ایک حالیہ میگا پول کے نتائج نے برطانیہ میں یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے بارے میں بحث کو نئی ہوا دے دی ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً نصف برطانوی ووٹر اس اقدام کے حامی ہیں، اور دی گارڈین کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کی حمایت لیبر پارٹی کے ووٹوں میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
اہم حقائق
دوبارہ شمولیت کی حمایت: تقریباً 50 فیصد برطانوی ووٹر یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے حامی ہیں — یہ پول میسینا گروپ (ٹی ایم جی) نے کیا ہے۔
لیبر کے لیے فائدہ: دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، دوبارہ شمولیت کی حمایت سے لیبر پارٹی کے ووٹوں میں 7 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وزیراعظم ایک نیا ریفرنڈم پیش کریں اور اس میں دوبارہ شمولیت کی مہم چلائیں۔
ریفرنڈم یا مینڈیٹ؟ تقریباً ایک تہائی ووٹروں (33 فیصد) کا خیال ہے کہ فیصلے سے پہلے ایک نیا ان-آؤٹ ریفرنڈم ضروری ہے؛ 17 فیصد عام انتخابات کے مینڈیٹ کو کافی سمجھتے ہیں، اور 17 فیصد کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔
وزیراعظم کا موقف: وزیراعظم اینڈی برنہیم کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں برطانیہ کو یورپی یونین میں واپس دیکھنا چاہتے ہیں؛ انہوں نے لیبر کانفرنس میں کہا تھا کہ بریگزٹ سے “فائدے سے زیادہ نقصان” ہوا ہے، اور مستقبل کے تعلقات کے اختیارات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
کابینہ کی تشویش: کئی سینئر وزراء، جن میں سے دو تہائی بریگزٹ کے حامی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں، خبردار کر رہے ہیں کہ بریگزٹ کی تقسیم کو دوبارہ کھولنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
میگا پول کے اہم نتائج
دی گارڈین کے مطابق، میسینا گروپ (ٹی ایم جی) کے اس میگا پول کے نتائج نے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ان لوگوں کے موقف کو مضبوط کیا ہے جو اگلے انتخابات میں یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا وعدہ کرنا چاہتے ہیں۔ تقریباً نصف ووٹروں کی حمایت ایک ایسی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جو 2016 کے ریفرنڈم کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے۔
پول سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ووٹرز میں دوبارہ شمولیت کے طریقے کے بارے میں رائے منقسم ہے: سب سے بڑا گروپ (33 فیصد) نئے ریفرنڈم کا حامی ہے، جبکہ دو چھوٹے گروپ (17-17 فیصد) عام انتخابات کے مینڈیٹ یا پارلیمانی فیصلے کو کافی سمجھتے ہیں۔
لیبر پارٹی کے لیے سیاسی فوائد
اگر لیبر پارٹی اگلے انتخابات میں یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات اور ممکنہ طور پر دوبارہ شمولیت کا وعدہ کرتی ہے، تو اس کے ووٹوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پول کے مطابق، یہ اضافہ 7 فیصد تک پہنچ سکتا ہے — خاص طور پر اگر وزیراعظم ایک نیا ریفرنڈم پیش کریں جس میں وہ دوبارہ شمولیت کی مہم چلائیں۔ ووٹروں کی بڑی تعداد اس اقدام کو مثبت قرار دے سکتی ہے۔

بریگزٹ حلقوں کی تشویش
لیبر پارٹی کے بہت سے اراکین پارلیمنٹ، جن کے حلقوں نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا، اس معاملے پر سیاسی خطرات سے گریزاں ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے امکانات پر بات چیت سے ریفارم پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بھی یہی تشویش پائی جاتی ہے: کابینہ کے دو تہائی ارکان بریگزٹ کے حامی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں — ان میں وزیراعظم، فرسٹ سیکرٹری، چانسلر اور وزیر خارجہ شامل ہیں — اور ان سب نے پہلے 2016 کے ریفرنڈم کے فیصلے کا احترام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
کابینہ کے اندرونی تحفظات
کچھ وزراء نے اس معاملے پر عوامی طور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈپٹی لیڈر لوسی پاول کا کہنا ہے کہ دفاعی اور سلامتی کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنا ممکن یا مطلوب نہیں ہے۔ ٹریڈ سیکرٹری جوناتھن رینالڈز نے کاروبار کے لیے عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے دوبارہ شمولیت کے ممکنہ اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم برنہیم نے حال ہی میں لیبر کانفرنس میں اپنے پہلے خطاب میں یورپ کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں اختیارات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا، اور بعد میں واضح کیا کہ ان اختیارات میں مکمل طور پر دوبارہ شمولیت بھی شامل ہونی چاہیے۔ مزید پڑھیں: برطانیہ میں یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کی خواہش۔
ذرائع: ای یو پرسپیکٹیوز — برنہیم حکومت دوبارہ شمولیت کے آپشن کا جائزہ لے رہی ہے؛ دی گارڈین کی خصوصی رپورٹ (میگا پول: میسینا گروپ)۔
نتیجہ
برطانیہ میں یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کی خواہش کا بڑھنا ایک اہم سیاسی رجحان ہے۔ یہ میگا پول نہ صرف ووٹروں کے بدلتے ہوئے خیالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ لیبر پارٹی کے لیے ایک نیا سیاسی راستہ بھی کھول سکتا ہے۔ تاہم، بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اور سماجی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس معاملے پر آگے بڑھنے میں احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ یہ صورتحال آنے والے انتخابات میں ایک اہم موضوع بن سکتی ہے، اور لیبر پارٹی کو اپنی حکمت عملی کا تعین کرتے وقت ووٹروں کی آراء اور پارٹی کے اندرونی تحفظات دونوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔































