اسلام آباد، 8 اکتوبر: پاکستان بحرین تجارتی تعلقات کو نئی بلندی دینے کے لیے دونوں ممالک نے تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے، خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔
اہم نکات
- بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزایانی کا 7 تا 8 اکتوبر 2026 کو پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ۔
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور بحرینی وزیر خارجہ کی مشترکہ صدارت میں تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس۔
- دوطرفہ تجارت کو تین سال میں دوگنا کر کے ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف۔
- تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام۔
- خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کا عزم۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس
پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات اور تعاون کا جائزہ لینے کے لیے تیسرا مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزایانی نے کی۔ دونوں ممالک اس سال 55 سالہ سفارتی تعلقات منا رہے ہیں۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال۔
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور خوراک کی حفاظت، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور سمندری امور سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے اور ایک سال کے اندر چوتھے وزارتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا عہد کیا گیا۔
پاکستان بحرین تجارتی تعلقات میں نئے اہداف
دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم 55 کروڑ ڈالر سے زائد ہے اور دونوں ممالک نے اسے تین سال میں دوگنا کر کے ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تجارت و سرمایہ کاری، تیل و گیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔

پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
دونوں ممالک نے کاروباری برادری کے درمیان قریبی تعلقات کو سراہا اور بحرین میں مقیم ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا۔ ہنر مند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا اعادہ بھی کیا گیا۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے خلیج میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقوق کے لیے اصولی حمایت کی توثیق کی گئی اور غزہ کے عوام کے لیے بلا تعطل انسانی امداد کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔
ہرمز اور باب المندب کے آبنائے میں سلامتی
دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی حفاظت اور آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی۔ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے پر بھی بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھارت کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کی خطرناک کوشش ہے۔ افغانستان کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی اور علاقائی امن کے لیے باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
نتیجہ
پاکستان اور بحرین کے درمیان ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے، جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام سے خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ مزید خبروں کے لیے پاکستان کی تازہ خبریں ملاحظہ کریں۔






























