وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ తారر نے کہا ہے کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے لیکن وہ بھارت کو پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے (IWT) کو یکطرفہ طور پر تبدیل، منسوخ یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ తారر نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) میں ‘ویپنائزنگ واٹرز: ہسٹوریکل، لیگل، اینڈ اسٹریٹیجک ڈائمنشنز آف IWT سسپنشن’ کے عنوان سے ایک خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔
- سندھ طاس معاہدہ علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
- معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل یا معطل کرنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
- پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
- عالمی برادری کو ایسے اقدامات کے وسیع اثرات کو سمجھنا چاہیے۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی
تارر نے کہا کہ ثالثی کی عدالت نے پاکستان کے موقف کو برقرار رکھا ہے اور اس قانونی دلیل کو مضبوط کیا ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ کارروائی کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ریمارکس سندھ طاس معاہدے کے تنازعہ کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی کی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور بھارت کو ہائیڈرو منصوبوں کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
- اپریل 2025: IIOJK میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے معاہدے کو معطل کر دیا۔
- الزام: بھارت نے پاکستان پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
- پاکستان کا موقف: پاکستان نے الزامات کی تردید کی اور شدید لڑائی کے بعد امریکی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی۔
- عالمی فورمز: پاکستان نے سفارتی سطح پر عالمی برادری کو شامل کیا اور اپنے موقف کو متعلقہ فورمز پر پیش کیا۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں عالمی برادری کو شامل کرنا اور اپنے موقف کو متعلقہ فورمز پر پیش کرنا شامل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو عوام اور خطے کی ‘لائف لائن’ قرار دیا تھا۔
عالمی پانی کے انتظام پر اثرات
تارر نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ریاست کو متنازعہ پانی کے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت دینے کے وسیع اثرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کرنے سے عالمی سطح پر بین السرحدی پانی کے انتظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور دیگر ممالک جو مشترکہ پانی کے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں، وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
- عالمی پانی کے انتظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے۔
- دیگر ممالک جو مشترکہ دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں، وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
- بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بالادستی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان کا عزم
عطااللہ తారر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ امن اور استحکام کا ایک ذریعہ ہے، اور اس کے گرد کوئی بھی تنازعہ یا غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش قانونی، سفارتی اور اخلاقی طور پر ناجائز ہے۔
نتیجہ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ తారر نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی علاقائی استحکام اور بین الاقوامی پانی کے انتظام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان اپنے موقف پر قائم رہے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھے اور ایسے اقدامات کو روکے جو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔ سندھ طاس معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مشترکہ آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک اہم مثال ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty – IWT) 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کے استعمال کے حوالے سے طے پایا تھا۔
بھارت نے معاہدے کو کیوں معطل کیا؟
بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان کا اس معاملے پر کیا موقف ہے؟
پاکستان کا موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک اٹل معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر تبدیل یا معطل نہیں کیا جا سکتا اور وہ اپنے پانی کے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
عالمی برادری کا کردار کیا ہے؟
عالمی برادری سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے گی اور ایسے اقدامات کو روکے گی جو بین الاقوامی پانی کے انتظام اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔


















