فرانس کی جانب سے اٹلی کی عدلیہ کو یوستیکا حادثے سے متعلق دفاعی دستاویزات فراہم کرنے کی آمادگی کے بعد اس چھالیس سال پرانے معمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ روم کی تفتیشی عدالت نے دو اکتوبر کو کیس کی فائلیں واپس لے کر نئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جس سے یوستیکا حادثے کے متاثرین کے خاندانوں میں انصاف کی امید جاگ اٹھی ہے۔
اہم نکات
واقعہ: 27 جون 1980 کو اٹالین نجی ایئر لائن اٹاویا کی ڈی سی نائن پرواز آئی ایچ 870 جزیرہ یوستیکا کے قریب بحیرہٴ ٹائرینیئن میں گر کر تباہ ہوئی؛ طیارے میں سوار تمام 81 افراد ہلاک ہوئے۔
نیا موڑ: فرانسیسی سفارتخانے نے ستمبر 2026 میں اٹلی کی وزارتِ خارجہ کو سفارتی نوٹ بھیج کر 1981 سے 1994 کے دورانیے کی دستاویزات، بشمول وزارتِ دفاع کے کاغذات، فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
عدالتی پیش رفت: 30 ستمبر 2026 کی سماعت سے پہلے روم کے چیف پراسیکیوٹر فرانسسکو لو ووئی نے کیس ختم کرنے کی درخواست واپس لے لی؛ 2 اکتوبر 2026 کو تفتیشی جج لیویو ساباٹینی نے فائلیں پراسیکیوشن کو واپس بھیج کر نئی تحقیقات کا حکم دیا۔
پس منظر: 2008 میں سابق اطالوی صدر فرانسسکو کوسیگا نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانسیسی جنگی طیاروں نے غلطی سے اس مسافر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔
قانونی حیثیت: دو مقدمات — متعدد افراد کے ارادی قتل اور ریاستی املاک کی تباہی — نامعلوم افراد کے خلاف دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
یوستیکا حادثے کا پس منظر
27 جون 1980 کی شام اٹاویا کی پرواز آئی ایچ 870 بولونیا سے پالرمو جا رہی تھی کہ بحیرہٴ ٹائرینیئن میں جزیرہ یوستیکا کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ طیارے میں سوار تمام 81 افراد ہلاک ہو گئے۔ اٹلی میں اس واقعے کو “یوستیکا قتل عام” کہا جاتا ہے، اور یہ ملک کی تاریخ کے سب سے پراسرار فضائی حادثات میں شمار ہوتا ہے — اس کی وجوہات چھالیس برس بعد بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
فرانسیسی فائلیں اور تحقیقات میں نیا موڑ
اطالوی میڈیا کے مطابق فرانسیسی سفارتخانے نے ستمبر 2026 میں اٹلی کی وزارتِ خارجہ کو ایک سفارتی نوٹ بھیجا، جس میں یوستیکا حادثے سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی۔ ان دستاویزات میں وزارتِ دفاع کے کاغذات بھی شامل ہیں، اور ان کا دورانیہ 1981 سے 1994 تک محیط ہے۔ فرانسیسی سفارتخانے نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ دفاع کے دو کاغذات پہلے ہی 1986 اور 1990 میں اٹلی کو بھیجے جا چکے تھے۔ یہ دستاویزات وزیراعظم کے دفتر سے وزارتِ انصاف کے ذریعے روم کے ججوں تک پہنچائی گئیں۔
اس پیش رفت کے بعد روم کے چیف پراسیکیوٹر فرانسسکو لو ووئی نے 30 ستمبر کی سماعت سے پہلے کیس ختم کرنے کی اپنی درخواست واپس لے لی۔ پھر 2 اکتوبر کو تفتیشی جج لیویو ساباٹینی نے کیس کی فائلیں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کو واپس بھیج کر فوری نئی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ متاثرین کے خاندانوں کی تنظیم نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

فرانس پر الزامات کی تاریخ
اس حادثے کے گرد سب سے سنسنی خیز دعویٰ 2008 میں سامنے آیا، جب سابق اطالوی صدر فرانسسکو کوسیگا — جو 1980 میں وزیراعظم تھے — نے کہا کہ یہ طیارہ فرانسیسی جنگی طیاروں نے مار گرایا تھا۔ کوسیگا کے دعوے کے مطابق فرانسیسی طیارے دراصل لیبیا کے طیارے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، لیکن غلطی سے اٹالین مسافر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنا دیا۔ فرانس نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے، اور آج تک اس دعوے کے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آئے۔
اس سے پہلے 1989 میں سینیٹر جیووانی پیلےگرینو کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ ڈی سی نائن فوجی مداخلت کا شکار ہوئی تھی — ایک ایسی کارروائی جسے کمیشن نے “غیر اعلان شدہ جنگ” قرار دیا۔ تاہم، ذمہ داران کی شناخت کبھی نہ ہو سکی اور کیس بالآخر محفوظ کر دیا گیا۔
تحقیقات میں رکاوٹیں کیوں؟
کئی دہائیوں کے دوران متعدد نظریات سامنے آئے — دہشت گردانہ حملہ، فوجی مشق کے دوران حادثہ، یا غلط شناخت — لیکن ٹھوس شواہد کی کمی نے تحقیقات کو پیچیدہ بنائے رکھا۔ اٹالین فضائیہ کے کئی افسران پر دستاویزات میں جعلسازی اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات بھی لگے، جس سے معاملہ مزید پراسرار ہو گیا۔ موجودہ تحقیقات دو مقدمات پر مرکوز ہیں: متعدد افراد کے ارادی قتل اور ریاستی سلامتی کے خلاف ریاستی املاک کی تباہی — دونوں نامعلوم افراد کے خلاف۔
نتیجہ
یوستیکا حادثہ اٹلی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جو چھالیس برس بعد بھی پراسرار بنا ہوا ہے۔ فرانس کی جانب سے دفاعی دستاویزات کی فراہمی اور روم کی عدالت کے نئی تحقیقات کے حکم نے متاثرین کے خاندانوں کی انصاف کی امید کو نئی زندگی دی ہے۔ آیا یہ فائلیں اصل ذمہ داران کو بے نقاب کر پائیں گی، یہ تو آنے والی تحقیقات بتائیں گی — لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ کیس ابھی بند ہونے والا نہیں۔


























