فرانس بھر میں 400 سے زائد اسکول جمعہ کو بند رہیں گے، کیونکہ تعلیمی شکایات پر طلباء کے مظاہرے کئی شہروں میں شہری تشدد میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے جمعرات کی شام فرانس 2 کو بتایا کہ یہ ادارے احتیاطاً بند رکھے جائیں گے۔ فرانس اسکول مظاہرے اب پیرس کے مضافات سے نکل کر ایک قومی محاذ میں بدل چکے ہیں، اور اس ہفتے سینکڑوں گرفتاریاں اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
اہم حقائق
- پیمانہ: گفری کے مطابق “400 سے کچھ زیادہ” اسکول اور تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہیں گے — رائٹرز کے مطابق یہ ملک بھر کے تقریباً 3,700 اسکولوں میں سے ہیں۔
- شکایات: بھیڑ بھری کلاسیں، اساتذہ کی کمی، صبح 8 سے شام 6 بجے تک طویل اسکول اوقات، خستہ حال عمارتیں اور رواں سال گرمی کی لہر میں تپتی کلاسیں۔ یہ تحریک گزشتہ ماہ پیرس ریجن سے شروع ہوئی تھی۔
- گرفتاریاں: وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق منگل کو 440 افراد — جن میں اکثریت نابالغ تھی — کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے تقریباً دو تہائی کو پولیس تحویل میں رکھا گیا۔ پیر کو 164 افراد کو حراست میں لیا گیا؛ اس ہفتے سینکڑوں گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔
- زخمی: منگل کو کم از کم 10 اساتذہ، کئی طلباء اور 48 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق سات الگ واقعات میں پولیس اہلکاروں پر ہائیڈروکلورک تیزاب پھینکا گیا۔
- سیاست: وزیراعظم سبستین لیکورنو نے بحران اجلاس میں بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق اس تحریک کا آغاز سخت گیر بائیں بازو کے سیاستدانوں نے کیا، جن میں لا فرانس انسومیز (LFI) کے رہنما بھی شامل ہیں — اس دعوے کی LFI کے رکن لوئس بویار نے تردید کی ہے۔
پیرس کے مضافات سے قومی تحریک تک
مظاہرے گزشتہ ماہ پیرس ریجن سے شروع ہوئے، جہاں طلباء نے ٹوٹے ہوئے تعلیمی نظام کے خلاف اپنے اسکولوں کی ناکہ بندی شروع کی۔ ایک 16 سالہ طالب علم نے اے ایف پی کو بتایا کہ “ہر کلاس میں ہم 34 طلباء ہیں، اور یہ ممکن نہیں۔ اساتذہ حد سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔” طلباء صبح 8 سے شام 6 بجے تک کے اوقات کے خلاف بینر اٹھائے ہوئے ہیں، جن کے باعث انہیں سونے کا بھی وقت نہیں ملتا۔
طلباء کی یونین “یونین سینڈیکل لیسیئن” کے مطابق ناکہ بندی والے اسکولوں کی تعداد تقریباً 400 ہے، اور اس نے ملک گیر سرکاری ملازمین کی ہڑتال میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ منگل کی بدامنی کا ایک روزہ ہڑتال کے ساتھ موافق ہونا قابل ذکر ہے، جس میں اساتذہ، فائر فائٹرز اور اسپتال کے عملے سمیت سرکاری ملازمین نے سرکاری شعبے کے تنخواہ انڈیکس کو چوتھی بار مسلسل منجمد کرنے اور 2027 کے مجوزہ بجٹ میں 54 ارب یورو کی بچت کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ یونینوں کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں افراد نے مارچ کیا، جس سے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جمعرات: آگ، پیٹرول اور جلائی گئی گاڑیاں
مظاہرے پھیلنے کے ساتھ ہی یہ ہفتہ پرتشدد ہو گیا۔ جمعرات کو کم از کم دو ہائی اسکولوں میں طلباء مظاہرین نے آگ لگا دی، جبکہ جنوبی شہر مارسیل کے ایک تیسرے اسکول میں اساتذہ پر غلطی سے پیٹرول چھڑک دیا گیا۔ حکام کے مطابق مشرقی شہر اسٹرائسبورگ میں کم از کم ایک گاڑی جلا دی گئی اور جنوب مغربی شہر ٹولوز میں فسادات پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
ہفتے کے اوائل میں نقاب پوش نوجوانوں نے لِل میں اسکولوں کے باہر کچرے کے ڈبوں اور سائیکلوں کو آگ لگائی، بس شیلٹر توڑے اور ٹریفک سگنل گرا دیا، جس پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بورڈو، رین، نانٹ اور مارسیل میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملیں۔ گفری نے ایکس پر کہا کہ طلباء کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن تشدد “ناقابل دفاع” ہے۔

فرانس اسکول مظاہرے پرتشدد ہونے پر ناکہ بند اسکول کے گیٹ پر فسادات پولیس اور طلباء مظاہرین آمنے سامنے۔ (تصویر: وطن نیوز)
حکومت کا ردعمل
لیکورنو نے کسی بھی مزید کشیدگی کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ “ہائی اسکولوں کی مشکلات کو سنا اور حل کیا جانا چاہیے”۔ جمعرات کے بحران اجلاس میں وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بریفنگ دی کہ احتجاجی تحریک کا آغاز سخت گیر بائیں بازو کے سیاستدانوں نے کیا، جن میں لا فرانس انسومیز کے ارکان بھی شامل ہیں۔
LFI کے رکن لوئس بویار نے اس دعوے کی تردید کی۔ پارٹی کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے نوجوانوں کو “بے ضرر” قرار دیا اور جسے انہوں نے “وحشیانہ” کریک ڈاؤن کہا، جس میں “نسل پرستانہ رنگ” نمایاں تھا، اس کی مذمت کی۔ گفری نے LFI کے ارکان پر طلباء کو ناکہ بندی بڑھانے پر اکسانے کا الزام لگایا ہے۔ سین سین دنی میں میئر بالی باگایوکو ایک طلباء مظاہرے میں شامل ہوئے اور کہا کہ کم آمدنی والے علاقے کو تعلیمی وسائل کم ملنے کے پیش نظر مظاہرے قابل فہم ہیں؛ اے ایف پی کے مطابق قریب ہی ڈھالیں اٹھائے فسادات پولیس نے طلباء پر لاٹھیاں برسائیں۔
نونیز نے پولیس کے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے “انتہائی متناسب” قرار دیا، اور کہا کہ گرفتاریوں کی حتمی تعداد ابھی مرتب کی جا رہی ہے۔
فرانس اسکول مظاہرے: آگے کیا ہوگا
2027 کے مجوزہ بجٹ اور اس میں 54 ارب یورو کی بچت اب قومی بحث کے مرکز میں ہے، اور اسکولوں کے مظاہرے سرکاری اخراجات پر وسیع تر غم و غصے سے جڑ گئے ہیں۔ یونینوں نے مزید کارروائی کا عہد کیا ہے، اور طلباء منتظمین نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے ہفتے بھی ناکہ بندی جاری رہ سکتی ہے۔ مزید پڑھیں: فرانس میں 400 اسکول بند، شہری تشدد میں اضافہ — وطن نیوز پر، اور تازہ ترین تفصیلات کے لیے اسکولوں کی بندش پر رائٹرز کی رپورٹ دیکھیں۔
نتیجہ
بھیڑ بھری کلاسوں اور تھکے ہوئے اساتذہ کے خلاف جو تحریک طلباء کی بغاوت کے طور پر شروع ہوئی، وہ فرانس میں برسوں کی سب سے سنگین اسکول احتجاجی لہر بن چکی ہے — اور لیکورنو حکومت کے لیے ایک سیاسی امتحان۔ 400 اسکولوں کی بندش سے یہ ہفتہ تو ختم ہو سکتا ہے، لیکن بجٹ کی جنگ اور صدارتی انتخابات قریب ہونے کے ساتھ، بنیادی شکایات کے جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔
























