یونان کے جزیرے سینٹورینی پر واقع اکروتیری کے کھنڈرات کو اکثر یونان کا اپنا پومپیئی کہا جاتا ہے۔ یہ کانسی کے دور کی بستی تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے تھیرا آتش فشاں کے پھٹنے سے راکھ میں دب گئی تھی، اور آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کو اس دور کی روزمرہ زندگی کی ایک نادر جھلک دکھاتی ہے۔ سمتھسونین میگزین نے ۳ نومبر ۲۰۲۶ کو اس بستی کی کہانی پر ایک تفصیلی فیچر شائع کیا ہے۔
تھیرا کا آتش فشاں موجودہ سینٹورینی پر واقع تھا۔ اس کے پھٹنے سے اکروتیری تقریباً ۲۰۰ فٹ راکھ اور پومس پتھر کے نیچے دب گئی۔ ماہرین عام طور پر اس واقعے کی تاریخ ۱۶۲۰ سے ۱۵۳۰ قبل مسیح کے درمیان بتاتے ہیں۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی آتش فشانی دھماکوں میں سے ایک تھا۔
اہم نکات
- اکروتیری سینٹورینی پر کانسی کے دور کی بستی تھی، جو تھیرا آتش فشاں سے دب گئی۔
- بستی تقریباً ۲۰۰ فٹ راکھ اور پومس پتھر کے نیچے دفن ہو گئی۔
- آتش فشاں سے نکلنے والا مواد ۱۸۸۳ کے کراکاٹاؤ دھماکے سے تقریباً چار گنا زیادہ تھا۔
- بستی کے باشندے زیادہ تر بحفاظت نکل گئے تھے، ان کی کوئی لاش اب تک نہیں ملی۔
- کھدائی میں اب تک بستی کا صرف تقریباً ۱۰ فیصد حصہ دریافت ہوا ہے۔
- ماہرین نے اب تک اکروتیری میں ۳۵ عمارتیں شناخت کی ہیں۔
تباہی سے پہلے انتباہ
کہانی کے مطابق زمین کئی دن تک لرزتی رہی اور تھیرا سے دھواں اٹھتا رہا۔ بستی کے لوگوں نے اپنی قیمتی چیزیں محفوظ کیں اور کشتیوں کے ذریعے قریبی جزیروں کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب چھوٹے زلزلے اور دھماکے تھمے تو کچھ لوگ واپس آئے اور مرمت شروع کی، لیکن زمین پھر لرزنے لگی تو انہوں نے دوبارہ جانے کا مشکل فیصلہ کیا۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین کو اب تک اکروتیری میں دھماکے سے ہلاک ہونے والے کسی باشندے کی باقیات نہیں ملیں۔ اس کے برعکس پومپیئی میں آج بھی متاثرین کی باقیات ملتی ہیں۔ ترکیہ میں کھدائی سے ایک نوجوان اور ایک کتے کی باقیات ملی ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دھماکے کے بعد کی سونامی کا شکار ہوئے۔

سمندری تجارت کی ایک نفیس تہذیب
اکروتیری کے لوگ سمندری سفر کرنے والے، دستکار اور تاجر تھے۔ بستی شمالی افریقہ، یورپ اور مشرق وسطی کے سنگم پر واقع تھی، جس سے اسے ابتدائی کانسی کے دور میں وسیع سمندری تجارت کا موقع ملا۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسان، ماہی گیر اور دستکار سب آباد تھے۔
درمیانی کانسی کے دور میں کریٹ کی مینوان تہذیب نے اکروتیری پر اپنا اثر چھوڑا۔ لوگوں نے کئی منزلہ عمارتیں بنائیں، جن کی دیواروں پر تفصیلی دیواری مصوری تھی، گلیاں پختہ تھیں اور نکاسی کا ایسا نظام تھا جس میں اندرونی پلمبنگ بھی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق باشندوں کے پاس جنگلات یا کنکریٹ نہیں تھے، پھر بھی انہوں نے محدود لکڑی، آتش فشانی پتھر، مٹی اور نباتات سے تین اور چار منزلہ عمارتیں بنائیں۔
دیواری مصوری اور خواتین کا کردار
اکروتیری کی دیواری مصوری بہترین حالت میں محفوظ ہے۔ ہر گھر میں ایک دیواری مصوری تھی جس کی مذہبی خصوصیت تھی، اور ان میں سے کئی خواتین پر مرکوز تھیں۔ زیسٹے ۳ نامی کثیر منزلہ عمارت میں دو محفوظ دیواری مصوریاں ہیں، جن میں خواتین کو زعفران کے پھول چنتے اور ایک دیوی کو پیش کرتے دکھایا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کی ماہر ماریانا نیکولائیڈو کا کہنا ہے کہ زعفران اس دور میں مصالحہ، عطر، رنگ اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا تھا، اور خواتین سے اس کا تعلق زرعی پیداوار اور معیشت میں ان کی شرکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
دریافت اور تحفظ
۱۸۶۶ میں پومس کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کو ایک قدیم عمارت ملی۔ ایتھنز کے فرانسیسی اسکول نے ۱۸۷۰ میں چھوٹی کھدائی شروع کی، لیکن بڑے پیمانے پر کھدائی ۱۹۶۷ میں ماہر سپیریڈون ماریناٹوس کی قیادت میں شروع ہوئی۔ ماریناٹوس نے پہلی بار اکروتیری کی تباہی کو مینوان تہذیب کے زوال سے جوڑا تھا، اگرچہ آج زیادہ تر مورخین اس زوال کو ایک ہی وجہ سے نہیں جوڑتے۔
۲۰۱۲ میں ماہر کرسٹوس ڈوماس کی نگرانی میں کھنڈرات پر ایک تین ایکڑ کا حیاتیاتی موسمی پناہ گاہ نصب کی گئی، جو نازک عمارتوں کو محفوظ رکھتی ہے اور سیاحوں کو دھوپ سے بھی بچاتی ہے۔ اکروتیری کا آثار قدیمہ کا مقام ہفتے کے بیشتر دن عوام کے لیے کھلا رہتا ہے۔
نتیجہ
اکروتیری صرف کھنڈرات نہیں، بلکہ ایک زندہ وقت کی کیپسول ہے۔ اس کا ۹۰ فیصد حصہ ابھی راکھ کے نیچے محفوظ ہے، اس لیے آنے والی نسلوں کے لیے اس قدیم سمندری تہذیب کے بارے میں مزید راز کھلنے کا امکان موجود ہے۔






























