LIVE
اہم خبر
مصنوعی ذہانت کے دور میں ۱۱۵ ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ، مارول لومینٹم کو خریدے گاامریکی انتخابات کے دن عالمی منڈیوں میں ملا جلا رجحان، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤپیرس ماسٹرز میں جوکووچ کی تاریخی کامیابی، ۳۹ سال کی عمر میں سب سے عمر رسیدہ فاتحڈنمارک میں تیز رفتار مرغیوں پر پابندی کا مطالبہ، یورپی سطح پر بھی اقدام کی تیاریکاپ31 سے پہلے انطالیہ میں ابتدائی اجلاس شروع، بھارت نے موسمیاتی مالیات کا مطالبہ پیش کر دیایونان کا اپنا پومپیئی: اکروتیری کے کھنڈرات میں چھپی کانسی کے دور کی تہذیبپاکستان نے پہلا مقامی فضا سے فضا میزائل فاز کامیابی سے آزما لیاخیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دیکراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونقکلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیںاین فیلڈ میں ایک ہزار گھروں میں ری سائیکل شدہ کیڈیوں کا تجربہ، خوراک کے ضیاع کی ری سائیکلنگ بڑھانے کی کوششانتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدمصنوعی ذہانت کے دور میں ۱۱۵ ارب ڈالر کا بڑا معاہدہ، مارول لومینٹم کو خریدے گاامریکی انتخابات کے دن عالمی منڈیوں میں ملا جلا رجحان، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤپیرس ماسٹرز میں جوکووچ کی تاریخی کامیابی، ۳۹ سال کی عمر میں سب سے عمر رسیدہ فاتحڈنمارک میں تیز رفتار مرغیوں پر پابندی کا مطالبہ، یورپی سطح پر بھی اقدام کی تیاریکاپ31 سے پہلے انطالیہ میں ابتدائی اجلاس شروع، بھارت نے موسمیاتی مالیات کا مطالبہ پیش کر دیایونان کا اپنا پومپیئی: اکروتیری کے کھنڈرات میں چھپی کانسی کے دور کی تہذیبپاکستان نے پہلا مقامی فضا سے فضا میزائل فاز کامیابی سے آزما لیاخیبر پختونخوا ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کا جائزہ، وزیراعظم نے اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کی ہدایت کر دیکراچی میں عالمی ثقافتی میلہ جاری: ڈیڑھ سو ممالک کے فنکار، تھیٹر، موسیقی اور فلم کی رونقکلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیںاین فیلڈ میں ایک ہزار گھروں میں ری سائیکل شدہ کیڈیوں کا تجربہ، خوراک کے ضیاع کی ری سائیکلنگ بڑھانے کی کوششانتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہید
میگزین

یونان کا اپنا پومپیئی: اکروتیری کے کھنڈرات میں چھپی کانسی کے دور کی تہذیب

News Desk 2شائع شدہ 3 نومبر، 2026
یونان کا اپنا پومپیئی: اکروتیری کے کھنڈرات میں چھپی کانسی کے دور کی تہذیب
Share this story

یونان کے جزیرے سینٹورینی پر واقع اکروتیری کے کھنڈرات کو اکثر یونان کا اپنا پومپیئی کہا جاتا ہے۔ یہ کانسی کے دور کی بستی تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے تھیرا آتش فشاں کے پھٹنے سے راکھ میں دب گئی تھی، اور آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کو اس دور کی روزمرہ زندگی کی ایک نادر جھلک دکھاتی ہے۔ سمتھسونین میگزین نے ۳ نومبر ۲۰۲۶ کو اس بستی کی کہانی پر ایک تفصیلی فیچر شائع کیا ہے۔

تھیرا کا آتش فشاں موجودہ سینٹورینی پر واقع تھا۔ اس کے پھٹنے سے اکروتیری تقریباً ۲۰۰ فٹ راکھ اور پومس پتھر کے نیچے دب گئی۔ ماہرین عام طور پر اس واقعے کی تاریخ ۱۶۲۰ سے ۱۵۳۰ قبل مسیح کے درمیان بتاتے ہیں۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی آتش فشانی دھماکوں میں سے ایک تھا۔

اہم نکات

  • اکروتیری سینٹورینی پر کانسی کے دور کی بستی تھی، جو تھیرا آتش فشاں سے دب گئی۔
  • بستی تقریباً ۲۰۰ فٹ راکھ اور پومس پتھر کے نیچے دفن ہو گئی۔
  • آتش فشاں سے نکلنے والا مواد ۱۸۸۳ کے کراکاٹاؤ دھماکے سے تقریباً چار گنا زیادہ تھا۔
  • بستی کے باشندے زیادہ تر بحفاظت نکل گئے تھے، ان کی کوئی لاش اب تک نہیں ملی۔
  • کھدائی میں اب تک بستی کا صرف تقریباً ۱۰ فیصد حصہ دریافت ہوا ہے۔
  • ماہرین نے اب تک اکروتیری میں ۳۵ عمارتیں شناخت کی ہیں۔

تباہی سے پہلے انتباہ

کہانی کے مطابق زمین کئی دن تک لرزتی رہی اور تھیرا سے دھواں اٹھتا رہا۔ بستی کے لوگوں نے اپنی قیمتی چیزیں محفوظ کیں اور کشتیوں کے ذریعے قریبی جزیروں کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب چھوٹے زلزلے اور دھماکے تھمے تو کچھ لوگ واپس آئے اور مرمت شروع کی، لیکن زمین پھر لرزنے لگی تو انہوں نے دوبارہ جانے کا مشکل فیصلہ کیا۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین کو اب تک اکروتیری میں دھماکے سے ہلاک ہونے والے کسی باشندے کی باقیات نہیں ملیں۔ اس کے برعکس پومپیئی میں آج بھی متاثرین کی باقیات ملتی ہیں۔ ترکیہ میں کھدائی سے ایک نوجوان اور ایک کتے کی باقیات ملی ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دھماکے کے بعد کی سونامی کا شکار ہوئے۔

سینٹورینی جزیرے کا ساحلی منظر
سینٹورینی کا ساحلی منظر، جہاں اکروتیری کے کھنڈرات واقع ہیں

سمندری تجارت کی ایک نفیس تہذیب

اکروتیری کے لوگ سمندری سفر کرنے والے، دستکار اور تاجر تھے۔ بستی شمالی افریقہ، یورپ اور مشرق وسطی کے سنگم پر واقع تھی، جس سے اسے ابتدائی کانسی کے دور میں وسیع سمندری تجارت کا موقع ملا۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسان، ماہی گیر اور دستکار سب آباد تھے۔

درمیانی کانسی کے دور میں کریٹ کی مینوان تہذیب نے اکروتیری پر اپنا اثر چھوڑا۔ لوگوں نے کئی منزلہ عمارتیں بنائیں، جن کی دیواروں پر تفصیلی دیواری مصوری تھی، گلیاں پختہ تھیں اور نکاسی کا ایسا نظام تھا جس میں اندرونی پلمبنگ بھی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق باشندوں کے پاس جنگلات یا کنکریٹ نہیں تھے، پھر بھی انہوں نے محدود لکڑی، آتش فشانی پتھر، مٹی اور نباتات سے تین اور چار منزلہ عمارتیں بنائیں۔

دیواری مصوری اور خواتین کا کردار

اکروتیری کی دیواری مصوری بہترین حالت میں محفوظ ہے۔ ہر گھر میں ایک دیواری مصوری تھی جس کی مذہبی خصوصیت تھی، اور ان میں سے کئی خواتین پر مرکوز تھیں۔ زیسٹے ۳ نامی کثیر منزلہ عمارت میں دو محفوظ دیواری مصوریاں ہیں، جن میں خواتین کو زعفران کے پھول چنتے اور ایک دیوی کو پیش کرتے دکھایا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کی ماہر ماریانا نیکولائیڈو کا کہنا ہے کہ زعفران اس دور میں مصالحہ، عطر، رنگ اور دوا کے طور پر استعمال ہوتا تھا، اور خواتین سے اس کا تعلق زرعی پیداوار اور معیشت میں ان کی شرکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

دریافت اور تحفظ

۱۸۶۶ میں پومس کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کو ایک قدیم عمارت ملی۔ ایتھنز کے فرانسیسی اسکول نے ۱۸۷۰ میں چھوٹی کھدائی شروع کی، لیکن بڑے پیمانے پر کھدائی ۱۹۶۷ میں ماہر سپیریڈون ماریناٹوس کی قیادت میں شروع ہوئی۔ ماریناٹوس نے پہلی بار اکروتیری کی تباہی کو مینوان تہذیب کے زوال سے جوڑا تھا، اگرچہ آج زیادہ تر مورخین اس زوال کو ایک ہی وجہ سے نہیں جوڑتے۔

۲۰۱۲ میں ماہر کرسٹوس ڈوماس کی نگرانی میں کھنڈرات پر ایک تین ایکڑ کا حیاتیاتی موسمی پناہ گاہ نصب کی گئی، جو نازک عمارتوں کو محفوظ رکھتی ہے اور سیاحوں کو دھوپ سے بھی بچاتی ہے۔ اکروتیری کا آثار قدیمہ کا مقام ہفتے کے بیشتر دن عوام کے لیے کھلا رہتا ہے۔

نتیجہ

اکروتیری صرف کھنڈرات نہیں، بلکہ ایک زندہ وقت کی کیپسول ہے۔ اس کا ۹۰ فیصد حصہ ابھی راکھ کے نیچے محفوظ ہے، اس لیے آنے والی نسلوں کے لیے اس قدیم سمندری تہذیب کے بارے میں مزید راز کھلنے کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کاپ31 سے پہلے انطالیہ میں ابتدائی اجلاس شروع، بھارت نے موسمیاتی مالیات کا مطالبہ پیش کر دیا
نمایاں خبر

کاپ31 سے پہلے انطالیہ میں ابتدائی اجلاس شروع، بھارت نے موسمیاتی مالیات کا مطالبہ پیش کر دیا

کاپ31 سے پہلے ابتدائی اجلاس ۳ نومبر کو انطالیہ میں شروع ہو گئے ہیں۔ بھارت نے اسی دن اپنی ترجیحات کا اعلان کیا، جس میں موسمیاتی مالیات کے ورک پروگرام کا مطالبہ مرکزی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶: افریقہ کی خوراک اور کاشتکاری کی رپورٹنگ کے لیے درخواستیں کھل گئیں

کلائمیٹ میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۶ کے لیے درخواستیں کھل گئی ہیں جو بدلتی آب و ہوا میں افریقہ کے کسانوں اور برادریوں کے خوراک اگانے، بانٹنے اور حاصل کرنے کی رپورٹنگ کو سراہتے ہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع

یو این او ایچ آر ایل ایل ایس نے 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے مکمل مالی مدد یافتہ صحافتی فیلوشپ کھول دی ہے، جس کے تحت منتخب صحافی 25 سے 27 مارچ 2027 کو دوحہ میں دوحہ پروگرام برائے عمل کے وسط مدتی جائزے کی کوریج کریں گے۔ درخواستیں 30 نومبر 2026 کو بند ہوں گی۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔