے خلاف شعور بھی بلند ہوگا۔

نتیجہ

کورنیل یونیورسٹی کے حالیہ کیس نے جنسی زیادتی کے معاملات میں پولیس کی تفتیش کے روایتی طریقہ کار پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین اور وکلاء کا متفقہ مؤقف ہے کہ پولیس کو متاثرین کے ساتھ ٹراما سے متعلق آگاہی کے ساتھ تفتیش کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ یہ تربیت نہ صرف متاثرین کو بہتر محسوس کرائے گی بلکہ کیس کی درست تفتیش اور انصاف کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

پولیس کی جانب سے اختیار کیا جانے والا غلط طریقہ کار اکثر کیسز کو کمزور کر دیتا ہے اور متاثرین کو انصاف سے محروم کر سکتا ہے۔ اس لیے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ اپنی تفتیشی تکنیکوں پر نظر ثانی کریں اور انہیں جدید ترین نفسیاتی اور ٹراما سے متعلق اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

جنسی زیادتی کے کیسز میں پولیس کی تربیت کیوں اہم ہے؟

پولیس کی تربیت اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ افسران کو متاثرین کے ساتھ زیادہ ہمدردی اور سمجھ بوجھ سے پیش آنے کے قابل بناتی ہے، خاص طور پر جب وہ ٹراما کا شکار ہوں۔

ٹراما سے متعلق آگاہی کا کیا مطلب ہے؟

ٹراما سے متعلق آگاہی کا مطلب ہے کہ تفتیش کار یہ سمجھتے ہیں کہ ٹراما متاثرین کی یادداشت، رویے اور بیان کو کیسے متاثر کر سکتا ہے، اور وہ اس کے مطابق اپنی تفتیش کو ڈھالتے ہیں۔

کیا پولیس کا غلط طریقہ کار کیس کو متاثر کر سکتا ہے؟

جی ہاں، پولیس کا غلط یا غیر حساس طریقہ کار متاثرین کو بیان دینے سے ہچکچا سکتا ہے یا ان کے بیان میں تضادات پیدا کر سکتا ہے، جس سے کیس کمزور ہو سکتا ہے۔

پولیس کو کس قسم کی تربیت کی ضرورت ہے؟

پولیس کو جنسی زیادتی کے کیسز سے نمٹنے کے لیے ٹراما سے متعلق آگاہی، حساسیت اور متاثرہ شخص پر مبنی تفتیشی تکنیکوں کی تربیت کی ضرورت ہے۔

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ
نمایاں خبر

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ

عالمی سمندروں نے گزشتہ سال ریکارڈ توڑ گرمی جذب کی ہے، جو انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے، سطح بلند ہونے اور زندگی کے لیے کم سازگار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ
گرین جرنلزم

سمندروں میں ریکارڈ گرمی، عالمی توانائی کے استعمال سے 40 گنا زیادہ

عالمی سمندروں نے گزشتہ سال ریکارڈ توڑ گرمی جذب کی ہے، جو انسانی توانائی کے سالانہ استعمال سے تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے، سطح بلند ہونے اور زندگی کے لیے کم سازگار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں