کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا تاریخی قانون نافذ ہو گیا ہے۔ گورنر گیون نیوزوم نے 30 ستمبر 2026 کو بل AB 1267 پر دستخط کیے، جس کے تحت ریاست میں شادی اور گھریلو شراکت داری کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے — بغیر کسی استثنا کے۔ یہ قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوگا اور اس نے والدین کی رضامندی یا عدالتی منظوری کے ذریعے نابالغوں کی شادی کی اجازت دینے والی تمام شقوں کو ختم کر دیا ہے۔
اہم حقائق
- قانون: اسمبلی بل AB 1267 — شادی اور گھریلو شراکت داری دونوں کے لیے کم از کم عمر 18 سال، کوئی استثنا نہیں۔
- دستخط: گورنر گیون نیوزوم نے 30 ستمبر 2026 کو دستخط کیے؛ قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔
- بل کی مصنفہ: اسمبلی رکن گیل پیلرن (ڈیموکریٹ، سانتا کروز)؛ سرپرست تنظیمیں: Unchained At Last اور California Commission on the Status of Women and Girls۔
- اہمیت: کیلیفورنیا اب امریکہ کی 18ویں ریاست بن گئی ہے جہاں کم عمری کی شادی پر بغیر کسی استثنا کے پابندی ہے۔
- پس منظر: کیلیفورنیا ان صرف تین ریاستوں میں شامل تھی جہاں شادی کی کوئی قانونی کم از کم عمر مقرر نہیں تھی (دیگر دو: مسیسپی اور نیو میکسیکو)۔
- اعدادوشمار: Global Hope 365 کے مطابق 2000 سے 2021 کے درمیان کیلیفورنیا میں تقریباً 35,000 شادیوں میں نابالغ فریق شامل تھے، جن میں اکثریت کم عمر لڑکیوں کی بالغ مردوں سے شادی کی تھی۔
گیل پیلرن کا بل اور نو سال کی جدوجہد
یہ قانون ایک دہائی پر محیط مہم کا نتیجہ ہے جو 2017 میں شروع ہوئی تھی۔ بچ جانے والے افراد اور وکالت گروپوں نے مسلسل کوششیں کیں، لیکن پہلی کوششیں ناکام رہیں — مخالفین کا موقف تھا کہ مکمل پابندی حاملہ اور والدین بننے والی نوجوان لڑکیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ بل کی مصنفہ گیل پیلرن نے کہا کہ “بچے کلاس رومز، کھیل کے میدانوں اور ان بڑوں کے ساتھ ہونے چاہئیں جو ان کی پرورش کر رہے ہیں — ان سے شادی کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ نہیں۔”
پیلرن کے مطابق یہ قانون سازی ان بچ جانے والوں کے بیانات سے تشکیل پائی جنہوں نے کم عمری میں داخل ہونے والی شادیوں سے نکلنے اور قانونی مدد حاصل کرنے میں درپیش مشکلات بیان کیں۔ حتمی ووٹنگ میں بل بغیر کسی مخالفت کے منظور ہوا۔ اس قانون کی تفصیلات Law Commentary میں بھی شائع ہوئی ہیں۔

کورٹنی اسٹوڈن کی آواز
دستخط کی تقریب میں کم عمری کی شادی سے بچ جانے والی معروف شخصیت کورٹنی اسٹوڈن بھی موجود تھیں۔ اسٹوڈن کی شادی 16 سال کی عمر میں ان کے والدین کی اجازت سے 50 سالہ اداکار ڈگ ہچیسن سے ہوئی تھی — ایک ایسا رشتہ جسے وہ بعد میں بدسلوکی اور استحصالی قرار دے چکی ہیں۔
اسٹوڈن نے کہا کہ گورنر کے اس اقدام سے دنیا بھر میں کم عمری کی شادی سے بچ جانے والوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ انہیں یہ بوجھ کبھی اٹھانے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے تھی، اور انہوں نے تمام 50 ریاستوں میں پابندی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
عالمی صورتحال: ہر سال 12 ملین لڑکیاں
اقوام متحدہ کے مطابق کم عمری کی شادی — جب ایک فریق 18 سال سے کم عمر کا ہو — “انسانی حقوق کی خلاف ورزی” ہے، جس کے سنگین نتائج میں قبل از وقت حمل، سماجی تنہائی، تعلیم کا تعطل، کیریئر کے مواقع میں کمی اور گھریلو تشدد کا خطرہ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ ہر سال تقریباً 12 ملین لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے، اور اقوام متحدہ نے 2030 تک اس کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
2021 کے بعد سے سیرالیون، انگلینڈ، فلپائن اور ڈومینیکن ریپبلک سمیت کئی ممالک نے شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف قانون کافی نہیں — بھارت جیسے ممالک میں 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہونے کے باوجود یہ عمل جاری ہے، جو مؤثر نفاذ اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

نتیجہ
کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی قدم ہے جو دنیا بھر میں جاری کوششوں کو تقویت بخشتا ہے۔ تاہم قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی شعور بیداری اور مؤثر نفاذ کے بغیر اس مسئلے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو محفوظ بچپن فراہم کیا جا سکے۔ مزید عالمی خبریں یہاں پڑھیں: دنیا — اور اس خبر کا مرکزی ڈومین ورژن: کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی۔




















