LIVE
اہم خبر
تہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گےانسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قیدآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب جہاز میں آگ لگ گئی، عملے کی حالت معلوم نہیںنائیجیریا کے موسمیاتی قانون کے محرک سیم اونوئیگبو کو سولر انرجی فیلوشپ مل گئیبلوچستان میں ٹرینوں کی آمدورفت آج ایک روز کے لیے بنداسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم: 68 افراد ہلاک، تین روزہ قومی سوگ کا اعلانآل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہےایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریکتہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گےانسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قیدآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب جہاز میں آگ لگ گئی، عملے کی حالت معلوم نہیںنائیجیریا کے موسمیاتی قانون کے محرک سیم اونوئیگبو کو سولر انرجی فیلوشپ مل گئیبلوچستان میں ٹرینوں کی آمدورفت آج ایک روز کے لیے بنداسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم: 68 افراد ہلاک، تین روزہ قومی سوگ کا اعلانآل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہےایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریک
میگزین

اے آئی کی تیز رفتار دوڑ: حکومتیں کیوں پیچھے رہ گئیں؟

News Desk 6شائع شدہ 6 اکتوبر، 2026
اے آئی کی تیز رفتار دوڑ: حکومتیں کیوں پیچھے رہ گئیں؟
Share this story

دنیا کے سب سے طاقتور کمپیوٹرز ہر ہفتے زیادہ ذہین ہوتے جا رہے ہیں، لیکن ان پر نظر رکھنے والے قوانین اب بھی پرانے دور کے ہیں۔ اے آئی ضابطہ کاری آج عالمی سیاست کا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے، اور تازہ ترین شواہد بتاتے ہیں کہ حکومتیں اس دوڑ میں بری طرح پیچھے رہ گئی ہیں۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق، پالیسی سازی اور ٹیکنالوجی کے درمیان آج تاریخ کی وسیع ترین خلیج پیدا ہو چکی ہے — ایک ایسی خلیج جس میں قوانین بننے سے پہلے ہی ٹیکنالوجی کئی قدم آگے نکل جاتی ہے۔

اہم نکات

  • نیو یارک ٹائمز نے بیس سے زائد قانون سازوں، ماہرین ٹیکنالوجی اور پالیسی ماہرین سے بات کر کے نتیجہ نکالا کہ حکومتیں اے آئی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہیں۔
  • یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے اہم ترین قواعد دسمبر 2027 تک موخر کر دیے گئے ہیں، کیونکہ معیارات اور نفاذ کا ڈھانچہ ابھی تیار نہیں تھا۔
  • امریکہ میں ابھی تک کوئی جامع وفاقی اے آئی قانون منظور نہیں ہو سکا، اور انتظامیہ خود حفاظتی اقدامات پر منقسم ہے۔
  • پانچ اکتوبر 2026 کو نیو یارک سٹی کونسل نے اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل اور میٹا کے نمائندوں کو حلف کے تحت طلب کیا — شہر کی تاریخ کی پہلی ایسی سماعت۔
  • چھوٹے ممالک اپنے قوانین بنانے سے پہلے امریکہ اور چین کا رخ دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کی تحقیق: پالیسی اور ٹیکنالوجی کے درمیان تاریخی خلیج

نیو یارک ٹائمز کی تحقیق کے مطابق مسئلے کی علامات بالکل واضح ہیں: دو برس پہلے بنائے گئے قوانین کا اثر محدود ہے، نئے بل ووٹنگ تک پہنچے بغیر رک جاتے ہیں، اور اے آئی پر غور کے لیے بلائے جانے والے بین الاقوامی اجلاس جلد ہی فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس تعطل کی جڑیں قومی سیاست، محدود تکنیکی مہارت، جیو پولیٹیکل تقسیم اور اس خوف میں ہیں کہ معاشی طاقت اور قومی سلامتی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

نتیجہ ایک پالیسی خلا کی صورت میں سامنے آیا ہے: اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیاں بڑی حد تک خود اپنی نگرانی کر رہی ہیں۔ یعنی وہی ادارے جو سب سے طاقتور نظام بنا رہے ہیں، انہی کے اصول بھی وہی طے کر رہے ہیں۔

اے آئی ضابطہ کاری میں یورپ کی تاخیر: ڈیجیٹل اومنی بس کی کہانی

یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ کبھی دنیا بھر کے لیے ضابطہ کاری کا نمونہ سمجھا جاتا تھا، اور اسے 2024 میں منظور کیا گیا تھا۔ مگر اب اس کے «سب سے نتیجہ خیز قواعد» موخر کر دیے گئے ہیں، اور عملے کی کمی نفاذ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یورپی پارلیمان نے سولہ جون 2026 کو اور یورپی یونین کی کونسل نے انتیس جون 2026 کو ڈیجیٹل اومنی بس نامی ترمیم کی حتمی منظوری دی، جو ستائیس جولائی 2026 سے نافذ ہوئی۔

اس ترمیم کے تحت زیادہ خطرے والے نظاموں پر لاگو ہونے والی ذمہ داریاں — جیسے بھرتیوں، قرضوں کی منظوری، تعلیم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں استعمال ہونے والی اے آئی — دو اگست 2026 کی اصل تاریخ سے سولہ ماہ آگے، یعنی دو دسمبر 2027 تک موخر کر دی گئیں۔ مصنوعات میں پہلے سے شامل اے آئی کے لیے یہ تاریخ دو اگست 2028 تک بڑھا دی گئی۔ وجہ حیران کن حد تک عملی تھی: وہ متفقہ تکنیکی معیارات اور جانچ کا بنیادی ڈھانچہ ہی تیار نہیں تھا جس پر قانون کا انحصار تھا۔ البتہ شفافیت کے قواعد — مثلاً صارف کو بتانا کہ وہ اے آئی سے بات کر رہا ہے — دو اگست 2026 سے طے شدہ وقت پر نافذ ہو گئے۔

یورپی پارلیمان میں اے آئی ضابطہ کاری پر غور
یورپی پارلیمان کے ایوان میں اے آئی ایکٹ کے اہم قواعد دسمبر 2027 تک موخر کرنے کی منظوری دی گئی۔

نیو یارک سٹی: کمپنیاں حلف اٹھا کر جواب دیں

جب قومی حکومتیں سست پڑیں تو شہروں نے خود قدم بڑھایا۔ پانچ اکتوبر 2026 کو نیو یارک سٹی کونسل نے شہر کی تاریخ کی پہلی اے آئی نگرانی سماعت منعقد کی، جس میں تمام اکیاون ارکان نے شرکت کی۔ کونسل کی اسپیکر جولی مینن نے یہ سماعت اس دلیل پر بلائی کہ وفاقی حکومت اے آئی کمپنیوں کو خود ضابطہ کاری کی اجازت دے رہی ہے، اس لیے شہر کو خود حرکت میں آنا ہوگا۔

اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل اور میٹا کے نمائندوں نے حلف کے تحت گواہی دی۔ میٹا پہلے ہی رضامند ہو چکا تھا، جبکہ باقی تین کمپنیوں نے کونسل کی جانب سے سمن کی دھمکی کے بعد شرکت پر آمادگی ظاہر کی۔ سابق اینتھروپک محقق جیکب کاکسن نے خبردار کیا کہ صنعت کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ کسی بھی اے آئی نظام کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔ جب ایک اوپن اے آئی ایگزیکٹو تباہ کن ناکامی کے خطرے کا کوئی عدد نہ بتا سکیں تو اسپیکر نے اس جواب کو ہلکا پھلکا قرار دیا۔

سماعت میں دس بل زیر غور آئے، جن میں یہ تجاویز شامل ہیں: کوئی بھی اے آئی ماڈل اس وقت تک فروخت یا استعمال نہ ہو جب تک کسی بیرونی ماہر نے اس کا جائزہ نہ لیا ہو اور کوئی انسان اسے بند نہ کر سکے؛ متاثرہ شہریوں کو نقصان پر مقدمہ کرنے کا حق؛ خلاف ورزی کی اطلاع دینے والوں کو انعام؛ اور چیٹ باٹس پر یہ ظاہر کرنا لازم کہ صارف مشین سے بات کر رہا ہے۔ اوپن اے آئی حال ہی میں حکومتوں کی جانچ پڑتال میں بھی رہا ہے، جس کی ایک مثال آسٹریلیا میں پیش آنے والا سائبر واقعہ ہے۔

نیو یارک سٹی کونسل میں اے آئی ضابطہ کاری پر سماعت
نیو یارک سٹی کونسل کے اجلاس میں اے آئی کی حفاظت پر غور کیا گیا؛ چاروں بڑی کمپنیوں کے نمائندے حلف کے تحت پیش ہوئے۔

حکومتیں کیوں پیچھے ہیں؟

نیو یارک ٹائمز کی تحقیق میں اس تعطل کی چار بڑی وجوہات گنوائی گئی ہیں، جو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں:

سیاسی رکاوٹیں اور تکنیکی کمزوری

قانون ساز اداروں میں اکثر ایسے افراد بیٹھے ہیں جنہیں خود اس ٹیکنالوجی کی گہرائی کا اندازہ نہیں۔ جب قانون بنانے والا یہ نہ سمجھے کہ نظام کام کیسے کرتا ہے تو مؤثر قانون کیسے بنے گا؟ یہی وجہ ہے کہ بل کمیٹیوں میں رک جاتے ہیں اور ووٹنگ تک نہیں پہنچتے۔

جیو پولیٹیکل دوڑ کا خوف

کوئی بھی بڑی طاقت سخت قوانین لگا کر مقابلے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ اسی خوف نے چھوٹے ممالک کو بھی مفلوج کر رکھا ہے: وہ اپنے قوانین لکھنے سے پہلے امریکہ اور چین کا ہاتھ دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

علاقہ اے آئی ضابطہ کاری کی موجودہ صورتحال
یورپی یونین جامع قانون موجود ہے، مگر اہم ترین ذمہ داریاں دسمبر 2027 تک موخر کر دی گئیں
امریکہ کوئی جامع وفاقی قانون نہیں؛ انتظامیہ حفاظتی اقدامات پر منقسم ہے
نیو یارک سٹی دس بل زیر غور؛ بڑی کمپنیوں کے نمائندے حلف کے تحت طلب کیے گئے

نتیجہ

اے آئی کی کہانی اب صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں رہی؛ یہ طاقت، جوابدہی اور اعتماد کی کہانی ہے۔ جب قانون ساز پیچھے رہ جاتے ہیں تو فیصلے ان کمپنیوں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں جنہیں قانون کو ماننا ہوتا ہے۔ نیو یارک کی سماعت اور یورپ کی تاخیر دونوں ایک ہی سبق دیتی ہیں: رفتار اہم ہے، مگر سمت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ آنے والے مہینے طے کریں گے کہ کیا حکومتیں اس خلیج کو پاٹ پائیں گی، یا ٹیکنالوجی ہمیشہ ان سے ایک قدم آگے رہے گی۔

عام سوالات

حکومتوں کو اے آئی سے اصل خطرہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق سب سے بڑے خدشات یہ ہیں: تباہ کن ناکامی کا امکان، ملازمتوں کا بڑے پیمانے پر نقصان، ذاتی ڈیٹا کی رازداری، اور خود مختار نظاموں کا انسانی قابو سے باہر ہو جانا۔

یورپ کا اے آئی ایکٹ کیوں تاخیر کا شکار ہوا؟
قانون کی ذمہ داریاں تو برقرار ہیں، مگر ان پر عمل کے لیے درکار متفقہ تکنیکی معیارات اور جانچ کا ادارہ جاتی ڈھانچہ وقت پر تیار نہیں ہو سکا، اس لیے اہم تاریخیں آگے بڑھا دی گئیں۔

عام صارف کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
فی الحال بڑی کمپنیاں بڑی حد تک خود اپنی نگرانی کر رہی ہیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی مصنوعات استعمال کرتے وقت محتاط رہیں، اپنی معلومات کی حفاظت کریں اور اپنے نمائندوں سے مؤثر قوانین کا مطالبہ کریں۔

متعلقہ خبریں

آرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخمیگزین

آرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخ

پیرس کا سب سے بڑا بین الاقوامی آرٹ میلہ اس سال وقت سے پہلے بند ہو رہا ہے۔ آرٹ بازل پیرس نے اعلان کیا ہے کہ اس کا دو ہزار چھبیس کا ایڈیشن جمعے کی شام ختم ہو جائے گا اور ہفتے اور اتوار کے عوامی دن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ منتظمین نے یہ

مزید پڑھیں
لٹل بونز نے اے سی ٹی بک آف دی ایئر ایوارڈ 2026 جیت لیامیگزین

لٹل بونز نے اے سی ٹی بک آف دی ایئر ایوارڈ 2026 جیت لیا

کینبرا — آسٹریلوی مصنفہ سینڈی بگنا کے ناول لٹل بونز نے 2026 کا اے سی ٹی بک آف دی ایئر ایوارڈ جیت لیا ہے۔ لٹل بونز اے سی ٹی بک ایوارڈ کے فاتح کا اعلان کینبرا رائٹرز فیسٹیول کے موقع پر آسٹریلیا کی قومی لائبریری میں 16 اکتوبر کو کیا گیا، اور اس خبر کی

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

لرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گے
نمایاں خبر

لرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گے

پیرس میں قائم لرننگ پلینٹ انسٹی ٹیوٹ نے 2026-27 یوتھ ڈیزائن چیلنج کھول دیا ہے، جس میں 15 سے 26 سال کے نوجوان ماحول و موسمیات سمیت تین موضوعات پر منصوبے پیش کر سکتے ہیں؛ 60 منصوبوں کو تربیت اور 12 سفیروں کو 1000 ڈالر کی گرانٹ ملے گی۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔