آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں ہفتے کے روز 3 اکتوبر 2026 کی علی الصبح 4.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے میلبورن سمیت وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ جیو سائنس آسٹریلیا کے مطابق میلبورن زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 2:01 بجے ساؤتھ گپس لینڈ کے قصبے لیونگاتھا کے قریب ریکارڈ کیا گیا، جو میلبورن سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ تقریباً تین سال کے دوران وکٹوریہ کا سب سے بڑا زلزلہ تھا، اور ہزاروں افراد نے جھٹکے محسوس ہونے کی اطلاعات درج کرائیں۔
FAKTA: اہم نکات
- شدت: ابتدائی طور پر 4.8 ریکارڈ کی گئی (جیو سائنس آسٹریلیا)۔
- وقت: ہفتہ 3 اکتوبر 2026، صبح 2:01 بجے (مقامی آسٹریلین ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم)۔
- مرکز: لیونگاتھا، ساؤتھ گپس لینڈ — میلبورن سے تقریباً 130 سے 135 کلومیٹر جنوب مشرق۔
- گہرائی: تقریباً 10 کلومیٹر — اتلی گہرائی ہی وسیع علاقے میں جھٹکے محسوس ہونے کی وجہ بنی۔
- آفٹر شاک: مرکزی زلزلے کے کچھ دیر بعد 3.1 شدت کا آفٹر شاک بھی ریکارڈ کیا گیا۔
- اطلاعات: ایک گھنٹے کے اندر تقریباً 15 ہزار افراد نے جھٹکے محسوس ہونے کی رپورٹ درج کرائی؛ کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
زلزلہ کب اور کہاں آیا
جیو سائنس آسٹریلیا کے نیشنل ارتھ کوئیک الرٹس سینٹر نے زلزلے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 2:01 بجے ریکارڈ کیا۔ مرکز ساؤتھ گپس لینڈ کے قصبے لیونگاتھا کے قریب تھا، جو کورمبورا کے علاقے کے آس پاس واقع ہے۔
زلزلے کی گہرائی صرف تقریباً 10 کلومیٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق اتلی گہرائی کے زلزلے زیادہ فاصلے تک محسوس کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جھٹکے میلبورن کے مغربی مضافات تک پہنچے۔ مرکزی زلزلے کے کچھ دیر بعد 3.1 شدت کا آفٹر شاک بھی اسی علاقے میں ریکارڈ کیا گیا۔
میلبورن زلزلے کے جھٹکے کہاں کہاں محسوس ہوئے
زلزلے کے جھٹکے میلبورن کے مشرقی مضافات سمیت شہر کے وسیع حصوں میں محسوس کیے گئے۔ رہائشیوں نے نارے وارن، گارفیلڈ، پریسٹن اور ہائیڈلبرگ ہائٹس سے جھٹکے محسوس ہونے کی اطلاع دی، جبکہ وینس بے اور مورننگٹن جزیرہ نما کے رہائشی بھی نیند سے بیدار ہو گئے۔

تصویر: زلزلے کے بعد آدھی رات کو گھروں سے باہر نکلے رہائشی — میلبورن کے ایک مضافاتی علاقے میں ایمرجنسی گاڑیوں کی روشنیاں۔ (تصویر: وطن نیوز)
مغربی میلبورن کے ویریبی میں بھی ایک رہائشی نے عمارت کے ہلنے اور کھڑکیوں کے چرچرانے کی اطلاع دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زلزلے کی توانائی ساؤتھ گپس لینڈ سے کس قدر دور تک پہنچی۔ لوگوں نے ہلتی ہوئی کھڑکیاں، سرکتا فرنیچر اور جھولتے بستروں کا ذکر کیا۔
ہزاروں اطلاعات، مگر کوئی بڑا نقصان نہیں
جیو سائنس آسٹریلیا کو زلزلے کے فوراً بعد ہزاروں ‘فیلٹ رپورٹس’ موصول ہوئیں — صبح 2:30 بجے تک 10 ہزار سے زائد اور تقریباً 3 بجے تک تقریباً 15 ہزار اطلاعات درج ہو چکی تھیں، جن کی تعداد بعد میں 16 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جھٹکے محسوس کرنے والے افراد ارتھ کوئیکس ایٹ جی اے پر اپنی رپورٹ درج کرائیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ اس زلزلے سے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے، جبکہ وکٹوریہ کی ریاستی ایمرجنسی سروس نے زلزلے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ٹیموں کو الرٹ کر دیا۔ مزید تفصیلات کے لیے جیو سائنس آسٹریلیا کی میڈیا معلومات ملاحظہ کریں۔
تین سال کا سب سے بڑا زلزلہ
یہ تقریباً تین سال میں وکٹوریہ کا سب سے بڑا زلزلہ تھا۔ ستمبر 2021 میں مینس فیلڈ کے قریب 5.9 شدت کے زلزلے نے میلبورن کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا تھا اور جنوب مشرقی آسٹریلیا بھر میں محسوس کیا گیا تھا۔
اس کے بعد مئی 2023 میں سنبری کے قریب 3.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جو 120 سال میں میٹروپولیٹن میلبورن کے اندر ریکارڈ ہونے والا سب سے بڑا زلزلہ تھا، جبکہ جون 2023 میں ماؤنٹ باؤ باؤ کے قریب 4.6 شدت کے زلزلے کو 10 ہزار سے زائد افراد نے محسوس کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ جھٹکے 2021 کے زلزلے کے بعد معمول کی زلزلہ خیزی کا حصہ ہیں۔
زلزلے کے دوران حفاظتی تدابیر
وکٹوریہ کی ریاستی ایمرجنسی سروس نے اس واقعے کو زلزلے کے دوران حفاظتی تدابیر کی ‘وقت کی یاد دہانی’ قرار دیا اور عوام کو ہدایت کی کہ زلزلہ آئے تو فوراً زمین پر گر جائیں، کسی مضبوط پناہ گاہ کے نیچے جگہ لیں، اپنے سر اور گردن کی حفاظت کریں اور جھٹکے بند ہونے تک مضبوطی سے پکڑے رہیں۔

تصویر: زلزلے کی لہروں کو ریکارڈ کرتا سیسموگراف — جیو سائنس آسٹریلیا کا نیشنل ارتھ کوئیک الرٹس سینٹر ایسے ہی آلات سے زلزلوں کی نگرانی کرتا ہے۔ (تصویر: وطن نیوز)
یہ خبر وطن نیوز کے مرکزی ڈومین پر بھی ملاحظہ کریں۔ مزید عالمی خبریں یہاں پڑھیں۔
نتیجہ
وکٹوریہ میں 4.8 شدت کے زلزلے نے میلبورن اور گردونواح کے ہزاروں رہائشیوں کو آدھی رات کو بیدار کر دیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اتلی گہرائی کے باعث جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے، اور ہزاروں فیلٹ رپورٹس سے حکام کو صورتحال کا اندازہ لگانے میں مدد ملی۔
یہ واقعہ قدرتی آفات کے پیش نظر تیاریوں اور زلزلے کے دوران درست حفاظتی تدابیر کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ جیو سائنس آسٹریلیا اور متعلقہ ادارے خطے کی زلزلہ خیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔






























