LIVE
اہم خبر
ہسپانوی وزیراعظم کی ہاؤسنگ بحران کے باعث فوری انتخابات کی کالجانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزازایتھوپیا: باغی فورسز نے تیگرائی دارالحکومت سے پسپائی اختیار کر لیسویڈن کی تحقیق: ذائقہ دار ہوں تو طلبہ ماحول دوست اسکول کھانے کی حمایت کرتے ہیںبھارت میں چوبیس گھنٹے قابل تجدید بجلی کے لیے سوموٹومو کی ہیرو فیوچر انرجیز کے 500 میگاواٹ شمسی و ہوا منصوبے میں سرمایہ کاریقابل تجدید توانائی نے 2025 میں ریکارڈ 693 گیگا واٹ کا اضافہ کیا مگر 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے — آئی آر ای این اےاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد پہنچ گئے: پاک-ایران امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششماحولیاتی سفیر: مشہور شخصیات موسمیاتی کارروائی کے لیے اپنی شہرت کیسے استعمال کرتی ہیںبریم ایوارڈز 2026: تعمیراتی شعبے کے موسمیاتی چیمپئن — برسلز سے برمنگھم تک اعزاز یافتہ منصوبےامریکی وسط مدتی انتخابات: نتائج کیا ہوں گے؟ آپ کے سوالات کے جوابپری کاپ31 فیجی میں شروع: انطالیہ سے پہلے بحرالکاہل کے وزراء مالی امداد اور 1.5 ڈگری ہدف پر زورسی این این کا کال ٹو ارتھ ڈے 2026: 8 اکتوبر کو سمندر کے لیے ‘تھنک بلیو’ — دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقعجلاوطن رہنما کی کاتالونیا واپسی، حالات مختلف ہوں گےفیجی میں یونیسف مکالمے کے اختتام پر بحرالکاہل کے نوجوان کاپ31 مذاکرات کاروں کو اعلامیہ پیش کریں گےیورپ میں پائیدار ہوائی ایندھن کی فراہمی بڑھنے پر نیدرلینڈز کا فضائی سفر کو ماحول دوست بنانے کے لیے 90 ملین یورو کا منصوبہشجر کاری شہروں کو کیسے ٹھنڈا رکھتی اور سیلاب سے کیسے بچاتی ہے: عالمی شجر کاری مہمات کے پیچھے موسمیاتی سائنسکراچی: گارمنٹ فیکٹری میں چار گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیاکچرے سے فضا تک: صفر فضلہ موسمیاتی حکمت عملی کیوں ہےکاپ31 انطالیہ: موسمیاتی مالیات، فوسل ایندھن سے منتقلی کا روڈ میپ اور بیلم ایکشن میکنزم مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِفہرستہسپانوی وزیراعظم کی ہاؤسنگ بحران کے باعث فوری انتخابات کی کالجانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزازایتھوپیا: باغی فورسز نے تیگرائی دارالحکومت سے پسپائی اختیار کر لیسویڈن کی تحقیق: ذائقہ دار ہوں تو طلبہ ماحول دوست اسکول کھانے کی حمایت کرتے ہیںبھارت میں چوبیس گھنٹے قابل تجدید بجلی کے لیے سوموٹومو کی ہیرو فیوچر انرجیز کے 500 میگاواٹ شمسی و ہوا منصوبے میں سرمایہ کاریقابل تجدید توانائی نے 2025 میں ریکارڈ 693 گیگا واٹ کا اضافہ کیا مگر 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے — آئی آر ای این اےاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد پہنچ گئے: پاک-ایران امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششماحولیاتی سفیر: مشہور شخصیات موسمیاتی کارروائی کے لیے اپنی شہرت کیسے استعمال کرتی ہیںبریم ایوارڈز 2026: تعمیراتی شعبے کے موسمیاتی چیمپئن — برسلز سے برمنگھم تک اعزاز یافتہ منصوبےامریکی وسط مدتی انتخابات: نتائج کیا ہوں گے؟ آپ کے سوالات کے جوابپری کاپ31 فیجی میں شروع: انطالیہ سے پہلے بحرالکاہل کے وزراء مالی امداد اور 1.5 ڈگری ہدف پر زورسی این این کا کال ٹو ارتھ ڈے 2026: 8 اکتوبر کو سمندر کے لیے ‘تھنک بلیو’ — دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقعجلاوطن رہنما کی کاتالونیا واپسی، حالات مختلف ہوں گےفیجی میں یونیسف مکالمے کے اختتام پر بحرالکاہل کے نوجوان کاپ31 مذاکرات کاروں کو اعلامیہ پیش کریں گےیورپ میں پائیدار ہوائی ایندھن کی فراہمی بڑھنے پر نیدرلینڈز کا فضائی سفر کو ماحول دوست بنانے کے لیے 90 ملین یورو کا منصوبہشجر کاری شہروں کو کیسے ٹھنڈا رکھتی اور سیلاب سے کیسے بچاتی ہے: عالمی شجر کاری مہمات کے پیچھے موسمیاتی سائنسکراچی: گارمنٹ فیکٹری میں چار گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیاکچرے سے فضا تک: صفر فضلہ موسمیاتی حکمت عملی کیوں ہےکاپ31 انطالیہ: موسمیاتی مالیات، فوسل ایندھن سے منتقلی کا روڈ میپ اور بیلم ایکشن میکنزم مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِفہرست
کاروبار

UK considering tariffs on Chinese car imports to align with EU, reports say

usman javed
UK considering tariffs on Chinese car imports to align with EU, reports say
Share this story

برطانیہ چینی کاروں کی درآمدات پر محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ اپنی تجارتی پالیسی کو یورپی یونین سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کے حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اقتصادی امور کے وزیر جوناتھن رینالڈز چینی گاڑیوں پر ممکنہ محصولات کا ایک پیکج تیار کر رہے ہیں، جبکہ وزرا یورپی یونین کے 45 فیصد محصولات سے ہم آہنگی کے لیے تیار ہیں۔

یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی ہو گا، جس کا مقصد برطانوی صنعت کو چین کی سرکاری سبسڈی والی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے مقابلے سے بچانا ہے۔

اہم نکات

  • دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر جوناتھن رینالڈز چینی کاروں پر محصولات کا پیکج تیار کر رہے ہیں۔
  • برطانیہ یورپی یونین کے چینی برقی گاڑیوں پر عائد کردہ 45 فیصد تک کے محصولات سے ہم آہنگ ہونے پر غور کر رہا ہے۔
  • فنانشل ٹائمز کے مطابق یورپی یونین نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ «میڈ ان یورپ» فریم ورک میں شمولیت کے لیے اپنے محصولات بڑھائے۔
  • اس سال برطانیہ میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں چینی کاروں کا حصہ 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
  • ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا ٹائم ٹیبل سامنے نہیں آیا۔

یورپی یونین کا دباؤ اور «میڈ ان یورپ» فریم ورک

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ چینی کاروں پر محصولات بڑھائے اور اپنی تجارتی پالیسی کو یورپی یونین سے قریب کرے، تاکہ «میڈ ان یورپ» کے مجوزہ قواعد کے تحت برطانوی برآمدات پر رکاوٹیں نہ لگیں۔ یورپی یونین کو خدشہ ہے کہ اگر برطانیہ تجارتی رکاوٹیں قائم نہ کرے تو چین یورپی محصولات سے بچنے کے لیے برطانیہ کو راستہ بنا سکتا ہے۔

«میڈ ان یورپ» پالیسی کا مقصد یورپ میں بنی اشیا کو ترجیح دے کر چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ پالیسی انڈسٹریل ایکسلریٹر ایکٹ کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے۔ برطانیہ اس فریم ورک میں کم از کم کچھ شعبوں، جیسے توانائی اور کیمیکلز، میں شمولیت چاہتا ہے تاکہ یورپی منڈی تک اس کی رسائی برقرار رہے۔ اسی تناظر میں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کو «قابل اعتماد شراکت دار» تسلیم کروانے کی کوشش کریں گے اور خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو خارج کرنے سے اس کی کار انڈسٹری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چینی کاروں پر محصولات — برطانوی بندرگاہ پر نئی برقی گاڑیوں کی آمد
برطانیہ میں چینی کاروں کا حصہ 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے بعد لندن یورپی یونین کے محصولات سے ہم آہنگی پر غور کر رہا ہے۔

45 فیصد محصولات کی تجویز کہاں سے آئی؟

یورپی یونین نے 2024 کے آخر میں چینی برقی گاڑیوں پر غیر منصفانہ سبسڈیز کے الزام میں 7.8 سے 35.3 فیصد تک اینٹی سبسڈی ڈیوٹیاں عائد کیں، جو 10 فیصد کے معمول کے درآمدی محصول کے علاوہ ہیں۔ اس طرح مجموعی محصول بعض مینوفیکچررز کے لیے 45 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ نے یہ محصولات نہیں اپنائے اور وہاں صرف 10 فیصد محصول لاگو ہے۔

رائٹرز کے مطابق برطانوی وزرا اب اسی 45 فیصد سطح سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہیں، تاکہ اگر یورپی رکاوٹیں برقرار رہیں تو یورپ سے موڑی گئی چینی گاڑیاں برطانوی منڈی میں خلل نہ ڈالیں۔ نسان کے افریقہ، مشرق وسطی، بھارت، یورپ اور اوشینیا خطے کے چیئرمین ماسیمیلیانو میسینا نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ چین میں بنی برقی گاڑیوں کے یورپی یونین میں داخلے کا راستہ بن سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف

برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ «ہم تجارتی اقدامات ہمیشہ آزادانہ طور پر اور صرف برطانیہ کے معاشی مفادات اور صنعت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ تاہم یورپ اور برطانیہ کو بہت سے ایک جیسے چیلنجز درپیش ہیں، اسی لیے ہمارے درمیان تجارتی بہاؤ کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔» برطانیہ نے یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ یا کسٹمز یونین میں دوبارہ شمولیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی چین کے ساتھ تجارت اور یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹیجک صنعتی تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھنا اس کے لیے ایک مشکل امتحان ہے۔

عالمی تناظر اور چین کا ممکنہ ردعمل

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے رواں ماہ کہا تھا کہ یورپی یونین چین کے ساتھ «ناقابل برداشت» تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے «ہر دستیاب ذریعہ» استعمال کرے گا۔ امریکہ پہلے ہی چینی برقی گاڑیوں پر 100 فیصد محصولات عائد کر چکا ہے، جبکہ یورپی یونین کا 13 ماہ کی تحقیقات کے بعد اکتوبر 2024 میں محصولات کا نفاذ اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

ماہرین کے مطابق چینی کاروں پر برطانوی محصولات کا فیصلہ بیجنگ کی جانب سے سخت ردعمل کو جنم دے سکتا ہے اور بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی برطانوی کوششوں کے لیے بھی ایک امتحان ہو گا۔ برطانوی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ ایک نازک دور ہے، جسے یورپی منڈی تک رسائی اور چینی سرمایہ کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ اسی خبر کا اردو ایڈیشن یہاں پڑھیں۔

نتیجہ

برطانیہ کی جانب سے چینی کاروں پر محصولات عائد کرنے پر غور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی پالیسیوں میں ہم آہنگی اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن اگر لندن یورپی سطح کے محصولات اپناتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بلکہ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی پر بھی مرتب ہوں گے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

سونے کی قیمت میں بڑی کمی: فی تولہ 4,300 روپے سستا، نئی قیمت 436,336 روپےکاروبار

سونے کی قیمت میں بڑی کمی: فی تولہ 4,300 روپے سستا، نئی قیمت 436,336 روپے

ہفتے کے روز پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق فی تولہ سونا 4,300 روپے سستا ہوکر 436,336 روپے کا ہوگیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 3,687 روپے کی کمی کے بعد 374,087 روپے رہ گئی۔ سونے کی قیمت میں یہ گراوٹ عالم

مزید پڑھیں
برطانیہ میں ڈیزل کی قلت نہیں، ٹرمپ کے پابندی کے خدشات بے بنیادکاروبار

برطانیہ میں ڈیزل کی قلت نہیں، ٹرمپ کے پابندی کے خدشات بے بنیاد

برطانوی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 199.72 پنس فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر ہے، ملک کے پاس 42 دن کے ہنگامی ذخائر ہیں اور فیول ڈیوٹی میں 5 پنس کی کٹوتی سال 2026 کے آخر تک برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں
اسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیںکاروبار

اسٹیٹ بینک کے کرنسی ریٹس: ڈالر، یورو اور دیگر کی قیمتیں جانیں

کراچی، 30 ستمبر: نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے بدھ کے روز اہم غیر ملکی کرنسیوں کے خرید و فروخت کے نرخ جاری کر دیے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، یورو اور جاپانی ین سمیت دیگر کرنسیوں کی قدروں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ امریکی ڈالر کی خرید

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
نمایاں خبر

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔