LIVE
اہم خبر
بھارت میں تیرتے شمسی منصوبے کے لیے ٹاٹا پاور اور ناروے کی اوشن سن کا اشتراککینیڈا کا دو ارب ڈالر کا موسمیاتی منصوبہ: دس لاکھ گھروں کی توانائی اپ گریڈسبز سفیر: موسمیاتی تحریک کے خاموش کارکنبراؤر یوتھ ایوارڈز 2026: چھ نوجوان موسمیاتی چیمپئنز کو اعزازفلوریڈا کلائمیٹ لیڈرشپ سمٹ 2026: رجسٹریشن 16 اکتوبر تکفلپائن کا 2030 تک ایک فیصد پائیدار ہوا بازی ایندھن کا ہدفآسٹریلوی تحقیق: سیاست دان موسمیاتی اقدام کی عوامی حمایت کا اندازہ کم لگاتے ہیںسی او وائی 21: انطالیہ میں نوجوانوں کی عالمی موسمیاتی کانفرنس، کاپ31 سے پہلے اہم ایجنڈاکینیا کی مزنگیرا مہم: ایک ہفتے میں ایک کروڑ 72 لاکھ درخت لگانے کا ہدفپلاسٹک معاہدہ مارچ 2027: مذاکراتی سربراہ کو عالمی معاہدے کی امیدکاپ31: انطالیہ میں صدارتی فیصلے کے ذریعے 1.5 ڈگری کے ہدف کی کوششجنوبی کوریا کا خبردار: ہیکنگ حملوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہےپاکستان، بحرین کا دوطرفہ تجارت بڑھانے کا عزم، جی سی سی سے جلد معاہدہ متوقعفرانس میں وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود ہائی اسکول مظاہرے جاریرومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزازورلڈ ہیبیٹاٹ ڈے 2026: مسقط میں اقوام متحدہ کی 40 ویں تقریب، 3.4 ارب افراد مناسب رہائش سے محرومپولینڈ کے پہلے آف شور ونڈ فارم بالٹک پاور کی تمام 76 ٹربائنز نصبنیکسٹ جنریشن سیفٹی ایپ: 9200 سے زائد شہریوں کی مددپری کاپ فجی مذاکرات: پیسیفک ریزیلینس فیسلٹی کے لیے پندرہ ملین ڈالر کے وعدےیورپی یونین کی 2026 کے کلائمیٹ پیکٹ ایمبیسیڈرز کے لیے درخواستیں کھل گئیںبھارت میں تیرتے شمسی منصوبے کے لیے ٹاٹا پاور اور ناروے کی اوشن سن کا اشتراککینیڈا کا دو ارب ڈالر کا موسمیاتی منصوبہ: دس لاکھ گھروں کی توانائی اپ گریڈسبز سفیر: موسمیاتی تحریک کے خاموش کارکنبراؤر یوتھ ایوارڈز 2026: چھ نوجوان موسمیاتی چیمپئنز کو اعزازفلوریڈا کلائمیٹ لیڈرشپ سمٹ 2026: رجسٹریشن 16 اکتوبر تکفلپائن کا 2030 تک ایک فیصد پائیدار ہوا بازی ایندھن کا ہدفآسٹریلوی تحقیق: سیاست دان موسمیاتی اقدام کی عوامی حمایت کا اندازہ کم لگاتے ہیںسی او وائی 21: انطالیہ میں نوجوانوں کی عالمی موسمیاتی کانفرنس، کاپ31 سے پہلے اہم ایجنڈاکینیا کی مزنگیرا مہم: ایک ہفتے میں ایک کروڑ 72 لاکھ درخت لگانے کا ہدفپلاسٹک معاہدہ مارچ 2027: مذاکراتی سربراہ کو عالمی معاہدے کی امیدکاپ31: انطالیہ میں صدارتی فیصلے کے ذریعے 1.5 ڈگری کے ہدف کی کوششجنوبی کوریا کا خبردار: ہیکنگ حملوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہےپاکستان، بحرین کا دوطرفہ تجارت بڑھانے کا عزم، جی سی سی سے جلد معاہدہ متوقعفرانس میں وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود ہائی اسکول مظاہرے جاریرومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزازورلڈ ہیبیٹاٹ ڈے 2026: مسقط میں اقوام متحدہ کی 40 ویں تقریب، 3.4 ارب افراد مناسب رہائش سے محرومپولینڈ کے پہلے آف شور ونڈ فارم بالٹک پاور کی تمام 76 ٹربائنز نصبنیکسٹ جنریشن سیفٹی ایپ: 9200 سے زائد شہریوں کی مددپری کاپ فجی مذاکرات: پیسیفک ریزیلینس فیسلٹی کے لیے پندرہ ملین ڈالر کے وعدےیورپی یونین کی 2026 کے کلائمیٹ پیکٹ ایمبیسیڈرز کے لیے درخواستیں کھل گئیں
World

عالمی ادارہ صحت: روس میں طاعون سے موت کی مکمل تفصیلات نہیں

usman javed
عالمی ادارہ صحت: روس میں طاعون سے موت کی مکمل تفصیلات نہیں
Share this story

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ روس میں طاعون کے مشتبہ کیس کی مکمل تفصیلات ابھی تک اسے نہیں ملی ہیں۔ بدھ کو جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا کہ دستیاب معلومات ناکافی ہیں، اس لیے ادارہ واقعے کا مکمل رسک اسسمنٹ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ معاملہ ارکوتسک کے ایک تحقیقی ادارے کی 28 سالہ ملازمہ داریا شیپیلووا کی مشتبہ موت سے جڑا ہے — اس خبر کا اردو ایڈیشن پڑھیں۔

اہم نکات

  • داریا شیپیلووا، 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن، ارکوتسک کے اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ کی ملازمہ تھیں۔
  • 29 ستمبر کو شیلیخوف کے ضلعی ہسپتال میں شدید نمونیا کے ساتھ داخل ہوئیں اور 2 اکتوبر 2026 کو انتقال کر گئیں۔
  • روس کا سرکاری موقف: موت “نامعلوم وجہ کے نمونیا” سے ہوئی، طاعون کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا۔
  • 6 اکتوبر کو روس نے ڈبلیو ایچ او کو باضابطہ طور پر بتایا کہ ارکوتسک میں طاعون کا کوئی کیس نہیں اور رابطہ کاروں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
  • ڈبلیو ایچ او: مکمل معلومات کے بغیر رسک اسسمنٹ ممکن نہیں؛ روس سے شفاف معلومات کا مطالبہ۔
  • تقریباً دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا؛ انسٹی ٹیوٹ، دو ہسپتالوں اور ایک بچوں کے کلینک میں قرنطینہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
روس میں طاعون کے مشتبہ کیس کی تحقیقات کے دوران لیبارٹری کے پیٹری ڈش نمونے
لیبارٹری میں بیکٹیریا کی ثقافتوں کے نمونے — ڈبلیو ایچ او جاننا چاہتا ہے کہ متوفی پر کون سے ٹیسٹ کیے گئے۔ (علامتی تصویر)

روس میں طاعون کا مشتبہ کیس

سائبیریا کے شہر ارکوتسک میں واقع اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ کی 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن داریا شیپیلووا 29 ستمبر کو شیلیخوف کے ضلعی ہسپتال میں شدید نمونیا کے ساتھ داخل ہوئیں اور 2 اکتوبر کی صبح انتقال کر گئیں۔ ان کی موت کے بعد مقامی میڈیا میں طاعون کے خدشے کی خبریں پھیلیں، جس کے بعد ہمسایہ علاقے بریاتیا کے سربراہ الیکسی تسیدینوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ خاتون کی “ممکنہ طور پر طاعون سے” موت ہوئی ہے — بعد میں انہوں نے اپنے بیان میں ترمیم کر دی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ “نامعلوم وجہ کا نمونیا” ہے اور انسٹی ٹیوٹ میں کسی حادثے کی تردید کی گئی ہے۔ اس کے باوجود کئی دن تک انسٹی ٹیوٹ اور قریبی ہسپتالوں میں قرنطینہ پابندیاں جاری رہیں، جبکہ متوفی کے تقریباً دو سو رابطہ کاروں کو طبی نگرانی میں رکھا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کو مکمل تفصیلات نہیں ملیں

بدھ 7 اکتوبر کو جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا کہ ادارے کے پاس واقعے کی مکمل تصویر نہیں ہے اور وہ مکمل رسک اسسمنٹ کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کے تبادلے پر زور دیا تاکہ متضاد رپورٹوں کی وضاحت ہو سکے اور ممکنہ عوامی خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کی وبائی امراض کے انتظام کی ڈائریکٹر ماریا وان کرکھوو نے کہا کہ ادارہ جاننا چاہتا ہے کہ خاتون پر کون سے لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے، کن پیتھوجینز کی جانچ ہوئی، اور اگر ان کی موت طاعون سے نہیں ہوئی تو پھر وہ کس وجہ سے فوت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انفیکشن کا سبب بننے والا جراثیم ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے، اسی لیے مزید معلومات درکار ہیں۔

ٹیڈروس نے روس سے ایک اور میڈیا رپورٹ کی تصدیق بھی مانگی ہے جس میں “نامعلوم وجہ کے نمونیا” کے شکار ایک دوسرے ملازم کا ذکر ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہر عبدالرحمن محمود کے مطابق یہ رپورٹ مصدقہ اور قابلِ اعتماد سمجھی گئی ہے، اور ابھی تک روس سے اس کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ادارے نے روس کو تکنیکی مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔

روس کا موقف: طاعون کا کوئی کیس نہیں

منگل 6 اکتوبر کو روسی حکام نے بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت ڈبلیو ایچ او کی درخواست کا باضابطہ جواب دیا۔ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسٹین لنڈمائر نے جنیوا میں بتایا کہ روس کے مطابق “روسی فیڈریشن کے شہر ارکوتسک میں اس خطرناک بیماری کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا ہے”۔ روسی حکام نے یہ بھی بتایا کہ متوفی سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور خطرناک متعدی پیتھوجینز کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

روس کے صحت کے نگراں ادارے روسپوتربناڈزور کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار لیبارٹری ٹیسٹوں میں کوئی خطرناک پیتھوجین نہیں ملا، جس کے بعد قرنطینہ میں رکھے گئے نوے فیصد افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے اور احتیاطی اقدامات کم کیے جا رہے ہیں۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ شیپیلووا کو ویکسین لگ چکی تھی اور وہ اپنے کام سے جڑے خطرناک انفیکشنز کے خلاف مدافعت رکھتی تھیں — تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں نمونیا کس وجہ سے ہوا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے میڈیا کوریج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر میڈیا میں شائع ہونے والی اکثر خبریں “غلط معلومات” ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے ڈبلیو ایچ او کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مناسب طور پر آگاہ کیا ہے۔

ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کی غیر مصدقہ رپورٹ

آزاد روسی میڈیا ادارے لیوڈی بائکالا اور ٹیلی گرام چینلز میش اور بازا کی رپورٹوں کے مطابق شیپیلووا نے 25 ستمبر کو لیبارٹری میں طاعون کے بیکٹیریا یئرسینیا پیسٹس والی ایک ٹیسٹ ٹیوب توڑ دی تھی، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ یئرسینیا پیسٹس کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف حساسیت پر تحقیق کر رہی تھیں۔ روسی حکام نے ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

وبائی امراض کے ماہر میخائل فاووروف نے اخبار دی سن سے گفتگو میں ٹوٹی ہوئی ٹیسٹ ٹیوب کے منظرنامے کو بعید از قیاس قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ طاعون کے اداروں کا عملہ خصوصی حفاظتی لباس میں کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر خاتون کو واقعی پھیپھڑوں کا طاعون تھا تو ابتدا میں اسے نمونیا یا کووڈ سمجھا گیا ہو سکتا ہے، جس سے رابطہ کاروں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔

روس میں طاعون کے خدشات پر ہسپتال کے باہر حفاظتی لباس میں طبی عملہ
ارکوتسک کے ہسپتالوں اور انسٹی ٹیوٹ میں قرنطینہ پابندیاں — تقریباً دو سو افراد طبی نگرانی میں رہے۔ (علامتی تصویر)

قرنطینہ اور بین الاقوامی نگرانی

واقعے کے بعد تقریباً دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا — ایک سو چودہ کو ایک ہسپتال میں، تریسٹھ کو دوسرے میں اور بارہ کو انسٹی ٹیوٹ میں۔ انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو تین دن تک عمارت کے اندر ہی بند رکھا گیا، جہاں وہ فرش اور کرسیوں پر سوتے رہے۔ دو ہسپتالوں اور ایک بچوں کے کلینک میں بھی قرنطینہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سی ڈی سی اور دیگر اداروں کے ساتھ صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور روس سے درست معلومات جلد اور کھلے عام شیئر کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام (ای سی ڈی سی) نے بھی کہا ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور دستیاب محدود معلومات کی بنیاد پر ثانوی کیسز یا انسان سے انسان میں مسلسل منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کئی ممالک نے سفری وارننگز جاری کی ہیں اور داخلی راستوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

نتیجہ

روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی مشتبہ موت کے گرد اب بھی کئی بنیادی سوالات جواب طلب ہیں — موت کی اصل وجہ کیا تھی، کون سے ٹیسٹ کیے گئے اور دوسرے ملازم کی حالت کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مکمل اور شفاف معلومات کے بغیر عالمی صحت کے لیے خطرات کا درست اندازہ ممکن نہیں۔ روس طاعون کے کسی کیس کی تردید کر رہا ہے اور احتیاطی اقدامات کم کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

سعودی عرب کا حوثی حملوں کے بعد جوابی کارروائی: ریاض اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیادنیا

سعودی عرب کا حوثی حملوں کے بعد جوابی کارروائی: ریاض اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا

یمن کے حوثیوں نے 5 سے 7 اکتوبر کے دوران ریاض کے شاہ خالد ہوائی اڈے، رابغ آرامکو ریفائنری اور جنوبی ہوائی اڈوں پر حملوں کے دعوے کیے۔ سعودی اتحاد نے ریاض کے شمال میں بیلسٹک میزائل مار گرایا۔

مزید پڑھیں
لاؤس میں چینی فوجی اڈے پر سیٹلائٹ تصاویر سے حملے کے طیاروں کی موجودگی کا انکشافدنیا

لاؤس میں چینی فوجی اڈے پر سیٹلائٹ تصاویر سے حملے کے طیاروں کی موجودگی کا انکشاف

لاؤس کے شہر بان کیون میں ایک نئے چینی فوجی اڈے پر سیٹلائٹ تصاویر نے حملے کے طیاروں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ یہ اڈہ چین کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے مین لینڈ میں فضائی فورس کا پہلا قدم ہے، جس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔ چین

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

بھارت میں تیرتے شمسی منصوبے کے لیے ٹاٹا پاور اور ناروے کی اوشن سن کا اشتراک
نمایاں خبر

بھارت میں تیرتے شمسی منصوبے کے لیے ٹاٹا پاور اور ناروے کی اوشن سن کا اشتراک

نئی دہلی، 8 اکتوبر — بھارت کی ایک بڑی مربوط بجلی کمپنی ٹاٹا پاور نے ناروے کی اوشن سن کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ جھلی پر مبنی تیرتے شمسی پینلوں کی ٹیکنالوجی بھارت لائی جا سکے۔ اس کا آغاز مہاراشٹر میں کمپنی کے مُلشی ذخیرۂ آب پر 300 کلوواٹ پیک کے پائلٹ منصوبے

مکمل خبر پڑھیں
رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز
گرین جرنلزم

رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز

لیچے: موسمیاتی تبدیلی پر یورپی بحیرہ روم مرکز (سی ایم سی سی) نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے "فیوچر آف دی پلینٹ" ڈیسک اور اسکائی ٹی جی 24 کے ڈپٹی ایڈیٹر اِن چیف دانیئل موریٹی کو موسمیات اور پائیداری پر سائنسی صحافت کے 2026 کے رومیو باسولی انعام کا فاتح قرار دیا ہے۔ یہ انعام

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔