مصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی نے 325 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری 20 اکتوبر 2026 کو مکمل ہوئی اور اس کی قیادت اسپارک کیپیٹل نے کی۔ اس سرمایہ کاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار حقیقی دنیا میں استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
اہم نکات
- اے ایس آئی نے 325 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
- سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی قدر تین ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
- اس دور کی قیادت اسپارک کیپیٹل نے کی اور کئی بڑے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔
- کمپنی بوسٹن میں قائم ہے اور فضائی ٹریفک، بجلی کے نظام اور فوجی آپریشنز کے لیے سافٹ ویئر بناتی ہے۔
- کمپنی نے حال ہی میں امریکی فوج سے 99 ملین ڈالر اور ہوا بازی کے ادارے سے 875 ملین ڈالر کے معاہدے حاصل کیے ہیں۔
اے ایس آئی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تفصیل
سرمایہ کاری کے اس دور میں اسپارک کیپیٹل کے علاوہ سٹاڈیل سیکیورٹیز سے منسلک اداروں، میریٹیک کیپیٹل اور کرافٹ وینچرز نے بھی حصہ لیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ رقم توانائی، رسد اور فوجی ماحول میں اپنی مصنوعات کی تنصیب بڑھانے اور بوسٹن میں تحقیق اور انجینئرنگ کی ٹیموں کو وسعت دینے پر خرچ کی جائے گی۔
اے ایس آئی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو فلپ بکنڈورف نے کہا کہ ان کی کمپنی کا مرکز وہ مصنوعی ذہانت کے نظام ہیں جو جسمانی اثاثوں کا انتظام اور کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا نے الفاظ اور تحریر پر بہت زیادہ سرمایہ لگایا ہے، لیکن ان کی کمپنی حقیقی نظاموں کو چلانے پر توجہ دیتی ہے۔

کمپنی کی ٹیکنالوجی کیا کرتی ہے؟
اے ایس آئی ایسا سافٹ ویئر تیار کرتی ہے جو فضائی ٹریفک، بجلی کے گرڈ اور فوجی آپریشنز جیسے پیچیدہ نظاموں میں خلل کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ نظام گھنٹوں، دنوں اور ہفتوں پہلے خبردار کر سکتا ہے، جس سے ادارے پہلے سے تیاری کر سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت اسے عام مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے مختلف بناتی ہے۔
کمپنی نے اکتوبر میں امریکی فوج سے پانچ برس کے لیے 99 ملین ڈالر کا معاہدہ حاصل کیا، جو فوجی کمان کے نظام سے متعلق ہے۔ جون میں اس نے ہوا بازی کے ادارے سے بارہ برس کے لیے 875 ملین ڈالر کا معاہدہ حاصل کیا تھا، جو فضائی ٹریفک کے انتظام سے متعلق ہے۔ یہ معاہدے کمپنی کی ٹیکنالوجی پر اداروں کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔
بانی کا وژن اور آئندہ منصوبے
فلپ بکنڈورف نے کمپنی کی بنیاد اس سوچ پر رکھی کہ مصنوعی ذہانت کو صرف الفاظ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے حقیقی دنیا کے نظام چلانے چاہئیں۔ نئی سرمایہ کاری سے کمپنی اپنی ٹیم بڑھائے گی اور توانائی اور رسد کے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا کے استعمال والی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے، کیونکہ حکومتیں اور بڑے ادارے ایسے نظام چاہتے ہیں جو ان کے روزمرہ کے کاموں میں براہ راست مدد کریں۔ اے ایس آئی کی حالیہ کامیابی اسی رجحان کی ایک مثال ہے۔
نتیجہ
تین ارب ڈالر کی قدر تک پہنچنا اے ایس آئی کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے۔ بڑے معاہدوں اور نئی سرمایہ کاری کے ساتھ کمپنی اب اپنے نظاموں کو مزید شعبوں تک پھیلانے کی پوزیشن میں ہے۔ آنے والے برسوں میں اس شعبے میں مقابلہ مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں اور اسی خبر کا صفحہ یہاں دیکھیں۔






























