موسم گرما 2026 مغربی یورپ کا ریکارڈ کا گرم ترین موسم گرما رہا — یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمٹ چینج سروس کے مطابق اس نے 2003 کے پرانے ریکارڈ کو توڑ دیا، جبکہ فرانس، برطانیہ اور بیلجیم نے اپنے اپنے گرم ترین موسم گرما کا تجربہ کیا۔ جون کے وسط سے اگست کے وسط تک چلنے والی گرمی کی لہروں نے 8 کروڑ افراد کے علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر پہنچا دیا، اور یورپ کے 80 فیصد باشندوں کے علاقے 35 ڈگری سے زائد گرمی کا شکار رہے — یعنی براعظم کے نصف سے کہیں زیادہ حصے کو یورپ شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
اہم نکات
- موسم گرما 2026: مغربی یورپ کا اب تک کا گرم ترین موسم گرما (کوپرنیکس)، 2003 کا ریکارڈ ٹوٹ گیا؛ پورے یورپ میں یہ تیسرا گرم ترین موسم گرما رہا (2024 اور 2022 کے بعد)
- فرانس، برطانیہ اور بیلجیم — ہر ایک نے قومی سطح پر اپنا گرم ترین موسم گرما ریکارڈ کیا
- جون کے وسط سے اگست کے وسط تک: 8 کروڑ افراد کے علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد (اے ایف پی تجزیہ)
- یورپ کے 80 فیصد باشندوں — تقریباً 49 کروڑ افراد — کے علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سے زائد رہا
- بلومبرگ کے اعداد کے مطابق یورپ بھر میں گرمی سے 25 ہزار سے زائد اضافی اموات؛ صرف جرمنی میں جولائی تک تقریباً 11,900 اموات — جدید ریکارڈ کی بلند ترین سالانہ تعداد
- کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس: جون سے اگست تک نصف یورپی باشندے خطرناک زمینی سطح کی اوزون آلودگی کا شکار رہے
- اگست 2026: 1940 کے بعد عالمی سطح پر گرم ترین اگست (اوسط 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ)
مغربی یورپ کا ریکارڈ توڑ موسم گرما
گرمی جلدی آئی اور پھر پیچھے نہیں ہٹی۔ مئی 2026 میں مغربی یورپ کو غیر معمولی طور پر جلدی اور شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا: پرتگال، برطانیہ اور آئرلینڈ نے مئی کے اپنے گرم ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیے، جبکہ فرانس نے مئی کا اپنا گرم ترین دن دیکھا۔ سپین میں مئی کے دوران گرمی سے 101 اموات رپورٹ ہوئیں — 2015 میں نگرانی شروع ہونے کے بعد مئی کی بلند ترین تعداد۔
جون اور جولائی کا دورانیہ مغربی یورپ کا ریکارڈ کا گرم ترین دورانیہ رہا، اور اگست میں مزید گرمی کی لہریں آئیں۔ فرانس میں موسم گرما کے دوران 53 دن گرمی کی لہریں چلیں اور بارش معمول سے تقریباً 40 فیصد کم ہوئی — جس سے یہ 1959 کے بعد دوسرا خشک ترین موسم گرما بن گیا۔ مئی کے آخر سے مستقل ہائی پریشر سسٹمز نے علاقے پر گرمی قید کر رکھی تھی، جس سے مٹی کو ایک لہر اور دوسری لہر کے درمیان نمی بحال کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔

ریکارڈ ایک نظر میں
| ملک | موسم گرما 2026 کا ریکارڈ |
|---|---|
| فرانس | قومی سطح پر گرم ترین موسم گرما؛ 53 ہیٹ ویو دن؛ 1959 کے بعد دوسرا خشک ترین موسم گرما |
| برطانیہ | اب تک کا گرم ترین موسم گرما؛ شدید خشک سالی |
| بیلجیم | اب تک کا گرم ترین موسم گرما |
| سپین | 61 ہیٹ ویو دن — اب تک کی بلند ترین تعداد |
| اٹلی | 75 سال سے زائد عرصے کا گرم ترین موسم گرما |
| جرمنی | جولائی تک 11,900 اضافی اموات — جدید ریکارڈ کی بلند ترین سالانہ تعداد |
یورپ شدید گرمی کا انسانی نقصان
یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، اور گرمی برداشت کرنے کے لیے وہ خاص طور پر غیر تیار ہے: پرانا انفراسٹرکچر اور رہائشی ایئر کنڈیشننگ کی تاریخی طور پر کم شرح نے اسپتالوں، اسکولوں اور کیئر ہومز تک کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت والے کئی علاقے — جن میں برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز اور پولینڈ کے حصے شامل ہیں — ایسی گرمی کے عادی نہیں ہیں۔
موسم گرما کی گرمی نے فضا کو بھی زہر آلود کر دیا۔ کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس (CAMS) کے مطابق جون سے اگست کے درمیان نصف یورپی باشندے خراب، بہت خراب یا انتہائی خراب زمینی سطح کی اوزون کی زد میں رہے، کیونکہ شدید گرمی اور جنگلات کی آگ نے اس آلودگی کو بنانے والے کیمیائی ردعمل کو تیز کر دیا۔ CAMS کے ڈائریکٹر لارنس روئل نے کہا: “اوزون آلودگی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ہماری فضا، آب و ہوا، صحت اور روزگار واقعی کتنے جڑے ہوئے ہیں۔” دمے کے مریضوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
خشک سالی، دریا اور جنگلات کی آگ
مغربی یورپ کے بڑے حصے اور وسطی و مشرقی یورپ کے وسیع علاقوں میں — کچھ جگہوں پر مئی سے مسلسل — وسیع خشک سالی چھائی رہی۔ کوپرنیکس نے فرانس، برطانیہ، ہنگری، رومانیہ اور سربیا میں شدید خشک سالی کی اطلاع دی۔ رائن، ڈینیوب، سدرن بگ اور ڈنیپر سمیت بڑے دریاؤں میں غیر معمولی طور پر کم بہاؤ دیکھا گیا، جس سے پانی کی فراہمی، آبپاشی اور توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی۔
جولائی میں مغربی یورپ میں طویل گرم اور خشک موسم نے شدید جنگلات کی آگ کو پھیلایا، جبکہ علاقے میں زمین کی سطح کی نمی جولائی 2022 — آخری شدید خشک سالی والے موسم گرما — سے بھی نمایاں طور پر کم رہی۔ جنوبی یورپ میں فصلیں سوکھ گئیں، جس سے پیداوار اور غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہوا۔

“جہنمی گرمی” اور معاشی نقصان
اب گرمی ایک معاشی قوت بن چکی ہے۔ 10 ستمبر کو یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن اسٹیل نے خبردار کیا کہ یورپ کا یہ شدید موسم گرما زندگی کی لاگت کے بحران کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: “یورپی یونین کی جہنمی گرمی کا موسم گرما جاری فوسل فیول لاگت کے بحران کے اوپر آیا ہے — اور یہ دونوں گھرانوں، کاروباروں اور حکومتوں کے لیے قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، ایک مہلک دوہرا وار۔”
اسٹیل نے خبردار کیا کہ غیر مستحکم فوسل فیول درآمدات پر انحصار براعظم کو سردیوں کے ایک اور ایندھن بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ مئی کی ابتدائی اور شدید گرمی کی لہر کا مستند تجزیہ یہاں پڑھیں: کوپرنیکس: مئی 2026 کی ابتدائی اور شدید گرمی کی لہر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
ہماری مزید موسمیاتی کوریج کے لیے مین پورٹل پر وطن نیوز کا ورلڈ سیکشن دیکھیں، اور یہی خبر watannews.dk پر پڑھیں۔
یورپ باقی دنیا سے تیزی سے کیوں گرم ہو رہا ہے؟
یورپی ماحولیاتی ایجنسی اور کوپرنیکس کے مطابق یورپ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں تقریباً 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہو چکا ہے — عالمی اوسط شرح سے تقریباً دُگنی رفتار — جس سے یہ زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن گیا ہے۔ سوکھی ہوئی زمین نے اس موسم گرما کی شدت کو بڑھایا: خشک مٹی گرمی کو بخارات کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کے بجائے واپس فضا میں بھیجتی ہے، جس سے ایک ایسا فیڈبیک لوپ بنتا ہے جو ہر گرمی کی لہر کے ساتھ مزید بڑھتا ہے۔
عالمی سطح پر اگست 2026 1940 کے بعد 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ گرم ترین اگست رہا، جو جولائی 2023 کے ہر وقت کے ماہانہ ریکارڈ کے تقریباً برابر ہے۔ یہ نومبر 2025 کے بعد پہلا مہینہ تھا جب درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر گیا۔
نتیجہ
موسم گرما 2026 کوئی معمولی انحراف نہیں تھا جسے نظر انداز کر دیا جائے — یہ اس براعظم کے لیے نیا معیار تھا جو باقی سیارے سے دُگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ مغربی یورپ میں ریکارڈ گرمی، 25 ہزار اضافی اموات، نصف آبادی کے لیے زہر آلود فضا اور خشک ہوتے دریا سب ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: یورپ کا شدید گرمی کا بحران ایک زندہ حقیقت ہے، اور اس کی مانگ کی گئی موافقت — اور اخراج میں کمی — اب مزید انتظار نہیں کر سکتی۔



























