امریکی اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہوئی جب سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ان سے حاصل ہونے والے منافع کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ جمعرات کے روز نیسڈیک میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے حصص دباؤ میں رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تعمیر پر ہونے والے بھاری اخراجات اب بازار کے لیے سب سے بڑا سوال بن گئے ہیں۔
اہم نکات
- دوپہر تک نیسڈیک میں دو اعشاریہ 18 فیصد کمی ہوئی اور انڈیکس 26121 کی سطح پر آ گیا۔
- ایس اینڈ پی 500 میں ایک اعشاریہ 28 فیصد کمی ہوئی جبکہ ڈاؤ جونز میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
- میٹا کے حصص میں آٹھ فیصد کمی ہوئی، جو جولائی کے بعد سب سے بڑی یومیہ کمی تھی۔
- لیم ریسرچ کے حصص میں تقریبا دس فیصد کمی ہوئی اور سیمی کنڈکٹر انڈیکس بھی دباؤ میں رہا۔
- سونا سستا ہوا جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور سرمایہ کار محتاط ہو گئے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ مندی کی وجوہات
مارکیٹ میں کمی کی ایک بڑی وجہ میٹا کا اعلان تھا۔ میٹا نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا اور اس کے لیے حصص کی نئی قسم جاری کرنے کا اعلان کیا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہوا کہ حصص کی تعداد بڑھنے سے موجودہ حصص داروں کا حصہ کم ہو جائے گا۔ میٹا کی آمدنی میں 26 فیصد اضافہ ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے حصص گر گئے۔
لیم ریسرچ کے نتائج نے بھی بازار کو مایوس کیا۔ کمپنی نے سپلائی کی رکاوٹوں کا حوالہ دیا اور آئندہ سہ ماہی کے بارے میں محتاط اندازہ پیش کیا۔ اس کے حصص میں نمایاں کمی ہوئی اور اس کا اثر پورے سیمی کنڈکٹر شعبے پر پڑا۔ این ویڈیا کے حصص میں بھی چار فیصد کمی ہوئی۔

دوسری بڑی کمپنیوں پر اثرات
ٹیکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیاں بھی دباؤ میں رہیں۔ ٹیسلا کے حصص منافع سے متعلق خدشات پر گرے، جبکہ اسپیس ایکس کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب دفاعی شعبے اور یوٹیلٹی کمپنیوں کے حصص میں بہتری آئی، کیونکہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہوئے۔
سونا بھی سستا ہوا۔ سونے کی قیمت ایک اعشاریہ تین فیصد کم ہو کر 4085 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جو 14 اکتوبر کے بعد سب سے کم سطح تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا اور اس سے یہ توقع مضبوط ہوئی کہ شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔
آئندہ دنوں میں کیا دیکھا جائے گا؟
سرمایہ کار اب اگلے ہفتے کی طرف دیکھ رہے ہیں، جب مرکزی بینک کا اجلاس ہو گا اور مہنگائی کے اہم اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔ تاجروں کا اندازہ ہے کہ اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کا امکان صرف 15 فیصد ہے، لیکن دسمبر میں اضافے کا امکان 91 فیصد تک بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری کا اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ کمپنیاں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، لیکن اس سرمایہ کاری سے منافع کب اور کتنا ملے گا، یہ ابھی واضح نہیں۔ اسی غیر یقینی صورتحال نے بازار میں محتاط رویہ پیدا کیا ہے۔
نتیجہ
جمعرات کا دن ٹیکنالوجی کے حصص کے لیے مشکل رہا۔ اچھے مالی نتائج کے باوجود سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے اخراجات پر توجہ دی اور محتاط رویہ اختیار کیا۔ آئندہ ہفتے کے مالی نتائج اور مرکزی بینک کے فیصلے بازار کی سمت طے کریں گے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں اور اسی خبر کا صفحہ یہاں دیکھیں۔






























