یورپ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں مشرقی اسپین بارش کی پیش گوئی کے بعد سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اسپین کے مشرقی حصے میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہسپانوی محکمہ موسمیات AEMET نے والنسیا اور کاسٹیلون میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ اسی دوران نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی ہوئی ہے اور امریکہ کے شمال مشرقی ساحلوں پر ‘نار ایسٹر’ طوفان نے بجلی کا نظام درہم برہم کر دیا ہے۔
اہم نکات: ایک نظر میں
- ریڈ الرٹ: والنسیا، کاسٹیلون اور تاروگونا میں 1 سے 2 اکتوبر تک موسلا دھار بارشوں کا اعلیٰ ترین موسمی انتباہ۔
- متوقع بارش: بعض علاقوں میں فی گھنٹہ 90 لیٹر اور 12 گھنٹوں میں 200 تا 300 ملی میٹر (لیٹر فی مربع میٹر) بارش متوقع۔
- ہنگامی اقدامات: والنسیا میں تقریباً پانچ لاکھ بچوں کے اسکول بند؛ ریل سروسز معطل۔
- نیپال: 24 سے 27 ستمبر کے دوران 542 قدرتی آفات، کم از کم 27 ہلاکتیں (NDRRMA رپورٹ)۔
- امریکہ: ‘نار ایسٹر’ طوفان سے ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم؛ نانٹکیٹ کے ساحل پر ممکنہ طور پر 1884 کے جہاز کی باقیات نمودار۔
ڈانا طوفان: مشرقی اسپین بارش کی پیش گوئی اور متاثرہ علاقے
ہسپانوی محکمہ موسمیات AEMET نے 30 ستمبر کو خصوصی انتباہ جاری کیا تھا جس کے مطابق جمعرات 1 اکتوبر سے پیر 5 اکتوبر تک جزیرہ نما آئبیریا کے مشرقی تیسرے حصے میں شدید موسمی صورتحال رہے گی۔ یہ صورتحال بحیرہ روم کے گرم اور مرطوب ہواؤں کے اوپر سرد ہوا کے دباؤ کے باعث پیدا ہو رہی ہے، جسے اسپین میں ‘ڈانا’ (DANA) کہا جاتا ہے — یہ خزاں کے موسم میں رونما ہونے والا ایک معروف موسمیاتی مظہر ہے۔
سب سے زیادہ خطرہ کاسٹیلون، والنسیا، الیکانتے کے شمالی ساحل اور تاروگونا کے جنوبی علاقوں کو ہے۔ AEMET کے مطابق بعض مقامات پر ایک گھنٹے میں 90 لیٹر فی مربع میٹر اور 12 گھنٹوں میں 260 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔ ریڈ الرٹ کے باعث رینفے نے والنسیا میں کئی طویل فاصلے کی ٹرینیں اور سرکانیاس لائنیں (C1، C2، C3 اور C6) معطل کر دی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور پروٹیکشن سول کی ہدایات پر عمل کی اپیل کی ہے۔ (حوالہ: Demócrata — AEMET الرٹس کی رپورٹ)
اسپین میں ہنگامی اقدامات
شدید بارشوں کے پیش نظر اسپین میں وسیع حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کاتالونیا کے تین قصبوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ والنسیا میں تقریباً پانچ لاکھ بچوں کے لیے اسکول اور پارک بند کر دیے گئے ہیں۔ جنرلیٹیٹ والنسیانا کے ایمرجنسی امور کے وزیر نے کہا ہے کہ ریڈ الرٹ اگلے دن تک برقرار رہے گا تاکہ ایمرجنسی سروسز کسی بھی اچانک تبدیلی کے لیے تیار رہیں۔ حکام عوام کو خبردار کر رہے ہیں کہ نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور کھڈوں سے دور رہیں۔
نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: 27 ہلاک
اسی دوران نیپال میں 24 سے 27 ستمبر کے دوران ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 542 قدرتی آفات ریکارڈ ہوئیں جن میں کم از کم 27 افراد ہلاک، چار لاپتہ اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ 1,082 خاندان متاثر ہوئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے 304 واقعات میں 20 افراد ہلاک ہوئے، سیلاب کے 87 واقعات میں چار اور دیگر موسمیاتی واقعات میں تین ہلاکتیں ہوئیں۔

186 موسمیاتی مقامات پر 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جن میں لومبینی صوبے کے ڈیڈگھون میں 544.2 ملی میٹر بارش سب سے زیادہ رہی۔ حکام نے تقریباً دس لاکھ افراد کو ایس ایم ایس کے ذریعے سیلاب کی وارننگ دی اور 2,000 افراد کو بلند خطرے والے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ واضح رہے کہ ستمبر کے آخر تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
بھارت میں دریائے گندک ریکارڈ سطح پر
نیپال میں ہونے والی شدید بارشوں کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے ہیں۔ شمال مشرقی بھارت میں دریائے گندک 91.25 میٹر کی بلند ترین سطح کو چھو گیا ہے، جو 2024 میں قائم کردہ پچھلے ریکارڈ سے 0.35 میٹر زیادہ ہے۔ دریائی بندوں پر شدید دباؤ کے باعث 169 مقامات پر مرمت کا کام جاری ہے اور ٹیمیں مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق اتر پردیش میں اسی موسمی سلسلے سے 81 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
شمال مشرقی امریکہ میں طوفان ‘نار ایسٹر’
شمال مشرقی امریکہ بھی شدید موسمی حالات کا شکار رہا، جہاں ایک سست رفتار گہرے کم دباؤ کے نظام نے ‘نار ایسٹر’ طوفان کی شکل اختیار کر لی۔ طوفان کے باعث نیو جرسی سے نیو انگلینڈ تک نشیبی ساحلی علاقوں میں سیلاب آیا، ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوئے اور ساحلی کٹاؤ کا خدشہ بڑھ گیا۔ یہ موسم سرما اور خزاں کا پہلا ‘نار ایسٹر’ طوفان تھا۔
تاریخی دریافت
اس طوفان کے دوران ایک دلچسپ دریافت بھی ہوئی: نانٹکیٹ، میساچوسٹس کے ساحل پر لکڑی کی پرانی شہتیریں ریت سے نمودار ہوئیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تعلق 1884 میں تباہ ہونے والے لکڑی کے بحری جہاز ‘وارن سویر’ سے ہو سکتا ہے۔ ایگن میری ٹائم انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے تاہم واضح کیا ہے کہ باقیات کی حتمی شناخت ابھی باقی ہے۔
نتیجہ
یورپ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کی یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اسپین میں سیلاب کا خطرہ اور نیپال میں حالیہ تباہ کاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ موسمیاتی واقعات زیادہ شدت اختیار کر رہے ہیں۔
حکومتی سطح پر بروقت اقدامات اور عوام کی آگاہی ان قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے — یہ صورتحال دنیا بھر کے لیے ایک انتباہ ہے۔
























