پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی کو مزید نہیں بڑھانا چاہیے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے۔ پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کی عدم موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں گوہر علی خان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی معاملات کو مکالمے سے حل کیا جائے۔
اہم نکات
- پشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کی میڈیا سے گفتگو
- وزیراعلیٰ اور اسپیکر کی عدم موجودگی پر حیرت کا اظہار، سیاسی کشیدگی نہ بڑھانے پر زور
- معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے کے اقدام کا خیرمقدم، سب کے لیے یکساں فیصلوں کا مطالبہ
- ملاقات اور طبی سہولت کا مطالبہ، ارکان اسمبلی اور بانی کی بہنوں کی رہائی کا مطالبہ
- بیرسٹر سیف کے دعووں کی تردید، سنجیدہ اور نیک نیتی سے مذاکرات پر زور
پشاور ہائی کورٹ میں گوہر علی خان کا بیان
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ عجیب منطق ہے کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے عدالت کی جانب سے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے اور بڑا بینچ تشکیل دینے سے متعلق اقدام کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں اور قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے۔

ملاقات اور رہائی کا مطالبہ
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت کا مطالبہ صرف ایک ملاقات اور طبی سہولت تھا، لیکن ان کے بقول عدالت کے فیصلے پر بھی عمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور بانی کی بہنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وکیل نے گزشتہ روز بانی سے ملاقات کی تھی، اور اگر یہ ملاقات پہلے ہو جاتی تو معاملہ اتنا نہ بڑھتا۔ انہوں نے بتایا کہ سلمان صفدر کی بانی سے ملاقات میں مقدمات پر گفتگو ہوئی۔
بیرسٹر سیف کے دعووں کی تردید اور مذاکرات
بیرسٹر گوہر علی خان نے بیرسٹر سیف کے تمام دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی اور ان کے بیان کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بیرسٹر سیف سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں تھی۔
مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں اور مذاکرات کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سنجیدہ اور نیک نیتی سے ہونے چاہئیں، اور سوال کیا کہ ان سے ملاقات کی پیشکش کب کی گئی تھی۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































