یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک — ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان — افریقہ میں یورپ کا پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کے مشترکہ ماڈل پر متفق ہو گئے ہیں۔ چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں وزراء کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ 2027 میں پہلے مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین سے باہر ان مراکز میں منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کی واپسی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کی تازہ ترین کوشش ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات: افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر
شریک ممالک: ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان
اہم اجلاس: 4 ستمبر 2026 کو کوپن ہیگن میں پانچوں ممالک کے وزراء کا اجلاس — “ریٹرن ہبز” کے مشترکہ ماڈل پر اتفاق
ہدف: 2027 میں پہلی منتقلی؛ سال کے آخر تک کسی شراکت دار ملک کے ساتھ پہلا معاہدہ متوقع
مقام: ایک افریقی ملک کا انتخاب ہو چکا ہے، نام تاحال خفیہ؛ میڈیا رپورٹس میں روانڈا اور یوگنڈا کا ذکر
نوعیت: حکام کے مطابق “کھلے مراکز” ہوں گے، بند حراستی کیمپ نہیں
فنڈنگ: مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے
نگرانی: ڈنمارک کے وزیر کے مطابق آئی او ایم اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی نگرانی کا دعویٰ؛ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے تفصیلات موصول نہیں ہوئیں
منصوبے کا پس منظر
یورپی یونین طویل عرصے سے پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو یونین سے باہر کے ممالک میں منتقل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔ ماضی میں ایسے کئی منصوبے قانونی اعتراضات، سیاسی تنازعات اور بھاری اخراجات کی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔ اب چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان کے وزرائے داخلہ و ہجرت نے نام نہاد “ریٹرن ہبز” کے ایک مشترکہ ماڈل پر اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر برائے امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے اسے یورپی پناہ و ہجرت کے نظام کی “بنیادی تبدیلی” قرار دیا اور کہا کہ پانچوں ممالک سال کے آخر تک کسی غیر یورپی ملک کے ساتھ پہلا شراکتی معاہدہ طے کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
یہ مراکز ان افراد کے لیے مختص ہوں گے جن کی پناہ کی درخواستیں پانچوں ممالک میں سے کسی ایک نے مسترد کر دی ہوں اور جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس منصوبے کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جن کے مطابق یہ اقدام پورے یورپی یونین کے لیے ایک نمونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپ سے متعلق مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

ڈی پورٹیشن سینٹر کی نوعیت
یونان کے وزیر برائے ہجرت تھانوس پلیورس نے 28 ستمبر کو یونانی ٹی وی چینل اے این ٹی 1 سے گفتگو میں بتایا کہ ایک افریقی ملک کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے، تاہم اس کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ بند ڈیٹینشن سینٹر نہیں ہوں گے بلکہ “کھلے مراکز” ہوں گے، جہاں پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک میں واپسی کے انتظامات مکمل ہونے تک رکھا جائے گا۔
منصوبے کی مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے، اور مشترکہ اصولی دستاویز کے مطابق شراکت دار ملک کو اضافی تجارتی شراکت یا دیگر مراعات بھی دی جا سکتی ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف کا دعویٰ ہے کہ ان مراکز کی نگرانی بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (آئی او ایم) اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کریں گے، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اسے اس منصوبے کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں، جبکہ آئی او ایم کے مطابق اس کے کردار پر بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ماضی کی ناکام کوششیں
یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک ماضی میں بھی تارکین وطن کو یونین سے باہر منتقل کرنے کے کئی منصوبے بنا چکے ہیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ سب سے نمایاں مثال برطانوی “روانڈا ماڈل” (2022–2024) ہے: برطانیہ نے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو روانڈا بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ وہاں پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، تاہم برطانوی سپریم کورٹ نے اس منصوبے کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ تھا۔ اس ناکام منصوبے پر برطانیہ نے تقریباً 715 ملین پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ماضی کی ناکامیوں کی بڑی وجوہات قانونی رکاوٹیں، سیاسی اختلافات اور بھاری اخراجات رہے ہیں — وہی تین چیلنجز جن کا سامنا نئے منصوبے کو بھی درپیش ہوگا۔ شریک ممالک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پچھلی ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب وہ قانونی و عملی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
شریک ممالک اور ان کا کردار
اس منصوبے کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے، جس کے وزیر بوڈسکوف نے کوپن ہیگن اجلاس کے بعد مشترکہ ماڈل کا اعلان کیا۔ آسٹریا کے وزیر گیرہارڈ کارنر نے کہا کہ “ہمارا مشترکہ ہدف غیر قانونی ہجرت کو صفر کی طرف لے جانا ہے”۔ یونان اس منصوبے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے: وزیر پلیورس کے مطابق یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالے گا اور اسی دوران پہلے مرکز کے فعال ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ یونانی صدارت کا ایک اہم ایجنڈا بن جائے گا۔ جرمنی اور نیدرلینڈز اس منصوبے میں تکنیکی و مالی معاونت فراہم کریں گے۔

بین الاقوامی ردعمل اور انسانی حقوق کے خدشات
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے مراکز میں بھیجنے سے ان کے حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں، کیونکہ یورپی ممالک وہاں ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے، اور ایسے مراکز پناہ کے متلاشیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز “جیل یا حراستی کیمپ” نہیں ہوں گے بلکہ ایسے مقامات ہوں گے جہاں شراکت دار ممالک ان غیر قانونی تارکین وطن کو “نئے مواقع” فراہم کریں گے جو اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے اور جن کے پاس یورپ میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں تین بنیادی مطالبات پر زور دیتی ہیں: تمام افراد کے پناہ کی درخواست کے حق کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے؛ کسی بھی شخص کو ایسے ملک میں واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے تشدد یا امتیازی سلوک کا سامنا ہو؛ اور منصوبے کی تفصیلات اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔
یورپی یونین کونسل کی صدارت
یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی گھومتی صدارت سنبھالے گا — عین وہی مدت جس میں پہلے ڈی پورٹیشن سینٹر کے فعال ہونے کی توقع ہے۔ وزیر پلیورس کے مطابق یونانی صدارت کے دوران یہ منصوبہ ایک اہم ایجنڈا آئٹم ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونان اسے اپنی صدارتی مدت کی نمایاں کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
نتیجہ
یورپی یونین کے پانچ ممالک کا افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ایک اہم اور متنازعہ اقدام ہے جو یورپی ہجرت کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے — پناہ کے عمل کو یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر منتقل کرنے کی کوشش۔ ماضی کی ناکام کوششوں اور انسانی حقوق کے خدشات کے پیش نظر اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار نفاذ میں شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے احترام پر ہوگا۔ اس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پناہ کے بحران کا کوئی پائیدار حل فراہم کر پائے گا یا نہیں۔
























