برازیل کے اٹارنی جنرل خورخے میسیاس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے برازیلی سپریم کورٹ کے خلاف مہم کے لیے فنڈنگ کی کوششوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ برازیل ٹرمپ مداخلت کے اس انکشاف کے بعد اٹارنی جنرل نے کہا کہ غیر ملکی طاقتوں کی طرف سے برازیلی اداروں یا انتخابات میں مداخلت ناقابل برداشت ہے۔
اہم حقائق
- گارڈین کی تحقیقاتی رپورٹ (یکم اکتوبر 2026) کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی محکمہ خارجہ کے انسانی حقوق اور جمہوریت فنڈ (HRDF) سے 175 ملین ڈالر سے زائد کی رقم دائیں بازو کے منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی کوشش کی۔
- کل 43 گرانٹس میں 176.9 ملین ڈالر شامل تھے — یہ رقم 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن سے قبل فنڈ کے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے مختص کی گئی۔
- برازیل کے لیے تجویز کردہ منصوبہ ایک ملین ڈالر کا تھا، جس کا عنوان تھا “Countering Lawfare and Censorship in Brazil” — اس کا مقصد برازیلی سپریم کورٹ کی مبینہ عدالتی زیادتیوں اور سنسرشپ کو چیلنج کرنے والے گروہوں کی حمایت کرنا تھا۔
- سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن جین شاہین نے 22 ملین ڈالر کی گرانٹس پر روک لگائی تھی، لیکن وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک میمو پر دستخط کر کے یہ روکیں نظرانداز کر دیں۔
- اٹارنی جنرل خورخے میسیاس نے رپورٹ کو “برازیل کی خودمختاری کے لیے ایک اہم انتباہ” قرار دیا۔
- برازیل میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ 4 اکتوبر کو ہوگی — موجودہ صدر لولا ڈی سلوا کا مقابلہ ٹرمپ کے اتحادی فلاویو بولسونارو سے ہے۔
گارڈین کی رپورٹ: فنڈز کی منتقلی کا انکشاف
گارڈین کے صحافیوں ٹام فلپس، اینڈریو روتھ اور جوزف گیڈیون کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے فنڈنگ کی میعاد ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل محکمہ خارجہ کے مرکزی انسانی حقوق فنڈ سے 175 ملین ڈالر سے زائد کی رقم مختص کرنے کی کوشش کی۔ کانگریس نے اس فنڈ (HRDF) کے لیے مجموعی طور پر 205 ملین ڈالر مختص کیے تھے، جن میں سے 176.9 ملین ڈالر 43 مختلف گرانٹس کی صورت میں دنیا بھر میں دائیں بازو اور قدامت پسند منصوبوں کے لیے تجویز کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ان گرانٹس کی ذاتی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے لابنگ کی، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس کے یورپ میں روایتی اقدار کے زوال کے انتباہات اور اسٹیفن ملر کی امیگریشن مخالف اور نسل پرستانہ پالیسیوں کے حق میں موقف شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی اعلیٰ سطح پر ان منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی۔
برازیل کے لیے ایک ملین ڈالر کا منصوبہ
برازیل سے متعلق تجویز کردہ ایک ملین ڈالر کے منصوبے کا عنوان “Countering Lawfare and Censorship in Brazil” تھا، جس کا مقصد برازیل کی سپریم کورٹ کی مبینہ عدالتی زیادتیوں اور سنسرشپ کو چیلنج کرنے والے گروہوں کی حمایت کرنا تھا۔ واضح رہے کہ برازیل کے لیے مختص رقم ایک ملین ڈالر تھی، جبکہ 175 ملین ڈالر دنیا بھر کے تمام 43 منصوبوں کا مجموعی حجم تھا۔
دیگر گرانٹس میں 40 ملین ڈالر کی اینٹی کمیونزم فنڈ (وکٹمز آف کمیونزم میموریل فاؤنڈیشن کی قیادت میں)، جنوبی افریقہ میں سفید افریکنر حقوق کے حامی گروہ کی حمایت، اور یورپ میں “Promoting Western Civilization Allies” کے نام سے منصوبے شامل تھے۔ سینیٹر جین شاہین نے کہا کہ یہ رقم کانگریس نے دو جماعتی بنیاد پر انسانی حقوق کے محافظوں اور جمہوریت کے فروغ کے لیے مختص کی تھی، اور انتظامیہ کی تجاویز “ٹیکس دہندگان کے پیسے سے قائم جمہوریتوں میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کو فروغ دیں گی۔”

اٹارنی جنرل میسیاس کا سخت ردعمل
برازیل کے اٹارنی جنرل خورخے میسیاس نے گارڈین کی رپورٹ کو “برازیل کی خودمختاری کے لیے ایک اہم انتباہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں حکومتوں کے درمیان اختلاف رائے فطری ہے، لیکن غیر ملکی سیاسی مفادات کے ذریعے برازیلی اداروں کے کام میں مداخلت یا ایسے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش — جو صرف برازیلی عوام کا حق ہیں — ناقابل برداشت ہے۔
میسیاس نے زور دیا کہ ہر برازیلی نسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے، اپنے اداروں کا تحفظ کرے، اور اپنے بچوں کو ایسا ملک سونپے جو برازیل کے باہر سے کیے جانے والے فیصلوں کو قبول نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ برازیل کی جمہوریت برازیلیوں کی ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔
برازیل ٹرمپ مداخلت اور صدارتی انتخابات
یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب برازیل میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 4 اکتوبر کو پولنگ ہونے والی ہے۔ موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا کا مقابلہ انتہائی دائیں بازو کے امیدوار اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی، سینیٹر فلاویو بولسونارو سے ہے، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں۔ سروے کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔
مبصرین کے مطابق پولنگ سے محض چند روز قبل اس رپورٹ کے سامنے آنے سے بیرونی دباؤ اور انتخابی مداخلت کے الزامات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

پس منظر: پابندیاں، محصولات اور بڑھتی کشیدگی
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ پر برازیل کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگا ہو۔ گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے سابق صدر جائر بولسونارو کے خلاف بغاوت کے مقدمے پر دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیوں اور محصولات کا استعمال کیا۔ ٹرمپ نے برازیلی اشیا پر 50 فیصد محصول کو بولسونارو کے مقدمے سے جوڑا اور اسے “وچ ہنٹ” قرار دیا۔
امریکی وزارت خزانہ نے سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی مورائس پر پابندیاں عائد کیں اور ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔ ستمبر 2025 میں اٹارنی جنرل میسیاس سمیت کئی برازیلی عدالتی عہدیداروں کے امریکی ویزے بھی منسوخ کیے گئے۔ جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات میں لولا کے ہاتھوں شکست کے بعد اقتدار پر قبضے کی کوشش کے الزام میں ستمبر 2026 میں 27 سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال برازیلی منظم جرائم کے گروہ پی سی سی (PCC) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا تھا۔
نتیجہ
برازیل کے اٹارنی جنرل کا گارڈین رپورٹ پر سخت ردعمل ملک کی خودمختاری اور جمہوری عمل کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ 4 اکتوبر کی پولنگ سے چند روز قبل امریکی فنڈنگ کے انکشاف نے یہ واضح کر دیا ہے کہ برازیل کے انتخابات اب صرف داخلی معاملہ نہیں رہے — یہ بین الاقوامی تعلقات میں بیرونی مداخلت کے خطرات کی ایک نمایاں مثال بن چکے ہیں۔ برازیلی عوام کا حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے نمائندے منتخب کریں، اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وطن نیوز کی مزید عالمی خبریں پڑھیں۔




















