LIVE
اہم خبر
آل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہےایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریکامریکہ میں نئے مکانات کی فروخت میں کمی، قیمتیں بھی ایک سال میں کم ہو گئیںاینتھروپک کے 63 ارب ڈالر کے چپ معاہدے نے ذہین کمپیوٹنگ کی دوڑ کو نئی رفتار دے دیزہریلی زمین کی تحقیق برٹش جرنلزم ایوارڈز 2026 کی حتمی فہرست میں شاملمیر رضا قتل کیس میں نئی پیش رفت: سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاکیو ٹی ایس کا 14 ملین ڈالر کا اعلان: فیئٹ کاؤنٹی کے 800 سے زیادہ گھر زیادہ توانائی بچانے والے بنیں گےحکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور، قانون سازی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاقلاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاچین کی ہوا اور شمسی توانائی کی صلاحیت 2 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر گئیآل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہےایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریکامریکہ میں نئے مکانات کی فروخت میں کمی، قیمتیں بھی ایک سال میں کم ہو گئیںاینتھروپک کے 63 ارب ڈالر کے چپ معاہدے نے ذہین کمپیوٹنگ کی دوڑ کو نئی رفتار دے دیزہریلی زمین کی تحقیق برٹش جرنلزم ایوارڈز 2026 کی حتمی فہرست میں شاملمیر رضا قتل کیس میں نئی پیش رفت: سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاکیو ٹی ایس کا 14 ملین ڈالر کا اعلان: فیئٹ کاؤنٹی کے 800 سے زیادہ گھر زیادہ توانائی بچانے والے بنیں گےحکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور، قانون سازی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاقلاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاچین کی ہوا اور شمسی توانائی کی صلاحیت 2 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر گئی
یورپ

یورپ کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر، 2027 میں فعال ہوگا

News Desk 4شائع شدہ 30 ستمبر، 2026
یورپ کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر، 2027 میں فعال ہوگا
Share this story

یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک — ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان — افریقہ میں یورپ کا پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کے مشترکہ ماڈل پر متفق ہو گئے ہیں۔ چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں وزراء کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ 2027 میں پہلے مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین سے باہر ان مراکز میں منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کی واپسی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کی تازہ ترین کوشش ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اہم نکات: افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر

شریک ممالک: ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان

اہم اجلاس: 4 ستمبر 2026 کو کوپن ہیگن میں پانچوں ممالک کے وزراء کا اجلاس — “ریٹرن ہبز” کے مشترکہ ماڈل پر اتفاق

ہدف: 2027 میں پہلی منتقلی؛ سال کے آخر تک کسی شراکت دار ملک کے ساتھ پہلا معاہدہ متوقع

مقام: ایک افریقی ملک کا انتخاب ہو چکا ہے، نام تاحال خفیہ؛ میڈیا رپورٹس میں روانڈا اور یوگنڈا کا ذکر

نوعیت: حکام کے مطابق “کھلے مراکز” ہوں گے، بند حراستی کیمپ نہیں

فنڈنگ: مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے

نگرانی: ڈنمارک کے وزیر کے مطابق آئی او ایم اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی نگرانی کا دعویٰ؛ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے تفصیلات موصول نہیں ہوئیں

منصوبے کا پس منظر

یورپی یونین طویل عرصے سے پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو یونین سے باہر کے ممالک میں منتقل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔ ماضی میں ایسے کئی منصوبے قانونی اعتراضات، سیاسی تنازعات اور بھاری اخراجات کی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔ اب چار ستمبر کو کوپن ہیگن میں ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور یونان کے وزرائے داخلہ و ہجرت نے نام نہاد “ریٹرن ہبز” کے ایک مشترکہ ماڈل پر اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر برائے امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے اسے یورپی پناہ و ہجرت کے نظام کی “بنیادی تبدیلی” قرار دیا اور کہا کہ پانچوں ممالک سال کے آخر تک کسی غیر یورپی ملک کے ساتھ پہلا شراکتی معاہدہ طے کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ مراکز ان افراد کے لیے مختص ہوں گے جن کی پناہ کی درخواستیں پانچوں ممالک میں سے کسی ایک نے مسترد کر دی ہوں اور جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس منصوبے کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جن کے مطابق یہ اقدام پورے یورپی یونین کے لیے ایک نمونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپ سے متعلق مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

یورپ ڈی پورٹیشن سینٹر افریقہ: بحیرہ روم میں گشتی بحری جہاز
بحیرہ روم میں گشتی بحری جہاز — یورپ کے ساحلوں کی طرف تارکین وطن کے راستوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ (تصویر: برطانوی وزارت دفاع، ویکیمیڈیا کامنز)

ڈی پورٹیشن سینٹر کی نوعیت

یونان کے وزیر برائے ہجرت تھانوس پلیورس نے 28 ستمبر کو یونانی ٹی وی چینل اے این ٹی 1 سے گفتگو میں بتایا کہ ایک افریقی ملک کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے، تاہم اس کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ بند ڈیٹینشن سینٹر نہیں ہوں گے بلکہ “کھلے مراکز” ہوں گے، جہاں پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک میں واپسی کے انتظامات مکمل ہونے تک رکھا جائے گا۔

منصوبے کی مکمل مالی معاونت پانچوں یورپی ممالک خود کریں گے، اور مشترکہ اصولی دستاویز کے مطابق شراکت دار ملک کو اضافی تجارتی شراکت یا دیگر مراعات بھی دی جا سکتی ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف کا دعویٰ ہے کہ ان مراکز کی نگرانی بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (آئی او ایم) اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کریں گے، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اسے اس منصوبے کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں، جبکہ آئی او ایم کے مطابق اس کے کردار پر بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ماضی کی ناکام کوششیں

یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک ماضی میں بھی تارکین وطن کو یونین سے باہر منتقل کرنے کے کئی منصوبے بنا چکے ہیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ سب سے نمایاں مثال برطانوی “روانڈا ماڈل” (2022–2024) ہے: برطانیہ نے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو روانڈا بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ وہاں پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، تاہم برطانوی سپریم کورٹ نے اس منصوبے کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ تھا۔ اس ناکام منصوبے پر برطانیہ نے تقریباً 715 ملین پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔

ماہرین کے مطابق ماضی کی ناکامیوں کی بڑی وجوہات قانونی رکاوٹیں، سیاسی اختلافات اور بھاری اخراجات رہے ہیں — وہی تین چیلنجز جن کا سامنا نئے منصوبے کو بھی درپیش ہوگا۔ شریک ممالک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پچھلی ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب وہ قانونی و عملی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شریک ممالک اور ان کا کردار

اس منصوبے کی قیادت ڈنمارک کر رہا ہے، جس کے وزیر بوڈسکوف نے کوپن ہیگن اجلاس کے بعد مشترکہ ماڈل کا اعلان کیا۔ آسٹریا کے وزیر گیرہارڈ کارنر نے کہا کہ “ہمارا مشترکہ ہدف غیر قانونی ہجرت کو صفر کی طرف لے جانا ہے”۔ یونان اس منصوبے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے: وزیر پلیورس کے مطابق یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالے گا اور اسی دوران پہلے مرکز کے فعال ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ یونانی صدارت کا ایک اہم ایجنڈا بن جائے گا۔ جرمنی اور نیدرلینڈز اس منصوبے میں تکنیکی و مالی معاونت فراہم کریں گے۔

یورپ ڈی پورٹیشن سینٹر منصوبہ: لیمپے ڈوسا، تارکین وطن کا اہم راستہ
اطالوی جزیرہ لیمپے ڈوسا — افریقہ سے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے والے تارکین وطن کے اہم داخلی راستوں میں سے ایک۔ (تصویر: لوکا سیراگوسا، ویکیمیڈیا کامنز)

بین الاقوامی ردعمل اور انسانی حقوق کے خدشات

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے مراکز میں بھیجنے سے ان کے حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں، کیونکہ یورپی ممالک وہاں ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے، اور ایسے مراکز پناہ کے متلاشیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈنمارک کے وزیر بوڈسکوف نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز “جیل یا حراستی کیمپ” نہیں ہوں گے بلکہ ایسے مقامات ہوں گے جہاں شراکت دار ممالک ان غیر قانونی تارکین وطن کو “نئے مواقع” فراہم کریں گے جو اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے اور جن کے پاس یورپ میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں تین بنیادی مطالبات پر زور دیتی ہیں: تمام افراد کے پناہ کی درخواست کے حق کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے؛ کسی بھی شخص کو ایسے ملک میں واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے تشدد یا امتیازی سلوک کا سامنا ہو؛ اور منصوبے کی تفصیلات اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔

یورپی یونین کونسل کی صدارت

یونان 2027 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کونسل کی گھومتی صدارت سنبھالے گا — عین وہی مدت جس میں پہلے ڈی پورٹیشن سینٹر کے فعال ہونے کی توقع ہے۔ وزیر پلیورس کے مطابق یونانی صدارت کے دوران یہ منصوبہ ایک اہم ایجنڈا آئٹم ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونان اسے اپنی صدارتی مدت کی نمایاں کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

نتیجہ

یورپی یونین کے پانچ ممالک کا افریقہ میں ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ایک اہم اور متنازعہ اقدام ہے جو یورپی ہجرت کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے — پناہ کے عمل کو یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر منتقل کرنے کی کوشش۔ ماضی کی ناکام کوششوں اور انسانی حقوق کے خدشات کے پیش نظر اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار نفاذ میں شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے احترام پر ہوگا۔ اس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پناہ کے بحران کا کوئی پائیدار حل فراہم کر پائے گا یا نہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

انگلستان اور ویلز میں ریسپیکٹ آرڈرز نافذ، مسلسل سماج دشمن رویے پر دو سال قیدیورپ

انگلستان اور ویلز میں ریسپیکٹ آرڈرز نافذ، مسلسل سماج دشمن رویے پر دو سال قید

انگلستان اور ویلز میں 26 اکتوبر 2026 سے ریسپیکٹ آرڈرز نافذ ہو گئے ہیں۔ عدالتیں مسلسل سماج دشمن رویے کے مرتکب بالغ افراد پر شہر کے مراکز میں داخلے پر پابندی، کرفیو اور علاج کی شرائط لگا سکیں گی، اور حکم کی خلاف ورزی پر دو سال تک قید ہو سکے گی۔

مزید پڑھیں
یورپ بھر میں مظاہروں کی لہر: فرانس میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی احتجاجیورپ

یورپ بھر میں مظاہروں کی لہر: فرانس میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر، اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی احتجاج

یورپ کے کئی ملکوں میں ہفتے کے روز مہنگائی، تعلیم کی فنڈنگ، عوامی خدمات اور سیاسی احتساب کے مسائل پر بڑے مظاہرے ہوئے۔ فرانس میں سب سے بڑا اجتماع ریکارڈ کیا گیا، جہاں وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملیں۔

مزید پڑھیں
برطانیہ کے بجٹ میں کاروباری بینکوں کے لیے 20.4 ارب پاؤنڈ کا بڑا اعلانیورپ

برطانیہ کے بجٹ میں کاروباری بینکوں کے لیے 20.4 ارب پاؤنڈ کا بڑا اعلان

برطانیہ کے وزیر خزانہ جان ہیلی آئندہ ہفتے پیش کیے جانے والے برطانوی بجٹ میں ملک کے دو سرکاری مالیاتی اداروں کے لیے 20.4 ارب پاؤنڈ کا اضافی سرمایہ مختص کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد برطانوی کاروباروں کو ترقی کے لیے زیادہ مالی مدد فراہم کرنا اور ملک بھر میں

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

آل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمع
نمایاں خبر

آل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمع

آل انرجی آسٹریلیا 2026 کا آغاز 28 اکتوبر کو ملبورن کنونشن و نمائش مرکز میں ہوا، جہاں 16,500 سے زائد صاف توانائی کے ماہرین، 490 سے زائد نمائش کنندگان اور 500 سے زائد مقررین گرڈز، اسٹوریج اور توانائی کی منتقلی کی عملی تکمیل پر دو روز تک بات کریں گے۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔