LIVE
اہم خبر
تھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملےنیو یارک نے 25 ملین درختوں کے لیے 45 ملین ڈالر کی جنگلاتی گرانٹس کا اعلان کر دیاایالا لینڈ اور کراؤن پائپس کا پی وی سی واپسی پروگرام، تعمیراتی فضلہ کم ہوگالولا کاپ31 میں شرکت کریں گے، برازیل صدارت ترکیہ کے حوالے کرے گادنیا کے سیاحتی مقامات: یورپ، امریکہ، ایشیا، جزیرے اور خلیج کا حسین ترین سفرامریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی کمی، خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پرپاور لیٹس کے بانیوں کی بڑی کامیابی: اے آئی چپس کے لیے 86 ملین ڈالر کی سرمایہ کاریپیرس فیشن ویک میں 2027 کے بہار کے نمایاں رجحانات: سنہری رنگ، جامنی رنگ اور لازوال ٹرینچ کوٹتیز چہل قدمی لمبی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، نئی تحقیق میں انکشافجاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود ایک اعشاریہ دو پانچ فیصد پر برقرار رکھیموسمیاتی آفات میں غلط معلومات کے خلاف گرسٹ کی نئی سیریز ڈسٹورٹڈاوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل این جی کی نئی قیمتیں جاری کر دیں، 15.27 فیصد تک اضافہراولپنڈی میں سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقاتفاران طاہر کی مارول میں واپسی: ۱۸ سال بعد رضا کا کردار پھر پردے پرسکاٹ لینڈ نے گھریلو ری سائیکلنگ آسان بنانے کے لیے نئے ضابطے پر مشاورت شروع کر دیمصر نے خلیج سویز میں دو ونڈ منصوبوں کے لیے 1.8 گیگا واٹ کی منظوری دے دیسرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے پرچی کی شرط ختم، ہائیکورٹ کا چار ہفتوں کا حکمکھیر میں گری چھپکلی پورے خاندان کی جان لے گئی؛ قصور میں 6 روز میں 5 امواتشوہر کے انتقال کے بعد ذہنی توازن بگڑا، تین سال کی جدائی؛ آسیہ کی گھر واپسیاقوام متحدہ کی ماہر کی وارننگ: کاربن کریڈٹ مارکیٹیں موسمیاتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیںتھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملےنیو یارک نے 25 ملین درختوں کے لیے 45 ملین ڈالر کی جنگلاتی گرانٹس کا اعلان کر دیاایالا لینڈ اور کراؤن پائپس کا پی وی سی واپسی پروگرام، تعمیراتی فضلہ کم ہوگالولا کاپ31 میں شرکت کریں گے، برازیل صدارت ترکیہ کے حوالے کرے گادنیا کے سیاحتی مقامات: یورپ، امریکہ، ایشیا، جزیرے اور خلیج کا حسین ترین سفرامریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی کمی، خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پرپاور لیٹس کے بانیوں کی بڑی کامیابی: اے آئی چپس کے لیے 86 ملین ڈالر کی سرمایہ کاریپیرس فیشن ویک میں 2027 کے بہار کے نمایاں رجحانات: سنہری رنگ، جامنی رنگ اور لازوال ٹرینچ کوٹتیز چہل قدمی لمبی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، نئی تحقیق میں انکشافجاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود ایک اعشاریہ دو پانچ فیصد پر برقرار رکھیموسمیاتی آفات میں غلط معلومات کے خلاف گرسٹ کی نئی سیریز ڈسٹورٹڈاوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل این جی کی نئی قیمتیں جاری کر دیں، 15.27 فیصد تک اضافہراولپنڈی میں سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقاتفاران طاہر کی مارول میں واپسی: ۱۸ سال بعد رضا کا کردار پھر پردے پرسکاٹ لینڈ نے گھریلو ری سائیکلنگ آسان بنانے کے لیے نئے ضابطے پر مشاورت شروع کر دیمصر نے خلیج سویز میں دو ونڈ منصوبوں کے لیے 1.8 گیگا واٹ کی منظوری دے دیسرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے پرچی کی شرط ختم، ہائیکورٹ کا چار ہفتوں کا حکمکھیر میں گری چھپکلی پورے خاندان کی جان لے گئی؛ قصور میں 6 روز میں 5 امواتشوہر کے انتقال کے بعد ذہنی توازن بگڑا، تین سال کی جدائی؛ آسیہ کی گھر واپسیاقوام متحدہ کی ماہر کی وارننگ: کاربن کریڈٹ مارکیٹیں موسمیاتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
صحت و تندرستی

دنیا میں ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کیس انفیکشن سے جڑا ہوا: نئی عالمی تحقیق

News Desk 6شائع شدہ 5 اکتوبر، 2026
دنیا میں ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کیس انفیکشن سے جڑا ہوا: نئی عالمی تحقیق
Share this story

عالمی ادارہ صحت کے خصوصی کینسر تحقیقی ادارے اینٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی ایک نئی تحقیق کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 23 لاکھ نئے کینسر کیس کسی نہ کسی انفیکشن سے منسلک تھے، یعنی ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کیس کا تعلق انفیکشن سے تھا۔ دی لینسٹ آنکالوجی میں 29 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اس تحقیق نے انفیکشن سے کینسر کے تعلق کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر کیسوں کا بچاؤ موجودہ ویکسین، اسکریننگ اور علاج کے ذریعے ممکن ہے۔

اہم نکات

  • 2024 میں انفیکشن سے منسلک نئے کینسر کیس کی تعداد تقریباً 23 لاکھ رہی، جو تمام کینسر کیسوں کا 12 فیصد ہے۔
  • محققین نے 12 ایسے انفیکشن کا جائزہ لیا جو کینسر پیدا کرنے والے قرار دیے گئے ہیں؛ ان میں سے صرف پانچ انفیکشن نے تقریباً تمام کیسوں کا سبب بنایا۔
  • سب سے بڑا سبب معدے کا ایک جرثومہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری رہا، جس سے تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار کیس منسلک تھے۔
  • انفیکشن سے ہونے والے 77 فیصد کینسر کیس کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سامنے آئے۔
  • ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین، سروائیکل اسکریننگ اور اینٹی وائرل علاج کے ذریعے ان میں سے اکثر کیسوں کا بچاؤ ممکن ہے۔

پانچ انفیکشن جو سب سے زیادہ کینسر کا سبب بنتے ہیں

تحقیق کے مطابق یہ پانچ انفیکشن 20 سے زائد اقسام کے کینسر سے منسلک پائے گئے، جن میں معدے، جگر، خون اور رحم کے منہ کے کینسر شامل ہیں۔ ہیلیکوبیکٹر پائلوری معدے کے کینسر کا سب سے بڑا سبب ہے، جب کہ ہیومن پیپیلوما وائرس سروائیکل کینسر کی بنیادی وجہ ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جگر کے کینسر سے منسلک ہیں، اور ایپسٹین بار وائرس حلق کے اوپری حصے کے کینسر اور لمفوما سے جڑا ہوا ہے۔

انفیکشن منسلک کینسر 2024 میں اندازہ کیس
ہیلیکوبیکٹر پائلوری معدے کا کینسر 7,60,000
ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سروائیکل اور دیگر کینسر 7,50,000
ہیپاٹائٹس بی جگر کا کینسر 3,60,000
ایپسٹین بار وائرس حلق اور لمفوما 2,60,000
ہیپاٹائٹس سی جگر کا کینسر 1,60,000

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سروائیکل کینسر کے تمام تقریباً 6 لاکھ کیس ایچ پی وی سے منسلک تھے، جب کہ ہیپاٹائٹس بی جگر کے سب سے عام کینسر کے تقریباً نصف اور ہیپاٹائٹس سی پانچویں حصے کے کیسوں سے جڑا ہوا تھا۔ ایپسٹین بار وائرس حلق کے اوپری حصے کے 88 فیصد کینسر سے منسلک پایا گیا۔

انفیکشن سے کینسر کی روک تھام کے لیے ویکسین لگاتی صحت کی کارکن
تحقیق کے مطابق ویکسین اور اسکریننگ انفیکشن سے ہونے والے کینسر کا بچاؤ کر سکتی ہیں۔

انفیکشن سے کینسر کیسے ہوتا ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق وائرس کئی طریقوں سے خلیوں کو کینسر کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بعض وائرس خلیے کے اندرونی حفاظتی نظام کو بند کر دیتے ہیں جو خراب خلیوں کو ختم کرتا ہے، بعض اپنا ڈی این اے خلیے کے ڈی این اے میں شامل کر کے اس کے کنٹرول کے جین خراب کر دیتے ہیں، اور بعض وائرس خود ایسا جین لے کر چلتے ہیں جو کینسر پیدا کر سکتا ہے۔ جرثوموں اور پرجیویوں کی دیرپا انفیکشن سے پیدا ہونے والی سوزش بھی خلیوں کے ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ انفیکشن کا مطلب یہ نہیں کہ کینسر ضرور ہوگا۔ خطرہ اس بات پر منحصر ہے کہ انفیکشن دیر تک برقرار رہے، مدافعتی نظام کا ردعمل کیسا ہو اور دیگر انفرادی عوامل کیا ہیں۔ طویل عرصے کی انفیکشن سوزش یا خلیوں کو نقصان پہنچا کر وقت کے ساتھ کینسر کے امکان کو بڑھا سکتی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں بوجھ سب سے زیادہ

تحقیق میں سامنے آیا کہ انفیکشن سے ہونے والے تقریباً 77 فیصد کینسر کیس کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تھے۔ مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ تقریباً 9 لاکھ 90 ہزار کیس ریکارڈ کیے گئے، جو عالمی تعداد کا 42 فیصد بنتے ہیں۔ صحارا کے جنوبی افریقہ، وسطی و مشرقی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی شرح عالمی اوسط سے زیادہ رہی۔

ماہرین کے مطابق انفیکشن کی شرح، ویکسینیشن، اسکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج تک رسائی میں فرق اس عدم توازن کی بڑی وجہ ہے۔ غریب ممالک میں بچاؤ کے یہ پروگرام محدود ہیں، اس لیے رسائی کی بہتری کینسر کے خلاف جنگ میں مساوات کا اہم مسئلہ ہے۔

ان میں سے بیشتر کینسر کا بچاؤ ممکن ہے

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ان کینسروں کی ایک بڑی تعداد کو روکا جا سکتا ہے۔ ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں، جب کہ سروائیکل اسکریننگ کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی کر سکتی ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین موجود نہیں، لیکن اینٹی وائرل ادویات سے بیشتر انفیکشن کا مکمل علاج ممکن ہے، اور ہیلیکوبیکٹر پائلوری کا علاج اینٹی بایوٹک ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس شعبے پر تقریباً 30 سال سے تحقیق جاری ہے۔ 2002 میں انفیکشن سے ہونے والے کینسر کی شرح 18 فیصد بتائی گئی تھی، لیکن محققین نے واضح کیا کہ ڈیٹا کے ذرائع اور طریقوں میں تبدیلی کی وجہ سے نئے اعداد و شمار کا پرانے سے براہ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ہیریٹ رمگے نے کہا کہ ویکسینیشن، اسکریننگ اور علاج نے مدد کی ہے، لیکن انفیکشن سے ہونے والے کینسر اب بھی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان انفیکشن پر قابو پانے پر توجہ بڑھا کر کینسر کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

نتیجہ

یہ نئی عالمی تحقیق اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کے کینسر کے بوجھ کا ایک نمایاں حصہ بنیادی طور پر قابل بچاؤ ہے۔ متعدی بیماریوں اور کینسر کو الگ الگ شعبے سمجھنے کے بجائے انہیں ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ویکسین، اسکریننگ اور علاج کے ذریعے لاکھوں مستقبل کے کینسر کیسوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صحت اور تندرستی سے متعلق مزید خبریں وطن نیوز کے تندرستی سیکشن پر پڑھیں۔

عام سوالات

سوال: کیا ہر انفیکشن کینسر کا سبب بنتا ہے؟

نہیں۔ تحقیق میں صرف 12 ایسے انفیکشن کا جائزہ لیا گیا ہے جنہیں کینسر پیدا کرنے والا قرار دیا گیا ہے، اور ان میں سے بھی صرف پانچ نے تقریباً تمام کیسوں کا سبب بنایا۔ عام نزلہ زکام یا بخار جیسی انفیکشن کینسر کا سبب نہیں بنتیں۔

سوال: ایچ پی وی سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ایچ پی وی کی ویکسین اس وائرس کے ان اقسام سے تحفظ دیتی ہے جو سروائیکل کینسر سے مضبوطی سے منسلک ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا ہدف ہے کہ 2030 تک 15 سال کی عمر کی 90 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگائی جائے۔

سوال: ہیپاٹائٹس بی اور سی سے جگر کے کینسر کا خطرہ کیسے کم کیا جائے؟

ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین خطرے کو کم کرتی ہے، جب کہ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین نہیں ہے مگر اینٹی وائرل ادویات سے بیشتر انفیکشن کا مکمل علاج ممکن ہے۔ بروقت ٹیسٹ اور علاج جگر کے کینسر کا خطرہ گھٹا سکتے ہیں۔

سوال: غریب ممالک میں انفیکشن سے کینسر کے کیس زیادہ کیوں ہیں؟

ان ممالک میں انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کے ساتھ ویکسینیشن، اسکریننگ اور علاج تک رسائی محدود ہے، اس لیے بچاؤ کے قابل کیس بھی کینسر میں بدل جاتے ہیں۔ رسائی کی بہتری اس عدم توازن کو کم کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںصحت و تندرستی

دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیں

امریکی ادارہ برائے امراض قابو نے 27 اکتوبر 2026 کو اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال تقریبا 97 لاکھ انفیکشن اور 50 ہزار 800 اموات کا سبب بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں
زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیقصحت و تندرستی

زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیق

ایک نئی عالمی تحقیق نے خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا نتیجہ پیش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ دن جسمانی سرگرمی کرتی ہیں، ان میں درمیانی عمر کی تبدیلی کے دور کی علامات کم یا ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق ستاسی ممالک کی ایک ہزار آٹھ سو آٹھ

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

تھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملے
نمایاں خبر

تھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملے

سلووینیا کے شہر کرنج میں گرین ڈیسٹینیشنز عالمی کانفرنس 2026 میں تھائی لینڈ کو تین ایوارڈز ملے اور 16 مقامات ٹاپ 100 کہانیوں میں منتخب ہوئے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔