آسٹریلیا میں اسرائیلی سفیر ہلیل نیومین نے 7 اکتوبر کی تیسری برسی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان ‘روایتی دوستی’ کی بحالی کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود دونوں فریقوں کو ابتدائی تاریخی دوستی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔ بدھ کے روز یادگاری تقریبات سے قبل انہوں نے تسلیم کیا کہ آسٹریلیا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ‘کشیدہ’ ہو گئے ہیں۔
اہم نکات
سفیر: ہلیل نیومین — آسٹریلیا میں اسرائیل کے سفیر۔
موقع: 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی تیسری برسی؛ یادگاری تقریبات بدھ کو منعقد ہوں گی۔
پیغام: تعلقات کو نئے سرے سے شروع کر کے دونوں ممالک کو ‘روایتی دوستی’ کی طرف واپس لانے کی نیک نیتی کا اظہار۔
کشیدگی کی وجہ: اسرائیل کی وزارت خارجہ نے پینی وونگ کے مغربی کنارے پر آباد کاروں کے تشدد سے متعلق بیان کو ‘سراسر جھوٹ’ قرار دیا۔
پابندیاں: آسٹریلیا نے برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر ایتمار بن گویر اور بزالل سموٹرچ پر پابندیاں عائد کیں۔
جانی نقصان: 7 اکتوبر 2023 کو تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 یرغمال؛ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 74,016 فلسطینی ہلاک۔
تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات
ہلیل نیومین نے تسلیم کیا کہ آسٹریلیا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ‘کشیدہ’ ہو گئے ہیں۔ یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے حالیہ ہفتوں میں آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کے اقوام متحدہ میں مغربی کنارے پر آباد کاروں کے تشدد سے متعلق بیان کو سوشل میڈیا پر ‘سراسر جھوٹ’ قرار دیا تھا۔
اس سے قبل اسرائیل نے آسٹریلیا کی داخلی سیاست میں بھی مداخلت کی تھی، جب اس نے لیبر پارٹی پر زور دیا کہ وہ ایک مسودہ پالیسی پلیٹ فارم میں نرمی اختیار کرے جس میں آباد کاروں کے تشدد اور سزائے موت کے متنازع قانون کی مذمت کی گئی تھی۔

اسرائیلی سفیر کی امیدیں
سفیر نے کہا، “ہمارے سامنے چیلنجز ہیں، لیکن میں بہت نیک نیتی کے ساتھ آیا ہوں تاکہ تعلقات میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کروں، شاید تعلقات کو نئے سرے سے شروع کروں اور دونوں فریقوں کو ابتدائی تاریخی روایتی دوستی کی طرف واپس لے آؤں۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہمارے دونوں ممالک کے درمیان مسائل رہے ہیں۔ ہماری آراء میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ہمیں اختلافات کو مجموعی تعلقات پر حاوی اور غالب نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آسٹریلیا کو اس یا اس مسئلے پر تنقید ہو۔”
7 اکتوبر کا حملہ اور اس کے اثرات
2023 کے حملے میں حماس کے جنگجوؤں نے تقریباً 1,200 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا — ہولوکاسٹ کے بعد سے یہودیوں کے لیے اسے سب سے مہلک دن سمجھا جاتا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے 74,016 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سے اسرائیلی حکومت اور وفاقی لیبر حکومت کے درمیان تعلقات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیا نے برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر اسرائیلی سیاستدانوں ایتمار بن گویر اور بزالل سموٹرچ پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو اکسانے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔

فلسطینی برادری کا مؤقف
7 اکتوبر کی یادگاری تقریبات کے موقع پر آسٹریلیا میں فلسطینی برادری کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو غزہ کی جنگ کے بعد سے تکلیف اٹھانے والے تارکین وطن کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔
نتیجہ
7 اکتوبر کی تیسری برسی کے موقع پر آسٹریلیا میں اسرائیلی سفیر ہلیل نیومین نے دونوں ممالک کے درمیان ‘روایتی دوستی’ کی بحالی کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود دونوں فریقوں کو تاریخی دوستی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے، اور اختلافات کو مجموعی تعلقات پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے حالیہ ہفتوں میں آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کے بیان کو ‘سراسر جھوٹ’ قرار دیا تھا اور 2023 کے حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی آئی ہے۔ دنیا بھر کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔



























