”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“
(ایک طویل سفر کی مختصر روداد)
امانت علی چوہدری
القمر آن لائنwww.alqamaronline.com
جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ ہیں
| تفصیل | نام / تفصیلات |
| مصنف: | امانت علی چوہدری |
| اشاعت اول: | جنوری ۲۰۰۷ء |
| طباعت: | القمر آن لائن (www.alqamaronline.com) |
| ڈیزائن/لے آؤٹ: | وقاص ربانی |
| پبلشرز: | وطن نیوز پبلیکیشنز |
| ٹائپوگرافی: | نصر ملک، امانت علی چوہدری، صفدر ھمدانی |
| قیمت: | ۳۰۰ روپے، ۱۰۰ کرونر، ۱۰ ڈالر، ۵ پاؤنڈ، ۱۰ یورو |
کتاب ملنے کے رابطہ نمبر:
- پاکستان: +923006220146
- برطانیہ: +447796515479
- ڈنمارک: +4523844984
- اسلام آباد: +923215176702
1
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
انتساب
پروردگارِ لوح و قلم کے نام
جس نے مجھے
حرف و لفظ کی نعمت عطا کی!
2
فہرست
| نمبر | ابواب | مضمون | صفحہ |
| ۱ | پہلی بات | (امانت علی چوہدری) | ۷ |
| ۲ | میرے ساباتی | (روبینہ قفش) | ۱۱ |
| ۳ | موہن جو دڑو کا شمع | (نصر ملک، کوپن ہیگن) | ۱۴ |
| ۴ | امانت کی امانت داری | (صفدر ھمدانی، لندن) | ۱۸ |
| ۵ | پہلا باب | زندگی کا سفر | ۲۲ |
| ۶ | تعلیم | ۲۳ | |
| ۷ | ملازمت | ۲۵ | |
| ۸ | ازدواجی زندگی کا آغاز | ۴۲ | |
| ۹ | دوسرا باب | سفرِ یورپ (ڈنمارک) کی روداد | ۴۷ |
| ۱۰ | جرمنی میں قیام | ۹۲ | |
| ۱۱ | تیسرا باب | ڈنمارک میں آمد | ۹۵ |
| ۱۲ | تحریک منہاج القرآن میں شمولیت | ۱۱۵ | |
| ۱۳ | چوتھا باب | حج اور عمرہ کی سعادت | ۱۲۵ |
| ۱۴ | آخری بات | ۱۲۱ |
( ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
7
۷
پہلی بات
(امانت علی چودھری)
قارئین کرام یوں تو ”وطن نیوز انٹرنیشنل“ کے حوالے سے میرا آپ سے ایک طویل عرصے سے رابطہ ہے لیکن ایک تخلیق کار اور سفرنامے کے خالق کی حیثیت میں آپ سے پہلی بار براہِ راست ہم کلام ہو رہا ہوں۔
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں اپنے پروردگار کا شکر گزار ہوں کہ جس کا کرمِ خاص ہر ہر قدم پر میرے ساتھ رہا ہے اور جس نے مجھ جیسے ایک زمین کی کوکھ سے محبت کرنے والے عام سے شخص کو صرف حرف اور لفظ کی پہچان ہی نہیں عطا کی بلکہ ان الفاظ اور حروف کو ملا کر فقرے اور سطور لکھنے کا ہنر بھی دیا ہے۔
میں ایسے بہت سے کم افراد میں سے ہوں جو اپنے ملک سے کوسوں دور اپنے وطنِ ثانی میں زندگی کے گرم سرد حالات کا مقابلہ کرنے کے باوجود اپنے خیالات کو صفحات پر منتقل کرنے اور اپنے افکار کو دوسروں تک پہنچانے کی نعمت سے مالا مال ہے۔
میں اس کے لیئے تمام جہانوں کے پروردگار کا جس قدر بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔
آغازِ کلام میں ہی اپنی اہلیہ اور اپنے تمام بچوں سمیت اپنے تمام اہلِ خانہ کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اس قلم کاری اور ادبی سفر میں میری نہ صرف حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ میری مصروفیات پر کبھی بھی اعتراض نہ کر کے مجھے ایسے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے جو کبھی بھی نہ تو میرا اور نہ ہی میرے تمام خاندان میں کسی کا شعبہ یا میدان تھا۔
مجھے اس اعتراف میں کسی طرح کی کوئی شرمندگی نہیں کہ میرا تمام خاندان مٹی کا سینہ چیر کر اور سخت سے سخت موسم میں زمین کے سینے پر ہل چلا کر فصلیں کاشت کرنے والا اور اسی زمین سے اپنا رزق حاصل کرنے والے لوگوں کا زمیندارانہ خاندان رہا ہے جس کا براہِ راست تحریر کی دنیا سے کبھی کوئی تعلق نہیں تھا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
8
۸
میں شاید اس تمام خاندان کا پہلا اور واحد فرد ہوں، جس نے عُمر کے اس پائید حصے میں آکر قلم کی حُرمت کا درس سیکھا اور پھر اسی قلم کو اپنے اظہار کا ایسا وسیلہ بنایا کہ اب یہی قلم میرا سب سے بڑا سہارا ہے، جس کے ذریعے میں ہر وہ بات کہہ اور لکھ سکتا ہوں جسے سچ اور حق سمجھتا ہوں۔
اور سب سے بڑا سچ اور حق یہی ہے کہ میں اور میرے جیسے لاکھوں لوگوں نے اپنی جنم بھومی کو جب چھوڑا تھا تو انکا مستقل طور پر ہجرت کی صلیب اٹھائے پھرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ہم سب بہتر مستقبل کے لیے اپنے اپنے گھروں کو عارضی طور پر چھوڑ کے نکلے تھے لیکن پھر حالات اور اقتصادیات کی زنجیر نے پاؤں کچھ اس طرح جکڑ لیئے کہ طاقتِ بسیار کے باوجود ہم نے انہی غیر ممالک کو اپنا وطنِ ثانی تسلیم کر لیا اور پھر اب تک یہاں ہماری تین نسلیں پروان چڑھ چکی ہیں۔
میں اپنے آپ کو اس حوالے سے بھی نہایت خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ یہاں ڈنمارک میں رہنے کے باوجود میں نے اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی بہترین تعلیم سے آراستہ کرنے کے علاوہ انہیں اپنی ثقافت اور روایات کا ایسا درس دیا ہے جسے وہ اب اپنی اولادوں میں بھی منتقل کر رہے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں اس سارے عمل میں مجھ اور میری اہلیہ سے زیادہ اس بات کا کریڈٹ میرے بچوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس نام نہاد ترقی کے منفی پہلوؤں کو اپنے آپ میں سمونے کی بجائے اسکے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی دینی، مذہبی اور سماجی روایات کو خیر باد نہیں کہا ہے۔
مجھے اس بات کا نہایت کھلے دل سے اعتراف ہے کہ میں قطعی طور پر کوئی ادیب یا ایسا کمرشل قلم کار نہیں جسے اپنی تحریروں کی فروخت کا زعم ہو۔ میرے لیے تو صرف یہ بات ہی قلبی تسکین کا باعث ہے کہ میری لکھی ہوئی کچی پکی تحریروں کو میرے پڑھنے والے نہایت غور سے پڑھتے ہیں اور پھر ان بے شمار قارئین میں سے جب کوئی ایک بھی فرد مجھ سے اپنے اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو مجھے اپنے قلم کاری کے شجرِ سایہ دار پر لگے ہوئے پھلوں کی خوشبو مسرور کر دیتی ہے۔
یہ تو میرے جیسا انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ مفادات کی اس دنیا میں قلم کی عزت رکھنا کس قدر مشکل کام ہے اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس قلم کو نہ تو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے اور نہ ہی اپنے بڑے سے بڑے ذاتی مخالف کی پگڑی اچھالنے کے لیے۔ میرے نزدیک انسان کا احترام سب سے بڑی عبادت ہے اور متعدد گوشوں سے وقتاً فوقتاً مخالفت کے باوجود میں نے کبھی بھی سچ کو نہیں چھپایا بلکہ ہر برائی کو اپنے تئیں اس لیے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
9
۹
طشت از بام کیا ہے کہ جہاد کی تمام اقسام میں یہی اہم ترین اور اعلیٰ ترین جہاد ہے کہ جس کا درس دینِ اسلام نے دیا ہے۔
میرے اس قلمی سفر میں جن دوستوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے ان میں سرفہرست نام معروف ادیب، شاعر، نقاد، صحافی اور براڈ کاسٹر نصر ملک کا ہے کہ جو اردو دنیا میں بالعموم اور ڈنمارک کے ساتھ ساتھ یورپ کے ادبی حلقوں میں جانا پہچانا نام ہے۔ نصر ملک اپنی طرز کا ایک الگ سا انسان ہے جس کے ساتھ دوستی کے رشتے کو قائم رکھنا ایک ایسا امتحان ہے کہ اس سے گزر جانے والے بعض میدانوں میں تو سخت سے سخت امتحان میں سے بھی گزر جاتے ہیں۔
اسکے قلم کی طرح اسکے اخبار کی زبان بھی کسی حاکمِ وقت کی بے جا تعریف کی روادار نہیں اور وہ شاہوں کے قصیدے لکھنے والا نہیں بلکہ دوستی، دوستوں اور مزدوروں کی عظمت کے ترانے لکھنے والا فرد ہے۔
مجھے خود ذاتی طور پر اس بات کا علم بھی ہے اور اعتراف بھی کہ نوے فیصد لوگ نصر ملک کے اندر جھانک کر نہیں دیکھ سکے کہ اس دھان پان جیسے انسان کے اندر کیسا روشن شہر آباد ہے۔ مجھے یہ فخر ہے کہ میری برسوں سے نصر ملک سے ایسی دوستی استوار ہے جو کسی بھی سازش یا مفاد کا شکار نہیں ہو سکی بلکہ ہر منفی لمحے نے ہمیں ایک دوسرے کو اور زیادہ سمجھنے کا موقع دیا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو قلم کی حُرمت کا یہ درس میں نے عملی طور پر نصر ملک سے ہی حاصل کیا ہے۔
میری تحریر کی دنیا میں رہنمائی نصر ملک کی بلا مفاد دوستی کی مرہونِ منت ہے اور میں آج بھی اپنی لکھی ہوئی کوئی تحریر نصر ملک کو دکھانے میں اور اصلاح لینے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ علم نہ تو کسی کی میراث ہے اور نہ ہی کوئی علم کے بحرِ بیکراں میں اپنے کامل ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
یہ بات تو نصر ملک کی تھی لیکن شاید میرے پروردگار نے دوستی اور اصلاحِ تحریر کے لیے میری قسمت میں ایسے ہی سخت سے سخت اصول پسند اور قلم کی عزت و حرمت کے پاسدار لوگ لکھے ہیں کہ جن کے ساتھ رہنا اور انکی دوستی کا دم بھرنا جیسے تلوار کی دھار پر چلنا ہے کہ ایسے لوگ سچ کی صلیب پر اپنے عزیز ترین دوست کو بھی لٹکانے سے دریغ نہیں کرتے اور انکی اول تنقید کا نشانہ انکے اہلِ خانہ، احباب اور دوست ہی ہوتے ہیں۔
میں ابھی نصر ملک کے امتحان سے گزر رہا تھا کہ انہی نصر ملک نے اب سے چند سال پہلے میری ملاقات بی بی سی اردو سروس کے براڈ کاسٹر اور متعدد کتابوں کے مصنف صفدر ھمدانی سے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
10
۱۰
کروائی جو اوپر بیان کردہ اوصاف میں نصر ملک سے بھی چند قدم آگے ہیں لیکن میں یہ بات پوری ایمانداری سے کہہ سکتا ہوں کہ صائب مشورہ دینے اور اصلاحِ تحریر کے معاملے میں صفدر ھمدانی کسی طرح بھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے بلکہ پروردگار کی عطا کردہ قلم کاری کی نعمت میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے میں نہایت عدل سے کام لیتے ہیں۔
اب اگر میں نے انکے بارے میں اور بہت کچھ لکھنا بھی چاہا تو ہو سکتا ہے کہ بہت سے دوست یہ کہہ کر میرے صادق جذبے کو جھٹلا دیں کہ میں اپنے دوست اور محسن کی تعریف بلکہ بے جا تعریف کر رہا ہوں۔ میرے نزدیک تو فارسی کا یہ مقولہ ہی کافی ہے کہ پھول کی خوشبو کی سند عطار سے نہیں بلکہ خود پھول سے ہی مل جاتی ہے۔
میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں مجھے اپنی اس پہلی تصنیف ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ لکھنے کی ترغیب انہی صفدر ھمدانی نے دی اور اسے تکمیل تک پہنچانے میں جہاں میرے عزمِ صمیم کا دخل ہے تو وہاں نصر ملک اور صفدر ھمدانی کی ہر ہر قدم پر رہنمائی اور عملی مدد بھی شامل ہے۔
میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایک مکمل کتاب بھی لکھ سکتا ہوں اور پھر یہ کتاب شائع ہو کر میرے قارئین کے ہاتھوں میں بھی پہنچ سکتی ہے۔
لیکن یہ میرے پروردگار کی عنایتِ خاص اور ایسے دوستوں کی محبت اور حوصلہ افزائی ہے کہ آج میں بھی ’صاحبِ تصنیف‘ افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا ہوں۔
میں بات کو مزید طول دینے کی بجائے اب آپ اور اس کتاب کے درمیان سے ہٹتا ہوں اور ایک بار پھر اپنے تمام دوستوں، احباب، اہلِ خانہ اور ان خاموش قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنکا حوصلہ ”وطن نیوز“ کی اشاعت میں میرا مددگار رہا ہے اور اب وہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے اپنی بے لاگ اور مستند رائے سے نوازیں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنی رحمتوں کا نزول برابر جاری رکھے اور ہم سب ایک دوسرے کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے افراد میں شامل ہوں۔ (آمین)
امانت علی چوہدری
کوپن ہیگن۔۔۔ ڈنمارک
جنوری۔۔۔۔ ۲۰۰۷ء
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
11
۱۱
میرے ابا جی
روبینہ افضل
میں تقریباً اسوقت سات سال کی تھی جب میں پہلی مرتبہ اپنے والدین کے ساتھ یہاں ڈنمارک آئی تھی۔ میرے والد یہاں چند سال پہلے ہی آ چکے تھے لیکن بعد ازاں جب انہوں نے اپنے گھر والوں کو ڈنمارک لانے کا فیصلہ کیا تو ہم سب بھی یہاں آ گئے۔
اس کتاب میں یوں تو آپ کو میرے والد کی زندگی کے متعدد ایسے گوشے ملیں گے جو صرف آپ کے لیے ہی نہیں بلکہ ہم اہلِ خانہ کے لیے بھی انکشاف ہیں لیکن ایک بات بڑی واضح انداز میں نظر آئے گی کہ یہاں ڈینش معاشرے میں ایک پاکستانی کنبے کا منتقل ہونا، اپنی شناخت کو قائم رکھنا اور اپنی روایات کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیت اور اہلیت کو پروان چڑھانا کیا معنی رکھتا ہے۔
میں نے اس کتاب کو تو مکمل طور پر نہیں پڑھا کیونکہ طباعت کے مراحل سے گزرنے سے پہلے ہی ”ابا جی“ نے اسے لکھتے ہوئے اکثر اسکے کچھ نکات پر وقتاً فوقتاً میرے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے اور اپنی سوچ سے بھی آگاہ کرتے رہے ہیں، اور اسی تناظر میں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
12
۱۲
رہی ہے کہ انہوں نے زندگی بھر ہم سب بہن بھائیوں کو سچ بولنے کا جو درس دیا تھا یہ کتاب اسی کا ایک ثبوت ہے۔
انہوں نے نہ تو لکھتے ہوئے کوئی ملمع کاری کی اور نہ ہی کسی بات کو چھپایا بلکہ جو کچھ جس طرح ہوا اسے اسی طرح لکھ دیا۔ میں اب خود ایک الگ خاندان کے طور پر ایک کامیاب ماں اور بیوی دونوں کردار بخوبی نبھاہ رہی ہوں تو اس تجربے کی روشنی میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین نے اور خاص طور پر ”ابا جی“ نے یہاں ڈنمارک کے معاشرے میں رہتے ہوئے ہمیں جس طرح اپنے دین، مذہب اور روایات پر کاربند رہنے کا درس دیا اور خاص طور پر تعلیم کے حصول کے معاملے میں بیٹی اور بیٹے کے فرق کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح ہم سب بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی یہ سب احساس اب مجھ میں ایک الگ طرح کا فخر پیدا کرتا ہے۔
ہمارا گھر جب سے میں نے ہوش سنبھالا جیسے محبت کرنے والوں کا ایک مثالی گھرانہ رہا ہے اور ہم سب بہن بھائیوں کی کامیابی کے پیچھے متعدد عناصر کے ساتھ جو سب سے زیادہ مضبوط عنصر ہے وہ وہ گھر کا خوش باش ماحول، والدین کی آپس کی ہم آہنگ زندگی، بچوں کے ساتھ انکی شفقت اور محبت اور انکی تعلیم و تربیت پر مسلسل توجہ ہے۔
میں اب بھی اکثر اپنے ”ابا جی“ کے ساتھ پاکستانی اور ڈینش معاشرے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتی رہتی ہوں اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا گھر میں سب سے بڑی بیٹی ہونے کے ناطے میں اپنے والد سے اس موضوع اور دیگر متعدد موضوعات پر بات چیت کرتی رہی ہوں اور اسی تجربے کی روشنی میں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ میرے ”ابا جی“ کسی طرح بھی دقیانوسی خیالات کے حامل نہیں اور ہم سب بہن بھائی یہاں رہتے ہوئے جو پاکستانی اور ڈینش معاشرے کو ایک ساتھ لے کر چلے ہیں تو اسمیں بھی سب سے زیادہ کردار میرے والد کی تعلیم و تربیت کا ہی ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ کبھی محبت میں ہمارے ساتھ بچہ بن جاتے اور کبھی بڑے بن کر ان دونوں معاشروں کے فرق اور انکی خوبیوں کے بارے میں آگاہ کرتے۔ نہ انہوں نے کسی بھی موضوع کو لگے بندھے اور دقیانوسی طریقے سے نہ کبھی سُنا اور نہ ہی کبھی پرکھا بلکہ کسی بھی موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے صرف اسکے ترقی کے پہلوؤں کو ہی مدنظر رکھا اور بہت مدلل انداز میں یہ بھی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
13
۱۳
بتا دیا کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے لیئے کیا غلط ہے اور کیا درست۔ یعنی ایک حد کی نشان دہی کر دی۔
انہوں نے اپنی بات منوانے کے لیے صرف اپنی عمر، تجربے یا والد ہونے کے حق کو کبھی استعمال نہیں کیا بلکہ بات کو دلیل سے بتایا اور ہمیں اس کو اپنانے یا رد کرنے کا پورا اختیار دیا۔
چند ماہ قبل جب ”ابا جی“ نے مجھے یہ بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے سفر کی روداد لکھ رہے ہیں جو شائع بھی ہو گی تو پہلے تو سچی بات کہ مجھے اس لیئے یقین نہیں آیا کہ ہمارے تو سارے خاندان میں ایسا کوئی لکھاری ہوا ہی نہیں جسے عام زبان میں ادیب کہا جاتا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اس لیے انکی بات پر یقین کرنا پڑا کہ انہوں نے آج تک جس کام کا بیڑا اٹھایا اسے پورا کر کے ہی دم لیا۔
میں ایک بیٹی کے طور نہیں بلکہ اردو کی ایک طالبعلم اور ایک لائبریری کی سربراہ کے طور پر سانس لیتی کتابوں کے درمیان اپنی زندگی کا ایک غالب حصہ گزارنے والی کی حیثیت سے یہ کہہ رہی ہوں کہ ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ کی یہ خود نوشت صرف ایک سفر کی داستان ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کی گواہی ہے کیونکہ اس سفر کا آغاز جس ماحول سے ہوتا ہے اسکا صحیح نقشہ پیش کر کے ہی قاری کو داستانِ سفر کی وجہءِ عمل سے روشناس کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف ہماری زندگیوں کی ہی تاریخ نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بھی تاریخ ہے کہ ان آنے والی زندگیوں کا ڈنمارک میں بیج کس طرح بویا گیا۔ مستقبل کی اس کہانی کا یہ پہلا آغاز ہے۔
مجھے اپنے ”ابا جی“ کی اس پہلی تصنیف پر ذاتی طور پر بھی خوشی ہے اور میں گھر میں سب سے بڑی اولاد ہونے کے ناطے اپنے کنبے کے تمام افراد کی طرف سے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
اللہ تعالیٰ انکا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ سلامت رکھے (آمین)
روبینہ افضل
ویسٹربرو۔ لائبریری سربراہ
کوپن ہیگن
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
14
۱۴
مومن بے تیغ
(نصر ملک۔ کوپن ہیگن)
امانت علی چوہدری سے میری ملاقات تو کوئی پچیس تیس سال پرانی ہے لیکن ان سے میری اصل جان پہچان پچھلے کوئی چھ سات سال سے ہے۔ شروع شروع میں وہ جب بھی ملتے یا تو کسی مذہبی تقریب میں یا پاکستانیوں کے کسی رفاہی و سماجی اور سیاسی اجتماع میں۔ لیکن چپ چاپ۔
اپنے آپ میں گم رہنے والے امانت علی چوہدری سے کبھی کھل کر تو بات نہ ہو سکی البتہ مسکراہٹوں کا تبادلہ ضرور ہوتا رہا اور پھر وہ دن آیا جب ہمارے ایک مشترکہ آشنا چوہدری ولایت خان نے مجھے اور امانت علی چوہدری کو ایک کیفے ٹیریا میں ملاقات کے لیے بلایا اور پھر یہ ملاقات میرے اور امانت کے درمیان ایک ایسے تعلق میں بدل گئی کہ بقول شخصے ”تو من شدی من تو شدم“ یا پھر میں ”رانجھا رانجھا آکھدی آپے رانجھا ہوئی“ والا معاملہ بن گیا۔ اور مجھ پر امانت علی کے اصل اوصاف کھلنے لگے۔
ڈنمارک سے یکے بعد دیگرے کئی ایک اردو پرچوں کا آغاز کرنے اور زلفِ اردو
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
15
۱۵
سنوارنے والے امانت علی نے ایک بار پھر ایک نئے اردو پرچے ”وطن نیوز“ کی بنیاد رکھ دی تھی اور اپنے اس نئے سفر میں وہ مجھے اپنے ساتھ لینا چاہتے تھے۔ کچھ ولایت خان کا اصرار اور کچھ امانت علی کی اپنی معصومیت کہ اتنی بار یارانِ ہمنوا سے دھوکا کھانے کے بعد وہ ایک بار پھر اسی سفر پر گامزن ہونے کا ارادہ کر رہے تھے جس کے لیے ”رختِ سفر“ تھا ہی نہیں۔
بہر حال انہوں نے ”وطن نیوز“ جاری کیا اور میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ اس صحافتی ڈگر پر امانت علی کیساتھ چلتے ہوئے ابھی مجھے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور میں یہ سوچتا رہتا تھا کہ مجھ جیسے منہ پھٹ اور صحافتی اصولوں کے کچے فرد کو امانت علی کہاں تک ساتھ رکھے گا۔ لیکن میرے خدشات کے برخلاف پھر ایک ایسا وقت آیا کہ میں خود ہی امانت علی کا منتظر رہنے لگا۔
شہر میں ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا، پاکستانیوں کے مسائل پر بحثیں، ڈنمارک کی سیاسی صورتِ حال پر باتیں اور ان سب کے نتیجے میں ”وطن نیوز“ کے لئے مواد کا اکٹھا کرنا ہمارا ایک طرح سے مشترکہ مشغلہ بن گیا۔ جس پر ہم ابھی تک متفق ہیں اور وہ جنہوں نے ہمیں ملایا تھا وہ ہمیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کے درپے ہو گئے۔
امانت علی نے کسی کی پرواہ کئے بغیر اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر میرے ساتھ دوستی برقرار رکھی اور اس کی کئی بار قیمت بھی چکائی۔ میں اور امانت علی چوہدری کوئی دو تو نہیں ۔ ہماری شامیں جو اکٹھی بسر ہوتی تھیں اب اور بھی طویل ہونے لگیں اور پھر ، سرما کی ان طویل راتوں میں ایک رات ایک ایسا چاند نکلا کہ اس نے ہم دونوں پر ایک دوسرے کی حقیقت آشکار کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ماہِ تاب تھا ’صفدر ھمدانی‘!
صفدر ھمدانی لندن سے یہاں کوپن ہیگن میں اپنے اعزاز میں منعقد ہوئی ایک تقریب میں شمولیت کے لئے تشریف لائے تھے اور میرے ہی گھر پر امانت علی سے جب ان کی ملاقات ہوئی تو پہلے تو وہ بھی کچھ تذبذب میں رہے لیکن بعد میں یہ اعتراف انہوں نے ضرور کیا کہ یہ آدمی امانت علی ایماندار تو لگتا ہی ہے وفادار اور ایک اچھا انسان بھی دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔۔ نصر تم خوش قسمت ہو!
میں مسکرا دیا اور پھر صفدر ھمدانی جب بھی یہاں کوپن ہیگن آئے مجھ سے زیادہ امانت علی ان کے قریب رہے اور میں ان دونوں کے بیچ ”گھر کا فرد“ بن گیا اور ایک مرتبہ کچھ یوں ہوا کہ امانت علی پاکستان سے ڈنمارک تک اپنی ہجرت کی داستان چھیڑ بیٹھے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
16
۱۶
میں نے دیکھا کہ رات ڈھلتی جا رہی ہے اور صفدر ہمہ تن گوش امانت کی باتیں سن بھی رہے ہیں اور مسکرانا تو ایک طرف قہقہے بھی لگا رہے ہیں۔ اس سے میرا کام صرف کافی بنانا اور ان دونوں کو پیش کرنا تھا۔ آخر کو میزبان جو تھا۔۔۔ یکا یک کیا سنتا ہوں کہ صفدر بھائی داد و دہش کے نعرے لگاتے مجھے پکار رہے ہیں۔
نصر ادھر آؤ!
میں دست بستہ حاضر ہوا تو صفدر بولے۔
’سنا تم نے۔۔۔۔ میں نے امانت سے کہہ دیا ہے کہ جو کہانی مجھے سنا رہے ہو وہ لکھ کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اگر کتابی صورت میں نہیں تو قسط وار اپنے ہی پرچے ’وطن نیوز‘ میں شائع کر دو!
میں نک نک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق کافی کی پیالی ہاتھ میں لئے کھڑا رہ گیا۔
”امانت علی اپنی رودادِ ہجرت لکھیں گے“ میرے ہونٹوں پر سوال تھا۔
کیوں نہیں! صفدر بولے۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ امانت علی کا سرخ و سپید چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا معلوم نہیں فرطِ جذبات سے یا خوف سے کہ وہ اپنی کہانی لکھیں گے۔ کبھی وہ صفدر کی طرف دیکھتے اور کبھی میری جانب اور پھر میری رگِ ظرافت نہیں بلکہ رگِ شرارت جو پھڑ کی تو میں نے صفدر کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا امانت کے لیے اس سے نرم کوئی اور سزا نہیں تھی؟
وہ بھی مسکرائے اور بولے، فی الحال تو تعزیر سنائی جا چکی ہے اور اب دیکھنا ہے کہ اقبالِ جرم کر لینے کے بعد یعنی اپنی سفرِ ہجرت کی داستان لکھنے کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ امانت کیسے پوری کرتا ہے۔
میں کیسے پوری کروں گا! امانت کو شاید اب احساس ہوا تھا کہ صفدر نے اسے کس کالے پانی بھجوا دیا تھا۔ میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا کہ اے میرے صفدر’ آپ کیا جانیں کہ جسے آپ بھولا بادشاہ سمجھ رہے ہیں اس مومنِ بے تیغ کا قلم ہر یزیدِ وقت کے لیے خنجر ہے۔۔۔ اور آج اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں میرا کہا ایک بار پھر سچ ثابت ہوا ہے کہ امانت علی قلم کا دھنی ہی نہیں بلکہ اس میدان میں یہاں ڈنمارک میں اس نے جب بھی کوئی ارادہ کیا ہے اسے منزل تک ضرور پہنچایا ہے۔
صفدر یہاں اس کے بعد سے بھی آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ اب تک کچھ یوں جاری ہے کہ وہ اب میرے کم اور امانت کے ساتھ زیادہ وقت گذارتے ہیں لیکن
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
17
۱۷
یہ کوئی گلہ شکوہ نہیں بلکہ میں تو خوش ہوں کہ جس مصیبت میں وہ امانت کو ڈالنا چاہتے تھے وہ تو اس سے سرخرو ہو گئے اور اب خود صفدر اس میں پھنسے ہوئے تھے۔ اور اس وقت جب امانت علی کے اپنے آبائی گاؤں ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک کے سفر کی داستان کا مسودہ میرے سامنے ہے اور میں اس کی ایک ایک سطر پڑھ چکا ہوا ہوں تو میں صدقِ دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ امانت علی نے بڑی ایمانداری کیساتھ پاکستان سے ڈنمارک آنے اور یہاں پر بیتے دنوں کے اپنے حالات کے بارے میں وہ سب کچھ لکھ دیا ہے جو ہم ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں۔
امانت علی کے سفر کی یہ داستان صرف امانت علی کی داستان نہیں یہ ہم سب ان پاکستانیوں کی داستان ہے جو انیس سو ساٹھ کے عشرے میں یہاں کمائی کرنے اور پھر واپس وطن چلے جانے کے خواب لے کر آئے تھے۔ لیکن اب ہماری تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے اور ڈنمارک ہمارا وطنِ ثانی بن چکا ہے۔
میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ امانت علی نے اپنی اس تیسری نسل کے لیے خود پر جو بیتی اسے سپردِ قلم کر کے ایک دستاویز بنا دیا ہے، لیکن نہیں یہ صرف امانت علی چوہدری کی ہی داستان نہیں خود میری بھی یہی داستان ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ جب اس کتاب ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک“ کو پڑھیں تو یہ آپ کو بھی اپنی ہی داستانِ ہجرت محسوس ہو۔
اس کتاب کو پڑھیئے اور بتائیے کہ کیا امانت علی نے پوری ایمانداری کیساتھ وہی کچھ نہیں لکھا جو آپ محسوس کرتے ہیں؟
نصر ملک
ایڈیٹر، اردو سروس، ریڈیو ڈنمارک
کوپن ہیگن۔
دسمبر ۲۰۰۶ء
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
18
۱۸
امانت کی امانت داری
(صفدر ھمدانی۔ لندن)
یہ بات چند برس پہلے کی ہے جب میری پہلی ملاقات بھائی امانت علی چوہدری کے ساتھ یادش بخیر استاد زادے ڈاکٹر مسعود سہیل اور میرے نہایت ہی محسن اور عزیز دوست نصر ملک کے ہمراہ ہوئی تھی۔ سچ پوچھیں تو پہلی ملاقات اور گفتگو میں مجھے اس نفیس روح میں نہ تو لکھاریوں والی کوئی بات نظر آئی اور نہ ہی کوئی ایسا جراثیم دکھائی دیا کہ ان موصوف کو بھی قلم کاری سے کوئی نسبت یا رغبت ہو سکتی ہے۔ اپنے ظاہری ڈیل ڈول اور اچھے کھانے سے رغبت کی وجہ سے یہ چوہدری بھی مجھے اصلی گجرات کے ہی چوہدری لگے۔
میرے پہلے دورۂ کوپن ہیگن کے دوران جب نصر ملک اور ھما بھابھی نے اپنے گھر میں ایک پُرتکلف دعوت اور محفلِ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ مجھ فقیر کو اس شہر کے ادب نواز اور ادب شناس افراد سے متعارف کروانے کا اہتمام کیا تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس محفل میں بھائی امانت ہی وہ واحد فرد تھے جو شاعر نہیں تھے اور جنہوں نے کوئی غزل یا نظم نہیں سنائی تھی بلکہ خاموشی کے ساتھ سب کی سنتے رہے اور مجھے اس خاموش شمعِ محفل پر ترس بھی آتا رہا۔
میری یہ غلط فہمی کوئی بہت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور پھر یوں ہوا کہ جب تمام احباب کو نصر اور ھما بھابھی نے رخصت کر دیا تو اب میدان میں باقی رہ جانے والوں میں صاحبانِ خانہ کے علاوہ صرف یہ بندۂ ناچیز، استاد زادہ ڈاکٹر مسعود سہیل اور امانت علی چوہدری تھے۔
یہی وہ وقت تھا جب یہ موصوف مجھ پر آشکار ہونا شروع ہوئے اور نصر ملک نے اب انکا تفصیلی تعارف انکے جریدے ”وطن نیوز“ کے حوالے سے کرواتے ہوئے میرے سامنے اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
19
۱۹
جریدے کے دو شمارے رکھ دیئے جن کو میں نے پہلی نظر میں بس سرسری طور پر دیکھا اور یہ سمجھ کر تفصیلی مطالعہ کسی اور وقت پر اٹھا رکھا کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے اکثر وہ لوگ جن کے پاس وقت اور پیسہ ہوتا ہے وہ صحافت کی گلی کا چکر صرف ذاتی تشہیر کے لیے بھی لگا لیتے ہیں یا پھر اسے اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
زیادہ سننے اور کم بولنے والے امانت علی چوہدری نے اُس روز جب مجھے اپنے جریدے ”وطن نیوز“ کی مشاورت کی پیشکش کی تو ایک لمحے کے لیے جیسے میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے اور میں سوچنے لگا کہ نہ جانے یہ حضرت مجھے تفصیلی طور پر جانے بغیر کیوں اس قسم کا ”رسک“ لینے کو تیار ہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ نصر ملک نے شاید بھائی امانت کو میری تکلیف دہ حد تک کی اصول پسندی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ورنہ یہ موصوف مجھے اس قسم کی کوئی پیشکش نہ کرتے۔
میں نے شروع میں تو برادرم امانت سے معذرت کی کہ میں انکے اس جریدے میں شاید مشیر کے طور پر اس لیئے کام نہ کر سکوں کہ مجھے حکومتِ پاکستان کے نام نہاد مشیروں کی طرح کا مشیر بننے کا کوئی شوق نہیں، اور میں نے اپنی ساری ادبی اور قلم کاری کی زندگی میں خود کو نہ تو کسی ادبی گروپ سے منسلک کیا ہے اور نہ ہی کسی جریدے کی ادارت و مشاورت اس لیئے سنبھالی ہے کہ میں اس سے بے جا کوئی فائدہ اٹھا سکوں۔ بس یہی وہ وجوہات تھیں جنکے باعث میں نے ”وطن نیوز“ کا مشیر بننے سے صاف الفاظ میں معذرت کر لی۔
ایسے میں اب برادرم نصر ملک نے جب صورتِ حال کو بھانپ لیا تو انہوں نے پہلے تو مجھے بھائی امانت علی چوہدری کے تمام خصائص، خاندانی پس منظر اور ادب دوستی کے رویے کے ساتھ ساتھ قلم کاری کے میدان میں انکی مسلسل جستجو کے بارے ایک کامیاب وکیل کی طرح آگاہ کیا اور پھر اس جریدے کی اشاعت میں خود اپنی مساعی اور کردار کا تذکرہ کچھ ایسے انداز میں کیا کہ مجھ سے مزید انکار نہ ہو سکا اور یوں بظاہر خاموش طبع امانت علی چوہدری نے پہلی ہی ملاقات میں اس عقرب نشان صفدر ھمدانی کو زیر کر لیا۔
میں نے جریدے کو بہتر بنانے کے لیے اس شام جو تجاویز پیش کیں امانت بھائی نے بلا تامل ان تمام تجاویز کو نہ صرف قبول کر لیا بلکہ فوری طور پر اگلے شمارے میں ان تبدیلیوں پر عمل بھی کر کے دکھا دیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مجھے اس امانت دار فرد کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرنا پڑی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
20
۲۰
اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص اپنی ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر کسی دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہے اور اپنی بات پر بے جا اڑے رہنے کا عادی نہیں، ایسے شخص کی مدد کرنا اور اسے تحریر کی دنیا میں آگے بڑھانا مجھ جیسے طالبعلم پر جیسے ایک فرض بن جاتا ہے۔
یہی وہ پہلی ملاقات اور پہلی شب بیداری تھی جب بھائی امانت کو اس امر سے بھی آگاہی ہوئی کہ میں شب بیدار انسان ہوں اور میرے سونے کا وقت صبح کاذب ہے۔ اس پہلی ملاقات میں ہی انہیں میرے ساتھ صبح کوئی تین ساڑھے تین بجے تک جاگنا پڑا اور اسی ایک ’افتاد‘ پر میں نے انہیں دوستی کے اس امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے کامیاب قرار دے دیا اور پھر اسکے بعد سے تا دمِ تحریر آج تک بھائی امانت سے ہماری دوستی یہ سوچے بغیر قائم ہے کہ انکی عمر عزیز کتنی ہے اور ہم زندگی کا کتنا سفر طے کر چکے ہیں۔
۲۰۰۴ء میں کوپن ہیگن میں اپنی پہلی آمد کے بعد سے اب ۲۰۰۶ء تک میں کم از کم آٹھ مرتبہ یہاں آ چکا ہوں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ان تمام اسفار میں میرے مشفق طارق سندھو اور بزرگوارم مقبول بھٹی کے علاوہ ۹۰ فیصد سے زائد میزبانی کا حق بھائی امانت علی چوہدری کے ساتھ ساتھ برادرِ عزیز نصر ملک اور بھابھی ھما نصر نے ادا کیئے ہیں اور میں انکی سب کی محبتوں کا تا روزِ آخر مقروض رہوں گا۔ میں بلاشبہ وہ خوش قسمت انسان ہوں جسے دنیا کے ہر گوشے میں ایسے ہی محبت شناس اور بے لوث دوست مل جاتے ہیں۔
کوپن ہیگن میں میری مسلسل آمد کے بارے میں تو اب ادبی دنیا کے بہت سے ’بزرگ مہر‘ چہرے یہ کہہ کر بھی اپنی باطنی کیفیت کا اظہار کر دیتے ہیں کہ صفدر ھمدانی لندن میں کم اور کوپن ہیگن میں زیادہ رہتے ہیں۔ سچ جانیں کہ مجھے ایسے فقروں سے مزید توانائی ملتی ہے اور میں خود کو خوش بخت جانتا ہوں کہ یہاں اس شہر میں مجھے اپنے مطالعے اور علم کو تقسیم کرنے کی دولت میسر ہے اور یہی وہ جہاد ہے جس کی دراصل اس دور میں ہمیں ضرورت ہے۔
میرے پہلے سفرِ کوپن ہیگن سے لیکر اب تک کے ہر سفر میں میرا زیادہ تر وقت امانت بھائی کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ انہیں اچھے کھانے کے ایسے ایسے مقامات کا علم ہے کہ شاید کسی جوتشی یا منجم کو بھی نہ ہو۔ مجھ جیسے انسان کو دور سے جنگل نظر آنے والے مقام پر بھی وہ نہایت نفیس کباب بنانے والے کا پتہ بتا سکتے ہیں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ دن اور رات کے کسی بھی پہر میں وہ اپنے مہمان کو کھانے کی پیشکش کر سکتے ہیں اور یہی مقام ”مشتری ہوشیار باش“ کا ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
21
۲۱
وطن نیوز انکے لیئے ایک نشہ بن چکا ہے اور اس نشے میں وہ ایک عادی نشہ کرنے والے کی طرح اب گھر کے بھی بہت سے کام فراموش کر جاتے ہیں لیکن شکرِ خدا کہ اپنے فرائض کو کبھی بھی نہیں بھولے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ڈنمارک جیسے بیرونی ممالک میں مقیم ایسے بہت کم افراد میں سے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے اور مسلسل محنت اور جدوجہد سے خود اپنی ذات میں ایسے ایسے جوہر تخلیق کیئے ہیں کہ جنکا کوئی عام انسان گماں بھی نہیں کر سکتا۔
میں نے اس سے قبل بھی بھائی امانت کے بارے میں ایک کالم میں لکھا تھا کہ ”وہ کبھی بھی صحافی نہیں تھے لیکن انہوں نے خود کو ایک کامیاب صحافی بنا لیا، وہ کبھی بھی کسی جریدے کے مدیر نہیں ہو سکتے تھے لیکن وہ اب ایک تجربہ کار مدیر بن چکے ہیں، شاید وہ کبھی بھی قلم کار تھے ہی نہیں لیکن انہوں نے کامیابی سے قلم کاری کی ہے“۔ اور اب انکی اس پہلی کتاب کی اشاعت کے بعد میں اپنے اس خیال میں مزید اضافہ اس طرح کر سکتا ہوں وہ کبھی بھی تخلیق کار اور سفر نامہ نگار نہیں تھے لیکن اب بہت سے نام نہاد سفر نامہ نگاروں سے بہتر لکھاری ہیں۔
میں نے جب بھائی امانت کو گجرات سے کوپن ہیگن کے سفر کی روداد لکھنے کا مشورہ دیا تھا تو میں خود تو یہ مشورہ دینے میں مخلص تھا لیکن مجھے یہ یقین تھا کہ اگلے کم از کم دو یا تین برس میں وہ یہ کام نہیں کر سکیں گے لیکن یہ بھی میرا خیالِ خام نکلا اور یہ مشورہ دینے کے تین ماہ بعد جب میں ایک تقریب میں شرکت کے لیئے کوپن ہیگن آیا تو برادرم نصر ملک کے گھر میں انہوں نے یہ انکشاف کر کے مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ انہوں نے اس سفرنامے کا غالب حصہ صرف لکھ ہی نہیں لیا بلکہ ٹائپ بھی کر لیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ مجھ پر یہ راز بھی منکشف ہوا کہ بھائی امانت نوے فیصد اردو شاعروں اور ادیبوں کے برعکس اردو ٹائپ بھی خود ہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میں اسی حیرانی کے عالم میں پتھرائی آنکھوں کے ساتھ نصر ملک کی طرف دیکھ رہا تھا کہ نصر نے میری قلبی کیفیت کا اندازہ لگاتے ہوئے میرے کان میں کہا ”ہور چوپو“۔
نصر کہنے لگا کہ آپ نے کیا سمجھا تھا کہ امانت ’ناگڑیاں سے کوپن ہیگن‘ تک کے سفر کی یہ داستان نہیں لکھ سکے گا؟
میں نے ایک مجرم کی طرح صاف اقرار کیا کہ بلاشبہ جب میں نے امانت کو اسے لکھنے کا مشورہ دیا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اسے تحریر کر لیں گے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
22
۲۲
قصہ کوتاہ چونکہ یہ میرا ایمان ہے کہ ہر انسان چاہے وہ کسی بھی ملک، قوم یا نسل سے تعلق رکھتا ہو خالقِ کائنات نے اسمیں تخلیق کا جوہر رکھا ہے لیکن مسئلہ صرف اس وقت کے منکشف ہونے کا ہے جب اس پر اپنی اس تخلیق کاری کا انکشاف ہوتا ہے اور میرے خیال میں بھائی امانت علی چوہدری کے معاملے میں اس سفرنامے کی اشاعت ان کے لیے اسی تخلیق کاری کے انکشاف کا لمحہ ہے اور ابدی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لمحہ ”تا نا بخشد خدائے بخشندہ“ کی منزل ہے۔
مجھے امانت بھائی کی اس اولین تخلیقی کاوش کے بارے میں کوئی تفصیلی رائے اس لیئے نہیں دینی کہ میں اس کی اشاعت کے تمام مراحل سے آگاہ ہوں اور یوں بھی ایک طویل عرصے سے میرا یہ وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی تصنیف پر رائے دینے کا سب سے زیادہ حق قاری کا ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ آج قاری سے یہ حق نام نہاد تنقید نگاروں نے چھین لیا ہے جو کتاب پڑھے بغیر تنقید کرنے کے فن کو بامِ عروج پر پہنچا چکے ہیں۔
میری آپ قارئین سے درخواست ہے کہ بھائی امانت علی چوہدری کی اس سفری روداد پر دل کھول کر اپنی رائے کا اظہار کریں لیکن اس عمل میں ایک بات محلِ نظر رہے کہ یہ کاوش کسی کمرشل قلم کار کی نہیں بلکہ ایسے ادب دوست انسان کی ہے جسے قلم کی حُرمت کے ساتھ ساتھ حُرمتِ انسانیت کا بھی خیال ہے۔
پروردگارِ لوح و قلم برادرم امانت کی ذہنی اور تخلیقی قوتوں میں مزید اضافہ کرے، انہیں حق اور سچ لکھنے کی توفیق دے اور انکے لکھے ہوئے حروف اور الفاظ میں تاثیر کی قدرت پیدا کرے (آمین)
صفدر ھمدانی
نارتھ اولٹ۔ لندن
دسمبر ۲۰۰۶ء
چل پڑے اک بار تو پھر یہ قلم رکتا نہیں
جو قلم اک بار لکھے کربلا جھکتا نہیں
(صفدر ھمدانی)
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
23
۲۳
پہلا باب
زندگی کا سفر
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گجرات شہر سے کوئی پندرہ کلومیٹر شمال کی طرف کوٹلہ بھمبر روڈ کے نواح میں میرا گاؤں ”ناگڑیاں“ واقع ہے۔ جس کے مغرب میں چوہڑ چک راجپوتال اور موضع فرخ پور جنوب میں موضع سندوھ اور دریکڑی، مشرق میں موضع ساکہ اور شہرو وال ڈونیاں اور ولاور پور واقع ہیں جبکہ شمال میں موضع کالس، جاگل، مصریا اور ساہن واقع ہیں۔
یہ سبھی دیہات اپنی اپنی شناخت رکھتے ہیں اور اپنے اپنے طور پر ایک خالصتاً دیہاتی ماحول کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے پہلے میرا گاؤں ناگڑیاں اس پورے علاقے میں تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور یہاں پر دینی تعلیم کا بطورِ خاص بندوبست تھا اور یہ سلسلۂ تعلیم ہمارے ہی گاؤں کے سادات گھرانے کی طفیل جاری تھا جو کہ اب تک جاری وساری ہے اور سادات گھرانے کے اس صدقۂ جاریہ سے سینکڑوں ہزاروں بچے فیضیاب ہو چکے ہیں۔
یہ وہی گھرانا ہے جس کے چشم و چراغ امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اپنے وقت کے عالم و فاضل، بہترین مقرر، انگریز کے خلاف ساری زندگی جدوجہد کرنے والے، اور احرار پارٹی کے بانی و روحِ رواں تھے اور انہوں نے اپنی عسکری حکمتِ عملی سے اور پر مغز تقاریر و تحاریر سے ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں میں آزادیِ وطن اور غلبۂ دین کے لیے ایک انقلابی روح پھونک دی تھی۔
اس وقت پورے علاقے میں صرف ’ناگڑیاں‘ ہی ایک ایسا دیہات ہوا کرتا تھا جہاں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
24
۲۴
لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول تھا اور یہی وجہ تھی کہ سارے علاقے کے بچے یہیں تعلیم کے لئے آیا کرتے تھے
صبح سویرے ہمارے گاؤں کی جانب آنے والی کچی سڑکوں، کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر عجیب گلرنگ رونق ہوا کرتی تھی۔
بچے کاندھوں پر بستے لٹکائے قطار در قطار ہمارے گاؤں پہنچ رہے ہوتے تھے۔ ذرا تصور کریں کہ آٹھ دیہاتوں کے بچے جب ایک ہی منزل کی طرف، مختلف راستوں سے رواں ہوں تو منظر کیسا ہوتا ہو گا۔
یوں تو ہمارے گاؤں میں کئی برادریوں کے لوگ آباد ہیں لیکن ان سب پر بھاڑ گوجر برادری حاوی رہی ہے۔ جاٹوں اور کشمیریوں کے علاوہ دیگر ذاتوں کے لوگ بھی آباد ہیں اور آپس میں یہ سب برسوں سے ایک ہی برادری کے طور پر جانے جاتے ہیں البتہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے ہر کوئی ایک دوسرے کی عزت و احترام کا لحاظ رکھتا اور اپنے اپنے سماجی مرتبے کے مطابق خود دوسرے کو عزت دیتا اور پیار حاصل کرتا ہے۔
میرے دادا چوہدری بہاول بخش علاقے کے ایک بڑے باعزت اور معزز فرد سمجھے جاتے تھے اور ان کے بڑے بھائی چوہدری فیض بخش اپنے گاؤں کے نمبردار، سفید پوش اور ذیلدار تھے۔ ان کے اکلوتے بیٹے چوہدری احمد خان بھی اپنے سماجی مرتبے کے لحاظ سے ایک الگ مقام رکھتے تھے اور پھر ان کے بیٹے چوہدری فضل الٰہی بھی گاؤں میں کافی بااثر تھے۔
دادا جان کے چار بیٹے چوہدری مولا داد، چوہدری مہر داد، چوہدری فضل داد اور چوہدری فتح خان تھے۔ میرے والد صاحب کا نام چوہدری فتح خان تھا۔ ہمارے پردادا کی 500 بیگھے (250 ایکڑ) زمین تھی۔ لیکن اراضی کی تقسیم کے بعد میرے دادا کے حصے میں 125 ایکڑ زمین آئی۔
میرے نانا جان چوہدری رستم علی کا ایک بیٹا محمد خان اور تین بیٹیاں حیات بیگم، راج بیگم اور فضل بیگم تھیں۔ فضل بیگم میری والدہ تھیں۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ ہمارا سب سے بڑا بھائی اور دوسرا سب سے چھوٹا بھائی بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ میں اب تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں میرے والد صاحب اور تایا جان چوہدری فضل داد دونوں ماں باپ سے سگے بھائی تھے۔
- میرا ایک بھائی جو بچپن ہی میں وفات پا گیا تھا اس کے بعد تین بہنیں پیدا ہوئیں۔ گھر میں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
25
۲۵
نرینہ اولاد کی خواہش تھی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی جاتی تھیں، آخر جب میری ولادت ہوئی تو اس وقت کے رسم و رواج کے مطابق بہت خوشیاں منائی گئیں۔ خاندان میں مشہور ہے کہ میری ولادت پر برادری بھر میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور خوشیاں منائی جاتی رہیں۔
میری تاریخ پیدائش یکم جولائی 1940ء ہے لیکن والدین ان پڑھ تھے اور ویسے بھی اس دور میں کون تاریخ پیدائش یاد رکھتا تھا لہٰذا جب مجھے سکول میں داخل کروایا گیا تو وہاں اندراج کے رجسٹر میں میری تاریخ پیدائش 3 نومبر 1943 لکھوائی گئی اور یہی اب میری تاریخ پیدائش بن چکی ہے۔
میرے بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب میرا نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو مختلف نام تجویز کئے گئے۔ لیکن میری دادی جان کا کہنا تھا کی ہمیں اللہ نے بڑا مہنگا پوتا دیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس کا نام وہی ہو گا جو وہ تجویز کریں گی۔ دادی صاحبہ کے سامنے کون بول سکتا تھا۔ انہوں نے میرا نام امانت علی رکھ دیا جو ہر کسی کو منظور کرنا پڑا۔
1954 میں جب دادی جان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر ایک سو سال سے اوپر تھی اور میری عمر اس وقت کوئی چودہ پندرہ سال تھی۔ گاؤں کے بڑے بزرگ آج بھی ان کو یاد کرتے اور اُن کے خلوص اور ایثار کی باتیں کرتے ہیں۔ دادی کی وفات سے مجھے سخت صدمہ مجھے پہنچا۔ ان کا پیار آج بھی یاد کرتا ہوں اور بے اختیار دل سے صدا نکلتی ہے کہ:
وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں
میں اپنی تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس لئے نہ صرف میری بہنیں مجھے عزیز رکھتی تھیں بلکہ والدین کی اولادِ نرینہ ہونے کی وجہ سے مجھے گھر میں والدین کی سب سے زیادہ توجہ حاصل تھی۔ اور میرے والدین مجھ پر اپنی جان نثار کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ میری پرورش بڑے ناز ونعم اور لاڈ و پیار کے ماحول میں ہوئی۔
میں دس سال کی عمر میں پہلی کلاس میں داخل ہوا تھا، حالانکہ اس عمر کے بچے دوسری یا تیسری جماعت میں ہوتے تھے۔ وجہ وہی والدین کا لاڈ پیار۔ مجھے جب سکول میں ماسٹر صاحب کے حوالے کیا جاتا تو میں موقع ملتے ہی واپس گھر آ جاتا۔
ایک دن ایسا آیا کہ استاد کے پیار سے سمجھانے پر پڑھنا شروع کر دیا، پھر کیا تھا میں پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لینے لگا اور پڑھائی لکھائی کے معاملے میں پیش پیش رہنے لگا۔ مجھے پڑھائی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
26
۲۶
کی طرف راغب دیکھ کر والد صاحب بہت خوش ہوتے۔ زمینداری کے حوالے سے میں نے جب کبھی کاشتکاری میں یا پھر ڈنگر ڈنگروں کو چارہ ڈالنے میں والد صاحب کی مدد کرنا چاہی یا ان کیلئے حقہ تازہ کرنے کی کوشش کرتا تو وہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیتے۔ ”نہیں بیٹا نہیں، یہ تمھارا کام نہیں“ ان کا یہ جملہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ وہ مجھے پڑھائی پر توجہ دینے کی تلقین کرتے رہتے تھے اور اپنے کام خود کرنے کے عادی تھے۔
میں پڑھنے میں بہت ذہین تھا۔ اسی لئے سکول کے ٹیچر بھی بہت پیار کرتے۔ ہمارے ناگڑیاں سکول سے ہم پانچ لڑکے پانچویں کلاس میں وظیفہ کا امتحان دینے کیلئے کھاریاں گئے جہاں پوری تحصیل سے دوسرے سکولوں کے لڑکے بھی آئے ہوئے تھے۔ میں پانچویں جماعت میں اپنے سکول میں فرسٹ آیا تو والد صاحب کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ پورے محلے میں مٹھائی تقسیم کرائی گئی۔ گھر والے خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے، ہر کسی کو بتا رہے ہیں کہ ہمارے بیٹے نے اچھے نمبر حاصل کئے ہیں اور وظیفے کا امتحان پاس کیا ہے۔ اب ہم اس کو کسی بڑے سکول میں داخل کرائیں گے۔
مجھے دولت نگر ہائی سکول میں چھٹی کلاس میں داخل کرا دیا گیا جو ہمارے گاؤں سے چار میل جنوب کی طرف واقع ہے۔ اس کے بعد والد صاحب اچانک بیمار پڑ گئے۔ دراصل وہ اکیلے تھے اور زمینداری کا کام بہت کرتے تھے۔ ہل جوتنا، مویشیوں کیلئے چارہ تیار کرنا، اس وقت چارہ کترنے والی مشینیں نہیں ہوتی تھیں، اس لئے ہاتھ کے ٹوکے سے اتنے مویشیوں کیلئے چارہ تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
وہ دمہ کے مریض بھی تھے۔ ان کی بیماری کے دنوں میں، میں ان کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا تو انہوں میرے ماموں زاد بڑے بھائی چوہدری لال خان کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ لال خان میں اپنے بیٹے کو خدا اور تمہارے سپرد کر کے جا رہا ہوں، تم اس کا اور اسکی تعلیم کا خیال رکھنا۔
بیماری اتنی بڑھی کہ وہ دوبارہ بستر سے اٹھ نہ سکے اور مارچ 1955ء کو ہم سب کو اکیلا اور بے سہارا چھوڑ کر، مجھے اعلیٰ تعلیم دلانے کے سہانے خواب من میں اٹھائے اور ہمیں روتا اور چلاتا چھوڑ کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ہماری تو ایک طرح سے دنیا ہی تاریک ہو چکی تھی۔
بچپن آخر بچپن ہوتا ہے نہ کسی چیز کی فکر اور نہ کوئی سوچ۔ میرا بچپن بھی ہنستے کھیلتے گزر گیا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
27
۲۷
ہاں میرا بچپن گاؤں کے دوسرے لڑکوں سے کچھ مختلف ضرور تھا کیونکہ چودہ پندرہ برس کی عمر تھی کہ والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ گو امی جان نے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی لیکن پھر بھی باپ کی محبت و پیار سے زندگی خالی ہو گئی تھی۔ جیسا کہ بتا چکا ہوں ناگڑیاں میں ہی پرائمری سکول تھا، جہاں دور نزدیک کے تقریباً آٹھ نو گاؤں کے لڑکے پڑھنے آتے تھے۔ طالب علموں کی تعداد بہت ہوتی تھی۔ صبح سکول میں پڑھائی شروع ہونے سے پہلے، سکول گراؤنڈ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا و حمد کی جاتی تھی۔ وہ یوں کہ دو یا تین لڑکے جن کی آواز سریلی ہوتی تھی وہ مناجات پڑھتے جس کے الفاظ کچھ یوں ہوتے تھے۔
اسلام کا ہم سکہ دنیا پہ بٹھا دیں گے
توحید کی دنیا میں اک دھوم مچا دیں گے
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
پھر کبھی علامہ اقبال کی یہ دعا پڑھی جاتی۔۔۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔
دعا کے بعد استاد اپنی اپنی جماعت کی حاضری لگاتے اور پھر پڑھائی شروع ہو جاتی۔
ہر ٹیچر کی کوشش ہوتی تھی کہ اسکی جماعت کا نتیجہ اچھا رہے۔ استاد اپنا فرض سمجھتے ہوئے بچوں کو پڑھاتے تھے اور بچے بھی خوب محنت کیساتھ پڑھتے تھے۔
استاد کی عزت و احترام اپنے والدین کی طرح کی جاتی تھی۔ جب ہم پرائمری سکول میں تھے تو لکڑی کی تختیوں پر اپنا سبق اور عبارت لکھتے تھے۔ سرکنڈے کی قلمیں ہوتی تھیں جو ہم خود تیار کرتے تھے۔ دوات میں چھوٹا سا کپڑے کا ٹکڑا ڈال کر اس میں روشنائی کی پڑیا ڈالتے اور ضرورت کے مطابق پانی ڈالا جاتا۔ سکولوں میں جو روشنائی استعمال ہوتی تھی اس کا نام ”چراغ روشنائی،، ہوتا تھا جو لالہ موسیٰ میں بنتی تھی۔ تختیوں پر ہماری لکھائی کو باقاعدہ استاد چیک کرتے تھے اور جس کی لکھائی اچھی ہوتی اس کو شاباش دی جاتی تھی۔
میری لکھائی یعنی خوشخطی کلاس میں سب سے اچھی ہوتی تھی۔ آج جب اس وقت کو یاد کرتا ہوں اور اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو بال پوائنٹ سے کاغذ پر لکھتے دیکھتا ہوں تو وہ وقت اور بھی یاد آنے لگتا ہے جب ہمیں استاد اپنے ہاتھ سے قلم پکڑ کر لکھنا سکھایا کرتے تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا تو میری عمر دس سال تھی ۔ میرے ساتھ میرے گاؤں کے جو لڑکے پڑھتے تھے ان کے چہرے ابھی تک میری آنکھوں کے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
28
۲۸
سامنے ہیں۔
وہ محمد زمان، غلام غوث، مہدی خان، اصغر علی، غلام نبی، عبد الرحمن، محمد شریف، اصغر علی، محمد رفیق، بشیر احمد ،کیا یارانے ہوتے تھے۔ نہ کسی کی پرواہ اور نہ کسی کا خوف۔ اپنے کام سے کام پڑھائی ہی پڑھائی۔ اب وہ وقت کہاں!
میرے بچپن کے ان دوستوں میں سے عبد الرحمن اور غلام نبی نے میرے ساتھ میٹرک کیا۔ غلام غوث مڈل کے بعد فوج میں چلے گئے ،میرے بہت ہی پیارے دوست تھے۔ وہ جب فوج سے پنشن لیکر گھر آئے تو میں ڈنمارک آ چکا تھا۔ جب کبھی ڈنمارک سے پاکستان جانا ہوتا تو ہماری ملاقات ضرور ہوتی تھی۔ غلام غوث نے اپنا ایک ٹرک بنا لیا تھا اور گاؤں کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر فیصل آباد میں کاروبار شروع کر دیا تھا۔ فیصل آباد میں ہمارے گاؤں کے کوئی 20 سے زیادہ اپنے ٹرک اب بھی ملک کے طول و عرض میں سامان لانے لیجانے میں مصروفِ کار رہتے ہیں۔
غلام غوث کا کام اچھا چل رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنا ٹرک سڑک کے کنارے کھڑا کر کے گاؤں کے ایک دوسرے آدمی کی مدد کر رہا تھا جس کا ٹرک خراب ہو گیا تھا۔ وہ ٹرک کے نیچے لیٹ کر کوئی چیز درست کر رہا تھا کہ ایک دوسری گاڑی نے اس ٹرک کو ٹکر مار دی۔ غلام غوث نیچے کچلا گیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان دے دی۔ غلام غوث بہترین کھلاڑی تھا اور مختلف کھیلوں میں ماہر تھا، مجھے اپنے اس دوست کی اچانک موت آج تک نہیں بھولی۔
میرا ایک اور دوست مہدی خان بھی فوج سے صوبیدار کے عہدے پر ریٹائر ہو کر گھر آ گیا ہے اور آج کل بزنس کر رہا ہے، بہت آسودہ اور خوشحال ہے۔ اصغر علی مڈل سے آگے نہ بڑھ سکا ،گاؤں میں دکانداری کر رہا ہے۔
غلام نبی اور محمد شریف دونوں ریلوے میں ملازم تھے۔ محمد شریف آج کل پنشن پر ہے اور گاؤں میں رہتا ہے۔ غلام نبی ملازمت سے فارغ ہو کر اب گاؤں میں دکانداری کر رہا ہے۔ عبدالرحمن بڑا اچھا دوست تھا وہ بھی ریلوے میں چلا گیا۔ ساری سروس راولپنڈی میں گزاری ریٹائرمنٹ کے بعد گاؤں آ گیا۔ چند سال ہوئے تقریباً پچیس سال بعد جب اس سے ملاقات ہوئی تو وہ گاؤں میں بچوں کیلئے نیا گھر تعمیر کر رہا تھا۔ اسی دوران اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس کی اچانک موت پر بہت دکھ ہوا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
29
۲۹
ایک اور ساتھی محمد رفیق ایئر فورس میں بھرتی ہو گیا تھا۔ 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں تھا، وہیں سے انڈیا میں قیدی بنا اور اب گاؤں میں دکانداری کر رہا ہے۔ یہ وہ دوست ہیں جو یہاں پردیس میں بھی میری یادوں میں سمائے رہتے ہیں۔ سوچتا ہوں ہمارا گاؤں کتنی وسعت رکھتا ہے، جو کوئی وہاں سے جاتا ہے مڑ کر آتا ہے تو اسے کھلے بازؤں خوش آمدید کہتا ہے۔ میں کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ یہاں پردیس میں سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اپنے گاؤں کا سا سماں کہاں۔ یار دوستوں کی محفلیں، چھیڑ چھاڑ سب کچھ افسانہ ہو گئیں۔
میں کس کس کا نام گنواؤں۔۔۔۔۔ وہ میرے بچپن کا دوست محمد انور۔ ہم نے بچپن اور جوانی اکٹھے گزاری ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہی ہے کہ ہم یہاں ڈنمارک میں بھی اکٹھے ہی آئے تھے اور آج بھی ہمارا ساتھ ہے۔ اس کے بارے میں اور محمد زمان کے بارے آگے کسی اور جگہ ذکر آئے گا۔
ہمارے گاؤں کے بہت سے میرے ہم عمر یا چند سال بڑے اور چھوٹے دوستوں میں سے کچھ تو فوج میں شامل ہو کر پاک وطن کی سرحدوں کی رکھوالی و حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور کچھ دوست فیصل آباد میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مالک تھے ۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ہمارے گاؤں کے کم از کم 20 سے زیادہ ٹرک تھے ، ان ٹرکوں کے مالک کوئی زیادہ تعلیم یافتہ لوگ بھی نہیں تھے ، صرف چند سال ہی گاؤں کے سکول میں گئے ہوں گے کہ گاؤں کا ایک دردِ دل رکھنے والا انسان چوہدری محمد عبداللہ قوم جٹ، (جموں) کسی اچھے وقت میں لائل پور (فیصل آباد) نوکری کے سلسلہ میں چلا گیا تھا یہ قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے۔
چوہدری محمد عبداللہ نے محنت و مشقت کر کے اپنا ایک ٹرک خرید لیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسکی محنت کا یہ صلہ دیا کہ اس کے ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چھ ٹرک بن گئے ۔ جوں جوں اس کے کاروبار میں ترقی ہوتی گئی ، وہ گاؤں کے لڑکوں برکت علی، محمد شریف، احمد خان، محمد لطیف، غلام احمد، فیض احمد، محمد صدیق وغیرہ کو جو صرف مویشی چرانے اور ہل جوتنے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے تھے ان کو لائل پور بلاتا گیا اور ان کو ٹرکوں کے کام پر لگا دیتا۔ وہ آہستہ آہستہ ٹرک کلینرز سے ترقی کرتے کرتے ٹرک ڈرائیور بنتے گئے۔ پھر چوہدری محمد عبداللہ ان کو مشورہ دیتا کہ کسی ٹرک میں دو آنے یا چار آنے حصہ ڈال دو۔ اسی طرح وہ سب کلینرز بذاتِ خود ٹرکوں کے مالک بن گئے اور آج
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
30
۳۰
اپنی اپنی جگہ پر ایک متوسط خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے گاؤں ، ناگڑیاں کے لوگوں کی معیشت کو سنبھالا دینے والے چوہدری محمد عبداللہ ہیں اور ان ہی کی بدولت آج بھی ناگڑیاں کے لوگوں کے بیس پچیس ٹرک ملک بھر میں مال کی نقل و حرکت کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ میں کس کس کا ذکر کروں۔ بات کہاں سے چلی اور کہاں پہنچ گئی ہے۔
وہ مناظر میری آنکھوں کے سامنے ہیں جب عیدین کے موقع پر ہمارے گاؤں کے نوجوان فوج سے چھٹی لیکر اور ٹرک ڈرائیور اپنے ٹرکوں سمیت گاؤں آتے تھے تو گاؤں کے لوگ انہیں کو آگے بڑھ کر گلے لگاتے اور حال احوال پوچھتے تھے۔ گڑ شکر کا شربت پلایا جاتا تھا۔
عید کے دنوں میں ہمارا گاؤں ناگڑیاں خود ٹرکوں کا بہت بڑا اڈہ بن جاتا ہے۔ عید سے ایک دو دن پہلے ہم لوگ گاؤں کے مغرب کی طرف ذرا باہر کھڑے ہو جاتے اور دور تک دیکھتے تو کوئی نہ کوئی ”چپ راست چپ راست“ کے انداز میں سینہ تانے چلتا گاؤں کی طرف آتا دکھائی دیتا تو ہم اندازہ لگانا شروع کر دیتے کہ یہ فلاں ہو گا، یا فلاں ہوگا۔ اور پھر جب وہ آنے والا اپنا پرانی طرز کا لوہے کا سوٹ کیس کندھے پر رکھے قریب آ جاتا اور ہم پہچان لیتے کہ یہ تو فلاں ہے تو آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا جاتا۔ گلے ملا جاتا اور پھر گاؤں کی جانب پیش قدمی کی جاتی۔ اس وقت کے رشتوں اور دوستی میں منافقت و مفاد شامل نہیں ہوتا تھا۔ گاؤں کا بیٹا ہر کسی کا بیٹا اور گاؤں کی بہو بیٹیاں تو سب کی سانجھی عزت ہوا کرتی تھیں۔
عید کے دن ہم سب لڑکے ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تو گاؤں کی لڑکیاں ہمیں کہتیں کہ بھائی یا چچا ہمیں فلاں پیڑ پر ”پینگ،، ڈال دیں۔ تو ہم ان کو پینگ ڈال دیتے تو وہ اپنے شغل میں مصروف ہو جاتیں۔ ادھر ہم سب لڑکے گاؤں کی گلیوں میں گھومتے پھرتے اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے۔ بعض دفعہ فیصلہ ہوتا کہ تھوڑی دیر کیلئے تاش کی بازی لگائی جائے۔ اس شغل کے بعد گاؤں کے تمام لڑکے اور بڑے گاؤں سے باہر کھلی جگہ نکل آتے اور دو ٹیمیں بنا کر کبڈی کھیلی جاتی۔ کشتیاں ہوتیں اور دیگر بہت سی دیہاتی کھیلیں مثلاً گلی ڈنڈا، بلوروں کے ساتھ کھیلا جاتا تھا۔
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ اپنے ہمسایہ گاؤں کے ساتھ کشتیوں اور کبڈی کے مقابلے ہوتے۔ اس دوران ڈھول بجائے جاتے مقابلوں میں حصہ لینے والوں کے ارد گرد دوسرے نوجوان لڑکے رقص کرتے ’ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے‘ کے نعرے لگاتے میدان میں کود
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
31
۳۱
جاتے تھے۔ گاؤں کے بزرگ ان کھیلوں کی نگرانی کرتے تھے اور ان کا فیصلہ حتمی ہوا کرتا تھا۔
کیا مجال جو کوئی ہنگامہ ہو یا ہاتھا پائی۔ ہارنے والے جیتنے والوں کی خوشی میں اپنی ہار بھول جاتے تھے۔
میرے ماموں زاد بھائی چوہدری لال خان گھوڑیوں کے شیدا تھے اور اُن کے پاس بڑی اعلیٰ قسم کی گھوڑیاں ہوتی تھیں۔ اور اسی طرح گاؤں کے کچھ دوسرے لوگوں میں بھی یہی شوق پایا جاتا تھا۔ یہ سب مل کر گھڑ دوڑ کے مقابلے کرتے تھے اور پھر گھوڑیوں کا رقص ہوتا تھا۔ واہ کیا سماں ہوتا تھا۔ ڈھول پیٹے جا رہے ہوتے تھے۔ اونچے شملوں والی پگڑیاں باندھے بڑے بڑے ’چوہدری‘ وہ اور دیگر گاؤں کے بڑے گھوڑ دوڑ اور گھوڑیوں کا ڈانس وغیرہ کراتے تھے۔ اس کے علاوہ بیلوں کو کنوئیں پر جوت کر مقابلے ہوتے تھے۔
عید کا پورا دن گہما گہمی میں گزرتا۔ دوست ایک دوسرے کو اپنے اپنے گھروں میں لے جاتے اور ہم سب مل کھاتے پیتے تھے۔ ہماری مائیں دوستوں کو دیکھ بہت خوش ہوتیں، ان کی بلائیں لیتیں اور سب کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتیں۔ ہم سب دوستوں کی مائیں، ایک دوسرے کو اپنے ہی بیٹوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ آج ہمارے پیارے دوستوں غلام غوث، محمد شریف، محمد اشرف، محمد بشیر، عبد الرحمن، محمد اکبر وغیرہ کی یادیں باقی رہ گئی ہیں لیکن وہ خود ہم میں موجود نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انکی مغفرت کرے (آمین)
ہمارے گاؤں کا پورا ماحول دیہاتی تھا۔ اس زمانے میں گاؤں کے ہر محلے میں کنوئیں تھے جہاں سے لوگ اپنے پینے کے لیئے اور مویشیوں کیلئے پانی حاصل کرتے تھے۔ یہیں پاس ہی سے ایک برساتی ندی بھی بہتی تھی جہاں پر عورتیں کپڑے وغیرہ دھویا کرتی تھیں اور مویشیوں کو بھی یہیں سے پانی پلایا لیا جاتا تھا۔
گاؤں میں ان دنوں نہ کوئی پکی سڑک تھی اور نہ ہی بجلی کی سہولت تھی تاہم جب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوتی گئی تو بیشتر گھروں میں نلکے لگ گئے اور پھر نلکے لگنے کی دیر تھی کہ گاؤں کی ثقافت ہی جیسے بدل گئی۔ وہ کنوئیں جو گاؤں کے تہذیب و تمدن کی نشانی تھے بند ہوتے چلے گئے اور ایک دن ایسا آیا کہ ان کا نشان بھی باقی نہیں رہا۔
ہمارے گاؤں میں گوجر ، جاٹ اور کشمیری تین قومیں آباد ہیں اور انکے علاوہ دیگر لوگ یعنی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
32
۳۲
کاریگر لوگ جن کو گاؤں کی زبان میں ”کمی،، کہا جاتا ہے، آباد ہیں۔ ان میں لوہار ترکھان ،موچی، جولاہے، کمہار، ماشکی، درزی وغیرہ رہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے بغیر زمیندار کچھ بھی نہیں کر سکتا گویا یہ دونوں فریق ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں۔ اس سماجی اور ثقافتی پس منظر میں گوجر گاؤں کے مالک گردانے جاتے تھے کیونکہ پورے گاؤں میں ان کی زمینیں زیادہ تھیں جبکہ باقی جاٹ اور کشمیری جو موجودہ دور میں بہت آسودہ اور خوشحال ہیں اسوقت انکی زمینیں بہت کم تھیں اور وہ اپنی زمینوں کے ساتھ ساتھ گوجر برادری کی زمینیں بھی کاشت کرتے تھے۔ گاؤں میں مجموعی طور پر اتفاق اور پیار کی فضا قائم چلی آ رہی ہے جو بہت حد تک اس عہد میں بھی قائم ہے۔
گاؤں میں زمیندار اور چھوٹی قوموں کے لوگ جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ایک دوسرے کے لیئے ممد و معاون ہوتے ہیں اور سچ پوچھیں تو ان کے بغیر زمیندار کچھ نہیں کر سکتا اور زمیندار کے بغیر ان لوگوں کا گزارہ مشکل ہوتا تھا کیونکہ وہ سال بھر کیلئے دانے اپنے کام کے عوض زمیندار سے حاصل کرتے تھے۔ یہ بات جو میں کر رہا ہوں، آج سے پچاس سال پہلے کی ہے۔
آج تو مشینی دور ہے اور یہاں ڈنمارک میں پلنے والی تیسری نسل کو یہ سب چیزیں بڑی عجیب لگتی ہوں گی۔ اس بات میں کوئی باک نہیں کہ دنیا بہت ترقی کر چکی ہے لیکن اس زمانہ میں حالات ذرا مختلف تھے۔ آج جو کچھ میں تحریر کر رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ نئی نسل اور ہماری مستقبل کی نسلوں کیلئے کوئی زیادہ دلچسپی کا باعث نہ ہو لیکن مجھے یقین ہے کہ تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگوں کیلئے یہ روداد خاصی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوں صرف ہمارے گاؤں میں ہی نہیں بلکہ اکثر دیہات میں جب گندم کی کٹائی شروع ہوتی تھی تو ہم لوگ (زمیندار) منگ لیکر گندم کی کٹوائی کراتے تھے۔ (منگ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے گاؤں یا دوسرے کسی گاؤں سے جہاں رشتہ داری ہوتی تھی پیغام دیا جاتا کہ ہمیں گندم کی کٹائی کیلئے 40/50 تندرست و توانا جوانوں کی ضرورت ہے۔ اس طرح اپنے گاؤں یا دوسرے گاؤں سے کوئی قریبی رشتہ دار ضرورت کے مطابق آدمیوں کو لیکر پہنچ جاتا تھا)۔
کٹائی کرنے والے لوگ بعض اوقات اپنے ساتھ ڈھول باجے بھی لے آتے تھے اور ڈھول کی تھاپ پر گندم کی کٹائی ہوتی۔ فصلِ ربیع کی کٹائی کے دنوں میں ”کمی،، یا کاریگر لوگ اپنا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
33
۳۳
اپنا کردار ادا کرتے تھے جبکہ لوہار اپنے اوزار لیکر کھیتوں میں گھوم پھر کر ”ڈاڈوں،، یعنی کٹائی کرنے والوں کی درانتیاں تیز کرتے پھرتے تھے۔ کمہار مٹی کے گھڑے اپنے ”آوے،، پر پکا کر خچروں پر لاد کر پانی کیلئے تقسیم کرتے اور ”ماچھی،، یا ”ماشکی،، اپنی مشک گاؤں کے کنوؤں سے بھر بھر کر سخت چٹپٹاتی دھوپ میں کھیت کھیت میں تقسیم کر کے کٹائی کرنے والوں کی پیاس بجھا رہا ہے اور نائی (حجام) اپنے اوزار لئے کھیتوں میں ہی چوہدریوں کی حجامت اور شیو بنا رہا ہوتے۔
گندم کی کٹائی سخت گرمیوں یعنی بیساکھ، ہاڑ (مئی، جون) میں ہوتی ہے اور ہماری زمینیں گاؤں سے ایک میل سے لیکر دو میل تک پھیلی ہوتی تھیں۔ جب زمیندار اپنی فصل کھلیان میں اکٹھی کر کے اس سے دانے اور بھوسہ الگ کرتے تو گاؤں کے وہی کاریگر بھی وہاں پر موجود ہوتے اور زمیندار کے دانے اور بھوسہ اس کے گھر تک پہنچانے میں مدد کرتے۔
اس کے علاوہ جب یہ لوگ فصل کی کٹائی کے موقع پر مدد کرتے تو ان کو زمیندار ایک دو گانٹھیں گندم کی بھی انعام کے طور پر عطا کرتا اور اس طرح ان کیلئے دونوں فصلوں ”ربیع اور خریف،، میں سے حصہ نکال لیا جاتا جو سال بھر کیلئے ان کے واسطے کافی ہوتا۔
اس کے علاوہ سال کے دوران وہ لوگ زمیندار سے اپنے مویشیوں کیلئے چارہ، جلانے کیلئے ایندھن (درختوں) کی شکل میں لیتے رہتے تھے۔ شادی و بیاہ اور فوتیدگی کے موقع پر یہ لوگ زمیندار کی طرف سے پیغامات لیکر بھی جاتے تھے۔ آج نہ وہ زمیندار ہیں جو اپنے گاؤں کے غریب لوگوں کی مدد کر سکیں اور نہ ہی وہ ”کمی،، رہے ہیں جو اپنے مہربان زمینداروں کی قدر و عزت کریں۔
یہ کسی ایک شعبے کی بات نہیں جس طرف دیکھیں ایک تبدیلی ہے۔ زمینداروں نے کھیتوں میں کاشت کیلئے مشینیں اور ٹریکٹر لے لئے ہیں اور گاؤں کے کاریگروں نے شہروں کا رُخ کر کے گاؤں کی بجائے شہروں میں ہی اپنا بسیرا کر لیا ہے۔
”تعلیم“
میں ابھی یہ بتا چکا ہوں کہ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم ناگڑیاں کے پرائمری سکول میں اور دینی تعلیم (قرآن پاک) گاؤں کے سادات گھرانے سے حاصل کی۔ پانچویں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
34
۳۴
کلاس پاس کرنے کے بعد مجھے گاؤں سے چار میل دور چھٹی کلاس میں ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول دولت نگر میں داخل کرا دیا گیا۔ پڑھائی میں میری دلچسپی بدستور جاری تھی اور میں خوب دل لگا کر تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اسی باعث میں نے مڈل اور میٹرک کے امتحانات فرسٹ ڈویژن میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کئے
یہ 1960ء کی بات ہے کہ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد بھائی صاحب لال خان نے مجھے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ ریلوے روڈ لاہور میں داخل کروا دیا۔ لاہور میں میں نے کالج کے ہوسٹل میں ہی رہائش رکھ لی اور محنت کے ساتھ اپنی پڑھائی میں مشغول ہو گیا۔ ہوسٹل میں میرے کمرے میں میرا ساتھی یعنی روم میٹ چوہدری سلطان تھا جو فیصل آباد کے نواح میں جھنگ روڈ پر واقع ایک گاؤں ”نیالاہور،، کا رہنے والا تھا۔
وہ میرا بہترین ساتھی اور دوست تھا لیکن حقہ پینے کا بہت شوقین تھا اور اسی باعث اپنا حقہ ہر وقت گرم رکھتا تھا، دوسرے لڑکے بھی حقہ کے کش لگانے کیلئے ہمارے کمرے میں آ جاتے تھے۔ چار سال تک ہمارا خوب ساتھ رہا۔ ہوسٹل کی زندگی اور ساتھیوں کا ساتھ اور اس زمانے کی کبھی نہ بھولنے والی یادیں اب بھی ذہن و دل کے نہاں خانے کو معطر کیئے ہوئے ہیں۔
سکول اور کالج کے علاوہ یونیورسٹی کے زمانے کی دوستی بھی امر بیل کی طرح ہوتی ہے جو زندگی کے ہر قدم پر یادوں کے ساتھ چمٹی رہتی ہے۔ چوہدری سلطان کے ساتھ دوستی کا بھی یہی معاملہ تھا لیکن کالج سے فارغ ہونے کے بعد ملازمت کے دوران میری اس کے ساتھ چند بار ہی ملاقات ہو سکی اور اس کے بعد جب میں ڈنمارک آ گیا تو ہمارا رابطہ ٹوٹ گیا جو آج تک ٹوٹا ہوا ہے۔
معلوم نہیں کہ وہ دوست عزیز چوہدری سلطان کہاں ہے؟ کاش اگر اسکے بارے میں کچھ معلوم ہو جائے تو زندگی کے سفر کے اس مرحلے میں ہم ایک بار پھر دونوں بیٹھ کر یادِ رفتہ کو آواز دیں۔ اللہ کرے یہ دل کا سلطان جہاں بھی ہو خوش و خرم اور شادماں ہو۔
مجھے اپنے کالج کے ساتھیوں میں سے کچھ نام اور بھی یاد آ رہے ہیں جو اچھے اور مخلص دوست تھے۔ ان میں سے ایک کا نام محمد رفیق تھا جو سرگودھا کا رہنے والا تھا، محمد یعقوب جھنگ کا ،خورشید احمد منڈی بہاؤالدین کا ، اعجاز اصغر راٹھور قصبہ کنجاہ، محمد اسلم فیصل آباد، اصغر علی بوڑا پیارا (گجرات) کوثر موضع بھدر (گجرات) اور اسی طرح اور بہت سے دوست تھے جن کے نام اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
35
۳۵
وقت یاد نہیں آ رہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں انہیں فراموش کر چکا ہوں۔
میں نے 1963 میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کر لیا اور میری اس کامیابی پر والدہ مکرمہ ، بھائی صاحب لال خان، اور دیگر پورا خاندان بہت خوش تھا۔
ان دنوں میں ایک چھوٹے سے دیہات سے اس سطح تک پہنچنا بہت اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ مجھ سے پہلے گوجر برادری اور ہمارے ہی خاندان کے ایک لڑکے چوہدری محمد نواز نے لاہور انجینئر نگ یونیورسٹی سے Bsc کی ڈگری حاصل کی تھی،
چوہدری محمد نواز، چوہدری فضل الٰہی نمبر دار کے چشم و چراغ ہیں اور وہ واپڈا میں بطور چیف انجینئر ریٹائرمنٹ لیکر لاہور ڈیفنس میں قیام پذیر ہیں ، محمد زمان جو میرے ہی کلاس فیلو رہے ہیں، اور محمد نواز کے چھوٹے بھائی ہیں انہوں نے گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے بی اے کر لیا تھا۔
اس دور میں ہم تینوں ہی تھے جنہوں نے ناگڑیاں سے کالج کی سطح تک تعلیم حاصل کی۔ ہمارے دوست محمد انور نے صرف میٹرک کرنے کے بعد ملازمت اختیار کر لی۔ بعد میں اور لوگوں نے بھی ناگڑیاں کا نام روشن کیا ان میں سے جٹ برادری کے چوہدری ریاض احمد جو ان دنوں زمیندارہ کالج گجرات کے پرنسپل ہیں اور اسی خاندان کے ایک اور چشم و چراغ ان کے چچا زاد نصیر احمد ایک پائے کے مصنف وادیب ہیں ۔
”ملازمت“
الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد نوکری کے حصول کا مرحلہ آیا اور پھر وہ بھی بھائی لال خان کے ایک واقف کار کی معرفت حل ہو گیا۔ چیف انجینئر واپڈا شیخ مظہر الحق مرحوم جن کا دفتر ان دنوں بھارت بلڈنگ گوالمنڈی لاہور میں تھا انہوں نے مجھے بطور لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا میں نوکری دے دی اور میری پہلی تعیناتی سیالکوٹ میں ہوئی۔ میرے ماتحت شہر سے باہر کا علاقہ تھا جو ہیڈ مرالہ تک وسیع تھا۔ اس پورے علاقے میں بجلی کی ترسیل ہماری ذمہ داری تھی۔
1965ء میں جب پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو میرا تبادلہ گوجرانوالہ میں ہو گیا۔ ہم نے جنگ کے دنوں میں بجلی کی ترسیل کو جاری رکھنے کیلئے دن رات کام کیا۔ بجلی سپلائی کا عملہ چوبیس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
36
۳۶
گھنٹے ڈیوٹی پر رہتا اور جہاں کہیں بھی بجلی کی سپلائی میں گڑ بڑ ہوتی اس کو جلد از جلد بحال کر دیا جاتا۔
یہ ہنگامی حالات کے دن تھے ہر کسی کو ڈیوٹی پر پوری طرح مستعد اور چوکنا رہنا ہوتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں افواجِ پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر تمام محکموں نے بھی اپنے فرائض کی بجا آوری خوب نبھائی۔
1966ء میں میری تبدیلی لاہور ہوگئی اور میں نے دہلی گیٹ سب ڈویژن میں اپنی ڈیوٹی سنبھالی پاکستان کا دل پنجاب اور پنجاب کا دل لاہور اور لاہور کا دل یعنی اندرونی علاقہ دہلی گیٹ، اکبری گیٹ، شیرانوالہ گیٹ، موچی گیٹ، لوہاری گیٹ، داتا دربار اور دیگر علاقے جو ہمارے چارج میں رہے۔
1967ء میں کھاریاں ضلع گجرات میں ایک نئی کنسٹرکشن سب ڈویژن کھولی گئی تو میری تبدیلی کھاریاں میں کر دی گئی۔ یہ بالکل ایک نیا دفتر تھا ۔ ہمارے SDO صوفی صحبت خان (مرحوم) تھے جو پشاور کے علاقہ جمرود کے قبائلی علاقہ کے رہنے والے تھے، انہوں نے میرا کھاریاں سے تعلق ہونے کی وجہ سے دفتر کیلئے جگہ کا انتخاب اور لاہور سے سارا سامان کھاریاں منتقل کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔
تین سال میں نے کھاریاں میں کام کیا اور درجنوں دیہات کو بجلی کی روشنی سے منور کیا۔ جن دیہات میں میں نے بجلی کی لائنیں بچھائیں، ان کے نام موضع نصیرہ، بھگوال، جنڈ شریف، تیرو چک، ملاگر ، سد کال، ملکہ وغیرہ ہیں۔ دوسری جانب موضع چک سکندر، عقیقہ، دلو، بانسریان اور رائے عالمگیر کی جانب نہر اپر جہلم کے کنارے موضع قصبہ و کنارہ ہیں۔ میں نے اپنے گاؤں موضع ناگڑیاں کا بھی تخمینہ تیار کر کے گجرات سب ڈویژن کو بھیج دیا کیونکہ وہ علاقہ میری سب ڈویژن میں نہیں آتا تھا۔
کچھ عرصہ بعد موضع ناگڑیاں میں بھی بجلی کی سہولت حاصل ہو گئی۔ 1969ء کے وسط میں میری تبدیلی منڈی بہاؤالدین سب ڈویژن میں ہو گئی۔ منڈی بہاؤالدین کا علاقہ سکارپ ٹیوب ویلوں کا علاقہ تھا۔
جنرل محمد ایوب خان نے زرعی اصلاحات کے تحت ملک بھر میں سیم و تھور کے خاتمے کیلئے ٹیوب ویل لگوائے تاکہ سیم کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ زمینداروں کو فصلوں کیلئے وافر پانی بھی حاصل ہو۔ یہ بہت اچھی سکیم تھی جس سے ملک بھر میں اناج میں اضافہ ہوا۔ کیونکہ ان تمام ٹیوب ویلوں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
37
۳۷
کو بجلی کی ترسیل ہماری ذمہ داری تھی اس لیے ہم نے انہیں چالو رکھنے کیلئے فوراً کاروائی کی تاکہ زمینداروں کو پانی کی کمی کی وجہ سے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
ایوب خان کے بعد آنے والی حکومتوں نے کاشتکاروں کی اس اہم ضرورت سے آنکھیں چرالیں اور ٹیوب ویل برباد ہوتے چلے گئے، زمیندار برابر شور مچاتے رہ گئے۔ آہستہ آہستہ ٹیوب ویلوں پر سے موٹریں، ٹرانسفارمرز، اور دیگر سامان لوگ بیچ کر کھا گئے اور قوم کا اربوں ، کھربوں روپے کا سرمایہ حکمرانوں کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔
منڈی بہاؤالدین میں سروس کے دوران ایک محکمانہ واقعہ پیش آ گیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ قارئین کی دلچسپی کا باعث بنے گا اس لئے سنائے دیتا ہوں کیونکہ یہ واقعہ اور یہی حالات ہی میرے ملک سے باہر جانے کے محرک بنے۔
واپڈا میں لائن سپرنٹنڈنٹ کا عہدہ ایسا ہوتا ہے کہ پورے محکمے کا سرکل اس کے گرد گھومتا ہے۔ لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا کا ایک اہم فرد ہوتا ہے۔ جس کا تعلق براہِ راست عوام کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اسے باہر فیلڈ میں کام کروانا ہوتا ہے۔
گھروں، ٹیوب ویلوں، انڈسٹری اور کارخانوں میں بجلی لگوانے کا کام اسی کا ہوتا ہے ، اس لئے پاکستان جیسے ملک میں وہ کرپشن اور رشوت سے نہیں بچ سکتا۔ اگر کوئی خود کو بچانے کی کوشش کرے تو محکمہ میں اس کا جینا اور ٹکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کیونکہ میں اپنی آپ بیتی سنا رہا ہوں اس لئے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ میں نے سات سال واپڈا میں بطور لائن سپرنٹنڈنٹ کام کیا ہے۔ میں نے گاؤں کے گاؤں میں بجلی پہنچانے کی نہ صرف سعی کی بلکہ حقیقی طور پر بجلی پہنچائی بھی۔
ٹیوب ویل، انڈسٹری اور گھریلو کنکشن دیئے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ میں کسی صارف کو یہ نہیں کہہ سکا کہ تمہارے کام کے عوض اتنے پیسے لگیں گے۔ میرے دوسرے ساتھی ظاہر ہے سب کچھ کرتے تھے لیکن میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکا۔
69-1967ء میں دیہات میں بجلی پہنچانے کے عوض میں ہزاروں روپے وصول کر سکتا تھا۔ لیکن میرے ضمیر نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ کسی سے کچھ بے جا وصول کروں۔ ہاں جس دیہات میں جاتا تھا وہاں گاؤں کے چوہدری اور دیگر لوگ بہت عزت کرتے تھے اور منع کرنے کے باوجود لیبر اور میرے لئے کھانا تیار کروا لیتے تھے اور یہ ان لوگوں کی محبت ہی تو تھی ورنہ ہم تو اپنی سرکاری
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
38
۳۸
ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوتے تھے۔
ان دنوں میری تنخواہ تین سو روپے کے قریب تھی۔ جو اس زمانے میں ایک معقول رقم تھی۔ میری یہ تنخواہ دفتر میں آنے والے صارفین، ملنے والوں اور سگریٹوں پر ہی خرچ ہو جاتی تھی اور گھر والوں کے حصے میں شاید ہی چند سکے آتے ہونگے۔
اس پوری تمہید کا مطلب یہ ہے کہ لائن سپرنٹنڈنٹ کیلئے اوپر سے (SDO-XEN) کی طرف سے فرمائشیں بھی آتی رہتی تھیں۔ جب بھی میری طرف کوئی ایسا پیغام آتا تو میرا جواب سیدھا سا ہوتا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے کسی کی فرمائش پوری نہیں کر سکتا۔
میں ایک زمانے میں کھاریاں میں کام کر رہا تھا کہ میرے SDO صوفی صحبت خان کی ٹرانسفر ہو گئی۔ صوفی صاحب اور میں ایک دوسرے سے خوب اچھی طرح واقف تھے اور انہوں نے کبھی مجھ سے کسی چیز کی طلب یا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ صوفی صاحب کے تبادلے کے بعد اب انکی جگہ کھاریاں میں جو ایس ڈی او آیا اس کا نام ”ملک رشید،، تھا اور وہ لائن سپرنٹنڈنٹ سے ترقی پا کر SDO بنا تھا۔
وہ 1964ء میں میرے ساتھ سیالکوٹ میں بطور لائن سپرنٹنڈنٹ کام کر چکا تھا۔ میں صبح فیلڈ میں نکل جاتا اور کام کی دیکھ بھال کرنے کے بعد واپس آ جاتا۔ مجھے معلوم تھا کہ ایس ڈی او بدعنوان اور رشوت خور ہے۔
ایک دن اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ چوہدری امانت صاحب آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے کھاریاں کینٹ کے نواحی گاؤں موضع نصیرہ میں بجلی دی ہے لیکن اس کا کیس ابھی تک منظور نہیں ہوا ہے اور آپ نے بجلی چالو بھی کر دی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے وہاں سے بہت بڑی رقم ماری ہے۔
میں ایسا بے سروپا الزام سن کر جیسے سکتے میں آ گیا لیکن سچ کی قوت نے مجھے حوصلہ دیا اور میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں کسی سے رشوت نہیں لیتا اور نہ ہی اس لعنت میں مجھے پڑنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک گاؤں میں بجلی لگانے کا تعلق ہے تو یہ کیس میرے پہلے ایس ڈی او نے پاس کیا ہوا ہے اور ایکس ای این نے بھی اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ’راجہ آپریشن سب ڈویژن،، نے اس گاؤں میں گھریلو اور انڈسٹری کے کنکشن بھی دے دیئے ہیں۔ اس لئے یہ
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
39
۳۹
کیس Justify ہو چکا ہے“
اتنا کہہ کر میں کمرے سے باہر نکل آیا۔
کچھ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایگزیکٹو انجینئر کے آفس سے میرے منڈی بہاؤالدین کیلئے تبادلے کے احکامات آ گئے۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لہٰذا میں نے وہاں پر ڈیوٹی جائن کر لی۔ مجھے وہاں گئے ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن ہمارا سینئر کلرک (SDC) میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چوہدری صاحب ڈویژن آفس سے اطلاع آئی ہے کہ آپ کی تنخواہ سے ایک سو روپیہ کاٹ لیا جائے۔
میں نے پوچھا کہ وہ کیوں؟
جواب میں اس نے کہا کہ ”بتایا یہی گیا ہے کہ آپ نے موضع نصیرہ میں جو بجلی فراہم کی ہے وہ کنکشن غیر قانونی ہے اور آپ نے واپڈا کا مبلغ بیس ہزار روپے کا سامان بلا اجازت وہاں پر Install کیا ہے“۔
یہ سن کر میں نے تنخواہ کی وصولی پر دستخط نہ کئے اور کہا کہ اسے واپس ڈویژنل آفس بھیج دیا جائے۔ اس کے بعد میں نے ایگزیکٹو آفیسر جو لاہور کا رہنے والا ایک شیخ تھا اسے ایک خط لکھا اور کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ نے بغیر کسی انکوائری کے میری تنخواہ میں سے ریکوری شروع کر دی ہے اور جس گاؤں کے سامان کی آپ ریکوری کر رہے ہیں، وہاں پر آپ کے دستخطوں سے دو عدد کمرشل انڈسٹری میٹرز، اور دس سے زیادہ بجلی کے میٹر لگ چکے ہیں اور یہ میٹر اور کنکشن ”اپریشن سب ڈویژن راجڑ،، نے دیئے ہیں، گویا SDO راجڑ اور XEN نے اس گاؤں کے پورے کیس کو Justify کر دیا ہے اور اس گاؤں سے اب واپڈا کو باقاعدہ آمدنی شروع ہو چکی ہے۔ اگر موضع نصیرہ میں ہم نے بجلی کی ترسیل غیر قانونی کی ہے تو پھر آپ نے وہاں پر کنکشن کیوں Sanction کئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے بھی کام غیر قانونی ہی کیا ہے۔ اور اب جب کہ آپ نے میری تنخواہ میں سے استعمال شدہ سامان کی قیمت وصول کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ سارا سامان جو اس موضع میں خرچ ہوا ہے ، اس کو میں دوبارہ اکھاڑ (Dismental) کر کے وہ تمام بجلی کے کھمبے تاریں اور ٹرانسفارمر بازار میں فروخت کر کے اپنی رقم پوری کر لوں گا اور اس کام سے مجھے آپ کا کوئی قانون نہیں روک سکے گا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
40
۴۰
اگر میری تین ماہ کی پوری تنخواہ اور TA بل جو آپ نے روک رکھے ہیں ، مجھے اگلی ماہ کی پہلی تاریخ تک نہ ملے تو میں محکمہ پر عدالت میں مقدمہ دائر کرنے میں حق بجانب ہوں گا۔ اور سامان اتارتے ہوئے اگر محکمہ (واپڈا) کے کسی فرد نے مداخلت کی تو وہاں پر خون خرابے کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی۔
میں نے یہ خط ڈویژن آفس بھیج دیا۔ یہ سارا کیا دھرا ملک رشید SDO کا تھا۔ اس نے ایکس ای این صاحب کو میرے بارے میں بھڑکایا تھا اور شکایت کی تھی کہ پیسے خود کھاتا ہے اور کسی کو حصہ بھی نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ دونوں آفیسرز پر لے درجے کے راشی اور بدعنوان تھے ، تو انہوں مجھے دھمکانے اور پیسے بٹورنے کیلئے یہ کیس تیار کیا تھا۔
دوسرے تیسرے دن ایکس ای این صاحب کا ہیڈ کلرک ”راجڑ ڈویژن“ سے گاڑی لیکر منڈی بہاؤالدین آ گیا اور مجھے کہا کہ آپ کو صاحب نے یاد کیا ہے۔
میں نے کہا کہ میں نہیں جانے والا۔
میں نے بذریعہ خط جواب دے دیا ہے۔ وہ بھی مجھے لکھ کر جواب دیں۔
کلرک نے کہا کہ صاحب نے کہا تھا کہ چوہدری امانت کو ساتھ لیکر آنا ہے۔
آخر میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو صاحب بہادر نے مجھے فوراً اندر بلا لیا اور بڑے رعب دار لہجے میں کہا کہ ”کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ تم نے کتنا بڑا جرم کیا ہے اور اس سے تمہاری نوکری بھی جاسکتی ہے؟“
میں نے کہا کہ ”سر نوکری کی کسے پرواہ ہے۔ میں ایسی نوکری پر لات مارتا ہوں، جہاں آفیسر انصاف سے عاری ہوں۔ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر عمل کریں۔،،
تھوڑی سی مکالمہ بازی کے بعد صاحب بہادر ذرا ٹھنڈے پڑ گئے اور اکاؤنٹنٹ کو بلایا اور کہا کہ اس بے وقوف آدمی کو ساتھ لے جاؤ اور ابھی اس کے تمام واجبات ادا کرو۔
اب میں نے اپنے واجبات وصول کئے اور واپس منڈی بہاؤالدین آ گیا۔
اس کے بعد میں نے سوچا کہ چوہدری۔۔۔ اگر تم نے واپڈا میں نوکری کرنی ہے تو پھر یہ چودھراہٹ نہیں چلے گی۔ بصورت دیگر تمہیں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑ سکتی ہے۔ کیونکہ اس محکمہ (واپڈا) میں ایک سے ایک ظالم، وطن دشمن اور راشی بیٹھا ہوا ہے اس لیئے کہیں نہ کہیں اور قسمت آزمائی کی جائے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
41
۴۱
اس واقعے کے فوری بعد میں نے دفتر سے دو ہفتے کی چھٹی لی اور گھر آ کر بابو نواب دینؒ (ایجنٹ) کو کہا کہ آپ میرا پاسپورٹ بنوا لیں، میں نے آپ کے کہنے کے مطابق ملک سے باہر جانے کا ارادہ کر لیا ہے۔
اس پروگرام کے بارے میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا حتیٰ کہ اس کا علم میری پیاری امی جان کو بھی نہیں تھا سچ تو یہ ہے کہ جب میرا پاسپورٹ بن گیا تو والدہ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم لوگ ملک سے باہر ڈنمارک جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔
یہ بات سن کر انہیں بہت زیادہ صدمہ اور دکھ ہوا کیونکہ ان کیلئے میری جدائی بہت مشکل ترین مرحلہ تھا میں نے بھی یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا تھا اور امی جان کو اکیلے چھوڑنے کا مجھے بہت زیادہ قلق تھا۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا، معلوم نہیں صحیح تھا یا غلط، لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ اگر میں ڈنمارک آنے کا فیصلہ نہ کرتا اور پاکستان میں ہی واپڈا کی نوکری کرتا رہتا تو میرے بچوں کا مستقبل اتنا کامیاب اور تابناک نہ ہوتا جتنا کہ آج ہے۔
اپنی ماں کی جدائی کا غم زندگی بھر رہا ،تنہائی میں ان کی یاد میں روتا رہتا تھا۔ امی جان بڑے دل گردے والی خاتون تھیں ،انہوں نے آخر اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ ”جا بیٹا ماں کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی“۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی دعائیں آج بھی میرے ساتھ ہیں اور زندگی کے ہر ہر قدم پر انہی دعاؤں نے مجھے روشنی ،عزم اور حوصلہ دیا ہے۔ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے جب بھی کبھی ایسا موقع آیا کہ ہمت جواب دینے لگی تو میری والدہ کی اسی آواز نے مجھے عزمِ صمیم کی دولت بخشی۔
گو وہ اب ہم سب سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو چکی ہیں لیکن میں نے جب پاکستان چھوڑا تھا تو دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ سال میں کم از کم ایک یا دو بار امی جان کی خدمت میں حاضری دیا کروں گا اور ایسا میں ان کی پوری زندگی میں بلکہ اب انکی حیاتِ مستعار کے جدا ہو جانے کے بعد بھی کر رہا ہوں۔
”کُجھ اوکھیاں لمیاں راہواں سن ، کُجھ دل وچ غم دا طوق وی سی
کُجھ شہر دے لوک وی ظالم سن ، کُجھ سانوں مرن دا شوق وی سی،،
میرے والد صاحب کی وفات سے پہلے میری دو بڑی بہنوں کی شادی ہو چکی تھی جنکے نام سردار بیگم اور ولایت بیگم ہیں۔ میں اور مجھ سے میری بڑی بہن عنایت بیگم (جواب اس دنیا میں نہیں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
42
۴۲
ہیں) کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی۔
کچھ عرصہ بعد امی جان نے بڑی بہن کی شادی بھی اپنی بڑی بہن کے بیٹے سے کر دی۔
امی جان نہایت ہی سمجھ دار اور عاقل خاتون تھیں۔ برادری اور تمام رشتہ داروں میں ان کا ایک اعلیٰ مقام تھا، محلے ، گاؤں اور غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا وہ اپنی فرض سمجھتی تھیں۔
گھر میں اناج وافر ہوتا تھا، ضرورت مند آ کر لے جاتے تھے۔ والد صاحب کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی تھی کہ کون کیا لے گیا ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن ، خوش اور مطمئن تھے۔ ان کا کام تھا کہ باہر سے سب کچھ لا کر گھر میں ڈھیر کر دیا جائے۔
گویا’امی جان،، چوہدرانی تھیں۔ محلے کی عورتیں ان کے پاس آ کر بیٹھی رہتیں اور باتیں سنتی رہتی تھیں۔
والد صاحب کی وفات کے بعد امی جان کچھ بجھ سی گئی تھیں کیونکہ میرا اور کوئی بڑا یا چھوٹا بھائی نہیں تھا اور میں خود بھی ابھی چھوٹا ہی تھا۔ دنیا داری اور دنیا کی اونچ نیچ سے زیادہ واقفیت نہیں تھی ، گویا گھر اور باہر کا سارا بوجھ والدہ صاحبہ کے کندھوں پر آن پڑا تھا۔
فصل کا حساب کتاب ، اور دیگر سب معاملات اب ان کو ہی کرنے پڑتے تھے۔ لیکن قربان جائیں والدہ صاحبہ کے کہ اتنا بڑا دھچکا لگنے کے بعد بھی وہ ہر کام بڑی مستقل مزاجی، تحمل اور بردباری کے ساتھ انجام دیتی رہیں۔
شاید میں نے اوپر کہیں اپنے نانا جان چوہدری رستم علی کا ذکر کیا ہے وہ ایک بارعب شخصیت کے مالک اور ایک اصول پسند انسان تھے۔ پورا گاؤں ان کی عزت و احترام کرتا تھا اور ان کے کئے ہوئے فیصلے مانے جاتے تھے۔
چوہدری رستم علی نیک ، پرہیز گار اور نظم و ضبط شخصیت کے مالک انسان تھے۔ والدہ صاحبہ بھی بالکل انہی کی طرح تھیں۔ والدہ صاحبہ نے جس خوبصورتی کے ساتھ گھر اور دیگر تمام معاملات کو سنبھالا لوگ عش عش کر اٹھے کہ ایک گھریلو عورت کس خوبصورت انداز میں گھر اور باہر کے معاملات کو چلا رہی ہے۔
مجھ سے بڑی تینوں بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ میرا ننھیال اور ددھیال گاؤں میں ہی تھا۔ خالائیں ، پھوپھیاں ، تایا جان اور دیگر تمام رشتے دار مجھ سے بہت پیار اور محبت کرتے تھے میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور ماں باپ کا لاڈلا ہونے کے باوجود (جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
43
۴۳
لاڈلا بچہ خراب ہو جاتا ہے) نیک اطوار اور نیک خصلت تھا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مجھ میں ایسی کوئی برائی نہیں تھی کہ والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ پرائمری سے لیکر میٹرک تک میں سکول کے ہونہار طالب علموں میں شمار کیا جاتا تھا۔ میٹرک کے بعد لاہور میں داخلہ لیا تو پڑھائی کے دوران میری رہائش کالج کے ہوسٹل میں ہی رہی۔
والدہ صاحبہ ہر ماہ ہر قسم کا خرچہ ارسال کرتی رہیں۔ یہ اللہ کا بڑا کرم رہا کہ میں لاہور میں گھر سے دور جا کر بھی کسی بری صحبت میں مبتلا نہیں ہوا۔ مجھے یہ الفاظ لکھتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں کسی بھی غلط روش اور عادت سے بچا رہا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بچپن سے لیکر اب تک تمام عزیز اقارب، برادری اور گاؤں کے لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور میں اس کو اپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔
امی جان کا ذکر ہو رہا تھا کہ انہوں نے میری پرورش اپنی نگرانی اور مامتا بھری محبت اور پیار سے کی ہے۔ میں جب ملازمت سے چھٹی لیکر گھر آتا تو مجھے ان کی آواز سنائی دیتی کہ اب اس گھر میں ایک خوبصورت سی بہو آ جانی چاہئیے۔
یہ ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک اچھی اور خوبصورت اور سلیقہ شعار بہو لا کر بیٹے کا گھر آباد کیا جائے۔ والد صاحب تو بچپن میں ہی داغِ مفارقت دے گئے۔ ایک ماں ہی تھیں جنہوں نے باپ اور ممتا کا پورا پورا پیار نچھاور کیا۔
امی جان عموماً فرماتی تھیں کہ اب تمہاری شادی کر دینی ہے۔ میں اپنی زندگی میں گھر کے آنگن میں اپنے پوتے اور پوتوں کو کھیلتے اور کودتے دیکھنا چاہتی ہوں۔
”ازدواجی زندگی کا آغاز“
اب گھر میں اٹھتے بیٹھتے گھر میں بہو کا ذکر شروع ہو چکا تھا۔ میں کہتا کہ ابھی کون سی دیر ہو گئی ہے شادی بھی ہو جائے گی۔ آپ کی یہ حسرت بھی انشا اللہ پوری ہو جائیگی۔ ایک طرف تو ماں اور بہنیں مجھے شادی کیلئے کہہ رہی ہیں اور دوسری طرف خاندان یا رشتہ داروں کی طرف سے کوئی رشتہ آتا تو اسے میری ماں اور بہنیں یہ کہہ کر رد کر دیتیں کہ یہ ہماری پسند اور معیار کے مطابق نہیں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
44
۴۴
ہے۔
میں بھی خوش تھا کہ چلو ابھی اس شادی کے بندھن سے بچتا جا رہا ہوں، بعد میں یہ آزادی کہاں؟ وہ جو کہتے ہیں نا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ایسے ہی ایک دن میں چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا کہ میرے ماموں زاد بھائی چوہدری لال خان نے (جن کے ہاتھ میں والد صاحب آخری وقت میں میرا ہاتھ دے گئے تھے) اور والدہ صاحبہ نے مجھے بلایا اور فرمانے لگے کہ ہم نے تمہاری منگنی کر دی ہے۔
میں حیران ہوا کہ یہ ایک دم آپ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟
آج تک تو کوئی لڑکی آپ کو پسند نہیں آئی اور آج اچانک یہ فیصلہ میری سمجھ سے باہر ہے یہ راتوں رات فیصلہ کیسے ہو گیا؟
دراصل ان دونوں پھوپھی بھیتیجے نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم والدہ صاحبہ کی بھتیجی اور بھائی لال خان کی بہن کی بڑی بیٹی کو بیاہ کر گھر لے آئیں، اس سے اچھا اور بہتر رشتہ ہمیں اور کہیں سے نہیں مل سکتا۔
جب امی جان اور بھائی صاحب لال خان نے مجھے بتایا کہ ہم نے تو اس طرح سوچا ہے اور تم اپنی رائے دو۔ کیا یہ رشتہ تمہیں منظور ہے یا کہ نہیں؟
میں نے تو کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ ہمارے پچھواڑے ہی میں میری ہونے والی زوجہ محترمہ رہائش پذیر ہیں۔ میں نے والدہ صاحبہ اور اپنی تینوں بہنوں سے دریافت کیا کہ کیا آپ سب اس رشتہ پر خوش ہیں تو سب نے ہاں کر دی اور کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو بہت بہتر ہے۔
اس زمانے میں والدین کے انتخاب کو ترجیح دی جاتی تھی اور ان کے فیصلوں میں وزن بھی ہوتا تھا۔ کیونکہ آج کی طرح رشتے ناطے کسی لالچ کی بنا پر نہیں بلکہ عادات واطوار اور خاندان کو پرکھ کر فیصلہ کیا جاتا تھا۔
میں نے امی جان کو کہہ دیا کہ آپ نے اپنی پسند کی بہو کا انتخاب کیا ہے تو میں اس سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا اور مجھے آپ سب کا فیصلہ منظور ہے۔
میرا یہ جواب سن کر اسی وقت انہوں نے محلے اور گاؤں میں بتاشے تقسیم کرنے شروع کر دیئے اور پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اور پھر شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔
26 جون 1966ء کو شادی کا دن مقرر کر دیا گیا۔ شادی اس وقت کے ماحول اور حالات
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
45
۴۵
کے مطابق بڑی دھوم دھام سے انجام پائی۔ تمام دیہاتی رسومات کو بروئے کار لایا گیا۔ اس طرح میری زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گیا۔
میری زوجہ محترمہ کا نام رشید بیگم ہے۔ ان کے والد محترم چوہدری اکبر علی سکول ٹیچر تھے ، ان کا حال ہی میں 14 اپریل 2005ء کو 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا ہے۔ وہ پرائمری سکول میں میرے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہوئی تھی۔ صوم و صلوٰۃ اور تہجد نماز کے پابند ، نیک سیرت ، شیریں گفتار ، باوقار اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔
زوجہ محترمہ کی والدہ صاحبہ جن کا نام نور بیگم ہے، انہوں نے بھی حج کا فریضہ ادا کیا ہوا ہے اور بعد میں عمرے کی سعادت بھی حاصل کی ہے۔ تین دفعہ ہمارے پاس ڈنمارک بھی آ چکی ہیں۔ وہ بھی صوم و صلوٰۃ اور تہجد نماز کی باقاعدگی سے پابند ہیں، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔
میری زوجہ کے دو بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ سب بہن بھائیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ دو بھائی زوجہ کے ان سے چھوٹے ہیں جن کے نام چوہدری ارشد مہدی اور چوہدری امجد مہدی ہیں۔ چوہدری ارشد مہدی نے ایگریکلچرل یونیورسٹی فیصل آباد سے بی ایس سی آنرز میں ڈگری لی ہوئی ہے اور نیشنل بینک آف پاکستان میں زرعی پراجیکٹ میں کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم بعد میں وہ بنک مینیجر کی حیثیت سے پچیس سال کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور آج کل فارغ زندگی گزار رہے ہیں۔ چوہدری امجد مہدی بھی نیشنل بنک میں آفیسر گریڈ 1 کے عہدہ پر کام کر رہے ہیں۔
گفتگو کے درمیان اپنے سسرال کا ذکر آ گیا ہے جو میرے خیال میں ضروری بھی تھا۔
ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ شادی کے بعد ہماری ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گیا۔ آج بفضلِ تعالیٰ ہماری شادی کو چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا احسان اور کرم ہے کہ آج تک ہماری ازدواجی زندگی میں ایک ذرہ بھر بھی کوئی دراڑ نہیں پڑی۔
کبھی کوئی ایسی ناچاقی نہیں ہوئی جس پر ہمیں پچھتانا پڑا ہو۔ پورا گاؤں اور ہمارے تمام رشتے دار اور یہاں ڈنمارک میں دوست احباب اور جاننے والے ہماری مثال پیش کرتے ہیں۔ ہم نے آج تک رزقِ حلال سے اپنی اولاد کی پرورش کی ہے اور انہیں یورپ میں رہ کر اعلیٰ تعلیم سے نوازا ہے جو سب اللہ کا کرم ہی تو ہے ورنہ اس یورپی کلچر میں بچوں کو پروان چڑھانا اور انہیں ہر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
46
۴۶
بلا اور غلط ماحول سے بچانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اولاد کے بارے میں آگے چل کر انشااللہ بات ہوگی۔
مجھے اپنی زوجہ محترمہ پر فخر ہے، ان میں ہر وہ خاصیت موجود ہے جو ایک سلیقہ مند بیوی، اور اچھی ماں میں ہونی چاہیے۔ وہ باقاعدہ صوم و صلواۃ کی پابند ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی نے دو دفعہ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی ہوئی ہے۔
جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود ہی اولاد کی بہترین تربیت گاہ ہوتی ہے۔ وہ ہم نے اپنے گھر میں دیکھ لی ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ڈنمارک (یورپ) میں رہائش پذیر ہوئے بیت چکا ہے۔ بفضلِ تعالیٰ ہمارے پورے گھرانے اور اولاد کی مثالیں دی جاتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم پر بے پایاں احسان اور کرم ہے جس نے اس دیارِ غیر میں ہمیں اتنے عزت و احترام سے ہمکنار کر رکھا ہے۔
یہ وہی باری تعالیٰ ہے جس نے نیک اولاد اور مالی آسودگی سے نواز رکھا ہے۔ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
47
۴۷
دوسرا باب
سفر یورپ (ڈنمارک) کی روداد
سفر وسیلہء ظفر ہے۔ یہ بات میں شاید اسوقت سے سنتا چلا آ رہا تھا جب سے شعوری طور پر الفاظ اور الفاظ کی روح کو سمجھنا شروع کیا تھا۔ مٹی سے محبت کرنے والا اور مٹی کو ہی اول و آخر پیار جاننے والا، مجھ جیسا انسان سفر کے لفظ سے تو بخوبی واقف تھا اور وسیلے سے بھی بخوبی شناسا تھا لیکن سچ پوچھیں تو ”ظفر“ کی تشریح اسوقت مجھے قطعی طور پر معلوم نہیں تھی۔ ”ظفر“ کا لفظ تو میرے لیئے اپنے گاؤں کے ”ظفرے“ تک محدود تھا کہ اسکا بڑا بھائی سکول میں میرا ہم جماعت تھا۔
یہ تو اب جب زندگی کی کتنی ہی بہاریں اور خزائیں گزر چکی ہیں تو ”ظفر“ کے معنی خوب اچھی طرح سمجھ میں آچکے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ معانی کہیں میں نے خود ہی نہیں دیئے۔ ”ناگڑیاں سے کوپن ہیگن“ تک کے برسوں کے سفر پر اب جو نگاہ ڈالتا ہوں اور زمانے کے سرد گرم کو محسوس کرتا ہوں تو سفر کے ساتھ ساتھ ظفر کے معنی کی روح آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتی ہے۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو بڑے فخر سے سینہ تان کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ 68-1967ء میں جو سفر میں نے پاکستان سے شروع کیا تھا ڈنمارک تو دراصل اسکا ایک پڑاؤ ہے اور حقیقت میں یہ سفر ابھی بھی جاری ہے۔ اس سفر نے ”ظفر مندی“ مجھے بہت سے حوالوں سے عطا کی ہے۔
ظفر مندی اپنی اولاد کو تعلیم کی دولت سے مالا مال کرنے کی، ظفر مندی اپنے خاندان اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
48
۴۸
اولاد کی ذمے داریاں بحسن وخوبی نبھانے کی ،ظفر مندی محنت پر فخر کرنے کی، ظفر مندی خود دار اور دوستی کی روح سے آشنا دوستوں کو تلاش کرنے کی اور ظفر مندی ذہنی اور شعوری طور پر اپنے آپ کو آگے بڑھانے اور ایسے ایسے شعبے میں اپنی شناخت کروانے کی جس کے بارے میں شاید میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اب معلوم ہوا ہے کہ سفر کیا ہے، وسیلہ کیا ہے اور ظفر کسے کہتے ہیں نہ
پیدا کرنے والے خالق و مالک نے ان ہاتھوں کی لکیروں میں سفر کی جو ایک لمبی سی لکیر رکھی تھی اسکے بارے میں نہ کبھی میں نے سوچا تھا اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی تھی۔ اب جو پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں تو سفر کے باب میں 68-1967ء کا زمانہ جیسے نقشِ اول لگتا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے یادوں کو کریدوں تو وہ زمانہ خوب اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۶۶ میں اسوقت کے مشرقی پاکستان میں زیادہ خودمختاری کی تحریک زور پکڑ چکی تھی اور ملک کے مشرقی حصے میں اب آئے روز عام ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا اثر مغربی پاکستان میں بھی نظر آنے لگا تھا۔ چوپالوں، دوکانوں اور دفتروں میں یہی موضوع زیرِ بحث رہتا تھا۔
۱۹۶۸ کے اواخر میں اسی تحریک کے دباؤ میں فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا اور عنانِ حکومت اب ایک اور فوجی جنرل یحییٰ خان کے ہاتھ میں آگئی تھی جس نے ملک میں ایک بار پھر ”مارشل لا“ لگا دیا تھا اور پھر یہ سارا معاملہ ۱۹۷۱ کے سانحے پر جا کر ختم ہوا جب ملک کا مشرقی بازو ہم سے الگ ہو گیا۔ ایک ایسا جانکاہ حادثہ جس کی یاد آج بھی دل کو خون کے آنسو رُلاتی ہے۔
یہاں میرا مقصد پاکستان کے سیاسی حالات لکھنا یا انکا تجزیہ کرنا نہیں بلکہ صرف ایک جھلک ان حالات کی بیان کرنا تھی جس سے اسوقت وطنِ عزیز پاکستان گزر رہا تھا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب میں کھاریاں میں بطور لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا کنسٹرکشن سب ڈویژن میں کام کر رہا تھا۔ واپڈا کی نوکری کی بارے میں لوگوں کے عجیب عجیب نظریات رہے ہیں اور ان میں سے لا تعداد نظریات کوئی غلط بھی نہیں۔ لیکن یہ مکمل سچ بھی نہیں ہے۔ میرے لیئے واپڈا کی یہ نوکری باعزت روز گار تھی اور محکمہ کی طرف سے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود تھی ہو سکتا ہے اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
49
۴۹
زمانے میں ابھی ’اوپر کی آمدن‘ کا لفظ معاشرے میں زہر کی طرح سرایت نہیں کر چکا تھا۔ مجھ جیسے قناعت پسند انسان کے لیئے تنخواہ بھی اس زمانے کے مطابق معقول تھی۔
اللہ نے محکمے میں بہت عزت دی تھی اور درجنوں لوگ میرے ماتحت کام کرتے تھے زمینداری اپنی تھی، غلہ وغیرہ کی فراوانی تھی خاندان کا پورا نظام بڑی خوشاسلوبی کے ساتھ چل رہا تھا۔
ان دنوں چوہدری نیک عالم مرحوم کا نام بہت سننے میں آتا تھا اور یہی نیک عالم اپنے تئیں نیکی کا کام یہ کرتے تھے کہ کھاریاں اور گرد و نواح کے دیہات کے لوگوں کو ملک سے باہر یورپ اور کینیڈا جانے کی ترغیب دیتے تھے اور وہ لوگوں کو معمولی معاوضے کے عوض باہر بھجوا رہے تھے۔
اس کام میں انکا ساتھ انکے دو صاحبزادے بھی دے رہے تھے جو یورپ اور کینیڈا میں تھے۔ گویا ایک لحاظ سے یہ ایک لمیٹڈ کمپنی تھی۔
چوہدری نیک عالم کے یہ دونوں بیٹے یہاں سے جانے والوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ یہ میرا اپنا تجزیہ ہے کہ آج جو کھاریاں تحصیل امیر ترین سمجھی جاتی ہے تو یہ چوہدری نیک عالم کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے گاؤں کے گاؤں بیرونِ ممالک بھجوا دیئے تھے۔
ان کی رہائش بھی دفتر کے ساتھ ہی تھی، لہٰذا اکثر ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی، ہر ملاقات پر وہ مجھ کو کہتے ”چوہدری امانت اس نوکری کو چھوڑو، آؤ تمہیں باہر بھیج دیتا ہوں، کبھی یاد کرو گے“۔ میں ہنس کر ٹال دیتا کہ چاچا جی میری اتنی اچھی اور با عزت نوکری ہے، بھلا مجھے اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے۔
وہ فرماتے دیکھ لو ”کبھی یاد کرو گے“۔ چوہدری نیک عالم سے ہماری علیک سلیک اسی طرح چلتی رہی اور دھن کے پکے چوہدری نیک عالم نے بھی شاید ہمیں باہر بھیجنے کا تہیہ کر رکھا تھا اس لیئے وہ بھی جب وقت ملتا اس ”ٹھنڈے لوہے“ پر ضرب لگاتے رہتے یہ سوچ کر کہ کسی نہ کسی روز تو یہ برف پگھلے گی نا!
میں ان دنوں کھاریاں کے محلہ ستار پورہ میں رہائش پذیر تھا، بیوی بچے بھی ساتھ ہی تھے، ستار پورہ میں ایک بزرگ صوفی فرزند حسین مرحوم تھے، وہ ہمیں اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے اور ہمارا آپس میں آنا جانا تھا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
50
۵۰
ان کے پاس ایک دن لالہ موسیٰ سے ایک شخص آیا تو انہوں نے میری ملاقات کرانے کیلئے مجھے بلا بھیجا۔ میں صوفی صاحب کے دولت خانہ پر پہنچا تو ایک جوان اور خوبصورت آدمی ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا۔ صوفی صاحب نے ہم دونوں کا تعارف کرایا۔ ذراسی گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مہمان نواب علی صاحب تھے ۔ اب مختلف موضوعات پر باتیں ہونے لگیں اور پھر اگلے چند لمحوں بعد باتوں ہی باتوں میں ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔ اب یہ ایک ملاقات متعدد ملاقاتوں میں بدل گئی اور میں نواب علی سے ملنے لگا۔
ابھی تک کی ملاقاتوں میں نواب علی نے کبھی اس بات کا کھل کر ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ بھی لوگوں کو ملک سے باہر بھیجنے کا کام کرتے ہیں لیکن ایک دن ہم یوں ہی بیٹھے ہوئے تھے تو باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کو یورپ بھیجتا ہوں۔
میں نے انکے اس بیان کو کوئی خاص اہمیت نہ دی اور جیسے بڑی لاپرواہی یا بے اعتنائی سے کہا کہ نواب بھائی ٹھیک ہے ۔ یہ بھی بہت اچھا کام ہے اور اس طرح آپ لوگوں کا بھلا کر رہے ہو۔
ابھی میرا یہ فقرہ پورا نہیں ہوا تھا کہ یوں لگا جیسے نواب حضور اسی لمحے کے انتظار میں تھے لہٰذا فوراً بولے کہ چوہدری صاحب آخر ہم جیسے دوست کس روز آپ کے کام آئیں گے۔ ہم اتنی دنیا کو باہر بھیج چکے ہیں آپ بھی باہر کیوں نہیں چلے جاتے ۔
میرا رویہ اسوقت بھی وہی تھا جو چوہدری نیک عالم کے سوال کے جواب میں ہوا کرتا تھا۔
میں نے نواب کی بھی یہ بات بس ہنس کر ٹال دی۔ نواب علی نے کہا امانت چوہدری کیا آپ میری بات کو مذاق سمجھ رہے ہیں؟ ارے بھائی میں سنجیدہ ہوں اگر کہو تو میں آپ کا پاسپورٹ تیار کروالاتا ہوں۔
میں نے اسوقت جیسے جان چھڑوانے کی نیت سے مذاقاً کہا کہ ”یار اگر آپ کی مرضی ہے تو جائیں بنوالیں پاسپورٹ“۔
یہ بات آئی گئی ہوگئی اور وہ اس دن چلے تو گئے لیکن جاتے ہوئے میری چند تصویریں اپنے ساتھ لے گئے۔
اس واقعے کو کوئی ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور سچ پوچھیں تو یہ ساری بات مجھے یاد بھی نہیں تھی کہ
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
51
۵۱
ہفتے کے بعد وہ کھاریاں تشریف لائے تو صوفی فرزند حسین کے ہمراہ سیدھے میرے پاس گھر آگئے۔
علیک سلیک کے بعد انہوں نے کتنے ہی لوگوں کی قسمت کے امین اپنے چمڑے کے تھیلے میں سے میرا پاسپورٹ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولے ”یہ لیں چوہدری امانت اپنا پاسپورٹ اور ڈنمارک جانے کیلئے تیاری کریں“۔
جب نواب علی نے اپنا فقرہ پورا کیا تو کچھ لمحوں کے لیئے تو مجھے جیسے پتہ نہیں چلا کہ اس نے کہا کیا ہے۔ نواب علی نے ہو سکتا ہے کہ میری پریشانی بھانپ لی ہو اس لیئے اس نے مجھے جیسے نیند سے جگاتے ہوئے میرے بازو پر چٹکی کاٹنے کے انداز میں کہا ”امانت بھائی کس دنیا میں گم ہو۔ میں کوئی مذاق نہیں کر رہا اور یہ کوئی جعلی نہیں اصلی اور حقیقی پاسپورٹ ہے اور اب آپ جناب ڈنمارک جانے کی تیاری کریں“۔
اب مجھے یقین ہو گیا کہ جو بات میں نے پہلے سنی تھی وہ درست تھی۔ سچ پوچھیں تو میں نے تو پاکستانی پاسپورٹ ہی اُس روز پہلی بار دیکھا تھا۔ صوفی فرزند بولے کہ ”چوہدری صاحب اب کیا خیال ہے، بابو نواب علی عام ایجنٹوں جیسے نہیں ہیں وہ جو کام کرتے ہیں پکا کرتے ہیں“۔ میں تو ابھی اس بجلی کے جھٹکے سے سنبھلا ہی نہیں تھا اس لیئے میں نے کہا کہ ”اچھا یا را ابھی فوری طور پر نہ تو کوئی فیصلہ کر سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی جواب دے سکتا ہوں۔ پھر مجھے تو بہت سے لوگوں سے بات بھی کرنی ہے اس لیئے میں بعد میں تمہیں بتاؤں گا“۔
یہ سن کر نواب علی صوفی فرزند کے ہمراہ واپس چلے گئے اور میں جیسے ایک بے پتوار کی کشتی میں سوار ہو گیا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں تو پاکستان کو چھوڑنے اور گھر والوں سے دور جانے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
اب میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی تھی اور اب آج تک بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اُس بے چینی کو کیا نام دوں۔ رات کو نیند بھی غائب ہو چکی تھی اور کچھ روز تک میں یہی سوچتا رہا کہ کس کس سے بات کی جائے۔
اگلے ہی چند روز کے بعد میں نے اپنے بہت قریبی دوستوں محمد انور اور محمد زمان کو بتایا کہ بھئی میرا پاسپورٹ بھی تیار ہو گیا ہے اور اگر آپ لوگ پروگرام بنا لیں تو کیوں نہ ہم تینوں اکٹھے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
52
۵۲
ڈنمارک چلنے کا سوچیں۔
چار پانچ سال کام کاج کرنے کے بعد واپس اپنے ملک آ جائیں گے اور اللہ نے چاہا تو اچھا مستقبل بن جائے گا۔ اپنے ہی گاؤں اور ارد گرد کے علاقوں کے باہر جانے والے لوگوں کے قصے تو ہم آئے دن سُن ہی رہے تھے اس لیئے یہی سوچا کہ ڈنمارک جا کر کچھ رقم کمائیں گے اور پھر واپس لوٹ آئیں گے۔ اب محمد انور اور محمد زمان دونوں سفرِ ڈنمارک پر تیار ہو گئے۔ محمد انور نے مجھ سے کہا کہ بابو نواب علی کو کہیں کہ میرا پاسپورٹ بھی تیار کروا دے۔ میں نے اگلے ہی روز نواب علی کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا اور پھر ہم تینوں دوستوں نے اندر ہی اندر جیسے خفیہ تیاری شروع کر دی۔
ان دنوں میری پوسٹنگ منڈی بہاؤالدین میں ہو چکی تھی، محمد انور گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن پر نوکری کر رہا تھا لیکن محمد زمان نے ابھی سروس میں قدم نہیں رکھا تھا۔
ساری کاروائی چونکہ ابھی خفیہ تھی اس لیئے اس ساری کارروائی کا ہمارے بیوی بچوں اور گھر والوں کو ابھی تک کوئی خبر نہیں تھی لیکن یہ ڈر بھی رہتا تھا کہ کہیں وقت سے پہلے یہ راز افشا نہ ہو جائے اور ہمارا روشن مستقبل کا خواب بس خواب ہی رہ جائے۔
اگلے چند روز میں جب ہم تینوں دوستوں کے سب کاغذات تیار ہو گئے تو میں نے ہمت کر کے اور مناسب موقع جان کر اپنی والدہ صاحبہ اور رفیقہ حیات کو بتایا کہ ہمارا یہ پروگرام بن چکا ہے۔ ان دونوں کے لیئے یہ خبر جیسے ایک زلزلے کی طرح تھی۔ والدہ صاحبہ نے تو جیسے مجھے خالی نظروں سے دیکھا وہ سارا منظر آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ اہلیہ نے میری والدہ کا ساتھ دیا۔
اب یہ بات جب بھائی صاحب لال خان کو معلوم ہوئی تو وہ بھی آ گئے اور جیسے ایک پنچائت لگ گئی۔ ہر کوئی اپنی اپنی دلیل کے ساتھ مجھے سمجھانے لگا۔ کوئی کہتا کہ ”یہ بتاؤ تمہیں کہیں باہر جانے کی کیا ضرورت ہے“۔ کسی کا کہنا تھا کہ ”تمہاری اچھی بھلی نوکری ہے اور کس چیز کی کمی ہے تمہارے پاس۔۔ جو سمندر پار کی مصیبت میں پڑ رہے ہو“۔
والدہ کی آواز آتی ”ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ، اللہ کا دیا سب کچھ ہمارے پاس ہے“۔ غرضیکہ ہر طرف سے جیسے ایک ہی مطالبہ تھا کہ ڈنمارک جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
53
۵۳
جائے۔
میں ظاہر ہے اسوقت خود بھی نوجوان تھا اور میرا خون بھی گرم تھا اس لیئے جیسے میں کسی دلیل کو ماننے کے لیئے تیار نہیں تھا۔ اب میں نے اپنے سب گھر والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ ہم انشاء اللہ چار پانچ سال میں کچھ رقم کما کر واپس آجائیں گے۔
ان سب لوگوں کو قائل کرنے میں وقت تو کچھ لگا لیکن کامیابی حاصل ہوگئی اور میں اس پر خوش تھا کہ میں نے سب کو سمجھا بجھا کر قائل کر لیا ہے۔
اس مرحلے سے گزرنے کے بعد ڈنمارک روانگی کی تیاری کا مرحلہ تھا اور ہم تینوں دوستوں نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔
زادِ راہ اور اخراجات کیلئے تقریباً 5 تا 7 ہزار روپے حاصل کئے اور روانگی کی تاریخ ۱۵ جون ۱۹۷۰ بھی طے کر لی گئی۔ (آج سفری اخرجات اور زادِ راہ کے لیئے اتنی رقم کا سوچ کر خود کو بھی جیسے ہنسی آتی ہے)۔ میرا نوکری کا معاملہ بھی تھا اس لیئے وہاں سے میں نے دو ہفتے کی چھٹی حاصل کر لی۔
دفتر، محلے اور شہر کے لوگوں کو ہمارے ڈنمارک جانے کی اطلاع ہو چکی تھی اور کبھی کبھی ارد گرد کے نوجوان تو جیسے ہمیں رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے یا پھر ہو سکتا ہے کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہو۔ گھر میں بھی زیادہ تر اسی موضوع پر بات ہوتی تھی۔ والدہ کی نصیحتوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
قارئین کرام آئیے آپ بھی میرے ساتھ ڈنمارک کے اس سفر میں ہم سفر ہو جائیں اور دیکھیں کہ اس زمانے میں ذرائع آمد و رفت کیسے تھے، رسل و رسائل کے کیا طریقے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحد عبور کیسے ہوتی تھی یا پھر باہر کے ملک سے واپس پاکستان رابطہ کرنا کس قدر مشکل تھا۔
جس مہینے اور جس سن میں ہم نے پاکستان سے ڈنمارک کے لیئے عزمِ سفر کیا اس زمانے میں دنیا کی صورتِ حال بتانے میں تو شاید بہت وقت صرف ہو جائے اور یہ ہمارا موضوع بھی نہیں ہے لیکن پاکستان کی سیاسی صورت حال کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ ایسے حالات میں ہم پاکستان سے ڈنمارک کے لیئے روانہ ہوئے تھے۔
پاکستان میں ۷۰ء کے اُن مشہورِ زمانہ عام انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
54
۵۴
ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی تھی اور مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو اکثریت ملی تھی اور انہی انتخابات کے نتائج نے پاکستان کو دولخت کر دیا تھا۔ یہ عام انتخابات دسمبر ۱۹۷۰ میں ہونا تھے لیکن جون میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔
15 جون 1970ء بروز سوموار
آخر ہم تینوں دوستوں (میں، انور اور زمان) نے ۱۵ جون 1970ء کو رختِ سفر باندھا اور گاؤں سے روانہ ہوئے، اس زمانہ میں ہم اپنے گاؤں کے پہلے جوان تھے جو پاکستان سے باہر جا رہے تھے اور خاص طور پر ہمارے علاقے میں کھاریاں کی طرح یہ رواج نہیں تھا اور شاید اسی وجہ سے ہماری اس روانگی کی خبر پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی بلکہ گردونواح کے دیہات میں سبھی لوگوں کو پتہ چل گیا کہ گوجر برادری کے چوہدریوں کے تین لڑکے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔
لوگ حیران تھے کہ آخر ان لڑکوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہوئے بھی باہر جا رہے ہیں اور حقیقت بھی یہی تھی کہ ہم بھوک سے یا غربت سے بھاگ کر یورپ کا رخ نہیں کر رہے تھے۔
جس دن ہم نے روانہ ہونا تھا وہ سماں بھی قابلِ دید تھا، پورے گاؤں کی خواتین، مرد، بچے اور بوڑھے گاؤں سے باہر ہمیں ملنے اور الوداع کرنے کیلئے موجود تھے۔ ہر کسی کے ہونٹوں پر ہمارے لیئے دعاؤں کے تحفے تھے اور ہر آنکھ جیسے اشکبار تھی۔
ہمیں ایسے میں محسوس ہوا کہ کیسی محبت کی فضا میں ہم سانس لے رہے تھے اور ایسی فضا میں رہتے ہوئے یہ قربت جیسے ہم نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
مائیں اور بزرگ لوگ ہمیں آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ پیار اور دعائیں دے رہے تھے۔ مرد حضرات گلے مل رہے تھے، اور بہنیں اور بیٹیاں دعائیں کر رہی تھیں، جوان بغل گیر ہو رہے تھے۔ ان دنوں پردیس میں جانا ہمارے علاقے میں ایک انوکھی بات تھی۔ سارے محلے کے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
55
۵۵
بزرگ ہمیں نصیحتیں کر رہے تھے کہ یورپ میں جا کر اپنے خاندانی وقار کا خیال رکھنا، اپنے بیوی بچوں اور والدین کو نہ بھولنا، کہیں یورپ کی چکا چوند میں نہ کھو جانا، وغیرہ وغیرہ۔
ان دنوں ہمارے گاؤں ناگڑیاں میں نہ بجلی تھی اور نہ ہی کوئی پکی سڑک تھی، گاؤں سے قریب ترین سڑک بھمبر روڈ تھی اور جس کا فاصلہ ہمارے گاؤں سے کوئی تین میل تھا۔
گاؤں کے خواتین و حضرات ہمیں گاؤں سے چند فرلانگ دور تک الوداع کہنے کیلئے آئے اور کچھ عزیز واقارب صبور سڑک تک آئے۔
صبور سے بذریعہ بس ہم تینوں اور چوہدری مہدی خاں جو انور کا ماموں زاد ہے گجرات آئے ۔ گجرات سے ہم بذریعہ سیفٹی ٹرانسپورٹ راولپنڈی پہنچے اور مہدی خاں بھی راولپنڈی تک ہمارے ساتھ تھا۔ پنڈی ہم عبدالرحمن کے ہاں ٹھہرے یہ عبدالرحمن میرا کوئی رشتے دار نہیں بلکہ کلاس فیلو تھا اور ان دنوں وہ راولپنڈی میں سروس کر رہا تھا۔
اللہ اسے غریقِ رحمت کرے کہ آج عبدالرحمن ہمارے درمیان نہیں ہے ، وہ اللہ کو پیارا ہو چکا ہے اور اسکے ساتھ گزارا ہوا وہ وقت آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہا ہے۔ راولپنڈی میں اب شام ہونے والی تھی اس لیئے ہم نے بھائی عبدالرحمن سے درخواست کی کہ ہمیں کچھ خریداری کرنی ہے اور مرحوم نے بلا تامل ہمیں تمام خریداری کروائی۔
صبح ہمیں چونکہ پشاور کے لیئے روانہ ہونا تھا اس لیئے رات کو جلد ہی سو گئے مگر نیند کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا کیونکہ گھر والوں کی یاد نے تو یہیں سے ستانا شروع کر دیا تھا۔ کم از کم میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ آخر یہ پہاڑ جیسا سفر کیسے کٹے گا۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ۔۔۔
”چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ“
16 جون 1970ء بروز منگل
رات کے جتنے پہر میں بھی نیند آئی خوب آئی اور جب سورج نے دستک دی تو ہم سب تازہ دم اُٹھ چکے تھے۔ سامان تو پہلے سے ہی پیک تھا اس لیئے کوئی زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا اور صبح کا پہلا کام ناشتے سے نمٹنا تھا کہ پھر اس کے بعد ایک لمبا سفر در پیش تھا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
56
۵۶
زبردست ناشتے سے دو دو ہاتھ کر لینے کے بعد اب ہم تیار ہو کر بذریعہ ٹیکسی بس اسٹینڈ پر پہنچے جہاں سے ٹیوٹا ٹیکسی سروس کے ذریعے صبح 6:30 بجے ہم تینوں دوست پشاور کیلئے روانہ ہوئے۔
راولپنڈی سے پشاور تک کا سفر جو آج کل موٹروے اور کشادہ سڑکوں کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے اس زمانے میں تین گھنٹے کی مدت میں مکمل ہوتا تھا اور اگر گاڑی اچھی ہے تو ڈھائی گھنٹے لگتے تھے اور ہماری گاڑی چونکہ نئی تھی اس لیئے راولپنڈی سے پشاور کا یہ فاصلہ لگ بھگ ڈھائی گھنٹے میں ہی طے ہوا اور 9:00 بجے بخیریت ہم پشاور پہنچ گئے۔ راستے میں ٹیکسلا سے ہوتے ہوئے جب کیمبلپور کے علاقے سے گزرے تو اب جیسے ایک پہاڑی سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
اٹک کا پل ایک عجیب سائنس کا کرشمہ لگتا تھا کہ اوپر سے گزرتی ہوئی ٹرین اور نیچے تانگے اور موٹریں اور اس سے نیچے شور مچاتا پانی۔ اٹک کے پل سے گزرنے کے بعد اٹک کا وہ رسوائے زمانہ قلعہ نظر آیا جس میں بڑے بڑے سیاستدانوں کو رکھا جاتا تھا۔ یہیں سے تھوڑی دور دریائے کابل کا پانی دریائے اٹک کے پانی میں شامل ہوتا ہے لیکن اس انداز سے کہ ایک طرف سے آنے والا پانی مٹیالے رنگ کا ہے تو دوسری طرف کا آئینے کی طرح صاف۔
اٹک کے بعد اگلا شہر نوشہرہ تھا جہاں پاکستانی فوج کی ایک بڑی چھاؤنی آج بھی موجود ہے۔ نوشہرہ کے بعد اگلا شہر ہماری منزل پشاور تھی۔ پشاور میں داخل ہوتے ہی ہم جیسے ایک الگ دنیا میں آگئے تھے۔ ہر طرف تانگوں کا ہجوم تھا اور سڑکوں کے کنارے دوکانوں پر فروخت ہوتی نسوار اور چپل کباب کی دوکانیں۔ صوبہ سرحد کا یہ شہر پشاور پاکستان بھر میں ایک الگ شان اور اہمیت کا شہر ہے۔ وقت ہوتا تو اسکے اہم مقامات ضرور دیکھتے لیکن ہمارے سر پر تو جیسے سفر سوار تھا۔
اسی مقام پر مختصر سی تاریخی معلومات شہر پشاور کے بارے میں بھی لکھتا چلوں۔
پاکستان کا ایک قدیم شہر۔ صوبہ سرحد کا صدر مقام۔ بہت پرانا اور تاریخی شہر کہ معروف درہ خیبر یہاں سے صرف 11 میل کے فاصلے پر ہے اور سچ پوچھیں تو اب یہ گیارہ میل بھی جیسے پشاور میں ہی شامل ہو چکے ہیں۔
دستکاریوں، اسلحہ سازی ، سگریٹ ، گتا، فرنیچر اور ادویات سازی کے علاوہ سوتی ، ریشمی، اونی کپڑے کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہ قدیم زمانے میں گندھارا سلطنت کا دارالحکومت تھا اور اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
57
۵۷
کا قدیم نام پرش پور تھا۔
شہنشاہ اکبر اعظم نے اس کو پشاور کا نام دیا۔ برصغیر ہند میں ماسوا انگریزوں کے جتنے حملہ آور آئے ، اسی راستے سے آئے۔ ان میں ایرانی، افغانی، یونانی، مغل قابلِ ذکر ہیں۔
انیسویں صدی میں اس پر سکھوں نے قبضہ کر لیا ۔ 1848ء میں انگریز قابض ہو گئے اور پھر بیسویں صدی کے آغاز میں اسے شمال مغربی سرحدی صوبہ کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔
1955 میں مغربی پاکستان کو صوبہ بنایا گیا تو اس کو کمشنری کا صدر مقام بنا دیا گیا۔ یہاں کے عجائب گھر میں بدھ اور دوسرے راجاؤں کشن اور کنشک کے آثار ملتے ہیں۔ دوسری صدی کا بنا ہوا ایک سٹوپا بھی ہے۔ یہاں سے ایک ریلوے لائن لنڈی کوتل تک گئی ہے جو فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہاں ایک یونیورسٹی اور متعدد کالج ہیں۔ مشہور کالجز میں اسلامیہ کالج پشاور اور ایڈورڈ کالج پشاور شامل ہیں۔
آئیے اب واپس اسی ذکر کی جانب لوٹیں کہ جہاں ہمیں راولپنڈی سے آنے والی گاڑی نے اُتارا وہاں سے تانگے کے ذریعے ہم طاہر ریسٹورنٹ پہنچے۔ پشاور کے تانگے شاید پاکستان کے تمام شہروں کے تانگوں سے مختلف ہیں بالکل سرحد کے سجے سجائے ٹرکوں کی طرح۔
طاہر ریسٹورنٹ پشاور شہر کے بیچوں بیچ تھا جہاں پہنچ کر ہم نے ایک کمرہ کرایہ پر حاصل کیا۔ ان دنوں کمرہ کا کرایہ 8 روپے یومیہ تھا۔ کمرے میں پہنچ کر سب سے پہلے اپنا سامان کمرے میں رکھا اور کسی قسم کا آرام کیئے بغیر ہم تینوں دوست گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے اڈے پر گئے اور انکوائری سے کابل جانے کیلئے سیٹ بکنگ دریافت کی تو جواب ملا کہ ہمارے پاس کوئی سیٹ نہیں ہے۔ چار و ناچار وہاں سے صدر بازار جی ٹی ایس کے اڈہ پر گئے جہاں سے خدا کا شکر کہ ہم تینوں کی سیٹیں کابل (افغانستان) کیلئے بک ہو گئیں۔
سیٹیں بک ہو جانے کے بعد اب ہمیں اطمینان ہو گیا تھا اس لیئے یہیں سے سیدھے ہم بازارِ صرافہ چلے گئے اور کرنسی تبدیل کروائی۔ اندازہ کیجئے کہ افغانی کرنسی اسوقت آج ۲۰۰۶ کی طرح بے وقعت نہیں تھی اور ہم نے وہاں سے ایک ایک ہزار افغانی بعوض 128 روپے 75 پیسے حاصل کیں ان دنوں افغانستان کی کرنسی کا نام افغانی تھا۔
صرافہ بازار سے سیدھے ہم لوگ واپس ہوٹل میں آگئے اور دوپہر کو کچھ آرام کرنے کے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
58
۵۸
بعد دوپہر کا کھانا بازار سے تناول کیا۔ پشاور کے بازاروں میں کھانے کی دوکانوں پر زیادہ تر تکے، کباب اور چپل کباب ہی ملتے ہیں اور سبزی اور دال بہت کم دستیاب ہوتی ہے۔
خوب پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد واپس ہوٹل آکر آرام کیا اور شام ایک بار پھر بازار کا چکر لگایا کہ ہم تینوں کو مزید ضرورت کی چند چیزیں خریدنا تھیں۔ خریداری کے بعد اب جو کچھ وقت باقی تھا تو ہم نے چل پھر کچھ پشاور شہر دیکھا اور جب خوب چل چل کر تھک گئے تو رات دس بجے واپس طاہر ہوٹل آکر سونے کی کوشش کی لیکن شدید تھکاوٹ کے باوجود نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
مورخہ 70-06-17 بروز بدھ
رات بھر نیند اچھی طرح نہیں آئی اور اسکی وجہ شاید نفسیاتی طور پر آگے کا طویل سفر بھی ہو سکتا ہے اور پھر گھر سے نکلنے کا ایک انجانا سا احساس بھی۔ اسی لیئے ہم صبح 4:00 بجے ہی اُٹھ گئے، شیو بنائی، حمام پر جا کر غسل کیا اور پھر واپس ہوٹل آ کر اگلے سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔
سامان وغیرہ کو ترتیب دینے کے بعد ہم تینوں نے مل کر ناشتہ کیا اور ٹھیک سات بجے تانگے جیسی شاہی سواری کے ذریعے پشاور کی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے اڈہ پر آئے۔ ہم سے پہلے بھی بہت سے مسافر پہنچ چکے تھے اور سب اپنا اپنا سامان بس پر رکھوا رہے تھے۔ ہم تینوں نے بھی اپنا سامان بس پر رکھوایا۔
ذرا چلتے چلتے آپ کو اس سامان کے بارے میں بھی بتاتا چلوں۔ سامان کیا تھا ایک ایک سوٹ کیس اور ہینڈ بیگ تھا جسے ہم سامان کہہ رہے تھے۔ ٹھیک 8:00 بجے بس اسٹینڈ سے روانہ ہو کر صدر کے اسٹینڈ پر آئی اور وہاں سے مزید سواریاں لیں اور آخر کار 8:30 بجے بس پشاور سے کابل کیلئے روانہ ہوگئی۔
وطن سے باہر جانے کا ہمارا یہ پہلا موقع تھا اس لیئے آپ ذہنی کیفیت کا اندازہ بخوبی کر سکتے ہیں۔ اب اُس وقت کی کیفیت کے بارے میں سوچتا ہوں تو کبھی کبھی جیسے خوفزدہ سا ہو جاتا ہوں۔ عجیب سی کیفیت تھی اپنوں کو چھوڑ کر پردیس کے زخم کھانے کیلئے خود ہی تیار ہو چکے تھے، منزل
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
59
۵۹
کا پتہ نہیں تھا اور آگے ہمارے ساتھ کیا ہو گا اس کے بارے میں بھی ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں تھا۔
جس ملک ڈنمارک ہم جا رہے تھے اسکے کے بارے کبھی سکول کی کتابوں میں بہت مختصر سا پڑھا تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ملک کہاں واقع ہے۔ ایسی صورت میں بس خدا کا نام لیکر روانہ ہو پڑے تھے۔ والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سے دور، بہت دور جا رہے تھے۔
خیر یہ کیفیت لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی بس یوں سمجھیں کہ خود اختیار کردہ جلاوطنی تھی اور یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دوبارہ کب خاندان سے ملاقات ہو گی، ہو گی بھی یا نہیں۔ خود کو سپردِ خدا کیا اور سفر پر روانہ ہو گئے۔
بس پشاور سے چل کر طورخم پہنچی، طور خم پاکستان اور افغانستان کی سرحدی چوکی ہے۔ اُس وقت طورخم کی حالت کیا تھی اسے اگر کم سے کم بھی بیان کیا جائے تو شاید کوئی یقین نہ کرے۔ تاہم ابھی کوئی دو سال قبل دو ہزار چار میں ایک سیاح نے طورخم کا حال اس طرح لکھا تھا اسے پڑھ کر آپ برسوں پہلے کے طورخم کا اندازہ کر سکتے ہیں جب یہ کوئی بین الاقوامی شاہراہ نہیں بلکہ مقامی سڑک کی طرح تھی۔ ایک غیر ملکی سیاح نے لکھا ہے۔۔۔۔۔
”کابل طور خم شاہراہ بین الاقوامی شاہراہ ہے لیکن موجودہ حالت میں اسے سڑک بھی نہیں کہا جا سکتا۔ سڑک کے بھی کچھ لوازمات ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر آپ اسے سڑک قرار دے سکتے ہیں۔ یہاں تو سڑک کے تو بس آثار ہی ہیں۔
کابل سے مشرقی شہر جلال آباد تک سفر سے تو اللہ کی امان مانگنی چاہئے۔ اگر آپ نے دمے، خون کے فشار اور ہڈیوں کا مریض نہیں بننا تو اس راستے سے اجتناب ہی بہتر۔ اس راستے پر دھول، غبار، مسلسل گڑدھنا، بلبلانا اور جھٹکے کھانا ایسے ردعمل ہیں جن سے سفر کے دوران بچنا مشکل ہے،
لہٰذا ان امراض میں مبتلا ہونا یقینی نظر آتا ہے۔ اس راستے پر چوری چکاری اور اس کے نتیجے میں قتل ایسے واقعات ہیں جو اس سفر کو انتہائی خطرناک بھی بنا دیتے ہیں۔
ایسے خطرناک راستے پر چلتے ہوئے ٹرک دیکھ کر ان ٹرک ڈرائیوروں کی مہارت اور صبر پر رشک آتا ہے کہ ایسے راستے پر روزانہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کابل جلال آباد راستے کی تعمیر کا وعدہ یورپی اتحاد نے کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق رقم بھی مختص کی ہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس پر کام
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
60
۶۰
میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ اس کی ایک وجہ ای یو کا خوف بتاتے ہیں کہ کہیں طالبان اس راستے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے کابل تک نہ پہنچ جائیں۔‘‘
آپ نے اندازہ لگایا کہ اگر ابھی ماضی قریب کے طورخم کے راستے کی یہ حالت ہے تو ۷۰ء کے عشرے میں کیا ہو گی۔
خیر ہم جب طورخم پہنچے تو سرحد پر ہم نے اپنے اپنے پاسپورٹ اور کرنسی چیک کروائے، امیگریشن حکام نے ویزہ وغیرہ چیک کیا۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ ان دنوں ہمارا افغانستان کے لئے ویزہ تھا جبکہ باقی کسی ملک کے لئے ویزہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کارروائی میں ہمارا ایک ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔
طورخم سے چل کر ہماری بس سیدھی افغانستان کے شہر جلال آباد پہنچی۔ وہاں پر ایک ہوٹل میں ہم نے دوسرے مسافروں کے ساتھ کھانا کھایا، ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی ان میں سے کچھ پاکستانی اور کچھ افغانستان کے لوگ تھے۔ یہاں کھانے کا بل ہم نے 45 افغانی روپے ادا کیا۔ یہ تینوں آدمیوں کا بل تھا۔
تھوڑی دیر تک یہاں رکنے کے بعد جلال آباد سے بس کابل کیلئے روانہ ہوگئی پورا راستہ پہاڑی اور چٹانی تھا اور سڑک کے دونوں جانب پہاڑی سلسلہ کوہ۔ سڑک دریائے کابل کے کنارے کنارے چل رہی تھی اور پورا علاقہ بے آب و گیاہ تھا اور پورے راستہ میں کوئی قابلِ ذکر شہر یا آبادی نہیں آئی۔
اسی سوچ میں سفر جاری تھا کہ کیا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر افغانستان کے فاتح حکمران ہندوستان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ ان دنوں یہ علاقہ کتنا دشوار گزار اور سفر کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہوگا۔ شاید مقدونیہ سے چلنے والے یونان کے فاتح سکندرِ اعظم نے بھی انہی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزر کر ہندوستان پر حملہ کیا ہوگا۔
سکندرِ اعظم کا ذکر آیا ہے تو کیوں نہ ذہنوں کو تازہ کرنے کے لیئے ایک بار تاریخ کے اس باب کی ورق گردانی کر لی جائے۔
”باپ کی موت کے وقت سکندر اعظم کی عمر بیس سال تھی لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
61
۶۱
بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔
سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دوسرا اس وقت مقدونیہ کی حکمرانی کا کوئی اور خاص دعوے دار نہیں تھا لیکن پھر بھی سکندر نے ایسے تمام افراد کو قتل کرا دیا جو کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچا سکتے تھے یہاں تک کہ اپنی ماں کے اکسانے پر اس نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن کو بھی قتل کر دیا۔
سکندر کی ایک اور خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ اسے ارسطو جیسا استاد ملا تھا جو اپنے زمانے کا قابل اور ذہین ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں سکندر نے ”ایتھنز“ (یونان کا دارالخلافہ) سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی مہم پر نکلنے سے پہلے وہ نہ صرف اپنی فوج کو مضبوط کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو یہ فکر بھی تھی کہ کہیں اس کی غیر موجودگی میں کوئی مقدونیہ پر حملہ نہ کر دے۔
ایران کی فتح کے بعد بہت سے لوگوں نے سکندر کو مشورہ دیا کہ اس نے بہت سی فتوحات حاصل کر لیں ، اب وہ واپسی کی راہ لے لیکن اس پر تو دنیا کی فتح کا بھوت سوار تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائے گا جب تک ہندوستان کو فتح نہیں کر لیتا۔
327 ق م میں جب اُس نے ہندوستان کی طرف پیش قدمی شروع کی تو اس وقت اس کی فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار پیادے اور پندرہ ہزار سوار شامل تھے۔ کابل پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصے کو براہِ راست دریائے سندھ کی طرف روانہ کیا گیا اور دوسرا حصہ خود سکندر کی قیادت میں شمال کی طرف سے آگے بڑھا اور یہاں اس نے ایک ایسا قلعہ فتح کیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ روم کا بادشاہ ہرقل بھی اسے فتح نہیں کر پایا تھا۔
کوہ مور کے قریب نیسا کے مقام پر دونوں فوجیں آپس میں مل گئیں اور انہوں نے اٹک کے مقام پر دریائے سندھ کو عبور کیا اور پھر اس کے بعد دریائے جہلم کے قریب اس کا سامنا ہندوستانی راجہ پورس سے ہوا۔
سکندر کو معلوم تھا کہ وہ پورس کا مقابلہ اس طرح سے نہیں کر سکتا جس طرح اس نے دارا کا مقابلہ کیا تھا اور پھر راجہ پورس کی بہادری کے قصے اس نے سن رکھے تھے۔ ایسے میں اس نے ایک عسکری چال چلی اور ایک جرنیل کی قیادت میں اپنی فوج کا کچھ حصہ پورس کے سامنے کر دیا اور باقی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
62
۶۲
فوج لے کر ایک اور مقام کی طرف چل پڑا۔
اس سے پورس یہی خیال کرتا کہ مقدونوی فوج کے وہی مٹھی بھر سپاہی ہیں جو اس کے سامنے ہیں۔ لڑائی شروع ہوئی تو پورس کو سکندر کی موجودگی کا اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک وہ دریا پار نہیں کر چکا تھا۔
تب اس نے فوراً اپنے بیٹے کی کمان میں ایک دستہ سکندر کی طرف روانہ کیا لیکن سکندر تو بڑے بڑے سپہ سالاروں اور جرنیلوں کو بھی شکست دے چکا تھا تو ایسے میں یہ نوجوان اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورس کا بیٹا مارا گیا اور اب سکندر کے سامنے میدان بالکل صاف ہو گیا۔ اس نے اسی وقت پورس کی فوج پر ہلہ بول دیا۔
ایرانیوں کے برعکس پورس بہت بہادری سے لڑا۔ اس کے لشکر میں 180 ہاتھی بھی شامل تھے۔ انہی سے مقدونوی فوج کو زیادہ خطرہ تھا کیونکہ ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے ہیبت زدہ ہو جاتے ہیں اور اپنے مالک کا بھی کہا نہیں مانتے۔
اس مصیبت کا علاج سکندر نے یوں کیا کہ جوں ہی ہاتھی حملہ آور ہوئے اس نے اپنے سواروں کو دو قطاروں میں بانٹ دیا۔۔۔۔ ایک ہاتھیوں کے بائیں اور دوسری دائیں طرف۔ یہ سوار ہاتھیوں کو دھکیلتے ہوئے ایک تنگ سی گھاٹی میں لے آئے اور یہاں آکر ہاتھی بدک گئے اور خود اپنی فوج کے لیے مصیبت بن گئے۔
اس معرکے میں پورس کے بیس ہزار آدمی اور سو ہاتھی مارے گئے لیکن اس سب کے باوجود پورس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل لڑتا رہا اور اس نے اس وقت تک ہار نہ مانی جب تک اس کا جسم زخموں سے چور ہو کر بالکل نڈھال نہیں ہو گیا۔
پورس کو گرفتار کر کے اسی روز سکندر کے سامنے پیش کیا گیا۔ سکندر کی یہ عادت تھی کہ دشمن کا جو بھی آدمی گرفتار ہو کر آتا اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ضرور دیتا تھا۔ اس نے پورس سے پوچھا:
”بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟“
اسی مقام پر پورس نے وہ مقبول جواب دیا جو آج دنیا بھر میں ایک ضرب المثل بن چکا
ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
63
۶۳
پورس نے جواب دیا: ”وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔“
سکندر میدانِ جنگ میں پورس کی بہادری سے تو پہلے ہی متاثر تھا، اب اس کی گفتگو نے بھی اسے کم متاثر نہیں کیا۔ اور بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دینا اسے بالکل پسند نہیں تھا اسی لیئے اس نے پورس کو معاف کر دیا اور اس کا تمام علاقہ بھی واپس کر دیا۔
سکندر کو ہندوستان کے اندر تک جانے اور اس کے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا یہی شوق اور تجسس تھا جس نے اسے یہاں آنے پر مجبور کیا تھا۔ تاہم جب اس نے جہلم سے آگے چلنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر اس کے فوجیوں نے اس کا ساتھ نہ دیا کیونکہ پچھلے کئی برسوں کی مسلسل مشقت نے انہیں سخت تھکا دیا تھا اور اب ان میں مزید مہمات سر کرنے کی بالکل ہمت نہیں رہی تھی۔ سکندر نے انتہائی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے وہی کیا جو اس کے سپاہی چاہتے تھے۔ ہندوستان کو فتح کرنے کی اپنی تمام تر خواہش کے باوجود وہ ان کی بات مان گیا اور یہیں سے اس نے واپسی کا فیصلہ کیا۔
لیکن اس عظیم سپہ سالار کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وہ چاہتا تو یہی تھا کہ اپنے سر پر آدھی دنیا کی فتح کا تاج سجائے اپنے آبائی شہر مقدونیہ میں داخل ہو لیکن ابھی وہ ”بابل“ ہی میں تھا کہ ایسا بیمار ہوا کہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو سکا اور وہیں اس پر موت نے فتح پالی۔
سکندر نے 33 سال عمر پائی۔ وہ 356 ق م (یعنی حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 356 سال قبل) میں پیدا ہوا اور اس کا انتقال 323 ق م میں ہوا۔ لگ بھگ آدھی دنیا تو اس نے اس جوانی ہی میں فتح کر لی۔ کہتے ہیں اگر وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہ لیتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پوری دنیا کا فاتح نہ بن جاتا۔
تاریخ کا یہ باب یہیں ختم کرتے ہیں اور اپنے سفر کا باب جاری رکھتے ہیں۔
بس چلتی جا رہی تھی۔ محمد زمان اور محمد انور بھی شاید ان ہی سوچوں میں تھے لیکن میرے ذہن میں وہ پوری تاریخ گھوم گئی جو ہم نے سکول میں پڑھی ہوئی تھی۔
آخر طویل سفر کے بعد چار بجے شام ہم افغانستان کے دارالحکومت ”کابل“ پہنچ گئے۔
کابل میں بس اسٹینڈ پر پہنچنے پر لاہور کے لاری اڈے والا سماں تھا۔ کافی لوگ بس مسافروں کے گردا گرد ہو گئے کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ آئیں، بڑا اچھا آرام دہ ہوٹل ہے،
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
64
۶۴
گویا ہر کوئی مسافروں کو اپنے اپنے ہوٹلوں پر لے جانے کیلئے کوشش کر رہا تھا۔
آخر ہم ایک ہوٹل ملازم کے ساتھ ”الفت ہوٹل“ میں گئے ہوٹل میں کمرہ کرایہ پر حاصل کیا جس کا کرایہ -/90 افغانی تھا، سامان کمرہ میں رکھا اور خود گھومنے کیلئے بازار نکل گئے۔ ہم راستہ میں خوب محفوظ ہوتے جا رہے تھے۔ ہمیں یہ فکر نہیں تھی کہ ڈنمارک کب آئے گا۔ یہ بھی فکر دامن گیر نہیں تھی کہ ہم چل تو پڑے ہیں ہمارا حشر کیا ہوگا۔
نوجوان تھی، ہم تینوں دوست پڑھے لکھے تھے۔ ہر کسی سے بات کر سکتے تھے اور جیب گرم تھی۔ یہی سوچ تھی کہ اگر کام بن گیا تو چند سال گزار کر آجائیں گے ورنہ ہمارے پاس واپسی کا کرایہ اور خرچہ موجود ہے۔
پشاور سے کابل تک کا فاصلہ 200 میل ہے کابل بہت بڑا شہر ہے، خوبصورت اور عالیشان عمارتیں ہیں بڑا بارونق شہر ہے۔ یہاں پر عورتیں پردہ کم ہی کرتی ہیں اور آزادی کے ساتھ بازاروں میں گھوم پھر رہی ہیں لباس چست قسم کا پہنتی ہیں یعنی ایسا پاجامہ جو ٹانگوں کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے، زبان پشتو اور فارسی بولی جاتی ہے، اردو بھی بہت سے لوگ بولتے ہیں ، بازاروں میں زیادہ تر دکاندار سکھ ہیں گویا تجارت سکھوں کے ہاتھ میں ہے، شہر میں گھومتے پھرتے ہم بس اسٹینڈ پر پہنچے تا کہ صبح جانے والی بس کے ٹائم ٹیبل کا معلوم کیا جائے۔
اسوقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو کابل کی وہ عظمتِ رفتہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے اسکی تباہی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔
یہ بھی بتاتا چلوں کہ افغانستان میں ظاہر شاہ کی حکومت ہے اور ظاہر شاہ افغانستان کا بادشاہ ہے۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ یہاں چند معلومات شاہ ظاہر شاہ کے بارے میں بھی مہیا کرتا چلوں۔
۱۶، اکتوبر ۱۹۱۴ میں پشتون خاندان کے درانی پوپلزئی قبیلے میں پیدا ہونے والے اور فرانس میں تعلیم حاصل کرنے والے ظاہر شاہ کا بادشاہ کے طور پر عہدِ حکومت ۱۹۳۳ سے ۱۹۷۳ تک رہا۔ انکے والد محمد نادر شاہ جب قتل ہوئے تو ۸ نومبر ۱۹۳۳ میں انہوں نے انیس برس کی عمر میں تاج و تخت سنبھالا اور افغانستان کو ۱۹۶۴ میں نیا آئین دیا۔
سن انیس سو چونسٹھ میں افغانستان میں آئینی اصلاحات کی بدولت ایک جدید جمہوری
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
65
۶۵
نظام کی بنیاد رکھی گئی جس میں عوامی حق رائے دہی، آزادانہ انتخابات، بنیادی انسانی حقوق، اور آزادءِ نسواں کی ضمانت دی گئی تھی۔
جنگ عظیم دوم میں افغانستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی کے نتیجے میں ملک جنگ کی تپش سے بچا رہا اور امن سے فائدہ اٹھا کر جدیدیت کی راہ پر چل پڑا ۔ ظاہر شاہ نے غیر ملکی مشیروں کو بلوایا، پہلی کابل یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ، اور یورپ کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات استوار کیئے۔
ان کے دور حکومت میں افغانستان ایک متوازن اور ترقی پسند معاشرہ تھا جس کے تاریخی نوادرات اور سنگلاخ پہاڑ مغربی سیاحوں کے لیئے کشش کا باعث تھے اور ملک کے لیئے زر مبادلہ کمانے کا ذریعہ۔ لیکن جہاں سطح آب پر ترقی اور خوشحالی نظر آتی تھی وہیں زیر سطح قبائلی اختلافات بھی پرورش پا رہے تھے۔
جولائی سن تہتر میں جب وہ علاج کی غرض سے اٹلی میں تھے ان کے کزن محمد داؤد نے ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ داؤد جدیدیت اور مغرب سے تعلقات کے مخالف تھے۔ دوسو برس چلنے والے پختون عہدِ حکومت کے آخری بادشاہ تب سے روم شہر کے قریب واقع ایک ولا میں خاموشی سے زندگی گزارتے رہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب صورت حال بدل گئی تو جلاوطن شاہ نے کہا کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیئے اقتدار کے خواہشمند نہیں ہیں لیکن اگر ان کی واپسی سے ان کے وطن کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ اس کے لیئے تیار ہیں۔
پھر انہیں کے مشورے پر افغانستان کی عبوری حکومت کی تشکیل کا فیصلہ لو یا جرگے پر چھوڑ دیا گیا ہے جو اس ملک میں قومی اہمیت کے فیصلے کرنے کا مجاز ادارہ رہا ہے۔
تیس سال تک جلا وطنی کے بعد اپریل ۲۰۰۲ میں سابق بادشاہ محمد ظاہر شاہ اٹلی سے افغانستان کی عبوری انتظامیہ کے سربراہ حامد کرزئی ظاہر شاہ کے ساتھ واپس افغانستان پہنچ گئے۔ جب وہ مسلح محافظوں کے حصار میں کابل کی سرزمین پر اترے تو انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
اس کے بعد وہ اس طرف گئے جہاں ان کا خیر مقدم کرنے کے لیے اعلیٰ افغان حکام اور معززین کثیر تعداد میں منتظر تھے۔ شاہ ظاہر شاہ کی واپسی کی خبریں اس وقت سے آرہی تھیں جب
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
66
۶۶
سے افغانستان میں امریکی مہم کی کامیابی اور طالبان کی شکست کی خبریں آنا شروع ہوئی تھیں۔ ان کے بارے عام تصور ایک ایسی غیر جانبدار اور باوزن شخصیت کا ہے جو اقتدار کے لیے محاذ آرائی پر آمادہ دھڑوں کو ساتھ ملا کر چلا سکتے ہیں۔
کابل میں ان کی واپسی سے قبل ہی کے استقبال کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں اور ان کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات میں وہاں تعینات بین الاقوامی قیامِ امن فوج بھی شریک تھی جس نے ان کی آمد سے قبل کہا تھا کہ دارالحکومت کابل میں حفاظتی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ بین الاقوامی فوج کے ایک ترجمان نے کابل میں حفاظتی انتظامات کے بارے میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ سلامتی کی صورتحال میں زبردست تبدیلی آئی ہے اور ظاہر شاہ کی وطن واپسی پر انہیں سکیورٹی سے متعلق کوئی خدشات نہیں ہیں۔
اس موقع پر حامد کرزئی کی طرف سے چائے کی دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں موجودہ افغان حکومت کے اعلیٰ اہلکار اور عہدیدار بھی شریک ہوئے۔
حامد کرزئی نے اس موقع پر مختصر خطاب میں کہا کہ یہ بات پوری افغان قوم کے لیے خوشی کا باعث ہے کہ شاہ اپنے اس محل میں واپس آئے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔ ظاہر شاہ کی اس محل میں واپسی اس معاہدے کا حصہ تھی جو جون ۲۰۰۲ میں ہونے والے لو یا جرگہ یا افغانستان کی روایتی وسیع تر اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا۔
ظاہر شاہ نے اس جرگے میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ صدارتی انتخاب میں حامد کرزئی کے خلاف صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے۔
کابل میں امریکہ اور اتحادی افواج کے زیر سایہ حامد کرزئی کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کے انتظام سنبھالنے کے بعد ظاہر شاہ تادمِ تحریر کابل میں ہی خاموش زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ چند اہم معلومات تھیں شاہ ظاہر شاہ کے بارے میں۔ آئیے اب واپس کابل چلیں جہاں میں اپنے دو دوستوں کے ہمراہ راولپنڈی سے بس کے ذریعے چل کر پہنچا تھا۔
کابل میں ہم نے قادری بس سروس پر کابل سے ہرات تک سیٹیں بک کرالیں فی کس کرایہ -/210 افغانی ادا کیا گیا ، اور واپس ہوٹل میں آگئے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
67
۶۷
19-6-70 بروز جمعرات
ہم چونکہ بہت تھکے ہوئے تھے اس لیئے نیند نے غلبہ کیا اور بہت جلد سو گئے اور اگلی صبح جلدی اٹھ گئے۔ نہا دھو کر ناشتہ کیا ”الفت ہوٹل“ سے بذریعہ ٹیکسی ہم قادری بس سروس کے اسٹینڈ پر آئے۔ 20 افغانی ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا یعنی تقریباً 2 روپے پاکستانی۔
قادری بس صبح 7:00 بجے روانہ ہوئی، اور شام چار بجے ہم قندھار پہنچ گئے، کابل سے قندھار پورا علاقہ بے آب و گیاہ ہے، کہیں کہیں گندم کی فصل نظر آتی ہے، راستہ میں ایک تاریخی شہر غزنی کے سوا اور کوئی قابلِ ذکر شہر نظر نہیں آیا۔
غزنی کے پاس سے گزرتے ہوئے ، دل تو چاہا کہ اس تاریخی شہر کو ایک نظر گھوم پھر کر دیکھ لیا جاتا۔ یہ وہی غزنی ہے جہاں سے سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان کے سومنات مندر پر سترہ حملے کئے تھے، ہم یہ شہر دیکھنا چاہتے تھے لیکن مجبوری آڑے آئی کہ ہم بس سے اتر نہیں سکتے تھے اور سفر جاری رہا۔
ہمارے اس سفر کے دوران میں اگرچہ جون کا مہینہ ہے لیکن موسم کافی سرد ہے، قندھار تک راستہ میں بس کہیں کہیں رکتی رہی اور مسافر چائے اور کھانا وغیرہ کھا لیتے تھے۔
قندھار افغانستان کا ایک تاریخی شہر ہے ، صبح سویرے نسیمِ سحر میں قندھار کے سیبوں کی بھینی بھینی خوشبو بھلی لگی۔ لیکن کیا کیا جائے۔۔۔ ہم ہیں کہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک اجنبی اور نامعلوم منزل کی طرف۔
میرے ایک ہم سفر افغانی نے جو ٹوٹی پھوٹی اردو بھی جانتا تھا اُس نے قندھار کے تاریخی پس منظر کے بارے میں کچھ معلومات مہیا کیں اور کچھ میں نے ایک کتاب میں پڑھیں تھیں اور اس مقام پر سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ یہ معلومات مختصر طور پر آپ تک بھی پہنچاتا چلوں۔
”جنوبی افغانستان کے زرخیز میدانی علاقے میں واقع قندھار، کئی اعتبار سے افغانستان کی تاریخ میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ مہا بھارت کے طویل رزم کے دور میں قندھار ، گندھارا کہلاتا تھا۔ شہزادی گندھاری اس شہر کی تھی اور یہ گندھارا تہذیب کا گڑھ تھا۔ پھر تاریخ میں اس شہر کا نام س وقت ابھرا جب سکندر اعظم وسط ایشیا میں اپنی مہم کے لئے اس راستہ سے گزرا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
68
۶۸
اس کے بعد سے یہ ایک بڑا تجارتی مرکز رہا ہے اور یکے بعد دیگرے اسے منگولوں، ایرانیوں، ترکوں، عربوں اور مغلوں نے فتح کیا۔ ایران میں صفویوں کے دور میں قندھار کے لئے ہندوستان کے مغلوں سے بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔
اٹھارویں صدی میں جب اس پورے علاقے پر افغانوں نے قبضہ کیا اور افغانستان کے نام سے ایک ملک معرضِ وجود میں آیا تو اس کے پہلے پشتون حکمران احمد شاہ نے قندھار ہی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ یہ وہی احمد شاہ تھے جسے تاریخ نے احمد شاہ ابدالی کے نام سے یاد رکھا ہے۔
طالبان کی تحریک، اسی شہر قندھار سے ابھری جہاں اس تحریک کے قائد ملا محمد عمر آخوند، ایک مدرسہ میں استاد تھے اور جنہوں نے سن اناسی میں افغانستان پر سوویت تسلط کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔
اس دوران اس شہر نے کئی بار اپنا انتظام سوویت فوجوں اور مجاہدین کے ہاتھوں میں آتا جاتا دیکھا لیکن سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد مجاہدین کے مختلف دھڑے اس شہر پر قبضہ کے لئے آپس میں لڑتے رہے۔
بعد ازاں طالبان کی اس تحریک کی بدولت اس کو ایک روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے حالانکہ اس سے پہلے سن ستر کی دہائیوں میں اس شہر میں غیر ملکیوں کی چہل پہل رہتی تھی اور ہندوستان اور نیپال جانے والے ہپیوں کی یہ راہ گزر تھی۔
سن ۷۸ میں کمیونسٹوں کی طرف سے سردار داؤد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اس شہر سے ہپی اچانک غائب ہو گئے۔
اگرچہ اس شہر میں تاجک، ہزارہ اور دوسری نسلوں کے لوگ آباد ہیں لیکن اکثریت پشتونوں کی ہے اور تادمِ تحریر یہ جنوبی افغانستان میں پشتونوں کا مضبوط گڑھ ہے اور اگر یہاں طالبان کا زوال ہوتا ہے تو پشتونوں کا اثر معدوم ہو جائے گا۔
ہماری بس کابل سے چل کر اب جو قندھار پہنچ چکی تھی تو یہاں سے ہم سب مسافروں کو بس تبدیل کرنا پڑی اور سب مسافر دوسری قادری بس سروس پر سوار ہو گئے جو قندھار سے 45-4 بجے شام ہرات کیلئے روانہ ہوگئی۔
تمام رات سفر کرنے کے بعد بس صبح پانچ بجے ہرات پہنچی، کابل سے ہرات تک تقریباً
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
69
۶۹
700 میل سفر ہے، پورا ایک دن اور رات ہم سفر میں رہے اور اس طویل سفر کی وجہ سے ہماری تھکاوٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بس ہم سیاحوں کی طرف لطف اندوز ہوتے اور نئے علاقے دیکھتے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
مورخہ 70-06-20 جمعہ
ہرات سے صبح پانچ بجے ہم ایک ٹیکسی لیکر افغان چیک پوسٹ اسلام قلعہ پہنچے، اس ٹیکسی کا کرایہ ہرات سے اسلام قلعہ تا ایران چیک پوسٹ ایک سو افغانی طے ہوا، اسلام قلعہ میں ٹیکسی ڈرائیور کو انتظار کرنے کا کہہ کر ہم نے کسٹم اور امیگریشن کا مرحلہ طے کیا، اس کارروائی میں تین گھنٹے صرف ہو گئے۔ اسلام قلعہ سے روانہ ہو کر ہم 12:30 بجے چیک پوسٹ پر پہنچے تو امیگریشن حکام نے بتایا کہ اب آرام کا وقت ہے، بعد دوپہر ظہر کی نماز کے بعد آنا۔
ہم چیک پوسٹ پر سامان رکھ کر ایک ریسٹورنٹ میں آئے اور وہاں پر ایک کمرہ حاصل کیا ۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئے کہ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر چیک پوسٹ سے سامان لے آئیں گے اور آگے بڑھنے کیلئے بس کی سیٹیں بک کرائیں گے۔
لیٹے تو ذرا ستانے کیلئے تھے لیکن پچھلے دو دنوں کی تھکاوٹ نے ہمیں ایسا نڈھال کیا ہوا تھا کہ ایسی گہری نیند سوئے کہ شام کو آنکھ کھلی۔
فوراً امیگریشن پوسٹ پر پہنچے تو ہمارا سامان ویسے ہی پڑا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے سامان اور پاسپورٹ چیک کروائے، واپس ہوٹل سامان رکھا اور سیدھے بس اسٹینڈ پر پہنچے لیکن یہ معلوم ہوا کہ اس کے بعد کوئی بس نہیں جاتی اور اب پہلی بس صبح سات بجے روانہ ہوگی۔
مرتے کیا نہ کرتے رات ہوٹل میں ہی گزارنی پڑی۔ بہر حال اب ہم نے خاور بس سروس پر ایران کے مقدس شہر مشہد کیلئے سیٹیں شام والی بس سے بک کرالی تھیں، تائی باد سے مشہد کا کرایہ 75 ریال لگا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
70
۷۰
20-06-70 بروز ہفتہ
صبح سات بجے خاور بس کے ذریعے مشہد کیلئے روانہ ہوئے، دل میں امام رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار کی زیارت کا شوق لئے ہم گیارہ بجے دوپہر مشہد پہنچ گئے۔
بس اسٹینڈ سے ایک ٹیکسی لی اور مسافر خانہ دعا گو میں 50 ریال کے عوض ایک کمرہ حاصل کیا، سامان مسافر خانہ میں رکھ کر ہم بازار کی طرف نکل گئے، ہمارے ساتھ چار آدمی کوہاٹ کے بھی شامل ہو گئے وہ بھی ہماری طرح یورپ کے سفر پر ہی رواں دواں تھے، آج ان کے نام حافظہ سے نکل چکے ہیں۔ اچھے لوگ تھے۔ بازار جا کر ایک ہوٹل سے کھانا کھایا اور سیدھے حضرت امام رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار پر پہنچے ، ایک شاندار اور وسیع عمارت تھی مزار پر فاتحہ خوانی کی اور اللہ تعالیٰ سے ان بزرگوں کے توسل سے دعا مانگی کہ ہمارا سفر بخریت گزرے۔
یہاں چند معلومات مشہد مقدس کے بارے میں بھی عرض کرتا چلوں جو میں نے صفدر ھمدانی کے سفرنامے ”تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا“ سے لی ہیں۔ صفدر ھمدانی کا یہ سفر نامہ قدیم و جدید ایران کے بارے میں اردو زبان میں ایک ایسی پہلی دستاویز ہے جو تمام تر معلومات اپنے اندر سمائے ایران کے مذہبی، ثقافتی، ادبی اور سیاسی ماضی و حال کی وہ تصویر پیش کرتی ہے جو اردو کے شاید ہی کسی ادیب و مصنف نے پیش کی ہو۔
”تہران سے گھنٹے سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد مشہد پہنچنے پر جیسے ہی ہمارے جہاز نے رن وے کو چھوا تو یکدم جہاز میں درود و سلام کی آوازیں بلند ہوئیں۔ میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو اکثر مسافر درود پڑھ رہے تھے۔ دنیا بھر سے زائرین کی ایک بڑی تعداد یہاں مشہد آتی ہے اور اسی لیئے ایران کے دیگر شہروں کے علاوہ فقط تہران سے روزانہ کوئی پندرہ کے قریب پروازیں مشہد آتی ہیں جو ایران کے شمالی صوبے خراسان میں واقع ہے۔ پروازوں میں کاروباری لوگوں کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد اُن زائرین کی ہوتی ہے جو اہلِ تشیع کے 8 ویں امام، امام علی رضا کے روضے پر حاضری دینا چاہتے ہیں۔
میں نے اپنے ایران کے قیام کے دوران اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ اہل ایران کی اچھی خاصی اکثریت کی زندگیوں میں مذہبی مقامات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
71
۷۱
تہران سے جاتے ہوئے جس کسی سے بھی آپ مشہد جانے کا ذکر کریں وہ فوری طور پر آپکو ’التماسِ دعا‘ کہے گا یعنی میرے لیے بھی دعا کیجیئے گا۔
مشہد مقدس اور قُم ایران کے دو ایسے شہر ہیں جنہیں دنیائے شیعت میں مکہ، مدینہ، نجف اشرف اور کربلا کے بعد اہم ترین زیارات تصور کیا جاتا ہے اور یہاں صدیوں سے سال بھر ساری دنیا سے آنے والے زائرین کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق سال بھر میں دو کروڑ سے زیادہ زائرین صرف مشہد مقدس میں آتے ہیں جبکہ قُم جانے والے اسکے علاوہ ہیں۔
امام رضا کے مزار کا 50 میٹر قطر کا سنہرا گنبد شہر میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے نظر آ جاتا ہے۔ نہایت وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا 203 ہجری کا امام رضا کا یہ حرم شہر در شہر کی مثال ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے جیسے اٹلی میں ویٹیکن ہے۔
مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔ اور یہاں کی ہر چیز امام رضا کے نام سے ہی منسوب ہے جیسے رضا ہسپتال، رضا لائبریری، رضا بازار، رضا میوزیم ، غرض یہ کہ سچ پوچھیے تو مشہد میں مجھے یوں لگتا ہے جیسے زندگی امام رضا کے گرد گھومتی ہے۔ یہ پورا شہر حرم کے چاروں اطراف میں تعمیر ہوا ہے۔
یہاں کے ایک استاد محمد صادق نجفی کا کہنا تھا ہے کہ ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ بارہ سو برس قبل مشہد ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اور دراصل یہ امام رضا کی یہاں شہادت اور قبر کی خیر و برکت ہے کہ اب یہ ایران میں تہران کے بعد دوسرے بڑے شہر بن چکا ہے۔ اقتصادی حوالے سے بھی مشہد کی بہت اہمیت ہے اور ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں مشہد کی آمدنی کا دوسرا بڑا حصہ ہے جو ایران کی معشیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اقتصادیات میں اسکی اہمیت اس رُخ سے اہم ہے کہ زائرین اور سیاحوں کی آمد یہاں کی بہت بڑی صنعت ہے۔ ایران آنے والے نوے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔ مشہد میں حرم کے علاقے میں رات نہیں ہوتی۔ بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں اور خریداری کی غرض سے زائرین اور سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔
حرم امام کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل اور سرائے ہیں جن میں تیس ہزار زائرین
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
72
۷۲
بیک وقت ٹھہر سکتے ہیں۔ مگر سال بھر یہاں گنجائش سے زائد زائرین مقیم ہوتے ہیں۔ جبکہ چھٹیوں میں رش زیادہ ہونے کے باعث اکثر ایرانی اپنے کیمپ ساتھ لاتے ہیں۔
مشہد میں امام رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ کوئی ساٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس ہے جس کی توسیع اور آرائش کا کام ہر دور حکومت میں ہوتا رہا اور جو اب بھی جاری ہے۔
یہیں دنیا کا وہ قرآن میوزیم ہے جس میں حضرت علی، امام حسین، امام حسن، امام زین العابدین اور امام رضا کے علاوہ اہلِ تشیع کے دیگر آئمہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کے نسخوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے جسے اہل ایران نے بہت ہی حفاظت، محبت اور بڑی عقیدت سے سنوار کے رکھا ہوا ہے۔
کوئی بھی چند گھنٹوں کے قیام میں اس کمپلیکس کے صرف چند حصے ہی دیکھ سکتا ہے۔ سیکیورٹی چیکنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب میں حرم امام رضا میں داخل ہوں تو وہاں موجود دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین جس کا اندازہ ان کے لباس دیکھ کر ہوتا ہے اپنے اپنے انداز میں دُعا و مناجات اور ماتم و نوحہ خوانی اور با آوازِ بلند گریہ و زاری میں مصروف آتے ہیں جن میں ہر عمر کے زائرین شامل ہوتے ہیں۔ ان میں آپکو کئی نو بیاہتا جوڑے بھی نظر آئیں گے جو اپنی نئی زندگی کا آغاز حرم کی زیارت سے کرنا چاہتے ہیں۔
دن اور رات کے ہر پہر میں بے پناہ ہجوم کی وجہ سے قبرِ امام تک پہنچنا بے حد مشکل ہوتا ہے تاہم سچ تو یہ بھی ہے کہ بے پایاں ہجوم میں اکثر لوگ دھکے کھاتے کھاتے وہاں پہنچ ہی جاتے ہیں۔“
میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ مزار امام رضا کی زیارت سے فارغ ہو کر مشہد ریلوے اسٹیشن پر گیا اور وہاں سے تہران کیلئے ٹرین کی سیٹیں بک کرائیں۔ مشہد سے تہران تک فی کس 385 ریال کرایہ لگا، ٹکٹیں جیب میں رکھیں اور بازار گھومتے پھرتے رہے۔ بازاروں میں بہت رونق تھی شاید روضہ امام رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے زائرین کی اس شہر میں آمد و رفت زیادہ تھی ، مسافر خانے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے، مشہد بازار میں گھومتے ہوئے میں ایک دکان سے 100 ریال کی ایک قمیض خریدی اور واپس ہوٹل میں آگئے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
73
۷۳
ایک بات بتاتا چلوں کہ ایران میں روٹی (چپاتی) اتنی اتنی بڑی تھی کہ لوگ کندھوں پر لٹکائے روٹی فروخت کر رہے تھے۔ جس کسی کو جتنی چاہیے ہوتی تھی اتنی کاٹ کر دے دیتے تھے۔
تھوڑی دیر ہوٹل میں آرام کرنے کے بعد ہم بذریعہ ٹیکسی ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ گاڑی اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ سامان گاڑی میں رکھا اور اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہو گئے۔ پورے پانچ بجے گاڑی مشہد سے تہران کے لیئے روانہ ہوئی اور تمام رات سفر جاری رہا۔
21-06-70 بروز اتوار
اگلی صبح 9 بجے گاڑی تہران ریلوے اسٹیشن پر پہنچی، گاڑی سے اتر کر ہم انکوائری آفس میں آئے ، وہاں پر جو صاحب تشریف فرما تھے، اس نے ہمارے سامنے ایک رجسٹر رکھ دیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو اس نے کہا کہ آپ نے ٹرین پر سفر کیا ہے اور ایران میں سفر کے متعلق اپنے تاثرات تحریر کریں۔
ہم نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا اور پھر ہم نے تبریز شہر جانے والی بس کے بارے میں دریافت کیا۔ انکوائری آفیسر نہایت خلوص و پیار کے ساتھ پیش آیا اور ہمیں تمام ضروری معلومات بہم پہنچائیں۔
ہم ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ ٹیکسی بس اسٹینڈ پر آئے اور تبریز جانے والی بس کا دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ بس رات نو بجے جائیگی ، ہم نے سوچا کہ اب کہاں جائیں؟ فیصلہ ہوا کہ سامان یہاں بس اسٹینڈ پر رکھتے ہیں اور خود تہران شہر کی سیر کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس پورا دن پڑا ہوا تھا۔ میں نے بس کی ٹکٹیں بک کروا لیں۔ بس کا نام ’ایران ترانزٹ‘ تھا۔
تہران سے تبریز کا کرایہ فی کس 170 ریال صرف ہوا، ہم نے اپنا سامان اڈہ میں ان کے سپرد کیا، اور بازار میں نکل گئے۔
ہمارے ساتھ تین آدمی لاہور کے رہنے والے مشہد سے ہی مل گئے تھے ان کے نام محمد اعظم، محبوب عالم شیخ اور خیر دین تھے۔ یہ تینوں ملا کر ہمارا چھ آدمیوں کا گروپ بن گیا۔ کیونکہ ان کی منزل بھی ڈنمارک ہی تھی لہٰذا ہم نے اکٹھے ہی سفر جاری رکھا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
74
۷۴
تہران شہر میں ایک ہوٹل سے ہم سب نے کھانا تناول کیا اور ایک ڈاکخانہ سے لفافے خریدے اور پارکِ شہر میں چلے گئے۔ پارکِ شہر ایک خوبصورت باغ کا نام ہے اور سیر گاہ ہے، یہاں پر سارا دن بہت رونق رہتی ہے۔ اس پارک میں بیٹھ کر ہم نے اپنے گھر والوں کو خطوط لکھے اور پھر اس پارک سے نکل کر ہم شہر کی سیر کو نکل کھڑے ہوئے۔
تہران شہر میں ایک جگہ کا نام شہرِ نو تھا، وہاں پر ہم ایک تھیٹر میں گھس گئے جہاں ایک گانا لگا ہوا تھا اور یہ انڈیا کی فلم کا گانا تھا اور گانے کے بول تھے ”بول رادھا بول سنگم ہو گا یا نہیں“ یہ مکیش کی آواز میں گانا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہم تھیٹر سے باہر آگئے۔
اس زمانہ میں ایران (خصوصاً تہران شہر) بہت ماڈرن اور اسلام سے کوسوں دور نظر آتا تھا ، شراب و کباب کی محفلیں اور رونقیں سرِ عام تھیں، خواتین کے لباس نہایت مختصر تھے، جب ہم نے یورپ پہنچ کر یہاں کا ماحول دیکھا تو اس وقت شہنشاہِ ایران کا ایران موجودہ یورپ سے کہیں آگے تھا۔ ہم تو سفر میں تھے اور منزل سے بھی ناواقف تھے اس لیئے زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع میسر نہیں آ سکا۔ دل تو چاہتا تھا کہ کچھ دن یہیں رک جائیں لیکن خوفِ خدا آڑے آتا رہا۔
شہرِ نو میں گھومتے پھرتے ہم بازارِ حسن طرز کی ایک سٹریٹ میں نکل گئے، وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایرانی خواتین خوبصورت کمروں میں دبیز قالینوں پر بیٹھی اور کچھ لیٹی ہوئی، گاہکوں کو اپنی اپنی طرف بلا رہی ہیں۔ ان کے جسموں پر لباس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ کیونکہ ہم نے یہ سب کچھ پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ یہ نظارہ دیکھ کر کچھ گھبرا سے گئے میں نے سب ساتھیوں کو کہا جلدی یہاں سے نکل چلو کہیں خدا کا عذاب ہم پر بھی نازل نہ ہو جائے۔
ہم توبہ توبہ کرتے ہوئے اس بازار سے بھاگ نکلے اور اپنے ایمان اور عصمت کے بچ جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
تہران شہر میں گھومتے گھماتے ہم لاری اڈہ پر واپس آگئے ، قریب کے ایک ہوٹل میں کھانا کھایا، اور اپنا سامان بس پر رکھا، اور بس پورے سوا نو بجے تہران سے تبریز کیلئے روانہ ہوگئی، یوں گپ شپ اور شغل کرتے ہمارا سفر رواں دواں تھا، اب ہم تین کی بجائے چھ ساتھی بن گئے اور سفر مزید دلچسپ ہو گیا، محمد اعظم کافی ہوشیار لڑکا تھا، باتونی بھی تھا، شیخ محبوب کی زبان میں ذرا لکنت تھی، بات کرتے ہوئے لمبی بریک لگ جاتی تھی، خیر دین پیشہ کے لحاظ سے حجام تھا مگر ذاتی طور پر نہایت
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
75
۷۵
شریف آدمی تھا۔
22-6-70 بروز سوموار
رات بھر سفر جاری رہا اور تقریباً 12 گھنٹے کے سفر کے بعد ہم صبح 9 بجے تبریز پہنچ گئے۔ در اصل ایران کے بڑے بڑے شہروں کے نام ہم نے تاریخ اور جغرافیہ کی کتابوں میں پڑھے ہوئے تھے ۔ جب ان شہروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی ، تبریز بہت بڑا خوبصورت اور صاف ستھرا شہر ہے۔
تبریز شمال مغربی ایران کا سب سے بڑا شہر ہے اور مشرقی آذربائیجان کے صوبے کا دارالحکومت ہے۔ اسکی آبادی ۲۰۰۰ کی مردم شماری کے مطابق کوئی ڈیڑھ ملین کے قریب ہے۔ اس شہر کی بنیاد کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہ جا سکتی۔
کچھ تاریخی کتب کے مطابق اسکی بنیاد ساسانی عہد میں پڑی تھی اور کچھ اس سے بھی قبل بتاتے ہیں۔ ایک برطانوی محقق کا کہنا ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ جب بابل کے باغات اسی تبریز میں تھے۔
تیسری صدی میں یہ آرمینیا کا دارالحکومت تھا اور ۱۰۵۴ میں اسکی دوبارہ دریافت ہوئی جبکہ ۱۲۹۵ میں چنگیز خان نے اسے اپنا انتظامی مرکز بنایا اور ۱۴ ویں صدی میں تیمور نے اس پر قبضہ کر لیا۔
تبریز میں زیادہ تر آذر بائیجانی زبان بولی جاتی ہے جو ترک زبان کی ایک شاخ ہے۔ اصفحان کی طرح تبریز کے قالین بھی منفرد ہیں اور جبکہ اسکی ثقافت اور تہذیب ایرانی اور آذربائیجانی ملی جلی ہے۔
تبریز میں دوپہر کا کھانا ایک ہوٹل سے کھایا اور اسی دن ہم TBT بس کے ذریعے بازرگان کے لئے روانہ ہو گئے۔ تبریز سے بازرگان تک فی کس 150 ریال کرایہ لگا صبح 9:45 پر بس روانہ ہوئی ، اور تقریباً 2 بجے بعد دوپہر ہم بازرگان پہنچ گئے۔
بازرگان ایران اور ترکی کا سرحدی شہر ہے ، یہاں پر ایران اور ترکی امیگریشن کے دفتر ایک بڑے ہال میں واقع ہیں۔ پہلے ہم نے ایران کے کاؤنٹر پر سامان اور پاسپورٹ چیک کروائے اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
76
۷۶
پھر ساتھ دوسری طرف ترک پولیس اور کسٹم حکام نے سامان چیک کیا۔
یہاں سے ہم سہ پہر میں 3:30 بجے فارغ ہوئے اور بینک سے ترک کرنسی یعنی ”لیرے“ حاصل کئے اور بس پر سوار ہو کر ہم ارضِ روم روانہ ہو گئے۔ بارڈر کے شہر بازرگان سے ارضِ روم فی کس 35 ”لیرے“ کرایہ صرف ہوا۔
راستہ میں ترکی کا ایک شہر ”اگر لی“ بھی آیا اور پھر ہم رات دس بجے ارضِ روم پہنچ گئے۔ یہ سفر بہت آرام سے گزرا ، راستہ میں میری طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور قے آنی شروع ہو گئی لیکن خدا کے فضل سے جلد ہی طبیعت سنبھل گئی جب ہم ارضِ روم پہنچے تو بارش ہو رہی تھی رات کافی سرد تھی ہم بھیگتے ہوئے کسی ہوٹل کی تلاش میں سامان کندھوں پر اٹھائے سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔
راستے میں جو بھی ترک باشندہ ملا اس سے کسی ہوٹل کا دریافت کیا لیکن ہمارا حال یہ تھا کہ ”زبانِ یار من ترکی و من ترکی نمی دانم“۔ عجیب قوم ہے اور اپنی ترک زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کا ایک لفظ نہیں بول سکتے۔
آخر ہمیں ایک ہوٹل نظر آگیا اور ایسی حالت میں اس وقت کون سٹینڈرڈ دیکھ رہا تھا۔ ہم دروازہ کھول کر دھڑام سے اندر جا گھسے۔ اب جو نظر دوڑائی تو ہوٹل کا بڑا ہال آدمیوں سے بھرا ہوا اور پورا سگریٹوں کا دھواں اور ایسے میں یوں لگتا تھا کہ کہیں آگ لگی ہوئی ہے۔ ہم سیدھے کاؤنٹر پر گئے اور کمرے کے بارے دریافت کیا خوش قسمتی سے آدمی نے ہاں کر دی اور ہم چھ آدمیوں نے دو کمرے فی بیڈ کرایہ چار ’لیرے‘ ادا کیا۔
ترکی کے شہر ارضِ روم میں وقفے وقفے کے بعد بارش ہوتی رہتی ہے، سردی کافی تھا۔ ہم نے سن رکھا تھا کہ ترکی میں مسافروں کو لوٹ بھی لیا جاتا ہے لہٰذا اسی فکر میں سوتے جاگتے ساری رات بسر کی۔ ترکی اور پاکستان کے وقت کا تین گھنٹے کا فرق ہے۔ ہم اب بہت تھک چکے تھے اس لیئے جلد سونے میں ہی عافیت سمجھی اور کچی بات تو یہ کہ لیٹتے ہی نیند بھی آگئی۔
23-06-70 بروز منگل
اگلی صبح ہم سب دوست بہت جلدی جاگ گئے ہوٹل میں نہانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
77
۷۷
معلوم ہوا کہ یہاں غسل کا طریقہ اپنے وطن عزیز والا نہیں اور کیونکہ ترکی میں زیادہ تر لوگ حماموں میں غسل کرتے ہیں اس ہم نے بھی قریبی حمام میں جا کر غسل کیا۔
ترکی کے حماموں میں جب پانی سے غسل کر لیا جاتا ہے تو گاہک کو ایک گرم بھاپ کے کمرہ میں بٹھا کر اسکے گرد بڑا سا تولیہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ گرم بھاپ کی وجہ سے پسینہ آ جاتا ہے اور جسم ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے اور ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔
ہمارے لئے یہ سسٹم نیا تھا اس لیئے بہت لطف آیا اور اچھا بھی لگا ، غسل کے بعد ہم سب نے مل کر ناشتہ کیا اور پھر ریلوے اسٹیشن پر چلے گئے تا کہ ٹرین کا ٹائم ٹیبل معلوم کیا جائے۔ اسٹیشن پہنچنے پر معلوم ہوا کہ قاہرہ ، استنبول کیلئے ٹرین رات 9:00 بجے روانہ ہوگی۔
ہمارے لئے ایک ایک لمحہ قیمتی تھا ہم خواہ مخواہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ، ویسے بھی پتہ چلا کہ ٹرین استنبول پہنچنے کیلئے تین دن اور تین راتیں لے گی اور کرایہ 61 لیرے ہے۔
پھر ہم بس اسٹینڈ پر آئے اور بس کی ٹکٹیں بک کرالیں کرایہ فی کس 70 لیرے تھا۔
واپس ہوٹل میں آئے اور سامان لیکر واپس بس اسٹینڈ پر پہنچے ، سامان بس پر لوڈ کیا اور خود کھانا کھانے کیلئے ہوٹل میں چلے گئے۔ ارضِ روم سے ہماری بس 12:30 دوپہر کے وقت روانہ ہوئی راستہ ناہموار اور پہاڑی تھا ، راستہ میں بڑے بڑے پہاڑ آئے ، کئی شہر آئے لیکن کیونکہ رات ہو چکی تھی باہر کا نظارہ نہ کر سکے اور اسی طرح ساری رات بس رواں دواں رہی۔
کسی نہ کسی طرح رات بسر ہو گئی اور ایک نئی دن کا سورج نمودار ہونے سے پہلے شفق کی سرخی نے سورج کے طلوع ہونے کی خبر دی۔
اب ہم انقرہ پہنچنے والے تھے۔ لیکن آئیے ذرا یہاں تھوڑی دیر کورکتے ہیں اور کچھ ذکر ترکی کی تاریخ کا بھی کرتے چلتے ہیں۔
”ترکی یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک پل ہے اور اسی باعث ترکی کا ایک حصہ یورپ میں اور زیادہ تر حصہ ایشیا میں ہے اسی لیئے اسے یوریشیائی ملک کہا جاتا ہے۔
ترکی کا لفظ دراصل دو مختلف الفاظ سے مل کر بنا ہے جس میں تُرک کا مطلب ہے ”نہایت مضبوط“ اور ای کا مطلب ہے ”مالک“۔ یعنی نہایت مضبوط جسم و جان کے مالک اور اس سے مراد ترک لوگ ہیں۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
78
۷۸
ترکی کی سرحدیں ۸ ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ ، مغرب میں یونان ، شمال مشرق میں جارجیا، مشرق میں آرمینیا، ایران اور ناکے چیوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام کی سرحدیں ہیں۔
ترکی کی قدیم تاریخ ایک الگ موضوع ہے لیکن اتنا بتاتا چلوں کہ یہاں ۱۲۹۹ میں سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی جس کے بعد اپریل ۱۹۲۰ میں پارلیمان قائم کی گئی جس کے نتیجے میں ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۳ میں اسے جمہوریہ قرار دیا گیا اور مصطفیٰ کمال اتاترک اسکے بانی اور پہلے صدر بنے۔
۱۹۲۸ میں ترکی کو سیکولر قرار دے دیا گیا اور آئین میں سے ریاست کا مذہب اسلام کی شق ختم کر دی گئی۔ صدر اتاترک ۱۸۸۱ میں پیدا ہوئے تھے اور انکا انتقال ۱۹۳۸ میں ہوا جس کے بعد انکی جگہ عصمت انونو نے لی۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران عمومی طور پر ترکی غیر جانبدار تھا لیکن اس نے جاپان اور جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا لیکن باقاعدہ جنگ میں حصہ نہیں لیا۔
۱۹۵۰ میں جمہوریہ ترکی کے پہلے عام انتخابات ہوئے جو حزبِ مخالف کی ڈیموکریٹک پارٹی نے جیتے اور ۱۹۶۰ میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے بعد ۱۹۶۱ میں نیا آئین بنایا گیا جسکے تحت دو ایوانی پارلیمان بنایا گیا۔
۱۹۶۵ میں سلمان دیمرل ملک کے وزیر اعظم بنے اور وہ سات سال تک اس منصب پر فائز رہے تا آنکہ ۱۹۷۱ میں فوج نے انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ۱۹۷۶ میں ترکی میں شدید زلزلے سے ۵ ہزار لوگ لقمہ اجل بنے۔ ۱۹۸۰ میں ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا اور ۸۲ میں ایک مرتبہ پھر نیا آئین بنا جس کے بعد مدت صدارت سات سال ہو گئی اور پارلیمان ایک ایوانی ہو گیا۔
۱۹۸۳ میں ہونے والے عام انتخابات مدر لینڈ پارٹی نے جیتے اور ترگت اوزال وزیرِ اعظم بنے۔ ۱۹۸۷ میں ترکی نے یورپی یونین کی رکنیت کی درخواست دی اور ۹۳ کے انتخابات میں تانسو چیلر ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں اور سلمان دیمرل ملک کے صدر منتخب ہو گئے۔ ۱۹۹۵ میں تانسو چیلر کی حکومت ختم ہوئی جس کے بعد ۹۶ میں نجم الدین اربکان وزیر اعظم بنے۔ انکی حکومت بھی دیر تک نہ چل سکی اور ۱۹۹۷ میں مسعود یلماز نے ایک نئے اتحاد کے سربراہ کے طور پر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
79
۷۹
وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا۔ ۱۹۹۹ میں ازمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں ۱۷ ہزار افراد مارے گئے۔ ۲۰۰۰ میں سلمان دیمرل کی جگہ احمد نجد سیزر ملک کے صدر بن گئے۔ ۲۰۰۳ میں عبداللہ گل نے وزارتِ عظمیٰ کو چھوڑا اور انکی جگہ رجب طیب اردگان نے یہ قلمدان سنبھالا اور تادمِ تحریر وہ اسی منصب پر فائز ہیں۔
ترکی میں سیر و سیاحت کے لیئے بے شمار مقامات ہیں۔ ملک کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ”کوہ ارارات“ ہے جو لگ بھگ ۱۷ ہزار فٹ بلند ہے اور اسی پہاڑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی پہاڑ پر لنگر انداز ہوئی تھی“۔
آئیے ایک مرتبہ پھر اپنے سفر کی داستان کی طرف چلیں۔
24-06-70 بروز بدھ
اگلی صبح ہماری بس 6 بجے انقرہ پہنچی ، انقرہ ترکی کا دارالخلافہ ہے اور بہت بڑا اور نہایت خوبصورت شہر پہاڑوں پر واقع ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارا اسلام آباد۔ ہمارے پاس گھومنے پھرنے کا زیادہ وقت نہیں تھا۔ کیونکہ ہم نے انقرہ سے ایک دوسری بس پر سوار ہونا تھا۔ ہم نے سامان دوسری بس پر شفٹ کیا ، سات بجے صبح بس استنبول کیلئے روانہ ہوگئی ، بس راستہ میں سواریاں لیتی اور اتارتی ہوئی تین بجے نئے استنبول پہنچی۔
استنبول ترکی میں آبنائے باسفورس کا تاریخی اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ صوبے کا نام بھی استنبول ہے اور شہر کا بھی۔ یوں تو سارا ترکی اپنی ثقافت اور روایات کی وجہ سے منفرد ملک ہے لیکن استنبول اس ضمن میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔
۶۶۷ قبل مسیح میں یہاں بازنطینی آباد ہوئے تھے اور یہی ترکی کا قدیم دارالحکومت تھا اور بعد میں جب ۱۹۲۳ میں ترکی جمہوریہ قرار پایا تو دارالحکومت استنبول کی بجائے انقرہ کو بنایا گیا۔
بس نے ہمیں استنبول میں جہاں اتارا تھا وہ نئے استنبول کا حصہ تھا وہاں قریب ہی آگے سمندر ہے جس کو شاید بحیرہ احمر کہتے ہیں۔ بس ایک بحری جہاز میں سواریوں سمیت چلی گئی اور ہم بس سے اتر کر جہاز کے عرشے پر آگئے اور سمندر کا نظارہ کرنے لگے۔ سمندر پار کر کے ہم پرانے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
80
۸۰
استنبول پہنچ گئے۔ استنبول شہر دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک حصہ جو نیا استنبول کہلاتا ہے ایشیاء میں واقع ہے اور دوسرا حصہ یعنی پرانا استنبول یورپ میں ہے۔
ہم ساڑھے چار بجے پرانے استنبول پہنچ گئے۔ سامان اتارا اور شہر میں ایک ہوٹل جس کا نام یاد نہیں رہا ہم نے فی بیڈ 6 لیرے کرایہ ادا کیا اور رات وہی بسر کی۔
25-06-70 بروز جمعرات
پرانے استنبول میں رات گزاری اور اگلی صبح ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ہم چھ کے چھ ساتھی بذریعہ بس بلغاریہ کے سفارتخانے میں گئے کیونکہ بلغاریہ کے ملک سے ویزہ کے بغیر گزرنا مشکل تھا۔ سفارتخانے سے بلغاریہ کا ویزہ حاصل کیا۔
سفارتخانہ بلغاریہ سے فارغ ہوئے تو مشورہ کیا کہ کیوں نہ استنبول ریلوے اسٹیشن پر جا کر ہیمبرگ (جرمنی) جانے والی ٹرین کا ٹائم ٹیبل معلوم کیا جائے۔ جب سفارتخانہ سے باہر آئے تو یہ معلوم کرنے کیلئے کہ ریلوے اسٹیشن تک کونسی بس جاتی ہے سڑک پر کھڑے ہو گئے۔
جس ترک مرد یا عورت سے دریافت کیا سب کندھے اچکا کر گزر جاتے اور کوئی جواب نہ ملتا۔ ہم ساتھی کافی دیر کھڑے رہے لیکن کسی نے ہمیں ریلوے اسٹیشن کا راستہ نہ بتایا۔۔
آخر ہمارے ساتھی محمد اعظم کے دماغ میں ایک ترکیب آئی اور اس نے ہم سب کو کہا کہ ایک قطار میں ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ اتنے میں ایک ترک آیا اس کو کہا کہ ایک منٹ یہاں پر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھو۔ اعظم قطار کے آگے کھڑے ہو کر آواز نکالتا ہے جیسے انجن سیٹی بجاتا ہے۔ ہم سب نے پیچھے سے چھک چھک کر کے آگے چلنا شروع کر دیا تو وہ ترک آدمی جو پاس کھڑا دیکھ رہا تھا، کھل کھلا کر ہنس پڑا۔ اس نے کہا کہ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ تم لوگوں نے کہاں جانا ہے۔ وہ ہمیں ریلوے اسٹیشن جانے والی ایک بس کے سٹاپ پر لے آیا کہ جب یہاں پر بس آئے تو اس پر سوار ہو جانا وہ تمہیں ریلوے اسٹیشن لے جائیگی۔
تو اس طرح سے ہم اسٹیشن تک پہنچے۔ معلوم ہوا کہ جہاں دوسری کوئی زبان کام نہ آئے تو وہاں اشاروں کی انٹرنیشنل زبان استعمال کی جاتی ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
81
۸۱
استنبول اسٹیشن پر آکر ہمبرگ جانے والی ٹرین کا وقت دریافت کیا، اس کے بعد ہم بنک استنبول گئے وہاں سے ڈالر دے کر لیرے حاصل کئے 50 امریکن ڈالر کے 450 ٹرکش لیرے ملے یعنی فی ڈالر 9 لیرے۔ ترکی میں ٹرین پر سفر کرنے کیلئے کرنسی بنک سے لینی پڑتی ہے۔ واپس ہوٹل جاتے ہوئے بازار میں دیکھا تو ایک دکان پر لسی اور پراٹھے تیار ہوتے دیکھے تو سب نے کہا کہ لسی اور پراٹھوں کے ساتھ ناشتہ کیا جائے۔ وہاں سے فارغ ہو کر ہم ہوٹل پہنچے اور اپنا سامان لیکر واپس ریلوے اسٹیشن پر آگئے۔ اسٹیشن پر ہمارے سامان اور پاسپورٹوں کی چھان بین ہوئی اور پھر پانچ بجے شام انٹر نیشنل ٹرین استنبول سے ہمبرگ کیلئے روانہ ہوگئی۔
استنبول سے روانہ ہوتے وقت ہمارا خیال تھا کہ راستے میں پاکستان کی طرح ہر اسٹیشن سے کھانے پینے کی چیزیں مل جائیں گی ، اس لئے ہم نے اپنے ساتھ نہ ہی کوئی خوراک لی اور نہ ہی پانی وغیرہ یہاں تک کہ سگریٹ بھی نہ خریدے کہ راستہ میں سب کچھ مل جائے گا۔
ٹرین جب روانہ ہوئی تو راستے میں ہی ایک جگہ ترکی سے اخراج کا ویزہ لگا اور پھر ہماری ٹرین بلغاریہ کی حدود میں داخل ہوگئی تو بلغارین پولیس ٹرین میں آگئی۔ ہمارے ٹکٹ اور پاسپورٹ چیک کئے اور بلغاریہ میں داخلہ کی مہر لگا دی۔ تمام رات گاڑی چلتی رہی۔
جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے پاس کھانے وغیرہ کی کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھی۔ جس کمپارٹمنٹ میں ہم بیٹھے ہوئے تھے اس میں ترک جوان آدمی بھی سفر کر رہا تھا اس کے پاس ایک بڑے سے بیگ میں بہت سی ”اک مک“ یعنی ڈبل روٹی ، ٹماٹر ، ہری مرچیں ، اور پانی وغیرہ بھی تھا۔
سفر کے آغاز میں ہمارے پاس جو کچھ تھوڑا بہت تھا وہ ہم نے مل کر کھا لیا اور پھر کسی اسٹیشن پر ٹرین رکنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن ٹرین ہے کہ چلتی ہی چلی جا رہی ہے۔ جب ٹرین بلغاریہ بھی کراس کر گئی تو پھر ہماری آنکھیں کھلیں کہ ہم سے غلطی ہو چکی ہے اور ہم نے کسی سے سفر کے بارے میں نہ پوچھ کر سخت غلطی کی ہے۔ وہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ وہ شریف النفس ترک جوان ہمارے ڈبہ میں سفر کر رہا تھا۔ جب کھانا کھانے لگتا تو وہ ہمیں بھی دعوت دیتا۔ شاید وہ بھانپ گیا تھا کہ یہ سیاح بھوکے ہیں۔ ہم نے بھی ہرگز کوئی تکلف نہ کیا اور ہر بار اس کی دعوت کو مشیت ایزدی سمجھ کر قبول کرتے رہے۔ آخر ٹرین بلغاریہ سے نکل کر یوگوسلاویہ کی حدود میں داخل ہوگئی۔ بلغاریہ کا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
82
۸۲
پورا علاقہ بہت زرخیز ہے اور زیادہ علاقہ میدانی ہے۔
بلغاریہ کے بارے میں اتنا بتاتا چلوں کہ ۱۹۰۸ میں ترک بغاوت کے کچھ عرصے بعد ہی بلغاریہ نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ آسٹریا نے بوسنیا ہرزیگووینا کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ Crete نے یونان کے ساتھ اتحاد کر لیا بلقان نے جنگ کا اعلان کر دیا اور البانیہ اور مونٹی نیگرو کا قیام عمل میں آیا جبکہ سربیا اور رومانیہ نے اپنی حدود میں اضافہ کیا۔
26-06-70 بروز جمعہ
بلغاریہ سے نکل کر ٹرین صبح 8:00 بجے یوگوسلاویہ میں داخل ہو گئی۔ یوگوسلاویہ کا نام آتے ہی مارشل ٹیٹو کا چہرہ ذہن میں گھوم جاتا ہے۔
”مارشل ٹیٹو ۱۸۹۲ میں پیدا ہوئے تھے اور ۱۹۸۰ میں انکا انتقال ہوا تھا۔ یوگوسلاویہ کے سیاسی لیڈر مارشل ٹیٹو نے بارہ سال کی عمر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور کھیتوں میں مزدوری کرنے لگے۔ اس کے بعد ایک ہوٹل میں برتن دھونے کا کام مل گیا۔ پھر فوج میں بھرتی ہونے گئے اور ترقی کرتے کرتے سارجنٹ میجر کے عہدے تک پہنچے۔
انقلابِ روس سے متاثر ہو کر وگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اسی بنا پر 1930ء میں چھ سال کے لیے قید ہوئے۔ رہائی پر سپین کی خانہ جنگی میں جمہوریت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑے۔ 1941ء میں جرمنی نے یوگوسلاویہ پر قبضہ کر لیا تو ٹیٹو نے ”قومی محاذ آزادی“ کے نام سے ایک خفیہ سیاسی جماعت قائم کی اور چھاپے مارے۔ فوج بنا کر نازیوں کا مقابلہ کیا۔ 1945ء میں جرمنی کی شکست کے بعد یوگوسلاویہ آزاد ہوا تو ملک میں جمہوریت قائم کر دی گئی۔ اور مارشل ٹیٹو نئی حکومت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ 1953ء کے انتخابات میں یوگوسلاویہ کے صدر منتخب ہوئے اور 1974ء میں تاحیات صدر بنا دیے گئے۔ مارشل ٹیٹو کا ایک بہت بڑا کارنامہ ”غیر وابستہ ممالک کی تنظیم“ کا قیام عمل میں لانا تھا۔
ہم جس جس طرف سے گزرے سبزہ اور ہریالی ہمارے ساتھ تھی شاید اس لیئے کہ یوگو سلاویہ کا علاقہ نہایت زرخیز ہے ، اور یہاں پر گندم اور مکئی کی فصل عام ہے۔ جہاں تک ہماری نظر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
83
۸۳
پڑتی ہے پورا علاقہ میدانی ہے۔
گاڑی تھی کہ چلتی چلے جا رہی تھی اور پھر سارا دن اور رات چلنے کے بعد گاڑی آسٹریا میں داخل ہوئی یوگوسلاویہ میں کسی نے بھی ہمارے پاسپورٹ یا ٹکٹ چیک نہیں کئے۔
27-06-70 بروز ہفتہ
گاڑی شمالی یورپ کے ملک آسٹریا میں داخل ہوئی ، چھوٹا سا ملک ہے ، اونچے اونچے پہاڑ ہیں مگر زیادہ خراب علاقہ نہیں ہے پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سے بہت سے دل کش نظارے دیکھنے کو ملے۔
آسٹریا کا ذکر ہم اپنی نصابی کتابوں میں پڑھ چکے تھے لیکن اس ملک کو دیکھ پہلی مرتبہ رہے تھے۔ یہ وہی آسٹریا ہے جس کا نام پہلی جنگ عظیم شروع ہونے کی وجوہات کے سلسلے میں آتا ہے اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ۲۸ جولائی ۱۹۱۴ عیسوی کو پہلی عالمی جنگ سے قبل آسٹریا کی بادشاہت نے سربیہ میں اپنے ولیعہد کے قتل کے بہانے سربیہ کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ لیکن اس اعلان جنگ کی اصل وجہ سربیہ کے عوام کی طرف سے اپنے ملک کے داخلی امور میں آسٹریا کی مداخلت اور آسٹریا کے خلاف ان کی بغاوت تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی آسٹریا اور سلطنت عثمانیہ ایک محاذ پر تھے جبکہ روس، فرانس، برطانیہ اور سربیہ نے ان کے خلاف اتحاد بنا رکھا تھا۔
اب تک کے سفر کی ایک اہم بات بتاتا چلوں وہ یہ کہ ہم نے سن رکھا تھا، کہ جرمن پولیس بہت سخت ہے اور وہ پاسپورٹ کے ساتھ کرنسی بھی چیک کرتی ہے اور بہت سے الٹے سیدھے سوالات بھی کرتی ہے۔ اگر انسان ان سے بچ کر نکل جاتے ہیں تو پھر جہاں مرضی ہے گھومو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
لہٰذا ابھی ہم آسٹریا کی حدود میں ہی تھے تو ہمارے رنگ فق ہونا شروع ہو گئے لیکن ایک بات تھی جو ہمیں تقویت دیتی تھی۔ وہ یہ کہ ہمارے پاس پولیس کو دکھانے کیلئے کرنسی تھی۔ پھر بھی ہم نے ٹرین میں جو جو قرآن پاک کی سورتیں یاد تھیں پڑھنی شروع کر دیں۔ کبھی نعتیں پڑھنے لگتے اور کبھی مختلف دعاؤں کا ورد شروع ہو جاتا۔ قصہ کو تاہ ہم بہت ڈرے ہوئے تھے کہ نہ معلوم کس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
84
۸۴
مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور کبھی کبھی یہ خیال بھی ذہن میں آتا تھا کہ کہیں پولیس یہاں سے ہی واپس نہ بھیج دے۔
ہم تمام ساتھیوں میں جو آدمی زیادہ پریشان تھا وہ تھا خیر دین کیونکہ اس کے پاس کرنسی نہیں تھی یعنی کہ بقول اس کے میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں اور وہ رونے لگا کہ میرا کیا بنے گا۔ اس کے دونوں ساتھی محمد اعظم اور شیخ محبوب اب اس سے آنکھیں چرا رہے تھے اور وہ کہتے کہ ہمارے پاس اپنے لئے زیادہ پیسے نہیں ہیں ہم اس کی مدد کیسے کریں۔ میں نے خیر دین کو کہا کہ تم فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ کچھ نہ کچھ سبب پیدا کرے گا۔
ٹرین چلتے چلتے تقریباً 6 بجے صبح جرمنی کی حدود میں داخل ہو گئی، پہلے اسٹیشن پر ہی پولیس گاڑی میں گھس آئی۔ اور انہوں نے پاسپورٹ اور کرنسی چیک کرنی شروع کر دی۔ سب سے پہلے ہم تینوں دوستوں نے اپنے اپنے پاسپورٹ اور کرنسی چیک کروائی جس پر وہ مطمئن ہو گئے۔
اب میں نے پیچھے ہٹ کر اپنے پیسے خیر دین کو ہاتھ میں تھما دیئے اور جب اس کی باری آئی تو اس نے بھی پیسے آگے کر دیئے۔ وہ اوکے اوکے کرتے دوسرے ڈبے میں چلے گئے تو ہم سب کی جان میں جان آئی۔
اب یہ مصیبت ٹل جانے کے بعد خیر دین بہت خوش تھا اور تشکر بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس کو کہا کہ خیر دین آپ بھی ہمارے بھائی ہیں جب تک ہمارا ساتھ رہے گا تمھارے ساتھ پورا پورا تعاون کریں گے۔ آخر گاڑی 10 بجے جرمنی کے شہر میونچن (میونخ) پہنچ گئی۔
”میونخ جرمنی کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور جرمنی کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ جرمنی وسط یورپ میں واقع ملک ہے جس کا سرکاری نام وفاقی جمہوریہ جرمنی ہے۔ اسے انگریزی زبان میں جرمنی ، جرمن زبان میں ڈوئچ لائڈ اور عربی زبان میں المانیہ کہا جاتا ہے۔ اس کی قومی زبان جرمن ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ اس کے شمال میں بحر شمالی، ڈنمارک اور بحر بالٹک واقع ہیں ، مشرق میں پولینڈ اور جمہوریہ چیک ، جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ ، اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجیم اور نیدرلینڈ واقع ہیں۔
جرمنی اقوام متحدہ، نیٹو اور جی۔ ایٹ کا ممبر ہے۔ یہ یورپی یونین کا اساسی ممبر اور یورپ کا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
85
۸۵
سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معاشیات رکھنے والا ملک ہے۔ آبادی کے لحاظ سے میونخ برلن اور ہمبرگ کے بعد تیسرا شہر ہے جس کے بعد کولون اور فرینکفرٹ کا نمبر آتا ہے۔
میونخ سے ہم نے دو گھنٹے بعد ہمبرگ جانے والی گاڑی پکڑنی تھی۔ سامان اتارا اور اسٹیشن پر ایک جگہ رکھا تین دن کے بھوکے اور پیاسے تھے۔ اگر ہمارے کمپارٹمنٹ میں وہ ترک جوان نہ ہوتا تو شاید معلوم نہیں ہمارا کیا حشر ہوتا۔
میونخ اسٹیشن پر دیکھا تو ایک ”گرل بار“ میں مرغیاں روسٹ ہو رہی ہیں۔ میں نے نعرہ لگایا کہ ”مرغی“ اور یہ نعرہ لگاتے ہی میں گرل بار کی طرف دوڑ پڑا اور مرغیاں خرید لایا۔ ہمارے دوسرے تینوں ساتھی کہیں دوسری طرف نکل گئے تھے ، ہم تینوں نے خوب سیر ہو کر مرغیاں تناول کیں اور ایک ایک بوتل سوڈا واٹر پی تو جان میں جان آئی ورنہ کمزوری اس قدر ہو چکی تھی کہ اپنا سوٹ کیس بھی نہیں اٹھایا جاتا تھا۔ جب ذرا پیٹ بھر گیا اور ہوش آیا تو میں نے کہا یار جو مرغیاں ہم کھا چکے ہیں کہیں حرام ہی نہ ہوں کیونکہ جرمنی کوئی مسلم ملک تو ہے نہیں تو پھر یہاں کون حلال کرے گا۔ یہ سن کر سب پریشان ہو گئے کہ ہمارے اندر حرام خوراک جا چکی ہے لیکن دل کو تسلی دی کہ بھوک میں سب کچھ جائز ہے۔ ”کھاؤ“
جب ہم ترکی سے چلے تھے تو راستہ میں جب پیاس لگتی تو ہم پانی پینے کیلئے پیشاب کے بہانے بیت الخلا میں چلے جاتے وہاں سے بے ذائقہ سا چند گھونٹ پانی پی لیتے۔
دن کے تقریباً 12 بجے میونخ سے گاڑی ہمبرگ کیلئے روانہ ہوئی تو 8:45 بجے شام ہم ہمبرگ پہنچ گئے۔ سامان اٹھا کر اسٹیشن سے باہر آئے اور بالٹک ہوٹل میں کمرہ کرایہ پر حاصل کر لیا۔
28-6-70 بروز اتوار
بالٹک ہوٹل میں کمرہ لینے کے بعد ہم باہر گھومنے کیلئے نکل پڑے ، اچانک میری ملاقات صوفی محبوب الہی آف موہڑی شریف سے ہو گئی جن کے ساتھ موہڑی شریف کے راجہ محمد زبیر بھی تھے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
86
۸۶
محبوب الہی کو میں تب سے جانتا ہوں جب میں کھاریاں میں واپڈا میں سروس کرتا تھا۔ وہ مجھے اور میں اسے دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی کہ ہماری ملاقات پردیس میں کہاں پر ہوئی ہے۔ وہ دونوں محبوب اور زبیر ہمارے ساتھ ہمارے ہوٹل میں آئے اور ہمیں انہوں نے اپنا ایڈریس بھی لکھ کر دے دیا جو ہماری رہائش سے زیادہ دور نہیں تھا۔
ہم نے انہیں بتایا کہ میں اور انور کوپن ہیگن ڈنمارک جا رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ بہتر ہے آپ ٹرین کی بجائے ہوائی جہاز پر جائیں۔ ہم نے کہا کہ چلو ایسا ہی کر لیتے ہیں۔
اگلی صبح پروگرام کے مطابق وہ ہمارے ہوٹل میں آگئے۔ اور مجھے اور انور کو، محبوب، زبیر اور زمان جہاز پر بٹھانے کیلئے ایئر پورٹ پر آئے۔ ٹکٹ ہم نے سٹاک ہالم (سویڈن) جانے کیلئے لی اور راستہ میں کوپن ہیگن ایک دن کا ٹھہر نا رکھوا لیا تا کہ جب ہم اتریں تو کہیں ہم تو سٹاک ہالم جا رہے ہیں صرف ایک دن یہاں رہ کر ٹو الی دیکھنی ہے،
لہٰذا ہم SAS کی فلائٹ سے سٹاک ہالم کیلئے شام 8 بجے روانہ ہوئے، ہمبرگ سے سٹاک ہالم فی کس کرایہ -/244 مارک صرف ہوا اور رات 9.45 پر ہم کوپن ہیگن ایئر پورٹ پر اترے، یاد رہے کہ محمد زمان ہمبرگ سے براہِ راست ناروے چلا گیا تھا اور وہ آج بھی اوسلو (ناروے) میں رہائش پذیر ہے۔
جہاز سے اتر کر ہم امیگریشن سٹاف کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے چند ایک سوال کئے کہ یہاں کیوں آئے ہو وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے بتایا کہ ہم سٹاک ہالم جانا چاہتے ہیں صرف ایک دن ہی یہاں رکیں گے اور ٹوالی وغیرہ دیکھیں گے۔ امیگریشن آفیسر نے ہمارے پاسپورٹوں پر ٹورسٹ کی مہر لگا دی۔ ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ پاسپورٹ پر اگر ٹورسٹ کی مہر لگ جائے تو کسی فیکٹری سے کام کا لیٹر نہیں ملتا ہم نے کہا کہ جو ہو گا دیکھا جائیگا۔
ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو ایک SAS کی بس میں سوار ہو گئے جو ڈائریکٹ کوپن ہیگن ریلوے اسٹیشن پر آتی ہے۔ ایئر پورٹ میں ایک بنک سے ہم دونوں نے کرنسی تبدیل کرائی۔ جب بس پر سوار ہو کر آدھا راستہ ہی طے کیا تھا تو انور نے کہا کہ میں اپنا پرس شاید بنک میں بھول آیا ہوں۔ پرس میں ایک سو پونڈ اور کچھ دوسری رقم تھی۔ بس ڈرائیور کو کہا کہ ہمیں یہیں اتار دیں لیکن اس نے کہا کہ بس اسٹیشن سے پہلے نہیں رک سکتی لہٰذا ہم دونوں اسٹیشن سے دوبارہ ٹیکسی لیکر ایئر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
87
۸۷
پورٹ پہنچے۔ جلدی جلدی بنک میں گئے لیکن بنک بند ہو چکا تھا۔ ہماری پریشانی مزید بڑھ گئی اسی اثناء میں ہمیں ایک پولیس کا سپاہی ملا۔ اس کو بتایا کہ اس طرح ہمارا بٹوہ بنک میں رہ گیا ہے تو اس نے پولیس اسٹیشن کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہاں چلے جائیں وہاں پر جو شخص بھی ڈیوٹی پر ہو اس کو سب کچھ بتائیں۔ ہم پولیس اسٹیشن پہنچے تو ان کو صورت حال سے آگاہ کیا انہوں نے ایک بٹوہ نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیا کہ یہ تو تمھارا نہیں ہے؟
ہم نے کہا کہ یہی ہے۔ ہم نے رقم بتائی تو انہوں نے دستخط لیکر بٹوہ ہمارے حوالے کر دیا۔ ہماری جان میں جان آئی۔ پولیس آفیسر نے بتایا کہ جولڑ کی بنک میں ڈیوٹی پر تھی جب اس نے بنک بند کیا تو تمھارا پرس یہاں چھوڑ گئی۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور اپنی پاکستان کی پولیس اور یہاں کی پولیس کا موازنہ کرنے لگے۔
1970 میں ایک سو پونڈ اور 50 مارک کی قیمت کا آج اندازہ لگایا جا سکتا ہے ہمارے ہاں تو کسی کو 10 روپے مل جائیں تو جیب میں ڈال کر چلتا بنے۔ ہم دوبارہ بس لیکر کوپن ہیگن اسٹیشن پر آگئے اور وہاں سے ہم مین پوسٹ آفس گئے اور ہمبرگ اپنے ساتھیوں کو فون کیا کہ ہم بخریت پہنچ چکے ہیں۔ اس وقت رات کے 12:30 بج چکے تھے پوسٹ آفس سے واپس ریلوے اسٹیشن پر آگئے، رات کا ایک بج چکا ہے ، ہوٹل میں کمرہ حاصل نہ کر سکے اس لیئے رات ریلوے اسٹیشن کوپن ہیگن پر گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔
ایک بجے کے کچھ دیر بعد ریلوے اسٹیشن لوگوں سے خالی کرا لیا گیا کیونکہ ان دنوں میں اسٹیشن کو رات کے وقت بند کر دیا جاتا تھا۔ ہمارے پاس کہیں جانے کی جگہ نہیں تھی لہٰذا میں اور انور بلڈنگ سے باہر نکل آئے۔
ہمارے پاس صرف ہینڈ بیگ تھے باہر دیکھا تو ایک ریسٹورنٹ کے باہر کرسیاں پڑی ہوئی تھیں، جون کا مہینہ تھا موسم بھی بہت اچھا تھا۔ میں نے انور کو کہا کہ آؤ ان کرسیوں پر سوتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ کہیں کوئی ہمارے بیگ ہی نہ لے اڑے۔ میں نے کہا دیکھا جائیگا۔
ہم نے چار چار کرسیاں جوڑیں اور جوتوں اور بیگ کو سرہانے رکھ کر لیٹ گئے۔ سچ کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ صبح اٹھے اور دیکھا کہ ہمارے بیگ سلامت ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اب ناشتہ کہاں کیا جائے۔ اسٹیشن کے سامنے سڑک کے دوسری طرف دیکھا تو ایک دکان پر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
88
۸۸
انڈوں، گوشت اور سلاد وغیرہ کے پیس پڑے تھے اور لوگ بیٹھے تناول کر رہے تھے۔ ہم نے بھی بریڈ کے دو دو ٹکڑے خریدے اور اندر ہی بیٹھ کر کھانے لگے۔
ابھی میں نے ایک چھوٹا سا نوالہ ہی منہ میں ڈالا تھا تو عجیب سی بد بو محسوس ہوئی، ۔ میں نے فوراً دکان میں موجود لڑکے کو بلایا اور پوچھا کہ اس پر گوشت کون سا ہے، اس نے بتایا کہ یہ pig (سور) کا گوشت ہے۔ بس پھر کیا تھا ہم نے سب کچھ وہیں چھوڑا اور قے کرتے باہر بھاگ گئے۔
لوگ ہماری طرف دیکھنے لگے کہ ان کو کیا ہوا ہے۔ وہاں سے ہم اسٹیشن کی دوسری طرف آئے جس کو اسٹیڈ گیڈ کہتے ہیں اس کے کونے میں ایک بیکری تھی ہم نے وہاں سے ایک ایک ڈبہ دودھ اور ایک ڈبل روٹی لی، اب ہم دیکھنے لگے کہ اس کو کس جگہ بیٹھ یا کھڑے ہو کر کھایا جائے، کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ اگر یہ لوگ ہمیں سڑک پر کھاتے پیتے دیکھیں گے تو کہیں گے کہاں سے جنگلی قسم کے لوگ آگئے ہیں جن کو کھانے پینے کی بھی تمیز نہیں ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ اس معاملہ میں یہ ہم سے بھی زیادہ جنگلی ہیں۔ ہم اسٹیشن کی سیڑھیوں کے نیچے کھڑے ہو گئے اور ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا کاٹتے اور دودھ کا گھونٹ پی لیتے اور آگے پیچھے دیکھ لیتے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ لوگ آ جا رہے تھے لیکن ہماری طرف کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا، بہر حال ہم بہت محتاط تھے۔
29-06-70 بروز سوموار
کوپن ہیگن اسٹیشن سے ہم کوپن ہیگن کے جنوب میں اک شہر ٹاسٹروپ بذریعہ ٹرین چلے گئے تاکہ کسی فیکٹری میں ورک پرمٹ حاصل کیا جائے۔ سارا دن فیکٹری فیکٹری گھومتے رہے لیکن کہیں سے امید کی کرن نظر نہ آئی اور آخر ہم تھک ہار کر واپس اسٹیشن پر آگئے۔
ہمارے پاس نسیم مہدی کا ایڈریس تھا نسیم مہدی ہمارے گاؤں کے ساتھ کے گاؤں موضع ساکہ کا رہنے والا ہے اور وہ 1969ء میں ڈنمارک آ گیا تھا۔ نسیم مہدی ہمارے گاؤں ناگڑیاں کے سکول میں ہمارے ساتھ پڑھتا رہا ہے گویا ہماری بہت اچھی جان پہچان تھی۔ ہم نے اس کو فون کیا تو اس نے ہمیں سمجھایا کہ کونسی ٹرین پر یہاں تک پہنچنا ہے ، لہٰذا ہم نے ٹرین لی اور فریڈرک ورکس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
89
۸۹
پہنچے
یہ اس ٹاؤن کا نام ہے جہاں نسیم مہدی لوہے کی مل میں کام کرتا ہے اور فیکٹری کے کوارٹروں میں در کر رہتے بھی تھے۔ ہم فریڈرک ورکس پہنچے تو نسیم مہدی ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوا خوب بغل گیر ہو کر ہم ملے۔
حال احوال معلوم کیا گیا ہم نہا دھو کر فریش ہو گئے اور بھی پاکستانی ہمیں ملنے کیلئے کمرہ میں آگئے خوب باتیں ہوتی رہیں وہ ہمیں اپنے یہاں تک پہنچنے کے حالات سے آگاہ کرتے رہے اور ہم اپنی تکالیف بیان کرتے رہے۔ باتوں باتوں میں وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا اور اس دن کافی عرصہ بعد ہم نے چپاتی اور سالن کھایا، بہت مزا آیا۔ تمام لڑکے کھانا خود ہی تیار کرتے تھے۔ دن سارا بس باتوں میں گزر گیا اور رات میں بھی دیر تک سفر اور علاقے کی باتیں ہوتی رہیں اور ڈنمارک میں بیٹھ کر گویا ہم دوبارہ سکول کے زمانے میں واپس چلے گئے تھے۔
30-6-70 بروز منگل
نسیم مہدی جس اسٹیل مل میں کام کرتا تھا ہم نے بھی صبح اٹھ کر وہاں قسمت آزمائی کی لیکن کام نہ مل سکا ، پھر نسیم مہدی نے ہمیں چوہدری سلطان کا پتہ دیا، چوہدری سلطان بھی ایک سال پہلے آیا ہوا تھا، اور ٹاسٹروپ میں اس نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا اور ہماری طرح کے بہت سے لوگ اس کے پاس رہتے تھے جن سے وہ واجبی سا کرایہ بھی وصول کرتا تھا۔ سب لوگ مل کر کھانا تیار کر لیتے تھے چوہدری سلطان تحصیل کے نواحی گاؤں موضع ملکوال کا رہنے والا ہے۔ اب تو ہماری طرح بوڑھا ہو چکا ہے اور اسکی پوری فیملی اور بچے یہاں پر ہی ہیں۔
ہم فریڈرک ورکس دوبارہ ٹرین لیکر کوپن ہیگن ہوتے ہوئے ٹاسٹروپ پہنچ گئے۔ ٹاسٹروپ اس کے مکان پر گئے تو بند پایا شاید وہ کام پر گئے ہوئے تھے ، وہاں سے ہم چوہدری محمد ریاض آف گلیانہ کے پاس چلے گئے۔ ریاض بھی ٹاسٹروپ کے علاقہ میں چوہدری میاں خان آف شکریلہ کے مکان میں رہتا تھا۔ محمد ریاض میرا پاکستان سے ہی اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہمارا رشتہ دار ہے۔ وہ ہمیں دیکھ کر اک دم اچھل پڑا کہ ہم لوگ یہاں کیسے آگئے وہ کہنے لگا کہ بھائی مجھے اپنی آنکھوں پر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
90
۹۰
یقین نہیں آرہا کہ آپ اتنی اچھی نوکری چھوڑ کر یہاں آجائیں گے۔
میں نے کہا ریاض دانہ پانی ہی یہاں لایا ہے لہٰذا وہ بہت خوش تھا ہماری خوب خاطر مدارت کی اور اس رات ہم اس کے پاس رہے۔ لوگ فرش پر سوتے تھے بیڈ وغیرہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ایک ایک کمرے میں دس دس لوگ پڑے ہوئے تھے۔ ریاض کا تذکرہ کسی موقع پر پھر آئے گا۔
1-7-70 بروز بدھ
صبح چوہدری ریاض سے رخصت ہو کر ہم لیٹر کی تلاش میں چل پڑے کیونکہ سب سے پہلے ہم نے کسی فیکٹری وغیرہ سے کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرنا تھا، وہ لیٹر لیکر ڈنمارک سے باہر جرمنی میں ڈینش سفارتخانے یا قونصلیٹ میں جمع کروانا تھا، پھر جب ڈنمارک سے ویزہ منظور ہو کر سفارت خانے میں جاتا تو پھر ہم ویزہ لیکر واپس آتے اور جس فیکٹری کا لیٹر دیا ہوتا وہاں آکر کام شروع کر دیتے۔
جو فیکٹری بھی نظر آتی وہاں جا کر ہم کام کیلئے پوچھتے لیکن ہر جگہ جواب نفی میں ہی ملتا۔ ٹاسٹروپ کام نہ بنا تو اس سے آگے دوسرے ٹاؤن Rødovre میں گئے۔ یہاں پر فیکٹری ایریا ہے۔ ایک ایک فیکٹری میں گئے لیکن کام نہ بنا۔ بھوک اور پیاس سے نڈھال ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے کہ ذرا ستالیں تو دوبارہ آگے بڑھیں۔ آخر تھک ہار کر شام 4 بجے پھر ٹاسٹروپ میں چوہدری سلطان کے ڈیرے پر چلے گئے اور رات اسی کے ہاں گزاری گئی۔
2-7-70 بروز جمعرات
آج ایک اور نئی صبح کا آغاز ہے اور قسمت آزمائی ہے۔ صبح سویرے خدا کا نام لے کر پھر کام کی تلاش میں چل پڑے۔ ٹاسٹروپ اسٹیشن کے پاس چند فیکٹریوں میں گئے مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ دور ایک فیکٹری نظر آئی تو میں نے کہا کہ وہاں پر کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں۔ انور کہنے لگا
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
91
۹۱
کوئی اجاڑ سی فیکٹری نظر آتی ہے کیا کریں گے جا کر۔ میں نے کہا چلو تو سہی کام نہ ملا تو نہ سہی۔ ہم چلتے چلاتے وہاں تک پہنچ گئے تو دفتر کا معلوم کیا اور اندر جا کر گڈ مارننگ کہا۔ دفتر میں صرف ایک ہی آدمی تھا۔ شاید وہ وہی آدمی تھا جسے ڈینش میں شیف کہتے ہیں۔
اس نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور ہماری طرف دیکھ کر کچھ حیران سا ہوا کہ یہ اجنبی سے لوگ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ کیا بات ہے۔ وہ تھوڑی بہت انگریزی جانتا تھا۔ میں نے کہا کہ ہمیں آپ کے ہاں جاب چاہیے تو اس نے کہا کہ اب تو ہم تین ہفتے کیلئے گرمیوں کی چھٹیاں کر رہے ہیں آپ چھٹیوں کے بعد آئیں۔
میں نے کہا کہ سر آپ صرف ہمیں کام کا لیٹر بنا دیں ہم یہ لیٹر لے کر جرمنی جائیں گئے وہاں پر یہ لیٹر سفارتخانہ میں جمع کروا دیں گے اور اتنی دیر میں آپکی چھٹیاں بھی ختم ہو جائیں گئی اور جب ہمارا ویزہ لگ جائے گا تو ہم آکر کام شروع کر دیں گئے۔
میری بات اس کی سمجھ میں آگئی اور وہ رضا مند ہو گیا اس نے ہمیں اپنی فرم (H-HØFMAN&SØNER) کے فورمین مائیکل ہینسن کے پاس بھیجا، جو ڈنمارک کے ساحلی شہر ہیلسنگور (Helsingør) میں کام کروا رہا تھا کیونکہ اگر اس کو ضرورت ہوتی اور وہ کام کیلئے ہاں کر دیتا تو ہمیں کام کیلئے لیٹر مل جاتا۔ ہم نے تو شکر کیا کہ امید کی کوئی کرن نظر آئی ہے ۔ ہم نے فوراً ٹرین لی اور ہیلسنگور کیلئے روانہ ہو گئے۔
جس فورمین سے ہم نے ملنا تھا اس کا نام مائیکل ہینسن تھا۔ ہم وہاں پہنچے تو مائیکل ہمارے ساتھ بہت خوش اخلاقی سے پیش آیا۔ مائیکل ہینسن بھی کچھ کچھ انگریزی بول لیتا تھا۔ ادھیڑ عمر کا چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد کاٹھ ، خوبصورت آدمی تھا۔ ہم نے اس کو بھی بات سمجھائی اور کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ورک لیٹر چاہیے۔
اس نے ٹاسٹروپ دفتر میں فون کر دیا تھا اور کہا کہ ان دونوں آدمیوں کو جیسے کہتے ہیں لیٹر بنا دیں کیونکہ مجھے کام کیلئے ان کی ضرورت ہے۔ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
ہم دوبارہ ٹاسٹروپ آگئے اور لیٹر لے کر ہم دونوں نسیم مہدی کے پاس فریڈرک ورکس چلے گئے۔ دو دن ان کے پاس آرام کیا اور اتوار 6 جولائی کو ہمبرگ کیلئے روانہ ہوئے۔
میں نے اور انور نے ویزے کے کاغذات مورخہ 70-7-8 کو ڈنمارک کی قونصلیٹ
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
92
۹۲
ہمبرگ میں جمع کروا دیئے اور ہم اپنے ہوٹل میں واپس آگئے۔
جرمنی میں قیام
ویزے کے کاغذات ڈینش قونصلیٹ ہمبرگ میں جمع کروانے کے بعد ہم نے سوچا کہ اب معلوم نہیں ویزہ کب لگے گا اور یہاں بیٹھ کر کھانے سے تو جتنی رقم ہے کم پڑ جائے گی اس لئے ہم نے اگلے دن کام کے حصول کے لئے معلومات حاصل کیں۔
ہمبرگ میں ہمارے آنے سے پہلے پاکستانیوں کی کافی تعداد آچکی تھی جو موقع کی مناسبت سے ڈنمارک جاتے اور ورک لیٹر لے کر واپس آکر جمع کروا دیتے۔ ہمارے ہوٹل میں ماسٹر رحمت خاں موضع دھنی (کھاریاں) اور رحمداد مرحوم جو چند سال ہوئے ڈنمارک میں وفات پاگئے رہائش رکھتے تھے۔ ماسٹر رحمت خاں کا اور ہمارا ساتھ تا حال بڑا گہرا ہے اور ہمارے مضبوط اور خوشگوار تعلقات ہیں۔
ہمبرگ میں ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ وہ شہر میں ایک جگہ چلے جاتے ہیں جہاں پر کچھ جرمن لوگوں نے دفتر بنارکھے ہیں۔ غیر ملکی وہاں چلے جاتے ہیں اور ان کو جتنی لیبر چاہیے ہوتی ہے، گاڑیوں میں بھر کر بحری جہازوں میں لے جاتے ہیں۔
یہ بحری جہاز ہمبرگ کی بندرگاہ پر سامان سے لدے کھڑے ہوتے ہیں۔ ماسٹر رحمت خاں اور لال شاہ ہمارے ساتھ ہی ہوٹل میں رہائش پذیر تھے اس لیئے ہم چاروں مل کر لیبر آفس چلے جاتے۔
ہمارے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہوتے تھے۔ وہاں جا کر ہم اپنے نام درج کروا دیتے پھر وہ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق ہم سے آدمیوں کا انتخاب کرتے اور گاڑی میں بٹھا کر جہاز پر لے جاتے۔ آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد وہ ہمیں واپس لا کر اپنے دفتر کے سامنے اتار دیتے اور پورے دن کا معاوضہ ہمیں 28 یا 30 مارک ملتے جو کہ بہت کم تھے اور مجبوراً ہمیں قبول کرنے پڑتے۔
جن بحری جہازوں میں جا کر ہمیں کام کرنا پڑتا ان میں کسی میں گندم، مکئی اور بعض میں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
93
۹۳
سیمنٹ اور دیگر اشیاء لوڈ ہوتی تھیں۔ ہمیں جہاز کے اندر بھیج دیا جاتا اور ہم نے پائپ کے ذریعے اناج نکالنا ہوتا تھا۔ بعض اوقات کسی فیکٹری میں لے جایا جاتا۔
ایک دن ہوٹل واپس آکر میں نے فورمین مائیکل ہینسن کو ایک خط لکھا کہ ہمارے ویزہ کیلئے ڈنمارک کی پولیس سے رجوع کیا جائے اور کوشش کریں کہ ہمارا ویزہ جلدی لگ جائے کیونکہ ہمارے پاس جو پیسے تھے وہ بھی ختم ہونے کو ہیں۔
اس طرح چار ہفتے گزر گئے ایک دن میں انور اور لال شاہ اکٹھے جہاز پر گئے بد قسمتی سے اس میں سیمنٹ بھرا ہوا تھا مجھے اور لال شاہ کو جرمن فورمین نے جہاز کے اندر بھیج دیا کہ نیچے جا کر جو کرین کے ذریعے جو جال پھینکا جاتا ہے اس میں آٹھ آٹھ سیمنٹ کی بوری ڈال کر کرین کے کنڈے کے ساتھ جال کو باندھ دیا کریں محمد انور جہاز کے باہر تھا کہ جو سیمنٹ کی بوریاں باہر آئیں ان کو ایک ہاتھ گاڑی (ٹرالی) میں رکھ کر پاس کھڑی ہوئی ریل گاڑی میں لوڈ کرتا جائے۔
ہم سات بجے صبح جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ ہم دونوں (لال حسین شاہ) نے 9.00 بجے تک سیمنٹ باہر نکالا لیکن زندگی میں کبھی کام کیا ہی نہیں تھا۔ ان دو گھنٹوں میں بوریاں اٹھا اٹھا کر کمر دوہری ہو گئی اور درد کی وجہ سے سیدھا ہونا مشکل ہو گیا۔
میں نے لال شاہ کو کہا کہ شاہ جی میری تو بس ہو گئی ہے۔ یہ کام میں مزید نہیں کر سکوں گا۔ لعل شاہ کہنے لگا کہ دو گھنٹے لگائے ہیں کچھ اور لگا لیتے ہیں لیکن میں نے جواب دے دیا کہ اگر تم نے کام کرنا ہے تو کرو میں تو چلا اوپر۔ اور میں نے جہاز کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ اوپر جرمن فورمین کھڑا تھا۔ کہنے لگا اوئے تم کہاں جاتے ہو؟
میں اوپر چڑھتا گیا اور باہر نکل آیا، دیکھا تو لال شاہ بھی پیچھے آرہا ہے۔ کہنے لگا کہ میں بھی چلتا ہوں اکیلے کام کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔
اوپر آ کر فورمین کو بتایا کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔ وہ کہنے لگا اگر ایسا ہے تو دو گھنٹے کے پیسے نہیں ملیں گے۔ ہم نے پیسوں پر لات ماری اور چل دیئے۔
باہر نکلے تو محمد انور مل گیا۔ دیکھا تو اس کی ایک ٹانگ سے خون رس رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟ کہنے لگا کہ لوہے کی ریڑھی سیمنٹ سے بھری ہوئی ٹانگ پر الٹ گئی ہے۔ میں نے کہا کہ ہم تو واپس ہوٹل جا رہے ہیں، چلنا ہے تو چلو۔ کہنے لگا کہ میں تو پوری دہاڑی لگا کر ہی آؤں گا اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
94
۹۴
اسکے جواب کے بعد میں اور لال شاہ چل پڑے۔
میں نے کہا شاہ جی صبح سے بھوکے ہیں ناشتہ بھی نہیں کیا آؤ کینٹین میں چائے پیتے ہیں اور پھر آگے چلیں گے۔ ہم دونوں نے چائے وغیرہ پی اور ایک ٹیکسی لیکر واپس چل پڑے۔
تھوڑی دیر بعد ہوٹل پہنچ گئے جہاں ماسٹر رحمت خاں اور دیگر ساتھی ہمیں دیکھ کر حیران ہوئے کہ آج جلدی کیوں آگئے ہیں۔ ہم نے پورا ماجرا سنایا اور کہا کہ میں تو آئندہ ایسا ذلیل کام کرنے کیلئے کہیں نہیں جاؤنگا۔ جو ہو گا سو دیکھا جائے گا۔
ہوٹل میں آکر غسل کیا اور کپڑے تبدیل کر کے گپ شپ لگانے لگے۔ ہم چھت پر بالکونی میں کھڑے تھے تو انور آتا ہوا دکھائی دیا۔ بری حالت، منہ سر سیمنٹ سے اٹا ہوا اور ٹانگیں گھسیٹتا آ رہا ہے۔ ہم سب دیکھ کر ہنس پڑے کہ دیکھو! بہت بڑا محنتی ورکر آرہا ہے۔ وہ اوپر آیا تو کہنے لگا (گالی نکال کر ) کہ آج تو انہوں نے مار ہی دیا ہے میری بھی آج سے بس ہے۔
شام کو ہمارا وطیرہ ہوتا تھا کہ کھانا جو ہم خود ہی پکاتے تھے کھا کر باہر سیر کو نکل جاتے تھے اور گھومتے ہوئے ڈینش قونصلیٹ کی طرف نکل جاتے، اور وہاں پر نوٹس بورڈ پر لگی ہوئی فہرستیں پڑھنے لگتے کہ کہیں ان میں ہمارا نام بھی آیا ہے یا کہ نہیں۔
جو فہرستیں وہاں چسپاں ہوتی تھیں ان میں بعض کے ویزے لگے ہوئے ہوتے تھے اور بعض لوگوں کے ویزے مسترد کئے ہوتے تھے۔
اس دن جب ہم نے قونصلیٹ کے نوٹس بورڈ پر نظر ڈالی تو میرا اور انور کا نام لسٹ میں شامل تھا گویا ہمارا ویزہ آگیا تھا۔ باقی ساتھی مایوس ہوئے کیونکہ ان کو آئے ہوئے کئی ماہ گزر چکے تھے اور ویزہ نہیں آرہا تھا۔ گویا جو میں نے اپنے فورمین کو خط لکھا تھا اس نے اس پر عمل کرتے ہوئے پولیس سے رابطہ کیا تھا اور پولیس کو کہا تھا کہ ان دونوں آدمیوں کا ویزہ جلدی لگا دیا جائے کیونکہ ہمیں کام کیلئے ان کی ضرورت ہے۔
یہ باتیں فورمین نے ہمیں ڈنمارک پہنچنے کے بعد بتائی تھیں۔ صبح قونصلیٹ کھلنے پر ہم دونوں اپنے پاسپورٹ لیکر گئے اور ہمارے پاسپورٹوں پر ویزہ کی سٹیمپ لگ گئی۔ بہت خوشی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں ان جرمنوں کے ظلم سے بچا لیا ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
95
۹۵
تیسرا باب
ڈنمارک میں آمد
یہ باب میری پاکستان سے روانگی کے بعد کوپن ہیگن آنے تک کی تمام مسافرت کا اہم ترین باب ہے کہ یہی وہ منزل تھی جسے میرے پالنے والے نے میری قسمت میں شاید لکھ دیا تھا اور یہیں پر میں نے اپنی زندگی کے کتنے ہی روشن سال بسر کر دیئے۔ یہ پانچ اگست ۱۹۷۰ء کا دن تھا جسے شاید میں کبھی بھی فراموش نہ کر سکوں
اس روز ہمارا ویزہ لگ گیا ، ہم دونوں یعنی میں اور انور رات 11:30 بجے والی ٹرین سے ڈنمارک کیلئے روانہ ہوئے ، اور رات بھر کی مسافت کے بعد اگلی صبح سات بجے ہم کوپن ہیگن ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے ، ہم نے اپنا سامان اسٹیشن کے لاکرز میں رکھا اور خود ٹاسٹروپ شہر میں روزگار تلاش کرنے کی غرض سے ایک صنعت کے دفتر رپورٹ کرنے کیلئے چلے گئے جب دفتر میں پہنچے تو وہاں بیٹھے ہوئے آدمی کو بتایا کہ ہمارا ویزہ لگ گیا ہے اب ہم کیا کریں۔
یہ وہ افسر نہیں تھا جس نے ہمیں لیٹر بنا کر دیا تھا ، اس لئے وہ کچھ سمجھ نہ سکا ، کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے اس کو ذرا تفصیل سے سمجھایا اور بتایا کہ ہینسن سے رابطہ کریں جو ہیلسنگور میں کام کروا رہا ہے ، جب اس نے مائیکل ہینسن سے فون پر رابطہ کیا اور بتایا کہ اس طرح سے دو غیر ملکی آدمی ویزہ لگوا کر آئے ہیں ، تو فورمین نے اسے کہا کہ ان کو آرام سے بٹھائیں، چائے پانی پلائیں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
96
۹۶
میں آرہا ہوں۔
دفتر والے آدمی نے ہمیں بتایا کہ تمھارا فورمین تمہیں لینے کیلئے آرہا ہے اور وہ آدھے پونے گھنٹے تک یہاں پہنچ جائیگا۔ یہ سن کر ہمیں کچھ اطمینان ہوا کہ اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے فورمین مائیکل ہینسن دفتر میں تھوڑے تھوڑے وقفے بعد فون کر رہا تھا کہ انہیں کہیں کہ گھبرائیں نہیں میں جلد ہی پہنچنے والا ہوں، میں نے کلرک سے پوچھا یہ فورمین کیا ابھی ہیلنگور سے چلا نہیں ہے جو ابھی فون کر رہا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ آرہا ہے اور فون وہ اپنی گاڑی سے کر رہا ہے کیونکہ اس کی گاڑی میں فون لگا ہوا ہے، ۔
ہم حیران ہوئے کہ کیا گاڑیوں میں بھی فون ہوتے ہیں۔ اب تھوڑے سے انتظار کے بعد آخر ہمارا فورمین پہنچ گیا۔ وہ ہم سے بڑے تپاک سے ملا ہماری خیریت دریافت کی اور ہمیں کہا کہ آؤ چلیں اور ہمیں گاڑی میں بٹھا لیا۔
کار چلتی جا رہی تھی اور وہ ہمیں جرمنی میں قیام کے دوران کے حالات پوچھتا رہا، کار میں بیٹھنے سے پہلے میں نے اس کو بتا دیا تھا کہ ہمارا سامان ریلوے اسٹیشن پر لاکرز میں پڑا ہے، وہ بھی لینا ہے تو اس نے گاڑی کا رخ اسٹیشن کی طرف موڑ دیا۔ اسٹیشن سے ہم نے سامان لیکر گاڑی میں رکھا اور پھر اس فورمین کے ساتھ سفر پر چل دیئے۔
کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ایک جگہ رک گئے چھوٹے چھوٹے بہت سے کمرے ایک قطار میں بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے؟
مائیکل ہینسن نے بتایا کہ یہ ہوٹل نارڈن (Motel Nordan) ہے۔ اتنی دیر میں ہوٹل کا مالک آگیا جس کا نام ہیننگ (Henning) تھا۔ ہم نے سامان گاڑی سے اتارا۔ مائیکل نے ہم سے کہا کہ آپ نے یہاں ہی رہنا ہے۔
ایک کمرہ ہوٹل مالک نے کھول کر ہم سے کہا کہ یہ آپ کا کمرہ ہے، کمرے میں بیڈ ، اسکے ساتھ باتھ روم تھا اور کچن علیحدہ تھا۔ مائیکل نے ہمیں کہا اب آپ یہیں پر رہا کریں گے۔ اس نے بتایا کہ صبح سات بجے تیار رہنا میں آکر آپ کو ساتھ لے جاؤں گا۔
کمرے میں سامان ترتیب سے رکھنے کے بعد ہم باہر نکل کر گھومنے لگے اور آپس میں باتیں کرتے رہے کہ معلوم نہیں اس کمرے کا کتنا کرایہ ہمیں ادا کرنا پڑے گا ، ہمارے پاس تو ابھی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
97
۹۷
اتنے پیسے بھی نہیں ہیں۔ کھانا کھا کر ہم سو گئے۔
اگلی صبح مائیکل ہینسن (Michæl Hansan) بتائے ہوئے وقت پر پہنچ گیا، ہم بھی تیار بیٹھے تھے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں رہتے ہو تو اس نے ہیلسنگور سے ایک سو کلو میٹر جگہ Ringsted کا نام بتایا۔
فورمین مائیکل ہینسن نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا پولیس اسٹیشن لے گیا جہاں ہمارا نام رجسٹر کرایا اور پھر کمپنیوں کے دفتر میں پرسنل نمبر آفس یعنی پبلک رجسٹریشن آفس میں بھی نام درج کروا دیا جس کے بعد وہ ہمیں ٹریڈ یونین کے دفتر میں لے گیا اور ہمیں یونین کا ممبر بنوایا۔
یہ وہ کام تھا جس کا ہمیں علم نہیں تھا، لیکن ہمارے فورمین نے خود بخود یہ کام کر دیا، جیسے کہ میں نے پہلے بتایا کہ جس فرم سے ہمیں کام کا لیٹر ملا تھا اس کا نام H.Hoffman & Sønner تھا اور یہ ڈنمارک کی بہت بڑی کنسٹرکشن فرم ہے جو سڑکیں، پل، بجلی گھر اور بہت سے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔
جس شعبہ میں ہمیں کام ملا وہ بجلی کا شعبہ تھا اور ہمارا فورمین ہیلسنگور میں ایک بجلی گھر بنا رہا تھا، اس منصوبہ پر کام کرنے والے ہمارے سوا باقی سب ڈینش تھے۔ ہمارا کام یہ تھا کہ پہلے تو ہم نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر گرڈ اسٹیشن (بجلی گھر) کیلئے زمین ہموار کرنی تھی، ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کی مدد سے مٹی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنی ہوتی تھی۔ اس شعبہ کو کیوں کہ میں پاکستان سے ہی جانتا تھا لہٰذا جب فورمین کو بتایا کہ میں نے یہ کورس کیا ہوا ہے تو وہ بہت خوش ہوا۔
دن کو ہم کام کرتے تھے اور چھٹی کے وقت فورمین ہمیں ہوٹل میں واپس چھوڑ دیتا تھا اور پھر اگلی صبح آتے ہوئے ہمیں ساتھ لے لیتا۔
میں نے شاید پہلے بتایا تھا کہ ہمیں فکر تھی کہ ہوٹل کا کرایہ کون ادا کرے گا، ایک ماہ بعد فورمین نے مجھے ایک بند لفافہ دیا کہ یہ لفافہ ہوٹل کے مالک کو دے دینا۔ میں نے پوچھا کہ اس میں کیا ہے؟ فورمین نے بتایا کہ یہ تمھارے کمرے کا کرایہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ہوٹل کمرہ کا کرایہ ہماری تنخواہ سے کاٹ لیا کریں گے، تو اس نے بتایا کہ نہیں تمھاری رہائش کا کرایہ فرم ادا کرے گی۔ یہ سن کر ہماری فکر ختم ہوئی۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہماری تنخواہ اس وقت 12 کراؤن فی گھنٹہ تھی اور ان دنوں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
98
۹۸
ڈینش کراؤن اور پاکستان روپے کی قیمت برابر ہوتی تھی اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ ان دنوں ترک لیرے کی قیمت بھی پاکستانی اور ڈینش کرونے کے برابر ہوا کرتی تھی آج ڈینش کراؤن کے گیارہ روپے اور ایک ڈینش کراؤن کے سینکڑوں لیرے ملتے ہیں۔
ہم نے تقریباً ایک ماہ تک ہیلسنگور میں کام کیا اور پھر جب یہاں سے گرڈ اسٹیشن کا کام ختم ہوا تو ہمیں ایک دوسرے شہر Balarup بیلر وپ شفٹ کر دیا گیا۔ یہ شہر کوپن ہیگن کے نواح میں 10 کلومیٹر دور واقع ہے اور اسوقت یہاں پر ایک نئے بجلی گھر کی تعمیر شروع کی گئی تھی۔
گرڈ اسٹیشن کے ساتھ ساتھ ہم ایک لاکھ تیس ہزار وولٹ بجلی کے کھمبے بھی جوڑتے اور کرین کے ذریعے تیار کی ہوئی فاؤنڈیشن (بنیاد) پر کھڑا کر دیتے۔ یہ کام بھی ہم نے ایک سال تک کیا اور یہاں بھی ٹرانسپورٹ اور رہائش فرم کے ذمہ تھی۔ کھانے پینے کے علاوہ اور کوئی خاص خرچ نہیں تھا، لہٰذا جو پیسے بچ جاتے وہ پاکستان بچوں کو بھیج دیئے جاتے۔
میں ڈنمارک آنے کے ایک سال بعد 1971 میں پاکستان چلا گیا، کیونکہ آتی دفعہ میں نے والدہ صاحبہ سے وعدہ کیا تھا کہ انشاء اللہ ہر سال آپ سے ملاقات کیلئے حاضر ہوا کروں گا اور یہ وعدہ میں نے انکے آخری دم تک پورا کیا۔
1972ء میں جب انور پاکستان گیا ہوا تھا تو میں نے کنسٹرکشن فرم کو چھوڑ کر Ballerup میں ہی ایک فیکٹری میں کام حاصل کر لیا۔ فورمین مائیکل ہینسن کو بہت افسوس ہوا اور وہ کہنے لگا کہ علی کام چھوڑ کر مت جاؤ تمھارے لئے یہاں اچھا ہے۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے ایک اچھا کام مل گیا ہے۔
اس نے کہا کہ اگر تم کام نہیں کرو گے تو محمد انور کو بھی بتا دو کہ جب وہ واپس آئے تو اس کے کیلئے بھی میرے پاس کام نہیں ہوگا۔
1972 میں جب انور بھی آگیا تو ہم Brønshøj کوپن ہیگن میں افتخار احمد شاکر کے مکان میں شفٹ ہو گئے ، افتخار احمد شاکر ہمارے گاؤں ناگڑیاں کے قریب کے گاؤں دریکڑی کا رہنے والا ہے ، ان دنوں اس مکان میں Ballerup میں میری فیکٹری کا نام MEC تھا یہاں پر چھوٹے چھوٹے پرزے تیار ہوتے تھے۔
1973 کے شروع میں ہم دونوں Valby میں راجہ محمد افضل آف سدوال (کھاریاں)
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
99
۹۹
کے ہاں منتقل ہو گئے جہاں چند ماہ وہاں رہنے کے بعد ستمبر 1973ء میں میں نے اپنا تین کمرہ کا فلیٹ خرید لیا اور پھر ، ہم وہاں منتقل ہو گئے۔
یہ فلیٹ کوپن ہیگن نبروئے Fradengade میں واقع تھا اور یہ مکان میرے پاس 12 سال تک رہا جسے میں نے 1985 میں فروخت کر دیا۔
جب ہم لوگ پاکستان سے شروع شروع میں آئے تو دور دور سے آکر ایک دوسرے کو ملتے تھے خاص کر ان دنوں ہفتہ اور اتوار چھٹی کے دنوں میں دور دور سے پاکستانی کوپن ہیگن اسٹیشن پر جمع ہو جاتے اور یہاں ایک دوسرے سے ملتے اور خوش ہوتے۔
یہاں آنے کے کچھ عرصہ بعد کوپن ہیگن میں کچھ پاکستانی بھائیوں نے ، سینماؤں پر انڈین اور پاکستانی فلمیں چلانی شروع کر دیں۔ ان میں ملک حیات خاں، ریاض حسین ، رفیق خلجی، بشیر سندھو ، اور دیگر کئی احباب بھی تھے۔ ہر ہفتہ اتوار کو پن ہیگن آتے فلم دیکھتے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے اور شام کو واپس اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے اور پھر پورا ہفتہ کام کیا جاتا۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک گھروں میں ویڈیو نے جگہ نہیں بنالی اور پھر آہستہ آہستہ فلموں کا کاروبار بند ہو گیا۔
میں 1974 میں جب پاکستان گیا تھا تو واپسی پر بچوں کو ساتھ ڈنمارک لے آیا۔ اس وقت میرے تین بچے تھے۔۔۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا، بڑی بیٹی روبینہ کوثر کی تاریخ پیدائش 29 جون 1967ء ہے اور اس سے چھوٹی بیٹی راحیلہ کوثر کی تاریخ پیدائش 27 نومبر 1969ء جبکہ بیٹے اظہر سعید کی پیدائش 18 جولائی 1972 کو ہوئی۔ بڑی بیٹی روبینہ کوثر سات برس کی ہو گئی تھی اس لئے اس کو یہاں پر پبلک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔
یہ وہ خوبصورت دن تھے جب ڈنمارک میں تعصب قسم کی کسی چیز کا شائبہ تک نہ تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب کام بھی آسانی سے مل جاتا تھا، لہٰذا اگر ایک جگہ کام پسند نہیں آیا یا کسی فورمین سے جھگڑا ہو گیا تو کام چھوڑ کر دوسری فیکٹری میں چلا گیا اور پھر اس طرح پہلے دس سال میں کئی فیکٹریاں تبدیل کرنا پڑیں۔
آہستہ آہستہ لوگ اپنے اہل خانہ کو یہاں ڈنمارک میں بلوانے لگے اور یہاں خوب رونق بڑھنے لگی۔ میرے ملنے والوں میں سے محمد انور، ماسٹر رحمت خاں، محمد یسین، محمد اصغر، وغیرہ نے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
100
۱۰۰
اپنے اپنے بچوں کو بھی یہاں بلوالیا تھا جس کے بعد اسی طرح ہمارا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا شروع ہو گیا سب لوگ باہم مل کر بہت خوش ہوتے تھے، ایک دوسرے کو دعوتوں پر بلایا جاتا، اور اس طرح ایک پاکستانی ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔
25 مارچ 1975ء میں میری بیٹی شبانہ امانت پیدا ہوئی ، اکتوبر 1976 کو سمیرا امانت اور جولائی 1978ء کو صوفیہ امانت کی پیدائش نے ہمارے گھر کی خوشیوں میں اضافہ کر دیا۔ ہمارے سب سے چھوٹے بیٹے ہارون سعید امانت کی تاریخ پیدائش 26 فروری 1982ء ہے۔
اب بچے بڑے ہونے لگے تھے اور جوں جوں بچوں کی عمریں سکول جانے کے قابل ہوتی رہیں ان کو سکول میں داخل کرواتے رہے۔ یہ خدا کا شکر رہا ہے کہ تمام بچوں نے غیر ضروری طور پر کبھی سکول سے چھٹی نہیں کی اور اپنا سکول اور سکول سے ملنے والا گھر کا کام پوری باقاعدگی سے کرتے رہے ہیں جب کبھی بھی والدین کی میٹنگ سکول میں ہوتی تو ہمارے بچوں کی پڑھائی کے بارے اور شرارتوں کے بارے میں کبھی شکایت نہیں ملی۔
اب جب بچے پاکستان سے یہاں شفٹ ہو چکے تھے تو لا محالہ اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مکان کی قسط وغیرہ اور دوسرے اخراجات کی وجہ سے میری اہلیہ نے کہا کہ ایک فرد کی آمدنی میں مشکل پیش آئے گی اس لیئے اگر آپ چاہیں تو مجھے بھی کسی کام پر لگا دیں۔
پہلے تو میں ٹال مٹول کرتا رہا لیکن جب محسوس ہوا کہ ایک کمائی کافی نہیں تو بیوی کو بھی کام پر لگوا دیا اور ، اس طرح ہم دونوں مل کر بچوں اور گھر کے اخراجات چلاتے رہے۔ ہمارے پاس تین کمروں کا فلیٹ تھا، بچے بڑے ہو رہے تھے ، اس لئے یہ مکان میں نے 1985ء میں فروخت کر دیا اور (Tagensve) پر چار کمروں کا مکان خرید لیا۔
1979ء میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ میں نے بیوی اور بچوں کو واپس پاکستان روانہ کر دیا تا کہ وہاں جا کر تعلیم حاصل کریں اور اس کے لئے میں نے پاکستان میں اپنے خاندان والوں کو کہا کہ بچے گاؤں میں رہ کر تو شہر میں آکر پڑھنے سے رہے اس لئے بہتر ہے کہ کھاریاں میں رہائش رکھ کر بچوں کو کھاریاں کینٹ کے کسی سکول میں داخل کروا دیا جائے۔
میری بیوی کے دونوں بھائی چوہدری ارشد مہدی، اور چوہدری امجد مہدی دونوں نیشنل بنک میں ملازم تھے اور کھاریاں کینٹ نیشنل بنک اور کھاریاں شہر میں کام کرتے تھے اس لیئے میں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۱
صفحہ 101
نے انہیں ایک مکان خریدنے کیلئے کہا تو انہوں نے کھاریاں میں ایک بڑا سا مکان خرید لیا اور گاؤں چھوڑ کر پوری فیملی کھاریاں میں شفٹ ہو گئے تا کہ بچوں کے پاس رہا جا سکے۔
بڑے سب بچے چھاؤنی میں پڑھنے لگے ، مجھے ہر سال پاکستان جانا پڑتا تھا۔ ایسے میں بچے پاکستان میں اور میں خود یہاں کوپن ہیگن میں اور یہ سب بڑا عجیب معاملہ تھا کہ اس عمر میں ہم جدا ہو چکے تھے۔
ایک دن میں نے سوچا کہ پاکستان میں رہنے والے جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار ایک کثیر رقم خرچ کر کے اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں لیکن میں کتنا بے وقوف ہوں کہ یورپ میں مفت تعلیم چھوڑ کر اپنے بچوں کو بڑی رقم خرچ کر کے پاکستان میں تعلیم دلوا رہا ہوں۔ اس سوچ نے میری فکر کو بدلا اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ بچوں کو واپس بلا لیا جائے اور پھر غالباً تین سال بعد ہی میں نے بچوں کو ڈنمارک دوبارہ بلا لیا۔
جب بچے واپس آگئے تو ان کی کلاسیں آگے جا چکی تھیں خصوصاً بڑی بیٹی روبینہ کوثر دو سال پیچھے رہ گئی تھی ، اس کو اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ ہی داخلہ مل سکتا تھا لہٰذا آٹھویں کلاس میں داخل کروا دیا گیا، اس کے ٹیچروں نے اس کے ساتھ بہت محنت کی ، سکول ٹائم کے بعد بھی کلاسیں لی جاتی رہیں۔ میری یہ بچی بہت ذہین ہے اور مجھے اس پر خاص طور پر فخر بھی ہے۔
روبینہ کو جب میٹرک کی سند ملنے لگی تو والدین بھی سکول کے ہال میں موجود تھے۔ جب روبینہ کوثر کا نام پکارا گیا تو وہ سٹیج کی جانب بڑھی اور اس کے ٹیچر نے سند وصول کرنے سے پہلے اعلان کیا کہ یہ بچی روبینہ کوثر دو سال پاکستان میں رہی ہے ، اس نے دو سال ڈینش نہیں پڑھی لیکن آج میں بڑے فخر سے بتا رہی ہوں کہ اس بچی نے اپنی دو سالہ کمی کو پورا کر کے میٹرک کے امتحان میں اعلیٰ نمبر حاصل کئے ہیں۔
اس کے ٹیچر نے کہا کہ مجھے ایسے بچوں پر فخر ہے خواہ وہ کسی ملک و قوم اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ روبینہ کوثر کی ٹیچر نے مجھے بتایا کہ آپ کی بچی نہایت ذہین و قابل ہے ، اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلانا، اس نے مجھے کہا کہ جب کبھی اور جہاں بھی میری مدد اور راہنمائی کی ضرورت پڑے میں ہر وقت حاضر ہوں۔
میرا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ میری بچی کیلئے اس کے ٹیچروں کے اتنے اچھے خیالات اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۲
صفحہ 102
رائے ہے اور پھر میں نے اسی دن سے فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی اور جیسے بھی ہو میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کروں گا خواہ مجھے کتنی ہی زیادہ مزدوری کرنی پڑے، جب تک بچے پڑھ کر فارغ نہیں ہو جائیں گے ان سے کوئی کام نہیں کرایا جائیگا۔ ان کا کام صرف پڑھنا اور پڑھنا ہوگا
میرے اس فیصلے میں میری اہلیہ نے بھی میری مکمل حمایت کی اور میری نیت کے مطابق میرے اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت اور قوت دی مجھے ثابت قدم رکھا، ہم دونوں میاں بیوی نے اپنے کسی بھی بچی یا بچے سے فالتو کمائی کیلئے کام نہیں کروایا، اور میرے ساتوں بچے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ سب کے سب ازدواجی زندگی میں بندھ چکے ہیں۔
یہاں ڈنمارک میں ایک عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستانی اپنے بچوں کی طے شدہ شادیاں کرتے ہیں جو اکثر سے بیشتر کامیاب نہیں رہتیں، ہم نے اپنے بچوں کے رشتے خود کئے ہیں جس میں ان کی مرضی کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔
ساتوں بچوں کے اپنے اپنے گھر ہیں ، سب کو اللہ تعالیٰ نے اولاد جیسی نعمت سے نوازا ہے، سب اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں۔ یہاں ڈنمارک میں بھی رہ کر جب تک ہمارے بچے ہمیں ہفتے میں ایک دو بار دیکھ نہ لیں انہیں چین نہیں آتا، ہر کوئی فون پر اپنے ماں باپ کی خیریت روزانہ معلوم کرتے ہیں اور تمام بہن بھائیوں کا آپس میں اتنا سلوک و پیار ہے کہ ہر ہفتے ایک دوسرے کے ہاں اکٹھے ہوتے رہتے ہیں اور ہر اختتامِ ہفتہ پر ہمیں ملنے کیلئے کھینچے چلے آتے ہیں۔ ہم میاں بیوی نے اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں برتی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں دینی تعلیم بھی دی ہے۔
بفضل تعالیٰ ساتوں بچوں نے قرآن پاک پڑھا ہوا ہے۔ ہم نے پانچوں بیٹیوں کی شادی کے بعد گھر کا پورا پورا سامان بمعہ کچن کی ایک ایک چیز خرید کر دی ہے، اور جہاں تک ممکن ہو سکا ہے ان کے مکانوں کی خرید میں بھی مدد کی ہے۔
ایک بات بتانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ سب کی شادیاں دھوم دھام یعنی تمام رسم و رواج کے ساتھ ہوئی ہیں اور میرا کوئی بزنس یا کاروبار نہیں ہے، فیکٹریوں میں کام کیا ہے اور 1980 سے لیکر پنشن حاصل کرنے تک میں نے بس ڈرائیوری کی ہے ، کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ، بفضل تعالیٰ بچوں کے خون میں حلال کا لقمہ شامل ہے اور یہ اسی رزقِ حلال کی برکت ہے کہ ان بچوں کو حلال و
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۳
صفحہ 103
حرام کی بھی خوب تمیز ہے۔ مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ میں نے سوشل ڈیپارٹمنٹ میں 1970ء سے لیکر آج ایک پیسہ بھی حاصل نہیں کیا ، میرے خیال میں پاکستانیوں میں یہ ایک ریکارڈ ہوگا۔
میں یہاں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں ضروریات کرنا چاہوں گا کیونکہ اکثر لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ باہر کے ممالک میں رہنے والے پاکستانی صرف پیسہ کمانے پر توجہ دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو تعلیم کی نعمت سے دور رکھتے ہیں۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اس تنقید کو یکسر مسترد کرتا ہوں لیکن بچوں کی تربیت کے سلسلے میں ساری ذمے داری والدین کی سمجھتا ہوں۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے مجھے نیک اور صالح اولاد کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور اس سلسلے میں شاید میں دنیا کا خوش نصیب انسان ہوں۔ میرے دو بیٹے اظہر سعید اور ہارون سعید امانت اور پانچ بیٹیاں روبینہ کوثر ، راحیلہ کوثر ، شبانہ امانت ، سمیرا امانت ، اور صوفیہ امانت ہیں۔ تمام بچوں میں سے سب سے بڑی بیٹی روبینہ کوثر ہے۔ روبینہ کوثر نے لائبریری اور انفارمیشن سائنس میں ایم اے کیا ہوا ہے (cand)، اس سے چھوٹی بیٹی راحیلہ کوثر بھی گریجوئیٹ ہیں، اور صحت اور سوشل ڈیپارٹمنٹ میں نرسنگ کورس کرنے کے بعد سروس کر رہی ہے۔
بیٹے اظہر سعید نے انجینئر نگ یونیورسٹی ڈنمارک سے ایم ایس سی انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہوئی ہے، اس نے Danish Road Directrate میں ٹرانسپورٹ Planner (پلینر) کے طور پر کام کیا ہے ، اور آج کل ڈنمارک کی سب سے بڑی فرم ”COWI“ میں بطور پروجیکٹ منیجر خدمات انجام دے رہا ہے ، چوتھے نمبر پر بیٹی شبانہ امانت نے اکیڈیمی آف میڈیا بزنس سے سند حاصل کی ہوئی ہے اور واٹر لو یونیورسٹی آف کینیڈا سے بھی سند یافتہ ہے۔ اور آج کل System Developer/ Print Programmer کے طور پر کام کر رہی ہے۔ سمیرا امانت (Cand.Mag)
Bacholor in Italian Language/ Culture/Literature and history of art.Master in Italian & History of Art with competence of educate in high school
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۴
صفحہ 104
بیٹی صوفیہ امانت نے کوپن ہیگن بزنس کالج سے Diploma Comarcial & Exame کیا ہے وہ ان دنوں (Libaritory Asistant) ہیں اور (Novo Nordisk Inspection of medicine) میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہے۔
سب سے چھوٹے بیٹے ہارون سعید امانت نے بزنس کالج سے ڈپلومہ حاصل کیا ہے اور بزنس پریکٹیکل (دوسال) کے بعد آج کل سروس کر رہا ہے۔
ہم دونوں میاں بیوی نے اپنے ان بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں رہنے دی اور اسکا پھل ہمیں یہ مل رہا ہے کہ اپنے لگائے ہوئے ان اشجار کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں سکون وراحت کے ساتھ زندگی کی گھڑیاں گزار رہے ہیں۔
بفضل تعالیٰ ہمارے سب بچے شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں راضی خوش اپنی اپنی ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہمارے سب بچوں کو اللہ تعالیٰ نے اولاد جیسی نعمت سے نواز رکھا ہے، بڑی بیٹی روبینہ کوثر کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، سب سے بڑی بیٹی میمونہ افضل، بیٹا حسیب افضل اور چھوٹے دو بیٹے احداور یوسف، جڑواں ہیں۔
بیٹی راحیلہ کوثر کے دو بچے ایک بیٹی بینش آصف اور بیٹا احتشام آصف ہے، اظہر سعید کے دو بچے ہیں، بڑا بیٹا خذیفہ سعید اور بیٹی ونیزہ سعید ہے، شبانہ امانت کے دو بیٹے ، حارث اکرم اور سلیم اکرم ہیں، اور سمیرا امانت کا بھی ایک بیٹا عتیق احمد اور بیٹی پیا ہے۔ صوفیہ امانت کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی سے نواز رکھا ہے جس کا نام مناہل ہے، اور ہارون امانت کا بھی ایک بیٹا سمیع ہارون ہے۔
تمام بچے ہفتہ میں ایک بار ضرور ہمارے پاس آتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے بڑا گھر دیا ہوا ہے، اس لئے چھوٹے بچوں کو کھیلنے کودنے میں آسانی رہتی ہے، تمام بہن بھائیوں کا باہمی میل جول بھی رہتا ہے، سب ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور بڑے سلوک اور پیار سے رہ رہے ہیں، تمام بچوں کا باہمی پیار ومحبت اور والدین سے پیار و محبت اور احترام ہمارے لئے آسودگی اور خوشی کا مقام ہے۔
یوں تو تمام دنیا کے والدین اپنی بچوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہم نے اگر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تو ان بچوں نے بھی ہمیں کبھی ناامید
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۵
صفحہ 105
اور مایوس نہیں کیا اور ان تمام بچوں کی طرف سے کسی قسم کی کوئی غیر معمولی مسائل پیدا نہیں ہوئے خاص طور پر ایسا کوئی مسئلہ نہیں بنا جس سے ہمیں اپنی برادری میں یا پھر اپنے اہلِ وطن کی سامنے خدا نخواستہ شرمندہ ہونا پڑے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے ان بچوں نے ہمارا سر فخر سے بلند رکھا ہے اور یہی سب ہمارے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں داماد بھی نہایت عزت کرنے والے اور اپنے اپنے طور پر پڑھے لکھے عطا کیئے ہیں۔ اسی طرح ہماری بہوئیں بھی اگر یہ کہوں کہ بیٹیوں کی طرح ہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔
ہمارا سب سے بڑا داماد جس کا نام محمد افضل ہے وہ میری بڑی ہمشیرہ کا بیٹا ہے، یعنی میرا بھانجا ہے اور وہ اپنی ٹیکسی گاڑی کا مالک ہے جبکہ، راحیلہ کوثر کا خاوند محمد آصف ہے ، رشتہ میں قریبی عزیز ہے سروس کر رہا ہے۔ بیٹے اظہر سعید کی شادی اس کی خالہ زاد کے ساتھ ہوئی ہے جس کا نام نگینہ کوثر ہے ، پاکستان سے اس نے B.A کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور قرآن پاک بمعہ ترجمہ پڑھا ہوا ہے، شبانہ امانت کے خاوند کا نام کامران اکرم ہے وہ MBBS ڈاکٹر ہے اور ڈنمارک میں شوگر کے ہسپتال STENO میں ڈیوٹی انجام دے رہا ہے ، ڈاکٹر کامران نے شوگر انسولین پر PHD بھی مکمل کر لی ہے۔
سمیرا امانت کا شوہر محمد احسن ہے یہ دونوں بھی آپس میں کزن ہیں یعنی دونوں خالہ زاد ہیں ، محمد احسن ایک فرم میں ڈیوٹی کر رہا ہے اور BA تک تعلیم حاصل کی ہوئی ہے صوفیہ امانت کا شوہر عمیر امجد ہے ، عمیر امجد بھی صوفیہ کا کزن یعنی ماموں زاد ہے اور عمیر امجد نے پاکستان سے B.A کے ساتھ میڈیا الیکٹرانک میں بھی ڈپلومہ حاصل کیا ہوا ہے۔ سب سے چھوٹے بیٹے ہارون سعید امانت کی شادی یہاں ڈنمارک میں ہی کی ہوئی ہے ، یہ اس کی اپنی پسند کی شادی تھی ، ہم نے صرف اتنا کہا کہ اگر لڑکی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے تو تمہیں شادی کی اجازت ہے اور اس طرح لڑکی نے رضامندی ظاہر کر دی۔
میں نے مولوی صاحب کو گھر پر بلوا کر اپنی پوری فیملی اور لڑکی کی فیملی اس کی ماں سمیت سب کے روبرو اسے کلمہ پڑھایا اور بعد میں شرعی طریقہ پر نکاح کر دیا گیا۔ لڑکی کا اسلامی نام ہم نے مریم رکھ دیا۔ آج ان کا ایک بیٹا ہے ، مریم اپنے خاوند اور بچے کے ساتھ پاکستان کا چکر بھی لگا آئی ہے ، تمام خاندان نے اسے پسند کیا ہے۔ مریم کے والدین ساؤتھ امریکہ کے ملک ”چلی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۶
صفحہ 106
“ سے ہجرت کر کے ڈنمارک آئے تھے۔ مریم ڈنمارک میں ہی پیدا ہوئی اور یہاں پر ہی اس نے تعلیم حاصل کی دونوں میاں بیوی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں، ان کا رابطہ بھی ہمارے ساتھ ایسے ہی ہے جیسا دوسرے سب بچوں کا ہے، ہم بھی مریم کو اپنی بچیوں کی طرح پیار کرتے ہیں۔ اور وہ ہم سے بہت مانوس ہے اور اردو سیکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
میں یہاں پر جب اپنی اولاد کی کامیابیوں کا ذکر کیے جا رہا ہوں تو اس بات کا احساس بھی ہے کہ انکی اس کامیابی میں سارا کردار میرا نہیں بلکہ مجھ سے بہت زیادہ میری اہلیہ اور انکی والدہ کا ہے۔ اس میں بھی کوئی باک نہیں کہ خود میری اہلیہ کی اپنی خاندانی تربیت بھی اس عمل کا ایک اہم عنصر ہے۔ اس لیئے یہاں پر کچھ ذکر اپنی اہلیہ اور اپنے سسرال کا بھی کرنا چاہوں گا۔
میری شریک حیات کا نام رشید بیگم ہے، اس کی چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں ، والد کا نام چوہدری اکبر علی ہے جو جنگِ عظیم دوم میں فوج میں کلرک تھے اور پاکستان بننے کے بعد وہ گھر پنشن پر آگئے ، انہوں نے ثانوی بورڈ کا امتحان پاس کرنے کے بعد سکول ٹیچر کی نوکری اختیار کر لی ، وہ ایک قابل استاد اور منتظم تھے۔ میں نے بھی پہلی دوسری کلاس میں ان سے تعلیم حاصل کی ہوئی ہے۔ سکول کی سروس سے آج کل وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کی عمر اس وقت 85 سال ہے اور انکی زوجہ محترمہ یعنی میری ساس کا نام نور بیگم ہے جو زیادہ پڑھی لکھی تو نہیں ہیں لیکن نہایت ہی سلجھی ہوئی عقلمند اور سلیقہ کار خاتون ہیں۔
وہ میری والدہ محترمہ کی سگی بھتیجی یعنی والدہ صاحبہ کے بھائی کی بیٹی ہیں، گویا میری ساس میری ماموں زاد ہیں، میرے سسر اور ساس دونوں نے حج کا فرض ادا کیا ہوا ہے، دونوں صوم وصلواۃ کے اتنے پابند ہیں کہ تہجد کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، میرے سسر عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے قدرے کمزور ہو چکے ہیں۔
میری بیوی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں، اس کے بعد انکا بھائی ارشد مہدی ہے انہوں نے فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے بی ایس سی آنرز کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور نیشنل بنک میں پچیس سال سروس کرنے کے بعد بطور منیجر پنشن لے لی ہے ، ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
اس سے چھوٹا بھائی امجد مہدی ہے ، امجد مہدی بھی نیشنل بنک آف پاکستان میں اس وقت
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۷
صفحہ 107
آفیسر گریڈ II ہے، امجد مہدی کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، عمیر امجد میرا داماد ہے جو ڈنمارک میں رہ رہا ہے۔
امجد مہدی سے چھوٹی بہن نسرین اختر ہے وہ شادی شدہ ہے گوجرانوالہ میں اپنے میاں چوہدری احمد خاں کے ساتھ مقیم ہیں، اس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بڑا بیٹا احسن محمود ہمارا داماد ہے اور ڈنمارک میں مقیم ہے۔ گوجرانوالہ میں انکا عالیشان مکان اور اپنا ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔
اس سے چھوٹی بہن نسیم اختر ہے جو اپنے ماموں زاد چوہدری برکت علی سے شادی شدہ ہے ، ان سے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ، بڑی بیٹی ہماری بہو ہے۔ یہ سب فیصل آباد میں مقیم ہیں۔ ان کا گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے اپنی چھ گاڑیاں ہیں اور گجرات فیصل آباد گڈز ٹرانسپورٹ کے نام سے اپنا ٹرکوں کا اڈہ ہے، اس سے چھوٹی بہن یاسمین ہے وہ بھی گوجرانوالہ میں شادی شدہ ہے اور اپنی بڑی بہن کے ساتھ ہی اپنے مکان میں رہائش پذیر ہے۔ بدقسمتی سے اس کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ چھوٹی بہن ثمینہ ہے وہ اپنے میاں کے ساتھ ہمارے اپنے گاؤں ناگڑیاں میں ہی رہتے ہیں اور ان کی اولاد تین بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں ثمینہ کے شوہر محکمہ مال میں پٹواری ہیں اور گاؤں میں بہت بڑی زمین کے مالک ہیں۔ اس سے چھوٹی بہن غزالہ بھی گاؤں ناگڑیاں میں ہی اپنے ماموں زاد سے شادی شدہ ہیں اور اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
سب سے چھوٹی بہن کا نام عذرا ہے اس کا میاں محمد اعظم کینیڈا میں مقیم ہے وہ بھی اپنے میاں کے ساتھ کینیڈا میں ہی رہی ہے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ یہ میری شریک حیات کے خاندان کے متعلق مختصر سی تصویر کشی تھی۔
اب اس موقع پر عدل کا تقاضہ یہ بھی کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں بھی مختصر طور پر عرض کرتا چلوں۔
والدین کے بارے میں اس سے پہلے مختصر تحریر کر چکا ہوں لیکن دیگر افراد کا تذکرہ کچھ اس طرح ہے۔ میری اس وقت تین بہنیں حیات ہیں جو مجھ سے بڑی ہیں، ایک بھائی جو سب سے بڑا تھا اس کا نام ولایت خان تھا وہ بچپن ہی میں پانچ سال کی عمر پا کر وفات پا گیا تھا جس کے بعد میری یہ تینوں بڑی بہنیں پیدا ہوئیں۔ گھر میں نرینہ اولاد کی خواہش تھی۔ تو اس کے بعد میرے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۸
صفحہ 108
والدین کو میری صورت میں اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا جو سب کچھ تحریری شکل میں ریکارڈ پر لا رہا ہے۔
مجھ سے تقریباً 9 سال بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بہت ہی خوبصورت بھائی عطا فرمایا تھا جس کا نام اصغر علی رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی اپنے خالق حقیقی کے پاس چلا گیا۔
میری سب سے بڑی بہن کا نام سرور بیگم ہے اس کی شادی اپنے تایا زاد چوہدری عنایت خاں سے ہوئی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو دو بیٹے عطا کئے جو زندہ نہ رہے ، اور پھر ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام ہم نے محمد طارق رکھا۔ وہ شادی شدہ ہے لیکن اولاد کی نعمت سے ابھی تک محروم ہے، شادی کو تقریباً 15/20 سال ہو چکے ہیں، بھائی چوہدری عنایت خان دو سال پہلے رحلت فرما گئے ہیں۔
دوسری بہن کا نام ولایت بیگم ہے، ان کی شادی چک نمبر 444 گ ب تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد میں چوہدری غلام سرور سے ہوئی ، وہ اپنے چک میں زمینوں کے مالک تھے بعد میں اپنے آبائی گاؤں گرد نانوالہ (گجرات کھاریاں) میں منتقل ہو گئے ، اور ان کے باقی تین بھائی وہیں چک 444 میں مقیم ہیں، ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ انہی کا ایک بیٹا محمد افضل ہماری بڑی بیٹی روبینہ کوثر کے ساتھ شادی شدہ ہے، بھائی غلام سرور چند سال ہوئے وفات پا چکے ہیں۔
ہماری تیسری بہن کا نام عنایت بیگم ہے، وہ بھی اپنی خالہ زاد کے ساتھ شادی شدہ تھی ہمارا وہ بھائی چوہدری محمد اسلم فوج کے ریٹائرڈ تھے اور چند سال ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے ، وہ بھی گوجرانوالہ میں ہی رہتے ہیں، ان کے دو بیٹے ہیں جو شادی شدہ ہیں۔
ابھی جب میں یہ سطور لکھ چکا ہوں ، تو پاکستان سے فون پر ایک نہایت تکلیف دہ اطلاع ملی ہے کہ میری ہمشیرہ عنایت بیگم مورخہ 28 فروری 2005ء قضا الہی سے وفات پا گئی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے بڑے بیٹے بشیر احمد کا ایک بیٹا ہے، جس کا نام عثمان بشیر ہے، وہ دسویں کلاس کا طالب علم ہے ، دوسرا بیٹا افتخار احمد ہے اس کی تین بیٹیاں ہیں، ہمشیرہ صاحبہ کی اچانک وفات پر میں پاکستان نہیں جا سکا کیونکہ PIA کی فلائیٹ چند روز بعد جانی تھی، لہٰذا میرے لئے ہمشیرہ صاحبہ کے جنازہ پر بروقت پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
میں شاید پہلے کہیں لکھ چکا ہوں کہ امی جان کا نام فضل بیگم تھا ، ان کی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا، سب سے بڑی بہن یعنی میری خالہ جان کا نام حیات بیگم تھا، دوسری خالہ کا نام راج بیگم اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۰۹
صفحہ 109
ہمارے ماموں جان کا نام محمد تھا، ہمارے نانا جان کا نام چوہدری رستم علی تھا اور نانی جان کا نام نعمت بی بی تھا، بڑی خالہ جان موضع جید پور میں بیاہی ہوئی تھیں، اور اس سے چھوٹی خالہ راج بیگم موضع چھوکر خورد میں شادی شدہ تھیں۔ امی جان کا سسرال گاؤں میں ہی تھا گویا میرا ننھیال اور ددھیال ناگڑیاں ہی تھا۔
نانا جان بہت اچھے منتظم اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، پورے گاؤں میں ان کی بات مانی جاتی تھی اور ہر طبقہ ان کی عزت و احترام کرتا تھا، گاؤں کی پنچایت کے فیصلے وہی کرتے تھے، ان کا رنگ گورا اور قد دراز تھا، خوبصورت اور سڈول خدوخال کے مالک تھے، گاؤں کے تمام چھوٹے اور بڑے مرد اور خواتین ان کے سامنے سے نیچی نظر کر کے گزرتے تھے، یہ باتیں مجھے میری امی جان نے بتائی تھیں۔
ماموں جان محمد خان کے دو بیٹے چوہدری لال خاں اور حاکم علی تھے، اور ان کی تین بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی کا نام جنت بی بی، دوسری زینب بی بی، اور تیسری بیٹی کا نام نور بیگم ہے، جو میری ساس ہیں،
بھائی لال خاں کا ایک بیٹا برکت علی اور دو بیٹیاں فتح بیگم اور لطیف بیگم ہیں جن میں سے فتح بیگم فوت ہو چکی ہے، بھائی حاکم علی کا صرف ایک بیٹا ہے جو میرا ہم نام یعنی امانت علی ہے۔ چوہدری حاجی حاکم علی کا بڑا بھائی اور میرا ماموں زاد چوہدری لال خاں چند سال ہوئے وفات پا چکے ہیں۔
چوہدری لال خاں میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا سر پرست بھی تھے اور ہمارے اس بڑے بھائی میں بہت سی خوبیاں تھیں، وہ ہماری پوری برادری کے نگراں تھے اور خاندان کے سب فیصلے ان کی مرضی سے ہوتے اور ٹھیک ہوتے تھے۔ وہ ایک زمیندار اور بہت بڑے ڈیرے دار تھے۔ ان کی حویلی میں ہر وقت گاؤں بھر کے لوگوں کی محفل جمی رہتی اور حقے اور تمباکو اور چائے پانی کا دور چلتا رہتا تھا۔ لوگ رات گئے تک مختلف موضوعات جو گاؤں سے متعلقہ ہوتے تھے تبادلہ خیال کرتے تھے، دوسرے گاؤں سے گزرنے والے راہ گیروں کو اگر رات پڑ جاتی تو وہ بھی رات بسر کرنے کیلئے چوہدری لال خاں کی حویلی کا رخ کرتے تھے، ایسے لوگوں کو کھانا اور بستر مہیا کیا جاتا تھا،
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۰
صفحہ 110
بھائی لال خاں کو اعلیٰ نسل کے مویشی پالنے کا شوق بھی تھا، ان کی حویلی میں اعلیٰ نسل کے بیل، بھینس اور گھوڑیاں ہر وقت موجود رہتی تھیں سال میں ایک دو بار گھوڑ دوڑ کے مقابلے بھی کراتے تھے ، تقریباً 70 سال سے زائد عمر پا کر وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اب بھائی حاکم علی ہیں لیکن وہ رونقیں مفقود ہو چکی ہیں۔
بھائی لال خان کے صاحبزادے حاجی چوہدری برکت علی آج سے پچاس سال پہلے گاؤں سے لائل پور (فیصل آباد) نوکری کیلئے چلے گئے تھے ، ان دنوں ہمارے گاؤں کے ایک شخص عبداللہ خاں کا لائل پور میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا یعنی ان کے تین چار گڈز ٹرک تھے ، برکت علی کو وہ اپنے ساتھ لائل پور لے گیا اور اپنی گاڑی پر کنڈیکٹر لگا دیا، برکت علی نے کام کا آغاز کر دیا۔ کئی سال ٹرک کنڈیکٹری کرتا رہا دس سال بعد وہ ٹرک ڈرائیور بن گیا، محنت کرتے کرتے انہوں نے ایک پٹھان عجب رسول خاں جو پشاور کا تھا اس کے ساتھ ایک ٹرک میں چار آنے حصہ ڈال لیا ، ایک وقت ایسا آیا کہ چوہدری برکت علی اپنے ایک ٹرک کے مالک بن گئے۔
ایک بات اور بتاتا چلوں کہ چوہدری برکت علی پرائمری کی چند جماعتیں پاس تھا ہاں قرآن پاک پڑھا ہوا تھا، چوہدری برکت علی کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جواب بھی ہے کہ وہ محنتی اور ایماندار ہیں، کسی کے ساتھ دھوکہ فریب کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے ، وہ شروع سے صوم و صلوٰۃ کے پابند چلے آرہے ہیں۔ حج کا فریضہ بھی ادا کر چکے ہیں۔
چوہدری برکت علی محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے رہے۔ ایک گاڑی سے دو اور پھر دو سے تین، تین سے چھ گویا آج چوہدری حاجی برکت علی فیصل آباد میں فیصل آباد گجرات گڈز ٹرانسپورٹ نامی اڈے کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سات ٹرکوں کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک شاندار کوٹھی بھی عطا کی ہوئی ہے، دو بیٹے ہیں احسان اللہ ، اور نعیم اللہ دونوں اب اپنے والد صاحب کے کاروبار کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی اور صالح اولاد سے نواز رکھا ہے۔ محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا کے مصداق چوہدری برکت علی کا فیصل آباد گڈز ٹرانسپورٹ برادری میں اپنا ایک نام ہے اور ان کی ایمانداری، حلیم طبع، نیک خو اور پرہیز گاری کی وجہ سے فیصل آباد اور گاؤں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۱
صفحہ 111
چوہدری برکت علی کی زوجہ محترمہ میری زوجہ محترمہ کی چھوٹی بہن ہے، اور ان کی بڑی بیٹی میری بہو ہے، جو ہمارے ساتھ ڈنمارک میں رہ رہی ہے، اور ہمارے ایک پوتے حذیفہ سعید اور پوتی و نیزہ سعید کی ماں ہے۔
یہ مختصر سا ذکر تھا میرے ننھیال اور ددھیال کے ساتھ ساتھ میرے سسرال کا۔ اب واپس چلتے ہیں ڈنمارک میں آمد اور قیام کے موضوع کی طرف۔
ڈنمارک میں پہلے دس سال یعنی 1970 سے لیکر 1980 تک میں مختلف فیکٹریوں میں کام کرتا رہا، 1980ء میں میں نے بس کا لائسنس بھی حاصل کر لیا، اور پھر H.T یعنی شہری ٹرانسپورٹ میں سروس حاصل کرلی۔ 1980ء سے لیکر 2003ء تک میں نے H T بس سروس میں بطور بس ڈرائیور کام کیا ہے، یہ 23 سال کا عرصہ متواتر کام کرتا رہا، کام با عزت، صاف ستھرا تھا، تنخواہ بھی معقول تھی لہٰذا خاندان کی گزر بسر آسانی سے ہوتی رہی۔
تمام بچے چونکہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اس لئے تمام اخراجات کا بوجھ ہم دونوں میاں بیوی کے سر تھا، جوں جوں وقت آتا گیا ہم اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے رہے، اور ان کو علیحدہ مکان کا بندوبست کر کے بساتے رہے، بیٹیوں کو مکمل جہیز جس کی یورپ میں ان کو ضرورت تھی مہیا کرتے رہے، اور ہر بچے کی شادی پر کم از کم 400/500 تک مہمانوں کو مدعو کرتے رہے اور پاکستانی رسم و رواج کے مطابق مختلف کھانوں اور مشروبات کے ساتھ مہمانوں کی خاطر مدارت کرتے رہے۔
بچوں میں سے دو بیٹیوں کی شادی پاکستان جا کر کی گئی ان میں ایک شبانہ امانت اور دوسری صوفیہ امانت تھی، کیونکہ پاکستان میں خاندان والوں کا اصرار تھا کہ آپ سب بچوں کی شادیاں ڈنمارک میں ہی انجام دے رہے ہیں ہم اس خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہاں پر آکر کچھ بچوں کی شادی کریں تاکہ پورا خاندان بھی شمولیت اختیار کر سکے۔ اس لیئے ہم نے پھر دونوں بیٹیوں کو پاکستان لے جا کر شادی کی یہاں سے پوری فیملی کو پاکستان جانا پڑا۔
یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے تمام کام بخیر و خوبی انجام دیئے ہیں، ہمیں ہر کام میں خدائی تائید و حمایت اور مدد حاصل رہی ہے، ہم نے جب بھی کسی فرض کی ادائیگی کیلئے پروگرام بنایا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تمام وسائل مہیا کیے ہیں، ہم دونوں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۲
صفحہ 112
میاں بیوی کی کمائی میں اللہ تعالیٰ اتنی زیادہ برکت ڈال دیتا ہے کہ ہمارا ہر کام بخیر و خوبی اور بڑے احسن انداز میں پورا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، بلکہ اس کی گوناگوں نعمتوں کا انسان شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔
میں تو ہمیشہ کہتا ہوں کہ سب کچھ ہماری نیک اور حلال کمائی کا صلہ ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارا ایمان ہے کہ رزقِ حلال کے لقمے سے اولاد کی پرورش کرنے والے انسان بہت سی پریشانیوں سے دور رہتے ہیں، ہم نے سات بچوں کو پڑھایا، پالا پوسا ہے اور شادیاں کی ہیں۔ ہمیں اس دوران نہ بچوں کی طرف سے اور نہ ہی کسی دوسرے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، تمام کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاگئے ہیں اور ہم خود کو ایک کامیاب اور خوش قسمت والدین کی صف میں شمار کرتے ہیں اور یہ میرے اللہ کا فضل و کرم ہے کہ ہمیں ان تمام فرائض سے عہدہ برا ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔
ایک اور بات جو میں بتانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ وہ یہ کہ میں نے اپنے بہت سے اہل وطن کی طرح پاکستان میں جائیداد اور پلازہ جات کو ٹھیاں بنانے کو ہرگز ترجیح نہیں دی اور میری آج تک پاکستان میں اپنی آبائی جائیداد کے علاوہ دوسری کوئی خاص جائیداد نہیں ہے، صرف ایک دو پلاٹ کسی اچھے وقت میں خرید لئے تھے۔ سو وہ ابھی تک پڑے ہوئے ہیں، ان پر کوئی تعمیر نہیں کر سکا۔
اپنے گاؤں ناگڑیاں میں چند کمروں کا ایک مکان ہے جو پہلے سے ہی موجود تھا، مجھے بچوں کی تعلیم و تربیت سے اتنا وقت ہی نہیں مل سکا کہ کسی اور طرف توجہ دے سکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں بعض احباب کی طرح صرف کمائی کے پیچھے پڑ جاتا تو پھر میری زندگی کا کیا مصرف ہوتا۔ کیا اس شکل میں میں اپنی اولاد کی طرف توجہ دے سکتا تھا، ہرگز نہیں تو اس طرح سے میں اپنی عاقبت تو خراب کرتا ہی لیکن اولاد کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتا اور ان کی زندگی اجیرن بن جاتی۔
قدرت نے میرے ذہن میں پہلے دن سے ہی یہ بات ڈال دی تھی کہ رزق حلال کھانا ہے اور میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر میری اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کر گئی، اور وہ اپنے اپنے گھروں میں آباد ہوگئی، تو میری یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔
میں نے بچوں کو بتا دیا تھا کہ پاکستان میں نواب، وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ دار اپنی
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۳
صفحہ 113
اولادوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے یورپ اور امریکہ بھیجتے ہیں، اور ہمیں قدرت نے ایک موقع فراہم کیا ہے کہ ہم یہاں یورپ میں موجود ہیں، اس لئے اگر ہم یہاں رہتے ہوئے بھی تعلیم حاصل نہ کریں تو یہ ہماری بیوقوفی اور بہت بڑی حماقت ہوگی۔
بس اسی نظریے اور خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے اس منصوبے پر عملدرآمد کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال رہی ہے اور تمام بچوں نے میرا مان رکھ لیا ہے۔
آج میں خود کو ایک کامیاب انسان تصور کرتا ہوں اور ذہنی اور دلی طور پر اتنا مطمئن اور پر سکون ہوں کہ میں بتا نہیں سکتا، مجھے گھر سے خاندان سے اور باہر دوست احباب سے اتنی زیادہ عزت و احترام ملا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔
میرے بچے اور بچوں کے بچے جب ہمارے ہاں آکر ہم میاں بیوی کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کر پیار کرتے ہیں تو ہم خوشی سے نہیں سماتے اور ہمارا دل باغ باغ ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ الہی تو نے ہم پر کتنا کرم کیا ہے کہ ہمیں اتنی اچھی صالح اور نیک اولاد سے نوازا ہے جس کا اس مادہ پرست معاشرے میں گمان کرنا ہی مشکل ہے۔
ہمارے نواسے نواسیاں، پوتے اور پوتیاں اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ ہمارے ساتھ مانوس ہیں اور ، وہ جب اپنی چھوٹی چھوٹی بانہیں اٹھا کر ہماری طرف بڑھتے ہیں تو بے ساختہ ہمارے دلوں سے دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ ان معصوم کلیوں کی بھی اس معاشرہ میں حفاظت کرنا اور ان کو معاشرے کا ایک اچھا انسان بنانا۔ آمین
جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں نے 23 سال کا عرصہ بس ڈرائیوری کی ہے، اتنا لمبا عرصہ صرف ایک ہی کام کرنا میرے خیال میں بہت ہوتا ہے، ادھر جب میری عمر ساٹھ سال کے قریب پہنچی تو میں نے کام کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا، کیونکہ یہاں ڈنمارک میں قانون ہے کہ اگر کارکن ساٹھ سال کا ہو جائے اور اگر وہ چاہے تو کام ختم کر کے وقت سے پہلے پنشن حاصل کر سکتا ہے ، ورنہ اصل پنشن تو یہاں ڈنمارک میں 65 سال بعد ہوتی ہے۔ گویا قانون کے مطابق ہم لوگ پانچ سال پہلے پنشن لے سکتے ہیں۔
اس قانون کے تحت میں نے سوچا کہ 34/35 سال کام کیا ہے اور کام بھی مشین کی طرح کیا ہے کیونکہ یہ پاکستان نہیں ہے کہ ایک آدمی ہی درجن بھر لوگوں کا بوجھ اٹھاتا پھرے، یہاں پر ہر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۴
صفحہ 114
کسی کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے، پاکستان میں تو لوگ اپنی نیند سوتے اور اٹھتے ہیں مگر یہاں پر وقت کی پابندی لازمی ہوتی ہے، ورنہ تو لوگ اس معاشرے کے ساتھ چل ہی نہیں سکتے۔
یہ سوچ کر میں نے اپنے ٹرانسپورٹ کے آفس میں بتا دیا کہ میں کام ختم کر رہا ہوں، اور میں پنشن پر جانا چاہتا ہوں۔ میری کمپنی نے اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی اور میں نے کام کرنا بند کر دیا۔ میں دراصل میں چاہتا تھا کہ میں زندگی کے باقی دن سکون و آرام سے گزاروں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میں بھی بعض اپنے ہموطنوں کی طرح بس یا ٹیکسی کے سٹیئرنگ پر سر رکھے بس پیسہ کمانے کی فکر میں رہوں اور اسی فکر میں اگلی دنیا میں جا پہنچوں۔
میں نے سوچا کہ ہم نے اپنا اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور اب اولاد کو بھی اپنا فرض ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے، کیونکہ ہمارے بڑے بیٹے اظہر سعید نے انجینئر نگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کر کے اپنی ملازمت کا آغاز کر دیا تھا اور اللہ کے فضل و کرم سے اسے ایک بہت بڑی فرم میں باعزت نوکری مل چکی تھی اور ایک معقول آمدن یعنی تئیس ہزار کراؤن یعنی تین لاکھ روپے ماہوار کی نوکری مل گئی تھی ، جس میں اس کی تنخواہ میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔
بیٹے نے کہا کہ ابا جی اب آپ آرام کریں باقی کام ہم سنبھال لیں گے، اور ہم دونوں میاں بیوی ان دنوں گویا پنشن پر ہیں اور جب دل چاہتا ہے پاکستان جا کر چند ماہ گزار آتے ہیں۔
بیٹے اظہر سعید کا خیال تھا کہ اب ہمیں ایک اپنا گھر یہاں پر خرید لینا چاہیے تو میں نے اس کو کہا کہ بے شک مکان ضرور خریدیں تو ہم نے گلو سٹروپ میں ایک ہاؤس (ولا) خرید کر لیا ، جس کا Covered رقبہ 176 مربع میٹر ہے اور کل رقبہ ایک ہزار مربع میٹر ہے، پانچ بیڈ روم، دو باتھ روم اور ایک بہت بڑا ڈرائینگ روم (ہال) ہے۔ ہمارے اس مکان کی قیمت جب ہم خرید کیا تو 2.3 ملین کراؤن تھی یعنی 23 لاکھ ڈینش کراؤن پاکستانی روپوں میں اس کی قیمت ایک خطیر رقم بنتی ہے۔
آج اس مکان میں ہم دونوں میاں بیوی، بیٹا اظہر سعید ، ہماری بہو نگینہ کوثر اور ان کے دو بچے حذیفہ سعید اور ونیزہ سعید رہ رہے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی جگہ کافی ہے، اس لئے جب دوسرے بچے ہر اختتامِ ہفتہ پر ملنے کیلئے آتے ہیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتی۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۵
صفحہ 115
تحریک منہاج القرآن میں شمولیت
تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ محمد طاہر القادری 1985ء میں ایک علماء کانفرنس میں شمولیت کیلئے سکینڈے نیویا کے انتہائی شمالی ملک ناروے میں جب تشریف لائے تو کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد وہ ڈنمارک میں پاکستانی تارکین وطن کی دعوت پر ڈنمارک بھی آئے تھے۔
ناروے میں ان کا خطاب بہت علمی قسم کا تھا جس کو لوگوں نے بہت سراہا ، طاہر القادری 1985ء میں ایک 34 سالہ نوجوان سکالر تھے، ان کا لب ولہجہ تقریر کا انداز اور الفاظ کی بروقت ادائیگی سننے والوں کے دلوں میں گھر کر گئی ، جب وہ ڈنمارک میں آئے تو ان کے آنے سے پہلے ہی ان کی شہرت یہاں پہنچ چکی تھی۔ مجھے بھی انہیں سننے کا اشتیاق ہوا اور جلسہ گاہ میں پہنچ گیا۔
ان دنوں میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ (H.T) میں کام کرتا تھا، ڈیوٹی کا دن تھا، لہٰذا زیادہ ان کی تقریر تو نہ سن سکا، پھر بھی بہت اچھا لگا۔ ان کے واپس پاکستان جانے کے بعد ہمارے چند ساتھیوں نے مثلاً شیخ محمد اشفاق ، سعید احمد ، محمود حسین ایڈووکیٹ اور دیگر احباب نے بھی ڈنمارک میں منہاج القرآن تنظیم کی بنیاد رکھی۔ طاہر القادری صاحب کے خطابات کی کچھ ویڈیو کیسٹ بھی یہاں پہنچ گئی تھیں، ان کو سننے کا موقع ملا، طاہر القادری صاحب کے خیالات اور ان کا پروگرام عام دینی جماعتوں اور تنظیموں سے قدرے مختلف لگا لہٰذا میں بھی 1986ء میں اس تحریک کا لائف ممبر بن گیا۔
آہستہ آہستہ تحریک منہاج القرآن کے ارکان کی تعداد بڑھتی گئی اور اس طرح ڈنمارک ، پاکستان سے باہر پہلا ملک تھا جس کے تارکین وطن نے سب سے پہلے منہاج القرآن تنظیم کی بنیاد رکھی۔
دراصل پاکستانی لوگ 70-1969 سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے، لیکن ان کے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں لوگ اکٹھے ہو کر تبادلہ خیالات کر سکیں ، یہ کمی تحریک منہاج القرآن
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۶
صفحہ 116
نے پوری کر دی اور یہی وجہ تھی کہ ان دنوں لوگ جوق در جوق اس تنظیم میں شامل ہوتے چلے گئے۔
جب تنظیم یہاں بن گئی تو طاہر القادری صاحب نے پاکستان سے پروفیسر ظفر نواز صاحب کو یہاں پر اراکین کی تربیت اور امامت کیلئے بھیج دیا، انہوں نے شروع شروع میں نہایت ہی نا مساعد حالات میں اپنا کام جاری رکھا اور تنظیم کے پاؤں یہاں پر جمتے چلے گئے۔
اس کے بعد علامہ طاہر القادری صاحب ہر سال یہاں پر تشریف لاتے رہے اور ممبران اور وابستگان سے ملاقات اور درس و تدریس اور اسلام کے بارے میں خطابات کرتے رہے۔ یہاں منعقد ہونے والے جلسوں میں پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی تھی۔
جب طاہر القادری صاحب نے دیکھا کہ ان کی آواز پاکستان میں لاہور سے باہر اور بیرونِ ممالک یورپ (سکینڈے نیویا) میں بھی سنی جا رہی ہے اور ڈنمارک کے بعد ناروے میں بھی تنظیم قائم ہو گئی تو انہوں نے 25 مئی 1989 کو لاہور موچی دروازہ کے وسیع گراؤنڈ میں سیاسی جماعت پاکستانی عوامی تحریک کے قیام کا اعلان کر دیا۔
یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس اعلان سے پہلے علامہ طاہر القادری صاحب نے اعلان کر رکھا تھا کہ منہاج القرآن ایک دینی تنظیم ہے اور میں نے اپنی تصانیف خطابات اور دیگر ذرائع سے دین کی خدمت کیلئے خود کو وقف کر رکھا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ میں سیاست میں کبھی بھی حصہ نہیں لوں گا اور نہ ہی کبھی کوئی حکومتی عہدہ قبول کرونگا۔ جب وہ اپنے خطابات میں اکثر فرماتے رہتے تھے کہ مذہب اور سیاست ، دینِ اسلام کے دو اہم ستون ہیں یعنی دین اور سیاست اگر علیحدہ ہو جائیں تو بقول اقبالؒ پھر چنگیزی ہی رہ جاتی ہے۔
جب علامہ طاہر القادری صاحب نے سیاسی جماعت کے قیام کا 25 مئی 89ء کو واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ جب تک قوت نافذہ اپنے ہاتھوں میں نہ ہو تب تک مصطفوی انقلاب کا سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔
ان کے سیاسی جماعت کے اعلان کے وقت موچی دروازہ کے تاریخی میدان میں لاکھوں پاکستانیوں کا جوش و خروش دیکھنے سے قابل تھا، چونکہ میرا اپنا مزاج بھی سیاسی تھا، لہٰذا عوامی تحریک کے قیام کا اعلان دل کو بھا گیا اور ، ہم نے ڈنمارک میں بھی پاکستان عوامی تحریک کی برانچ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۷
صفحہ 117
ادارہ منہاج القرآن ویلبی میں ہے (ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ادارہ منہاج القرآن ویلبی کی وسیع عمارت جو تین منزلہ ہے منہاج القرآن ڈنمارک کے لئے صدر شیخ محمد اشفاق نے جو قالینوں کا کاروبار کرتے ہیں انہوں نے اپنے لئے خریدی تھی کیونکہ ادارہ کے پاس کچھ زیادہ رقم نہیں تھی ، اور اس بلڈنگ کی قیمت 2 ملین ڈینش کراؤن تھی ، شیخ صاحب نے وہ عمارت خرید کر تحریک منہاج القرآن کے سپرد کر دی ، اور پھر قسطوں میں وہ رقم وصول کرتے رہے ، یہ ان کی تحریک منہاج القرآن اور دین اسلام اور پاکستان کے ساتھ گہری محبت کی جیتی جاگتی مثال ہے)۔
پاکستان عوامی تحریک کے ڈنمارک میں قیام کیلئے رفقاء کا اجلاس بلایا گیا تا کہ سیاسی جماعت کے عہدے داروں کا چناؤ کیا جائے، الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا اور اس کی نگرانی میں انتخابات ہوئے۔ مجھے راقم الحروف امانت علی چوہدری کو بلا مقابلہ پاکستان عوامی تحریک کا صدر منتخب کر لیا گیا اور چوہدری محمد اکرم جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ باقی عہدے دار بنا کر ہم نے یہاں ڈنمارک میں پاکستان عوامی تحریک کیلئے لابی کا کام کرنا شروع کر دیا۔
1990ء کی بات ہے کہ میں نے یہ سوچا کہ پاکستان عوامی تحریک کے منشور کو جو پاکستان کی سب سیاسی جماعتوں سے اچھا اور جاندار تھا اسکی تشہیر کیلئے ہمارا اپنا پرنٹ میڈیا ہونا ضروری ہے ۔ اس کیلئے چونکہ یہ میرا اپنا فیصلہ تھا اور میں بطور صدر اس کو نہایت ہی اہم سمجھتا تھا تو میں نے ایک ماہنامہ جریدے ”عوام“ کے نام سے شروع کیا۔
یادر ہے کہ ان دنوں کسی اردو پروگرام کی یہاں کوئی سہولت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی کمپیوٹر وغیرہ ہوتا تھا۔ گویا میں نے خدا کا نام لیکر اپنے ہاتھوں سے ہی لکھنا شروع کر دی۔ لکھائی قابل قبول تھی لہٰذا کام چل گیا۔ میں نے دو سال تک یہ کام کیا اس کے اخراجات یعنی چھپوائی وغیرہ کا خرچ اپنی جیب سے ادا کیا کرتا تھا اور اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ یہ عوامی ڈیوٹی بھی ادا کرتا رہا، بفضل تعالیٰ ہماری یہ کوشش رنگ لائی اور ڈنمارک میں یہ خاکسار پاکستان عوامی تحریک کی پہچان بن گیا اور بعد میں کئی سال بعد بھی یہاں کے لوگ مجھے عوامی تحریک کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔
1991ء میں پاکستان عوامی تحریک نے جس کی عمر صرف ایک سال تھی پاکستان میں عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ میرے خیال میں یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۸
صفحہ 118
کی دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پاکستان عوامی تحریک ابھی نو مولود تھی اس کو مزید کام کرنے کی ضرورت تھی لیکن شاید ہماری قیادت کو کچھ جلدی تھی یا وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو چکی تھی تو وہ چاروں صوبوں میں الیکشن میں کود پڑی۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی بدعنوانی عروج پر رہے ایک نئی جماعت کا الیکشن میں کود پڑنا اور پھر کوئی نتائج اخذ نہ کرنا ، ممبران اور وابستگان کو اس سے قدرے مایوسی ہوئی لیکن پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اپنی علمی صوابدید سے لوگوں کو قدرے مطمئن کر دیا۔
گو اس سے پہلے جب انہوں نے سیاسی جماعت کا اعلان کیا تھا تو کچھ لوگ جو ان کا سیاست میں آنا اچھا شگون نہیں سمجھتے تھے وہ تحریک منہاج القرآن سے علیحدہ ہو گئے ۔ ادھر جب 1991ء میں پاکستان عوامی تحریک نے الیکشن میں کوئی نشست حاصل نہ کی تو اس وقت بھی کچھ لوگ جو کسی سیاسی لالچ کی وجہ سے جماعت میں شامل ہوئے تھے وہ بھی بھاگ گئے۔
دراصل پاکستان میں لوگ دیکھتے ہیں شاید یہ جماعت نئی آئی ہے اور ممکن ہے یہ اسمبلی میں چلی جائے اور اس طرح اس کی ٹکٹ پر کامیاب ہو کر ہم بھی ایوانِ سیاست میں قدم رکھ سکیں گے۔ پروفیسر علامہ محمد طاہر القادری جیسا کہ میں نے بتایا کہ وہ ہر سال یورپ کے ممالک کا دورہ کرتے رہتے ہیں تا کہ تحریکی رفقاء سے رابطہ رہے۔
پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاستدان اور ایک بہترین منصوبہ ساز بھی ہیں اور انہوں نے جن حالات میں تحریک منہاج القرآن کی لاہور شہر میں بنیاد رکھی اور جس طرح اس کو رفتہ رفتہ قدم بقدم آگے بڑھاتے چلے گئے یہ ان کا ہی خاصہ ہے اور میرے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری نے جو منصوبہ بندی کی ان کے تیز دماغ کی ہی مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ پاکستان سے ان کے منصوبے کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکے گی کیونکہ پاکستان میں چندہ دینے والے لوگ بہت کم ہونگے ۔ اس لئے انہوں نے اپنی تحریک کو بیرون ممالک میں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا کیونکہ بیرون ممالک یورپ مڈل ایسٹ، ایشیائی ممالک ، اور کینیڈا، امریکہ جیسے ممالک میں تنظیمات قائم کر کے انہوں نے سرمایہ کاری کی اور درجنوں بیرونی ممالک سے سرمایہ پاکستان میں منتقل کیا اور اس سرمائے کو منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن لاہور اور
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۱۹
صفحہ 119
بغداد ٹاؤن لاہور میں دفاتر اور یونیورسٹی، اور سکولوں کی شکل میں لگایا۔
پروفیسر صاحب نے اپنے ماننے والے رفقاء اور وابستگان کو یہ باور کرایا کہ میں اپنے نام کوئی پراپرٹی نہیں لگاؤں گا اور مجھ پر اس طرح کا ایک ایک پیسہ حرام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ممالک میں جو جو ادارہ منہاج القرآن قائم کیا جائے کوشش کریں کہ وہ خرید لیا جائے اور یہ پراپرٹی تحریک منہاج القرآن کے نام رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔ اس طرح اس وقت تک یورپ کے تقریباً سبھی ممالک، مڈل ایسٹ، کینیڈا، امریکہ، جاپان ، کوریا ، وغیرہ میں منہاج القرآن کے نام پر بڑی بڑی عمارتیں لوگوں نے خریدی ہیں۔
ایک مرحلہ یہ بھی آیا ، کہ لاہور سے حکم آیا کہ قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے ایک ملک گیر تعلیمی منصوبے کا اعلان کر دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستانی عوام میں تعلیمی شعور پیدا نہیں ہو گا ہمارا کسی الیکشن میں کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے ہم کو ملک بھر سے ناخواندگی اور جہالت کو دور کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں ایک ایک یونیورسٹی اور تمام اضلاع میں ڈگری کالج اور مڈل سکولوں کے علاوہ دس ہزار سکول کھولیں گے اور اس طرح پاکستان کے غریب عوام کو تعلیم جیسی نعمت سے نوازیں گے۔ اس منصوبے کی بیرون ممالک تنظیمات میں تشہیر کی گئی اور لوگوں کو بتایا گیا کہ آپ لوگ پاکستان میں اپنے اپنے علاقوں میں سکول کھولنے کیلئے جگہ مہیا کریں اور مالی امداد بھی کریں۔
یہ قدرتی بات ہے کہ وطن سے دور پاکستانیوں کو جب بھی پاکستان میں لوگوں کی مدد کیلئے بلایا گیا ہے تارکین وطن نے اپنی بساط سے بڑھ کر مالی مدد کی ہے۔ اس تعلیمی منصوبے میں بھی تارکین وطن رفقاء نے دل کھول کر مدد کی اور بہت سے لوگوں نے اپنی قیمتی زمین سکولوں اور کالجوں کیلئے وقف کر دی بلکہ وہاں پر کالج یا سکول کی تعمیر کیلئے بھی سرمایہ مہیا کیا، اور جب یہ سکول یا کالج تیار ہو گیا تو اس کی ملکیت منہاج القرآن کے نام ہو جاتی۔۔
ان دنوں تعلیمی پراجیکٹ والا جوش و خروش کچھ ماند پڑتا ہوا نظر آرہا ہے وہ ہزاروں اور سینکڑوں کالج وسکول تو نہیں بن سکے لیکن جو بن چکے ہیں ان کی آمدن منہاج القرآن کے کھاتے میں ہی جارہی ہے۔ دوسری طرف منہاج القرآن ویلفیئر سوسائٹی کی شاخیں بیرون ممالک میں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۰
صفحہ 120
بھی منہاج القرآن کے تحت بنائی گئی ہیں۔ یہ تمام ویلفیئر سوسائٹیاں تقریباً ساٹھ ممالک میں سے ہر سال زکوٰۃ، فطرانہ، قربانی اور قدرتی آفات کی مد میں کروڑوں روپے جمع کرتی ہیں۔
لاہور میں ایک جگہ پر ہسپتال کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور ملک بھر میں اور بیرونی ممالک میں ہسپتال کی خوبصورت وسیع عمارت کا نقشہ ، اس کے مختلف شعبہ جات اور بیڈوں کی تعداد کی خوب تشہیر کی گئی اور بہت سرمایہ اکٹھا ہوا۔ لیکن خدا معلوم ہسپتال کی تعمیر کا کام کیوں بند کر دیا گیا ہے۔ جو ڈھانچہ تیار ہوا تھا وہ بھی گر رہا ہے ، جو کمرے تیار ہوئے تھے ان میں جالے لگ رہے ہیں اور پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔
تحریک منہاج القرآن کے رفقاء اور وابستگان اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی کسی نے پوچھا ہے کہ آخر معاملہ کیا ہے، ۔ کام کیوں روک دیا گیا ہے اور نہ ہی خود کسی انتظامیہ نے بتانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ بات پاکستان عوامی تحریک کی ہو رہی تھی کہ درمیان میں یہ دوسرے موضوع نکل آئے۔
پاکستان عوامی تحریک کے قیام کے ساتھ ہی ”مصطفوی انقلاب فنڈ“ قائم کر دیا گیا بیرون ممالک سیاسی تنظیمات نے اس فنڈ میں کروڑوں روپے ارسال کئے ۔ ہمارا نعرہ تھا کہ جوانیاں لٹائیں گے انقلاب لائیں گے۔۔۔۔ جرات و بہادری طاہر القادری۔۔
ہر موقع پر اور ہر جلسے میں یہ نعرے اور اس کے علاوہ دیگر بہت سے نعرے لگائے جاتے تھے۔ رفقاء اور وابستگان سمجھتے تھے کہ اب پاکستان میں اسلامی مصطفوی انقلاب آیا ہی چاہتا ہے، قائدِ انقلاب پروفیسر محمد طاہر القادری کے مذہبی خطابات کے ساتھ ساتھ سیاسی خطابات بھی زوروں پر تھے۔ سیاسی خطابات مصطفوی انقلاب کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتے تھے۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ 91-1990 کے انتخابات میں پاکستان عوامی تحریک کو کوئی نشست ملتی تھی نہ ملی کیونکہ ایسے معجزے ہونا بند ہو چکے تھے کوئی جماعت بنے اور صرف ایک سال بعد وہ ملک بھر میں الیکشن پر اپنے امیدوار کھڑے کر کے اور کامیاب ہو کر انقلاب لے آئے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں فیوڈل ازم کا دور دورہ ہو، ایسی باتیں ناممکنات میں سے ہیں۔ ان انتخابات میں ناکامی کے بعد پروفیسر صاحب نے کہا کہ ملک میں تعلیمی شعور کی کمی ہے لوگ زیادہ تر جاہل ہیں، وہ اچھے برے کی پہچان نہیں رکھتے اس لئے ہم دو سال کیلئے اپنی سیاسی سر
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۱
صفحہ 121
گرمیوں کو بند کر کے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو تعلیم جیسی نعمت سے مالامال کر کے ان میں ایک شعور پیدا کیا جائے جس کے بعد جب ہم الیکشن لڑیں گے تو جیت ہماری ہو گی۔ گویا اس سے پہلے کروڑوں روپیہ مصطفوی انقلاب کے نعرہ پر جمع کیا گیا اور پھر تعلیمی منصوبہ پر کروڑوں روپیہ حاصل کیا گیا۔
1993ء کے بعد پھر سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ عوامی تحریک، فقہ جعفریہ، اور تحریک استقلال کا اتحاد ہوا جو بہت جلد ہی ختم ہو گیا۔ پھر ایک وسیع تر اتحاد (قومی اتحاد) قائم ہوا جس میں پیپلز پارٹی سمیت دیگر درجن بھر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوئیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اس اتحاد کے پہلے صدر بنے۔ بہت زور اور شور شرابہ مچایا گیا، اتحاد کے متعدد جلسے اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں، سیاسی جلسوں میں پارٹی کے ممبران اپنی اپنی پارٹی کے جھنڈے لہراتے تھے اور ایک طرف اگر نعرہ لگتا تھا، بے نظیر وزیر اعظم تو دوسری طرف اس جلسے میں پاکستان عوامی تحریک کے لوگ نعرہ بلند کرتے ’طاہر القادری وزیر اعظم‘۔
ایسے اتحاد جن میں نیتیں صاف نہ ہوں زیادہ دیر نہیں چلا کرتے۔ ایک سال بعد طاہر القادری صاحب نے اپنی جماعت کو اس اتحاد سے علیحدہ کر لیا۔
1994ء میں جب انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں پارٹیوں نے اکثریت حاصل کی اور دیگر جماعتوں نے بھی چند سیٹیں جیت لیں۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بن گئیں اور نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے لیکن پاکستان عوامی تحریک کو اس بار بھی کوئی سیٹ نہ مل سکی۔
اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ بے نظیر صاحبہ کی حکومت ختم کر دی گئی، دوبارہ الیکشن ہوئے اور یہ 1997ء کی بات ہے۔ اس بار نواز شریف بڑی اکثریت کے ساتھ الیکشن جیت گئے اور نواز شریف نے خود وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال کر حکومت کرنی شروع کر دی۔ پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کی وجہ سے نواز شریف نے آئین میں من مانی ترجیحات کرنا شروع کر دیں اور خود کو ایک آمر مطلق کے مقام پر کھڑا کر دیا۔
ملک بھر میں بدامنی، قتل، چوری، ڈکیتی، بدعنوانی اور بے روزگاری کا دور دورہ ہو گیا۔ عوام چیخ اٹھی، تمام سیاسی پارٹیاں بھی دادویلا کرنے لگیں، حتیٰ کہ سیاسی پارٹیوں نے یہاں تک کہنا شروع
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۲
صفحہ 122
کر دیا کہ افواج پاکستان کو مداخلت کر کے ملک کو اس جابر و ظالم حکمران سے نجات دلانی چاہیے۔ فوج پس و پیش کرتی رہی تا آنکہ آخر کار نواز شریف نے فوج پر بھی ہاتھ ڈال دیا کیونکہ اس سے پہلے وہ ایک کمانڈر انچیف سے استعفیٰ لے چکے تھے۔
اس دفعہ فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف تھے۔ نواز شریف اور مشرف کارگل کی جنگ کی وجہ سے ایک دوسرے کے مخالف ہو گئے۔ کارگل کی جنگ میں پاکستان کی فوج کو کامیابی حاصل ہو رہی تھی جبکہ ہندوستان کو کافی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ بھارت نے امریکہ کو کہا کہ جنگ بندی کرائی جائے۔
امریکہ کے صدر کلنٹن نے نواز شریف کو فوراً امریکہ پہنچنے کیلئے حکم دیا۔ میاں نواز شریف صاحب اسی وقت امریکہ یاترا کے لئے روانہ ہو گئے اور واشنگٹن جا کر جنگ بندی پر دستخط کر دیئے۔
اس طرح پاکستان کی افواج کو پیچھے ہٹتے ہوئے بہت نقصان اٹھانا پڑا اور پھر یہی وہ مقام تھا جہاں جنرل مشرف اور نواز شریف کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور پھر جب جنرل پرویز مشرف سری لنکا کے سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے تو نواز شریف نے انہیں برطرف کر کے ایک اپنی مرضی اور پسند کے جنرل ضیاء الدین بٹ کو افواج پاکستان کا سربراہ بنا دیا اور پاکستان میں موجود کور کمانڈروں نے ضیاء الدین کو اپنا سر براہ ماننے سے انکار کر دیا۔
ادھر جنرل پرویز مشرف کے جہاز کو اترنے سے روکا گیا لیکن جنرل مشرف کے ساتھیوں نے نواز شریف کی سازش کو ناکام بنا دیا اور اس طرح سے جنرل پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا اور نواز شریف حراست میں لے لیئے گئے اور بعد میں کسی مبینہ سمجھوتے کے بعد جو پاکستان کے حکمرانوں کے بقول سعودی حکومت اور پاکستان کی فوجی حکومت کے درمیان طے پایا تھا، اس کے تحت میاں نواز شریف کو پورے خاندان سمیت ملک بدر کر کے سعودی عرب روانہ کر دیا گیا جہاں وہ عرصہ پانچ سال سے جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور جس کے بعد اپنے بیٹے کی علالت کو بنیاد بنا کر اسکے علاج کے لیئے سعودی عرب سے لندن روانہ ہو گئے جہاں انکے بھائی شہباز شریف پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔
لندن پہنچنے کے بعد کچھ عرصہ تو بڑے میاں صاحب نے خاموشی سے وقت گزارا لیکن بعد
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۳
صفحہ 123
میں انہوں نے باقاعدہ سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں اور ابھی حال ہی میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیئے ہیں جسے بقول انکے پاکستان میں جمہوری حکومت کی بحالی کی کلید بتایا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کو ’میثاقِ جمہوریت‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پاکستان عوامی تحریک نے فوجی حکومت کے ساتھ تعاون شروع کر دیا، جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں پاکستان عوامی تحریک نے بھر پور حصہ لیا اور جنرل مشرف کی اس مہم میں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر کارکنوں نے حصہ لیا۔
تادمِ تحریر پاکستان میں جنرل مشرف کی حکومت کے تحت ہونے والے آخری انتخابات کیلئے اتحاد بنتے رہے لیکن الیکشن کے وقت عوامی تحریک کو نظر انداز کر دیا گیا۔ عوامی تحریک نے اکیلے ہی الیکشن میں حصہ لیا لیکن علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی اپنی نشست کے سوا اور کوئی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔ دراصل عوامی تحریک کی قیادت نے ریفرنڈم کے بعد فوجی حکومت کے خلاف بیان بازی شروع کر دی جس وجہ سے حکومت نے عوامی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
جناب طاہر القادری کی عوامی تحریک کے کارکنوں کو انتخابی نتیجے سے بہت مایوسی ہوئی اور ہم جیسے لوگ بھی جنہوں نے اپنی زندگیاں تحریک کے لئے وقف کر رکھی تھیں وہ بھی بہت مایوس ہوئے کیونکہ عوامی تحریک کی قیادت نے عوامی روپیہ بے دردی اور بغیر کسی پلاننگ کے خرچ کر دیا تھا آخر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ایک موقع پر قومی اسمبلی کی اپنی نشست سے بھی استعفیٰ دے دیا، اور کہا کہ میں ایک آمر مطلق کی حکومت میں حصہ دار نہیں بننا چاہتا۔ طاہر القادری صاحب نے اراکین کو جمع شدہ سرمائے کا کوئی حساب نہیں دیا جس پر لوگوں کو یہ شک ہے کہ تحریک کے لیئے جمع کردہ سرمایہ خرد برد ہو چکا ہے، ایسے میں بہت سے لوگ ادارہ منہاج القرآن سے بدظن ہو چکے اور ان کا قیادت پر سے اعتماد اٹھ گیا۔
جو لوگ تحریک منہاج القرآن کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھے مایوس اور پریشان ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ کیا پاکستان میں کسی جماعت یا پارٹی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر کسی نے ورکروں کے اعتماد کو ہمیشہ ٹھیس ہی پہنچائی ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب گویا اب عملی سیاست سے کنارہ کشی کر چکے ہیں۔ ممبران کہتے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۴
صفحہ 124
ہیں کہ اگر اتنی جلدی ہتھیار ڈال دینے تھے تو پہلے مصطفوی انقلاب کا نعرہ کیوں لگایا تھا اور لوگوں کے جذبات کو کیوں بڑھایا گیا تھا؟ کیا یہ سب کچھ پیسہ بٹورنے کیلئے تو نہیں تھا؟
مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اب ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا لباس بھی تبدیل کر لیا ہے اور انہوں نے پیروں اور مرشدوں جیسا لباس زیب تن کر لیا ہے۔ وہ لیڈر جو کبھی کہتے تھے کہ مذہب اور سیاست مل کر ہی دین بنتا ہے وہ اب صرف مذہب کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی وہ یہ کہا کرتے تھے کہ ”جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ اب وہ خود ہی سیاست کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
تحریک منہاج القرآن میں شمولیت سے لیکر اب تک میرے بہت سے تحفظات ہیں جن کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کیونکہ بات بہت لمبی ہو جائے گی، میں کسی اور کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم میں پوری ایمانداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اس تحریک سے مایوسی ہوئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامہ صاحب نے اپنی تحریک کو جہاں تک پہنچانا تھا اور جو منصوبہ بندی آغاز میں کی گئی تھی وہ اب مکمل ہو چکی ہے۔
دنیا بھر میں تنظیمات اور ایسے ممبران تیار ہو چکے ہیں جو آنکھیں بند کر کے پیچھے چلتے ہیں اور یہ سلسلہ اب چلتا رہے گا کیونکہ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو لکیر کے فقیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستانی قوم کی حالت پر کرم کرے اور اسے سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۵
صفحہ 125
چوتھا باب
حج اور عمرہ کی سعادت
میں نے اور میری اہلیہ (رشید بیگم) نے 1997ء کو فریضہ حج ادا کر لیا تھا۔ لیکن دل میں ایک خواہش ہر وقت موجود تھی، اللہ تعالیٰ ایک بار پھر اپنے اور اپنے حبیب ﷺ کے گھر کی زیارت کروائے وقت گزرتا رہا دل میں خواہش مچلتی رہی۔ آخر ستمبر 2004ء کو پاکستان جانے کا پروگرام بنا تو سوچا کیونکہ ہم عمرہ ادا کرتے ہوئے پاکستان روانہ ہوں تو ہم دونوں میاں بیوی نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے رختِ سفر باندھا اور ہم ایک بار پھر خانہ کعبہ میں اللہ کے حضور حاضر تھے جہاں ہم نے عمرہ ادا کیا اور متبرک مقامات کی زیارت کی گئی۔
ایک ہفتہ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران تمام نمازیں بیت اللہ شریف میں ادا کرتے رہے، اپنے گناہوں کی بخشش کیلئے اللہ تعالیٰ سے التجا کی گئیں۔ اولاد کی کامیابی، اور ان کو ہر شر سے محفوظ رہنے کی دعائیں کی گئیں۔ مکہ مکرمہ میں گزشتہ برسوں کی نسبت بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ۱۹۹۷ میں جب ہم حج بیت اللہ کے لیئے گئے تھے اس کی نسبت ۲۰۰۴ میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔
طوافِ کعبہ کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ حج کے زمانے میں بے پناہ ہجوم کی وجہ سے کوئی بھی شاید پورے انہماک سے طواف نہیں کر پاتا لیکن عمرے میں پورے خشوع و خضوع کے ساتھ لگ بھگ تمام ارکانِ عمرہ بجالائے جاسکتے ہیں۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۶
صفحہ 126
دراصل اگر غور کریں تو طواف ہی وہ عمل ہے جس سے حج وعمرہ کا عمل تکمیل پاتا ہے۔ یہ طواف ہے کیا؟ دل چاہتا ہے کہ طواف کے بارے میں کچھ تحریر کرتا چلوں۔
طواف کے معنی بیت اللہ کے چاروں طرف ایک خاص طریقے سے سات چکر یعنی سات مرتبہ گھومنا ہے۔ طواف کی ابتداء حجر اسود سے ہوتی ہے، اس لئے جس کونے میں حجر اسود لگا ہوا ہے، حکومت سعودیہ نے اس جانب کالے پتھر کی ایک لمبی لکیر بنادی ہے، اس لیئے ضروری ہے کہ اسی مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ لکیر کے قریب پہونچ جائیں تو لکیر سے آدھا فٹ قبل بائیں طرف بیت اللہ کی جانب منہ کر کے کھڑے ہو جائیں، اسکے بعد اضطباع کریں یعنی داہنے کندھے کے نیچے سے چادر نکال کر بائیں کندھے پر ڈال دیں، اس کے بعد طواف کی نیت کریں، اور یہ بات یاد رکھیں کہ طواف میں نیت فرض ہے، بغیر نیت کے طواف ادا نہیں ہوگا۔
اب دہنی طرف اتنا ہٹیں کہ آپکے پاؤں سیاہ لکیر پر آجائیں اور حجر اسود ٹھیک آپکے سامنے ہو جائے اسکے بعد یہ دعا پڑھیں: بِسمِ اللهِ، اَللهُ اَكْبَرُ، وَ لِلهِ الحَمْد. مذکورہ دعا کیساتھ اپنے دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیں جس طرح نماز میں کانوں تک اٹھاتے ہیں اور پھر چھوڑ دیں اور حجر اسود کو سلام کر کے یا بوسہ دیکر دہنی طرف گھوم کر طواف شروع کریں۔
مرد پہلے تین چکروں میں رمل کرے یعنی جھپٹ کر تیزی کیساتھ چلے، زور سے قدم اٹھائے۔ قدم نزدیک نزدیک رکھتے ہوئے کندھوں کو اچھی طرح خوب ہلاتا ہوا چلے۔ اور مابقیہ چار چکر اپنی اصلی رفتار سے پورے کریں۔ آپکو بیت اللہ کے گرد گھوم کر سات چکر پورے کرنے ہیں، ہر چکر حجر اسود والے کونے سے شروع ہوگا اور وہیں آکر پورا ہوگا۔
ہر چکر پورا ہونے پر آپکو بِسمِ اللهِ، اَللهُ اَكْبَرُ، وَ لِلهِ الحَمْد پڑھ کر حجر اسود کو بوسہ یا سلام کر کے نیا چکر شروع کرنا ہے اور جب جب رکنِ یمانی پر پہونچیں تو اس کو دونوں ہاتھ یا صرف دائیں ہاتھ سے چھو لینا سنت ہے، اس کو بوسہ دینا خلاف سنت ہے، ہاں مگر اس بات کا خیال رکھیں کہ سینہ بیت اللہ کی طرف مڑنے نہ پائے، اگر رکنِ یمانی پر ہاتھ لگانے کا موقع نہ ملے تو بغیر ہاتھ لگائے گذر جائیں۔ اسطرح جب سات چکر پورے کر کے ساتویں چکر کے اختتام پر حجر اسود کو بوسہ دینگے تو یہ اس طواف کا آٹھواں بوسہ ہوگا۔ ایک بوسہ وہ جو طواف شروع کرتے وقت لیا تھا اور سات بوسے، سات چکروں کے۔ اسطرح مجموعی آٹھ بوسے ہونگے۔
دورانِ طواف کوئی مخصوص دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے، اگر دعائیں یاد نہ ہوں تو اپنی مادری
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۷
صفحہ 127
زبان میں اللہ تعالیٰ سے جو مانگنا چاہیں مانگتے رہیں۔ بیت اللہ کے گرد سات چکر لگانے کے بعد آپ کا طواف ہو جائیگا۔ مگر اچھا یہ ہے کہ کم از کم مذکورہ یہ دو دعائیں ضرور یاد فرما لیں۔
(۱) سُبْحَانَ اللهِ، وَ الحَمْدُ لِلهِ، وَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَ اللهُ اَكْبَرُ، وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ العَلِيِّ
(۲) رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ.
ساتوں چکروں میں حجر اسود سے رکنِ یمانی کے درمیان پہلے نمبر کی دعا اور رکنِ یمانی سے حجر اسود کے درمیان دوسرے نمبر کی دعا پڑھتے رہیں۔ ہر دو دعائیں اگر اسکی جگہ آنے سے پہلے پوری ہو جائیں تو اسی دعا کو مکرر پڑھتے رہیں۔
دوگانہ طواف: طواف کے بعد طواف کی دو رکعت نماز مقامِ ابراہیم کے پیچھے یا اس کے آس پاس جہاں بھی جگہ مل جائے کندھا ڈھانک کر پڑھ لیں۔ نماز اور دعا سے فارغ ہو کر اگر ممکن ہو تو ملتزم پر جائیں اگر ملتزم سے چمٹنے کا موقع نہ مل سکے تو حرم میں کہیں سے بھی ملتزم کی جانب منھ کر کے اسپر نظریں جما کر دعا کر لیجئے۔
زمزم کا پانی پینا: دعا کر کے زم زم شریف پر آئیے اور قبلہ رو ہو کر بسم اللہ پڑھ کے تین سانس میں خوب ڈٹ کر آبِ زم زم پیجئے، زم زم پی کر الحمد للہ کہہ کر یہ دعا پڑھیں۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا،
وَ رِزْقاً وَّاسِعًا، وَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاء
صفا و مروہ کے درمیان سعی:
صفا اور مروہ کے درمیان مخصوص طریقہ پر سات چکر لگانے کو سعی کہتے ہیں، حج اور عمرہ کرنیوالے پر سعی کرنا واجب ہے۔ جس طرح طواف حجر اسود سے شروع ہوتا ہے اسی طرح سعی بھی حجر اسود سے شروع کرنا سنت ہے۔ اس لئے حجر اسود کا چوم لیں یا دور سے اسکی جانب ہتھیلیاں اٹھا کر ہتھیلیوں کو چوم کر باب الصفا کی جانب بڑھیں۔ حجر اسود کی نشانی والی کالی پٹی کی سیدھ میں چلیں، اسی جانب صفا پہاڑی کا مقام ہے اور وہاں عربی وانگلش میں ”الصفا“ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
وہاں سے تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد پہاڑ کی علامت شروع ہو جاتی ہے۔ اب دل میں سعی کی نیت کریں اور زبان سے اس طرح پڑھیں: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ السَّعِيَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ سَبْعَتَه اَشْوَاطٍ لِوَجْهِكَ الكَرِيم، فَيَسِّرْهُ لِي وَ تَقَبَّلْهُ مِنِّي۔ پھر دونوں ہاتھ اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۸
صفحہ 128
طرح اٹھائیں جیسے دعا میں اٹھائے جاتے ہیں۔ اور خوب دعائیں مانگیں، اور دعا مانگتے ہوئے پہاڑی کی طرف چلیں۔ صفا مروہ کے بیچ بھی دل کی گہرائیوں سے دعائیں مانگیں اور یہ دعا پڑھتے رہیں: رَّبِّ اغْفِرْ ،وَ ارْحَمْ ، اَنْتَ الاعَزُّ الاكْرَمُ
صفا مروہ کے درمیان جب وہ جگہ آنے لگے جہاں دیوار میں سبز رنگ کے ستون لگے ہیں اور وہ جب بقدر چھ ہاتھ کی دوری پر ہو تو درمیانی چال سے دوڑنا شروع کریں اور دوسرے سبز ستونوں کے بعد بھی چھ ہاتھ تک دوڑیں، پھر اپنی چال چلنے لگیں۔
آگے مروہ پہاڑی آئیگی، اسپر چڑھیں اور بیت اللہ کی جانب رخ کر کے کھڑے ہو کر جسطرح صفا پہاڑی پر ذکر و شکر اور دعائیں کی تھیں اسی طرح یہاں بھی کریں، اب آپکا ایک چکر مکمل ہو گیا، اسکے بعد مروہ سے صفا یہ آپکا دوسرا چکر ختم ہوا، بس اسی طرح آپکو سات چکر مکمل کرنے ہیں۔ ساتواں چکر مروہ پہاڑی پر ختم ہوگا۔ اب آپ مطاف میں آکر کسی بھی جگہ دو رکعت نماز پڑھیں، شرط یہ ہے کہ مکروہ وقت نہ ہو۔
سر کا حلق: عمرہ کے تمام اعمال پورے ہو گئے اس لئے مسجد سے باہر نکل کر سر کا حلق یا قصر کروالیں، اب آپ کا عمرہ پورا ہو گیا اور آپکا احرام بھی ختم ہو گیا۔ اب احرام کی کوئی پابندی آپ پر نہیں رہی۔
یہ مختصر سا ذکر تھا طواف و سعی کا معلومات کے طور پر۔ اس سے قبل ذکر ہو رہا تھا مکے میں قیام کا جہاں سے ہم بذریعہ کار مدینہ شریف کیلئے روانہ ہوئے۔ ہمارے دوست اور کرم فرما الحاج مقبول حسین بھٹی، حج فاؤنڈیشن ڈنمارک والے، جو مکہ مکرمہ میں ہمارے پاس ڈنمارک سے پہنچ چکے تھے وہ مدینہ شریف جاتے ہوئے ہمارے ہم سفر تھے۔
راستہ میں مختلف علاقے اور آبادیاں دیکھتے ہوئے، ہم لوگ مقامِ بدر پر پہنچ گئے یہ وہی بدر کا میدان ہے جہاں پر مسلمانوں نے پہلی اسلامی جنگ کفارِ مکہ کے ساتھ لڑی تھی۔ ہم نے بدر میں ان شہداء کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی اور پھر مدینہ پاک کیلئے روانہ ہو گئے، یاد رہے کہ بدر کا مقام مدینہ شریف سے تقریباً ایک سو کلومیٹر پر واقع ہے۔
مدینہ شریف پہنچ کر ہم ہوٹل میں گئے، سامان وغیرہ رکھ کر غسل اور وضو کیا اور پھر مسجدِ نبوی میں نماز کیلئے چلے گئے، روضہ مبارک حضور ﷺ کی زیارت کی اور حضور ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں سلام پیش کیا۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۲۹
صفحہ 129
مدینہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا لغوی مطلب شہر ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں عرب کے جس صوبے کو حجاز کہا جاتا تھا مدینہ اس میں واقع ہے۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس شہر میں ہجرت کے بعد اس کو مدینۃ النبی کہنے لگے یعنی کہ نبی کا شہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے نبوت کے اعلان کے بعد دس سال بعد اس شہر میں مکہ سے ہجرت کی۔ آپ یہاں تشریف لائے تو اولین اسلامی ریاست کا دارلخلافہ یہی بنا۔ کثرتِ استعمال سے اس شہر کو مدینہ یا مدینہ منورہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقدس ”گھر خانہ کعبہ“ کے دیدار کے بعد زندگی کی سب سے بڑی اور عظیم الشان سعادت مسجد نبوی اور سرورِ کائنات کے روضہ اقدس کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ کی جانب روانگی ہی ہے۔
روضہ حضور کی زیارت بہت بڑی عبادت، ارفع درجات کا ذریعہ اور رضائے خداوندی کا وسیلہ ہے، اس کا حکم وجوب سے قریب قریب ہے اور بعض علماء کے نزدیک صاحب استطاعت حضرات پر واجب ہے، گنجائش اور استطاعت کے باوجود حضور کی زیارت کیلئے مدینہ طیبہ حاضری نہ دینا بہت بڑی محرومی، اور بد نصیبی ہے۔
حدیثوں میں اسکی بہت ہی تاکید اور ترغیب آئی ہے اور پھر حضور اکرم کی قبر مبارک کی زیارت کیلئے سفر کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحم اللہ علیہم سے بھی ثابت ہے۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ کی اجازت سے شام چلے گئے تھے اور وہیں نکاح بھی کر لیا تھا۔ ایک دن آنحضور کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ بلال یہ کیا ظلم ہے، ہماری زیارت کیلئے بھی وقت نہیں ملتا ! خواب دیکھتے ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے، سفر کیلئے اونٹنی تیار کی اور مدینہ منورہ حاضری دی، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبر سن کر حضرت حسنین کریمین تشریف لائے ، معانقہ کیا اور اذان دینے کی درخواست کی۔
نبی کے پیارے نواسوں کی خواہش پر حضرت بلال نے اذان دی۔ اذانِ بلال سنتے ہی مدینہ کے مرد اور عورتیں روتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے اور زمانہ نبوی کی یاد نے ہر ایک کو تڑپا دیا۔ اس واقعہ کو ذکر کرنیکا مقصد یہی ہے کہ زیارتِ روضہ اقدس کیلئے حضرت بلال کا سفر ثابت ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت ایسی پیدا کی ہے جو قاصدین زیارت کے تحفہ ہائے درود کو دربارِ نبوی میں پہنچاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ فلاں
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۳۰
صفحہ 130
بن فلاں زیارت کو آرہا ہے اور یہ تحفہ پہلے بھیجا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جب مدینہ منورہ کا زائر قریب پہنچتا ہے تو رحمت کے فرشتے تحفے لیکر اس کے استقبال کو آتے ہیں اور طرح طرح کی بشارتیں سناتے ہیں اور نورانی طبق اسپر نثار کرتے ہیں۔ اسی دیارِ حبیب ﷺ میں ہم نے ایک ہفتہ گزارا لیکن سچی بات یہ ہے کہ طبیعت سیر نہیں ہوئی بلکہ دیدارِ روضہ رسول کی پیاس اور بڑھ گئی ہے۔
انسان ازل سے مسافر ہے اور کسی نہ کسی شکل میں سفر انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اسی جاری سفر کے لیئے ہم مدینہ ایئر پورٹ سے بذریعہ سعودی ایئر لائن اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ اسلام آباد پہنچنے پر ایئر پورٹ پر ارشد، امجد اور دیگر خاندان کے چھوٹے بڑے ہمیں لینے کیلئے موجود تھے جو ہمیں گاڑی میں لے کر گجرات پہنچ گئے۔
پاکستان میں تین ماہ قیام کے بعد ہم میاں بیوی مورخہ 19 دسمبر 2004ء کو واپس ڈنمارک بچوں کے پاس آگئے، ابھی یوں آتے ہوئے ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ پاکستان سے اطلاع ملی کہ میری ہمشیرہ صاحبہ جو مجھ سے بڑی تھیں گوجرانوالہ میں قضا الہی سے وفات پا گئی ہیں۔
ابھی چونکہ زیادہ عرصہ پاکستان سے آئے ہوئے نہیں ہوا تھا اس لیئے فوری طور پر واپس جانا ممکن نہ ہو سکا اور ہم یہاں پر ہی رو دھو کر بیٹھ گئے۔ پردیس میں کسی کی موت کی خبر ہی سب سے بڑا دکھ ہوتی ہے۔ یہ کارزارِ حیات آمد و رفت سے ہی عبارت ہے اور اسی تناظر میں مورخہ 14 اپریل 2005ء کو پاکستان سے فون پر اطلاع ملی کہ میری زوجہ محترمہ کے والد صاحب اور میرے سسر چوہدری اکبر علی وفات پاگئے ہیں۔
یہ صدمہ ہمارے پورے خاندان کیلئے ناقابلِ برداشت تھا۔ ہمیں بروقت پاکستان کیلئے کوئی پرواز نہ مل سکی ، لہٰذا ہم دونوں میاں بیوی والد صاحب کی وفات کے تین دن بعد پاکستان پہنچ سکے۔ پوری فیملی گاؤں میں ہی جمع تھی ، میرے سسر چوہدری اکبر علی نہایت ہی سلجھے ہوئے مدبر اور ایک اعلیٰ سوجھ بوجھ کے مالک تعلیم یافتہ انسان تھے، پیشہ کے لحاظ سے وہ سکول ٹیچر تھے اس لحاظ سے انہوں نے علاقہ کے سینکڑوں اور ہزاروں لڑکوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔ وہ صوم الصلوٰۃ کے پابند تھے اور حج کا فریضہ بھی ادا کر چکے تھے۔ ان کا اپنے معاشرے میں ایک خاص مقام تھا۔ انکی دنیا سے رخصتی ہمارے پورے خاندان کیلئے ایک بہت بڑا خلا ہے۔ ایک بار پھر ہم لوٹ کر 19 جولائی 05ء کو واپس اپنے وطنِ ثانی ڈنمارک آگئے۔
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۳۱
صفحہ 131
آخری بات
یہ سطور لکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہاں ڈنمارک میں میرے جاننے والے ہو سکتا ہے سوچیں کہ، میں نے ڈنمارک میں اپنی پاکستانی برادری کی ان سرگرمیوں کا ذکر کیوں تفصیل سے نہیں کیا جن کا خود میں ایک حصہ رہا ہوں۔
میرے ہموطنوں کی یہ سوچ بجا لیکن اس کتاب کی تخلیق کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ میں اپنی سرگرمیوں کی تشہیر کروں لیکن اب یہ سطور لکھتے ہوئے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ڈنمارک میں 73 – 1972 میں جب پاکستانیوں نے اپنی ملک کی قومی تنظیم بنانے کا بیڑا اٹھایا تو میں اس تحریک میں شامل تھا اور پھر ہماری ہی جدوجہد سے ”پاکستانی سوسائٹی“ معرضِ وجود میں آئی۔ چوہدری ولایت خان اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ چوہدری ولایت خان شروع ہی سے اپنے آپ میں جس طرح سے پاکستانیوں کے لیے خدمات بجالارہے ہیں وہ ہم ہر ایک پر عیاں ہیں۔
اس وقت پاکستان سوسائٹی اور چوہدری ولایت خان لازم و ملزوم ہیں اور بدیگر الفاظ پاکستان سوسائٹی ولایت خان ہی کا دوسرا نام اور ان کی شخصیت کی مظہر ہے اور یہی پاکستان سوسائٹی ڈنمارک میں پاکستانیوں کی سرکاری طور پر واحد قومی نمائندہ تنظیم ہے۔
ڈنمارک میں اب تک دینی و سیاسی اور علمی و ادبی اور ثقافتی سطحوں پر جو بھی کام کیا ہے اس
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۳۲
صفحہ 132
میں ادارہ منہاج القرآن کی ڈنمارک میں شاخ کے قیام اور اپنے ذوق سلیم کو پورا کرنے کے لیے اردو کے رسائل کا اجراء میں اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتا ہوں اور ان جرائد کے ذریعے میں نے برادری کی جو خدمت کی ہے اور تا حال کر رہا ہوں یہ میرے لئے باعثِ سعادت ہے۔
میرے جاری کردہ جرائد ماہنامہ عوام، ماہنامہ دستک، ماہنامہ تحریک اور ماہنامہ وطن نیوز ، ڈنمارک میں اردو زبان کے احیاء کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ یہاں ڈنمارک میں میری اپنی برادری اور پاکستانی کمیونٹی میں سے کوئی یہ کہے کہ اس کتاب میں جہاں میں نے اپنے بارے میں سب کچھ لکھ دیا ہے وہاں اُن کے بارے میں کچھ کیوں نہیں لکھ سکا؟
میری طرح میرے ساتھ ہجرت کر کے یہاں ڈنمارک میں آباد ہونے والے میری اپنی برادری کے سبھی احباب میرے اپنے ہیں اور اسی طرح سب پاکستانی بھی میرے دل میں بستے ہیں۔ رہا سوال اس کتاب میں ان کے اَذکار کا، تو یہی تو ایک بات ہے ، کہ یہ کتاب کہانی تو ہے میری اپنی لیکن یہ افسانہ تو ہم سبھی کی ”داستانِ ہجرت“ ہے۔
اب اسے آپ کس رنگ میں لیتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔
ڈنمارک میں اپنے حوالے سے جب میں پاکستانی برادری کے ماضی کے شب و روز پر نگاہ ڈالتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ وقت کتنی تیزی کیساتھ گذر جاتا ہے۔
پچھلے پینتیس چھتیس سال میں یہاں ہماری کتنی ہی سوسائٹیاں اور تنظیمات قائم ہوئیں اور اب تک برادری کے رفاہی اصلاحی اور سماجی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں۔ گوجر فورم، انجمن آرائیاں، راجپوت سوسائٹی، لاہور سوسائٹی ، شہر اقبال کلچرل سوسائٹی اور چوہدری رحمت علی سوسائٹی وغیرہ کی خدمات سے کون واقف نہیں۔
اب یہاں اردو جرائد ہی نہیں بلکہ ریڈیو نشریات کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ ریڈیو ہم وطن، ریڈیو آپ کی آواز ، ریڈیو اسلام اور ریڈیو سند یا اور ٹی وی لنک کی نشریات ڈینش فضاؤں میں پاکستان کی آواز بن کر گونجتی ہیں۔
یہ وہ سبھی باتیں ہیں جو مجھے یہ احساس دلائے رکھتی ہیں کہ ہماری پاکستانی برادری کی یہ پیشرفت، ڈنمارک میں ایک ”چھوٹا پاکستان“ آباد کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔
آج ادارہ منہاج القرآن مسلم کلچرل انسٹی ٹیوٹ ویسٹربرو ، مرکز ثقافت اسلامی بیلا ہائے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۳۳
صفحہ 133
لیسبائے، ٹاسٹروپ البرٹسلنڈ، آماگر ہیلسنگور، اوڈنسے اور آرھس شہروں میں قائم مساجد اور دینی مراکز ہم پاکستانیوں کی دینی وملی جمعیت کا درخشاں ثبوت ہیں اور اس امر کی دلیل ہیں کہ ہم اس وطن ثانی ڈنمارک میں اللہ اور اس کے رسول نبی آخر الزماں خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ کے پیغامِ واحدانیت کے اولین علم بردار ہیں۔
میں کن کن باتوں کا ذکر کروں، کوپن ہیگن کے علاقے ویسٹربرو، نیر و برو، ویلبی ، آما گر اور کئی دوسرے علاقوں کے گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومتے ہوئے خود کو پاکستان ہی میں محسوس کرتا ہوں اور ان علاقوں میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی دوکانیں اور کاروباری مراکز دیکھ کر اللہ کی رحمتوں اور اپنے بھائیوں کی شب و روز کی محنت کے ثمر پر فخر محسوس کرتا ہوں۔
دوکانوں کے اردو زبان میں سائن بورڈ پاکستانیوں کی گہما گہمیاں، ہمارے ریسٹورنٹوں اور کیفے ٹیریاؤں پر لوگوں کا ہجوم شہر میں چلنے والی بسوں اور ٹیکسیوں کے پاکستانی ڈرائیوروں کا لوگوں کو ان کی منزلوں پر پہنچانا اور یہاں ڈنمارک میں ہمارے اپنے دو پاکستانی سکولوں جناح انٹر نیشنل سکول اور اقبال انٹرنیشنل سکول کا قیام ہمارے وجود کا ثبوت ہی تو ہیں۔
مختلف پاکستانی کاروباری ادارے، ٹریول ایجنسیاں اور ان میں آئے دن رونما ہونے والی پیشرفت ہماری برادری کی ترقی و خوشحالی ہی کا تو ثبوت ہے۔
میں اپنے اس سفر نامہ میں کئی احباب کا ذکر کر چکا ہوں جو ہر وقت مجھے یاد رہتے ہیں۔ ان میں کئی ایسے احباب بھی ہیں جواب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ میں ان سب کے لیے دعا گو رہتا ہوں۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتا رہے۔
الحاج چوہدری ماسٹر رحمت خان، جیسے مہربان احباب تو ہر وقت میرے دل میں موجود رہتے ہیں۔ ماسٹر رحمت خان تو میرے لئے ایک عملی خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس کتاب کی تیاری کے دوران میرے جن احباب اور اہل خانہ نے میری حوصلہ افزائی کی ، میرا ہاتھ بٹایا، میں ان سب کا ممنون و مشکور تو ہوں ہی لیکن اپنی اہلیہ رشید بیگم کا بطور خاص شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑے صبر و تحمل کیساتھ مجھے یہ سہولت فراہم کی کہ میں اس کام کو سر انجام دے سکوں۔
میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میری زندگی کی کامیابیوں میں جہاں مجھے رب العالمین کی رحمتیں میسر ہیں وہاں میری اہلیہ قدم قدم پر میرا حوصلہ بڑھاتی رہی ہیں اور آج بھی ہم ایک دوسرے
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)
۱۳۴
صفحہ 134
لئے یہی جذبہ لیئے ہوئے ہیں جو ہمیں زندگی کی راہوں پر کامیاب زندگی بسر کرنے کے لیے رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔
اب اپنی اس آخری بات کو سمیٹتے ہوئے میں ایک بار پھر آپ احباب سے عرض کرنا چاہوں گا کہ میں کوئی پیشہ ور لکھاری تو ہوں نہیں۔ آپ نے میری داستان پڑھی۔
اس میں میری کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میری اچھائیوں پر نگاہ رکھیں اور میرے لئے دعا کریں۔
میری دعا ہے کہ اللہ آپ سب کو اور آپ کے اہل خانہ اور احباب کو اور ڈنمارک میں مقیم سبھی پاکستانیوں کو شاد و آباد رکھے اور آپ کو بھی یہ موقع نصیب ہو کہ آپ بھی اپنی ہجرت کی داستان اپنی آنیوالی نسلوں کے لیے قلم بند کر سکیں کیونکہ یہی یادیں تو ہمارا سرمایہ ہیں اور انہیں اپنی نسلوں کو منتقل کرنا ہمارا فرض بھی ہے کیونکہ اس سے ہماری آنے والی نسلیں اپنے ان اجداد کا سراغ لگا سکیں گی اور ان کے بارے میں جان سکیں گی جو اپنے مادرِ وطن پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہو چکے ہیں اور اب ڈنمارک جن کا وطنِ ثانی بن چکا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
امانت علی چوہدری
ایڈیٹر انچیف
ماہنامہ وطن نیوز انٹر نیشنل
کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
(ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک)














