اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس سے مبینہ جھگڑے کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی۔ یہ سماعت منگل، 3 نومبر 2026 کو ہوئی، جس میں پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔
اہم نکات
- اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لی۔
- عدالت نے ہر ایک کے لیے پانچ ہزار روپے کے مچلکے مقرر کیے۔
- سماعت جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کی، اور پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔
- مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے، جس میں سرکاری کام میں مبینہ مداخلت اور پولیس سے جھگڑے کا الزام لگایا گیا ہے۔
- ملزمان کے وکیل ریاست علی نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا ریکارڈ اسی روز موصول ہوا ہے۔
عدالت میں سماعت
سماعت کے دوران پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا۔ وکیل ریاست علی نے جج کو بتایا کہ ریکارڈ اسی روز آیا ہے، جس پر عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ رپورٹس کے مطابق جج نے یہ بھی کہا کہ وہ پولیس کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس سے متعلق معاملے کو بھی دیکھیں گے۔
مقدمہ کیا ہے
یہ مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ملزمان نے سرکاری کام میں مداخلت کی اور پولیس سے جھگڑا کیا۔ بعض رپورٹس میں اس واقعے کو سڑک بند کرنے اور پولیس سے ہاتھا پائی کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کی روشنی میں ہی ضمانت کا فیصلہ کیا گیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی شرائط
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی، دونوں کو الگ الگ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق اسی مقدمے پر ہوتا ہے جس کی سماعت منگل کو ہوئی۔ مقدمے سے متعلق مزید کارروائی عدالت کے آئندہ احکامات کے مطابق آگے بڑھے گی۔
پاکستان اور دنیا بھر کی مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔































