روس نے گزشتہ رات یوکرین پر وحشیانہ حملہ کیا ہے، جس میں ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی 74ویں سالگرہ کی رات کیا گیا۔ یوکرین کے حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 34 سے زائد زخمی ہوئے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے جنگ کے ”سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں“ میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اہم نکات
- واقعہ: روس کا یوکرین پر وحشیانہ حملہ — توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا
- وقت: 6 اور 7 اکتوبر 2026 کی درمیانی رات، پوتن کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر
- نقصان: یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم 11 ہلاک اور 34 سے زائد زخمی
- متاثرہ شہر: کیف، دنیپرو، کریمینچک اور زاپوریزیا سمیت متعدد شہر
- یوکرین کا مطالبہ: فضائی دفاع کے مزید نظام، خاص طور پر پیٹریاٹ میزائل، اور روس پر سخت پابندیاں
- جوابی کارروائی: یوکرین کے دعوے کے مطابق اس نے روس کی دو تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا
یوکرین پر وحشیانہ حملہ: توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کاری ضرب
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روسی افواج نے رات گئے میزائلوں اور ڈرونز سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑا حملہ کیا۔ ان کے بقول یہ حملہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا، جو 7 اکتوبر کو 74 برس کے ہو گئے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو پوتن کے لیے ”سالگرہ کا تحفہ“ قرار دیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملے کیف، دنیپرو، کریمینچک اور زاپوریزیا سمیت متعدد شہروں میں کیے گئے، جن میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور عام شہری بھی متاثر ہوئے۔

حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری — علامتی تصویر
فضائی دفاع کی فوری ضرورت
صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی بیلسٹک میزائل یوکرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے فضائی دفاعی نظاموں، خاص طور پر پیٹریاٹ میزائلوں کی فوری فراہمی ناگزیر ہے۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں سے قبل توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، اس لیے فضائی دفاع کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
جنگی جرائم اور عالمی ردعمل
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے ان حملوں کو ”جنگی جرائم“ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو فضائی دفاع اور توانائی کے شعبے میں فوری مدد فراہم کی جائے۔
وزیر خارجہ کے مطابق روسی قیادت یہ حقیقت چھپا رہی ہے کہ ماسکو یہ جنگ نہیں جیت رہا، اور عالمی شراکت داروں کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو روس کو سفارت کاری کی میز پر واپس لائیں۔
خصوصی ٹریبونل اور احتساب کا مطالبہ
آندری سیبیہا نے بتایا کہ یوکرین پر جارحیت کے جرم کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی ٹریبونل کو آئندہ برس عملی طور پر فعال کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان کے بقول احتساب ناگزیر ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دی ہیگ میں احتساب کا مطالبہ
یوکرین کے حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو سزا ملنی چاہیے۔ خصوصی ٹریبونل کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اور کیف کا مطالبہ ہے کہ یہ عمل دی ہیگ میں انجام پائے۔
یوکرین کا جوابی وار: روسی تیل تنصیبات نشانہ
یوکرین کے دعوے کے مطابق اس نے روسی حملوں کے جواب میں روس کی دو تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کیف کا موقف ہے کہ جب تک روس یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا، یوکرین روس کے توانائی کے ذرائع کو جواب میں نشانہ بناتا رہے گا۔
نتیجہ
پوتن کی سالگرہ کی رات یوکرین پر ہونے والا یہ حملہ نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنا بلکہ اس نے سردیوں سے قبل توانائی کے بحران کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ یوکرین فضائی دفاع اور سخت پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جب کہ جنگی جرائم کے احتساب کے لیے خصوصی ٹریبونل کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ عالمی برادری ان مطالبات کا کیا جواب دیتی ہے۔
یہ خبر وطن نیوز انٹرنیشنل پر بھی شائع ہوئی ہے؛ دنیا بھر کی مزید خبریں ورلڈ سیکشن میں پڑھیں۔



























