اسپین کی پارلیمنٹ (ایوانِ زیریں، کانگریس آف ڈیپوٹیز) نے جمعے کو اسپین ہاؤسنگ بل کے تحت حکومت کے پیش کردہ دونوں ہنگامی فرمان مسترد کر دیے۔ پہلا فرمان 172 کے مقابلے میں 178 ووٹوں سے اور دوسرا 166 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے ناکام ہوا۔ میڈرڈ میں پارلیمنٹ کے باہر جمع مظاہرین نے فیصلے کی خبر پر ’تمہارا منافع، ہماری مصیبت‘ کے نعرے لگائے۔
اہم نکات
- پہلا ہنگامی فرمان 172 کے مقابلے میں 178 ووٹوں سے مسترد ہوا؛ دوسرا فرمان 166 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے ناکام رہا۔
- دونوں فرمان 29 ستمبر کو کابینہ نے منظور کیے تھے اور محض چند گھنٹے نافذ رہنے کے بعد منسوخ ہو گئے۔
- مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے: دائیں بازو کی پاپولر پارٹی (پی پی)، انتہائی دائیں بازو کی ووکس، کیٹالان علیحدگی پسند جماعت جنٹس اور یو پی این — دوسرے فرمان کے خلاف باسک نیشنلسٹ پارٹی (پی این وی) اور کینری اتحاد بھی شامل ہوئے۔
- احتجاج کی چنگاری 87 سالہ ماریکارمین اباسکل کی گزشتہ ہفتے میڈرڈ میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بے دخلی تھی۔
- اے پی کے مطابق اسپین میں اوسط کرایہ گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً دگنا ہو چکا ہے۔
دو فرمانوں کا موازنہ
| پہلو | پہلا فرمان (حکومت کا سوشلسٹ شعبہ) | دوسرا فرمان (حکومت کا سومار شعبہ) |
|---|---|---|
| بنیادی مقصد | کمزور کرایہ داروں کی بے دخلی روکنا، رئیل اسٹیٹ کی قیاس آرائی محدود کرنا | کرایے کے معاہدوں کی خودکار، غیر معینہ مدت تک تجدید |
| اہم شقیں | 2030 تک کمزور کرایہ داروں کی بے دخلی پر پابندی؛ موجودہ معاہدوں کے کرایوں میں دو سال کی توسیع؛ مختصر مدتی کرایوں پر سخت قوانین؛ کرایہ دہی کے لیے ٹیکس مراعات | معاہدہ ختم ہونے پر خودکار تجدید؛ معاہدہ توڑنے کی صورت میں مالک 12 ماہ کا کرایہ بطور معاوضہ ادا کرے |
| حق میں ووٹ | 172 | 166 |
| مخالفت میں ووٹ | 178 | 184 |
| مخالفت کرنے والی جماعتیں | پی پی، ووکس، جنٹس، یو پی این | پی پی، ووکس، جنٹس، یو پی این کے علاوہ پی این وی اور کینری اتحاد بھی |
| نافذ رہنے کی مدت | تقریباً 24 گھنٹے | محض چند گھنٹے |
اسپین ہاؤسنگ بل: پہلا فرمان کیوں ناکام ہوا
پہلا فرمان حکومت کے سوشلسٹ شعبے کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اس کا مقصد کمزور افراد کو بے دخلی سے بچانا، رئیل اسٹیٹ کی قیاس آرائیوں کو محدود کرنا اور کرایے کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس مراعات فراہم کرنا تھا۔ ووٹنگ سوشلسٹ پارٹی اور سومار کی درخواست پر عوامی اور نام بہ نام (رول کال) انداز میں ہوئی، جس میں ہر رکن کو کھڑے ہو کر اپنا ووٹ بلند آواز میں دینا پڑا۔ ووکس کے رہنما سانتیاگو اباسکل نے اپنے ’ناں‘ کے ساتھ ’غداری کو نا‘ اور ’بدعنوان حکومت کو نا‘ کے جملے بھی شامل کیے۔
وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز پانچ گھنٹے طویل بحث کے اختتام پر خود ایوان میں آئے اور اراکین سے آخری اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان فرمانوں کے پیچھے ’ایسی مارکیٹ میں نظم اور انسانیت قائم کرنے کی خواہش ہے جو اگر ہم اسے قابو میں نہ لائیں تو ہماری سوسائٹی کو تباہ کر دے گی‘۔ ان کا کہنا تھا: ’صحیح کام کرو، ورنہ تاریخ تمہارا فیصلہ کرے گی — اور تمہارے خیال سے بہت جلد۔‘
دوسرا فرمان: کرایے کے معاہدوں کی خودکار تجدید
دوسرا فرمان حکومت کے بائیں بازو کے اتحادی سومار کے شعبے کی جانب سے کرایہ دار یونین کے مطالبے پر تیار کیا گیا تھا۔ اس کے تحت رہائشی کرایے کے معاہدے ختم ہونے پر خودکار طور پر غیر معینہ مدت تک قابلِ تجدید ہو جاتے، اور اگر مالک معاہدہ توڑنا چاہتا تو اسے کرایہ دار کو 12 ماہ کا کرایہ معاوضے کے طور پر ادا کرنا پڑتا۔ یہ فرمان 166 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے مسترد ہوا — اس بار باسک نیشنلسٹ پارٹی اور کینری اتحاد نے بھی مخالفت میں ووٹ دیا۔
ہاؤسنگ کی وزیر ازابیل روڈریگز نے بحث کے دوران اپوزیشن، بالخصوص جنٹس، سے اپیل کی تھی کہ وہ کم از کم ووٹنگ سے غیر حاضر رہ کر فرمانوں کی منظوری کا راستہ دیں۔ انہوں نے یہ پیشکش بھی کی کہ حکومت جنٹس کی 90 فیصد تجاویز پہلے ہی شامل کر چکی ہے اور بعد میں ان فرمانوں کو باقاعدہ بل کی شکل دے کر ترامیم کی گنجائش رکھی جائے گی — مگر یہ پیشکش ووٹنگ کو نہ روک سکی۔
جنٹس کا فیصلہ کن کردار
کیٹالان علیحدگی پسند جماعت جنٹس کبھی کبھار سانچیز کی اقلیتی حکومت کی حمایت کرتی رہی ہے، اسی لیے اس کا فیصلہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ جماعت کی ایگزیکٹو نے جمعرات کی رات ہنگامی آن لائن اجلاس میں متفقہ طور پر دونوں فرمانوں کے خلاف ووٹ دینے اور ان کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس میں جنٹس کی ترجمان میریام نوگیراس کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات مالکان کو اپنی جائیدادیں کرائے کی مارکیٹ سے نکالنے پر مجبور کریں گے، جس سے فراہمی گھٹے گی اور قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ ان کے الفاظ میں: ’یہ فرمان اب بھی قیاس آراؤں کو جائیدادیں خریدنے اور لوگوں کو بے دخل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘ رائٹرز کے مطابق جنٹس کے اس فیصلے کے بعد فرمانوں کی ناکامی یقینی ہو گئی تھی۔
پارلیمنٹ کے باہر مظاہرین کا غم و غصہ
ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے باہر سینکڑوں مظاہرین جمع تھے۔ جیسے ہی ناکامی کی خبر پہنچی، ہجوم نے ’تمہارا منافع، ہماری مصیبت‘ کے نعرے لگائے اور ووٹوں کے نتائج پر شدید ہوٹنگ کی۔ متعدد مظاہرین نے گدھ کی تصویروں والے ہاتھ سے بنے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے — ان کا الزام ہے کہ جائیداد کے قیاس آرا قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ ایوان کی عوامی گیلری میں بیٹھے افراد نے ’ولچر فنڈز کانگریس چلاتے ہیں‘ کے نعرے لگائے۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی کرایہ دار یونین (سنڈیکاٹو ڈے انکی لیناس) نے ہفتے کو مزید بڑے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ یونین کی ترجمان الیسیا ڈیل ریو نے کہا: ’خیمہ بستی جاری رہے گی اور دیگر محلوں تک پھیلے گی — ہمارا ہدف عام ہڑتال ہے۔‘
ماریکارمین اباسکل: احتجاج کی چنگاری
موجودہ احتجاجی لہر کی چنگاری 87 سالہ ماریکارمین اباسکل کی گزشتہ ہفتے میڈرڈ میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بے دخلی تھی۔ اس واقعے کے بعد نوجوانوں نے میڈرڈ کے مرکزی چوک اور دیگر شہروں میں خیمے لگا لیے جو تقریباً ایک ہفتے سے قائم ہیں — یہ منظر 2008-12 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد ہونے والے احتجاجی دھرنوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔

عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد انہیں بے دخل کرنے والی کمپنی نے اس ہفتے ہتھیار ڈال دیے اور اعلان کیا کہ ماریکارمین اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آ سکتی ہیں۔ ان کے وکیل کے مطابق وہ اسٹریچر پر گھر سے نکالے جانے کے بعد سے اسپتال میں ہیں، مگر یہ جان کر خوش ہیں کہ وہ گھر واپس جائیں گی۔
سیاسی بحران: قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ
فرمانوں کی ناکامی نے سانچیز حکومت کو سنگین سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیخو نے ووٹنگ کے فوراً بعد قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’میں تیار ہوں، ہم تیار ہیں — وہ جب چاہے انتخابات کا اعلان کرے۔‘ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ہاؤسنگ کے مسئلے کو ’انتخابی چالوں‘ کے لیے استعمال کیا اور کہا کہ ’اسپین مزید برداشت نہیں کر سکتا‘۔
ہسپانوی میڈیا میں قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ سانچیز نومبر میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان خبروں پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔ مونکلوا ذرائع کے مطابق سانچیز اس ہفتے کے آخر میں غور و فکر کے بعد فیصلہ کریں گے کہ آیا انتخابات مقررہ وقت سے پہلے کرائے جائیں۔ دوسری جانب سومار کے وزیر پابلو بسٹندوے نے کہا کہ دائیں بازو کی جماعتیں ’بیلٹ باکس میں اس غلطی کی قیمت چکائیں گی‘۔
نتیجہ
ہسپانوی پارلیمنٹ کا اسپین ہاؤسنگ بل کے دونوں فرمان مسترد کرنا محض ایک قانون سازی کی ناکامی نہیں، بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے سماجی عدم اطمینان اور سیاسی تعطل کی عکاسی ہے۔ کرائے کی آسمان چھوتی قیمتیں اور رہائش کی قلت نے ہزاروں شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے، اور کرایہ دار یونین کی عام ہڑتال کی دھمکی اس دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
حکومت کے لیے اب دوہرا چیلنج ہے: ایک طرف مظاہرین کے ٹھوس مطالبات کا جواب دینا، دوسری طرف پارلیمنٹ میں اکثریت کے بغیر قانون سازی کا راستہ نکالنا۔ اگر با معنی مذاکرات کے ذریعے کوئی قابلِ عمل حل نہ نکلا تو احتجاج کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ قبل از وقت انتخابات کا امکان بھی بڑھتا جائے گا۔ عالمی خبروں کے مزید تجزیے وطن نیوز پر ملاحظہ کریں۔






















