یورپ کی کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایک معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی اور لندن کی ایک بڑی سرمایہ کاری کمپنی نے مل کر ایک آزاد مشاورتی ادارہ بنانے پر اتفاق کیا ہے، جو یورپی کمپنیوں کے اندر اپنے ماہرین کو تعینات کرے گا تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کو روزمرہ کے کاروبار میں ڈھال سکیں۔ یہ منصوبہ سال کے اختتام سے پہلے شروع ہونے کی توقع ہے اور اس کے مراکز لندن اور برلن میں ہوں گے۔
اہم نکات
- اینتھروپک اور ایچ جی نے یورپ کے لیے ایک آزاد مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
- نیا ادارہ سال کے اختتام سے پہلے کام شروع کرے گا، جس کے مراکز لندن اور برلن میں ہوں گے۔
- مشیر اور انجینئر کلائنٹ کمپنیوں کے اندر بیٹھ کر نئی مصنوعات بنانے اور موجودہ کام میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے میں مدد کریں گے۔
- رپورٹ کے مطابق یہ یورپ میں اینتھروپک کی حمایت یافتہ پہلی آزاد مشاورتی کمپنی ہوگی۔
- ایچ جی کی سرمایہ کاری اس کے زیر انتظام فنڈز کے ذریعے ہوگی، جبکہ اینتھروپک اپنے بیلنس شیٹ سے سرمایہ لگائے گی۔
نیا ادارہ کیا کرے گا
رپورٹ کے مطابق نئی کمپنی کا کام صرف مصنوعی ذہانت کے ماڈل فراہم کرنا نہیں ہوگا۔ اس کے مشیر اور انجینئر یورپی کاروباروں کے اندر کام کریں گے، جہاں وہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی نئی مصنوعات اور خدمات تیار کرنے میں مدد دیں گے اور موجودہ نظاموں میں یہ ٹیکنالوجی شامل کریں گے۔ اس کا بنیادی ہدف وہ سافٹ ویئر کمپنیاں ہوں گی جو دوسرے کاروباروں کو خدمات فروخت کرتی ہیں، جبکہ دیگر پیشہ ورانہ شعبے بھی اس کے دائرے میں آئیں گے۔
یہ ادارہ ایچ جی کی سرمایہ کاری والی کمپنیوں کے ساتھ بھی کام کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ جی کے پاس پہلے سے تقریباً ایک سو پچاس مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی ایک ٹیم موجود ہے جو اس کی کمپنیوں میں یہ ٹیکنالوجی متعارف کراتی ہے، اور نیا ادارہ اس ٹیم کی جگہ نہیں لے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کام کرے گا۔

دونوں کمپنیوں کا پرانا تعلق
اینتھروپک اور ایچ جی کا تعلق نیا نہیں ہے۔ رپورٹوں کے مطابق دونوں نے سن دو ہزار چوبیس سے ایک ساتھ کام شروع کیا تھا اور گزشتہ تین برسوں میں مشترکہ ہیکاتھون اور عملے کی تربیت جیسے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ستمبر میں ایچ جی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اینتھروپک کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دی ہے تاکہ اس کی سرمایہ کاری والی کمپنیوں میں خودکار ایجنٹوں پر مبنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں لائی جا سکیں۔
ایچ جی کے شریک سربراہان نے ستمبر میں کہا تھا کہ ان کی کمپنی نے خودکار مصنوعی ذہانت کی طرف تبدیلی کی جلد حمایت کی تھی اور اینتھروپک کے ساتھ بنایا گیا تعلق ان کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر کاروباروں کی تعمیر اور مقابلے کا طریقہ بدل رہی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کمپنیوں کو اس شعبے کی جدید ترین ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل ہو۔
امریکہ میں بھی یہی ماڈل
یورپی منصوبہ اس ماڈل کی توسیع ہے جو اینتھروپک امریکہ میں پہلے ہی اپنا چکی ہے۔ اس سال کے شروع میں اینتھروپک نے بلیک اسٹون اور ہیل مین اینڈ فریڈمین کے ساتھ مل کر اوڈ نامی ایک خدمات کی کمپنی قائم کی تھی، جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی منصوبہ بند سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اسی طرح اوپن اے آئی نے مئی میں ٹی پی جی، ایڈونٹ، بین کیپیٹل اور بروک فیلڈ کے ساتھ مل کر اپنی تعیناتی کمپنی بنائی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل بنانے والی کمپنیاں اب صرف ٹیکنالوجی فروخت کرنے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وہ براہ راست ان بڑی مشاورتی کمپنیوں کے میدان میں داخل ہو رہی ہیں جو برسوں سے کاروباروں کو نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد دیتی آئی ہیں۔
ابھی کیا طے نہیں ہوا
رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ خبر ان ذرائع کی بنیاد پر دی گئی ہے جو اس معاملے سے واقف ہیں، اور دونوں کمپنیوں نے اس بارے میں فوری تبصرہ نہیں کیا ہے۔ نئی کمپنی کا نام، اس کی قیادت اور سرمایہ کاری کی حتمی رقم جیسی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر شروع ہوا تو یورپی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت اپنانے کے لیے ایک نیا اور براہ راست راستہ مل جائے گا۔






























