LIVE
اہم خبر
جنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شاملچین کا کاپ31 سے مطالبہ: عمل درآمد اور موسمیاتی مالیات کو پہلی ترجیح دی جائےہائیڈروجن کمپنی نیل نے مورٹن ہولم کو نیا سربراہ مقرر کر دیامصنوعی ذہانت کے اخراجات کی فکر نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیابھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ریکارڈ ہدف عبور کر کے پہلا میچ جیت لیاپیرس فیشن ویک میں ہلکے پن اور شفاف کپڑوں کا راج رہاامریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئیمصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیسادہ تبدیلیوں سے گھریلو خوراک کا ضیاع 28 فیصد کم ہوا، یورپی مطالعے کا نتیجہموناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہےسنہ 2022 سے اب تک ملک میں 349 ریلوے حادثات، نیا ٹریک بچھانے کا اعلانخیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان، وزیراعظم کی قبائلی عمائدین سے ملاقاتحرمت: تعلیم اور آزادی کی کہانی، دنانیر مبین اور شاہ ویر جعفری کی نئی ڈراما سیریلنیکسٹ ایرا کا قابل تجدید توانائی بیک لاگ 36.7 گیگا واٹ تک پہنچ گیاصدر زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر روانہ، برلن میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہوں گییورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 مینڈیٹ: فوسل ایندھن سے تیز اخراج اور زیادہ موسمیاتی مالیات کا مطالبہسرکاری افسران کی غیر ملکی شہریت کی تفصیلات طلب، ایک ہفتے میں ڈیکلیئریشن جمع کرانے کی ہدایتڈیزیرمیڈ موسمیاتی سفیر: بحیرہ روم میں موافقت کی مقامی کہانیاںآکسفورڈ کی ریف لیب نے اعلیٰ انعام جیت لیا، ڈاکٹر سروج سوریا کلائمیٹ ایکشن چیمپئن 2026 قرار پائیںلاہور ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کیس میں سیکریٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو طلب کر لیاجنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شاملچین کا کاپ31 سے مطالبہ: عمل درآمد اور موسمیاتی مالیات کو پہلی ترجیح دی جائےہائیڈروجن کمپنی نیل نے مورٹن ہولم کو نیا سربراہ مقرر کر دیامصنوعی ذہانت کے اخراجات کی فکر نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیابھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ریکارڈ ہدف عبور کر کے پہلا میچ جیت لیاپیرس فیشن ویک میں ہلکے پن اور شفاف کپڑوں کا راج رہاامریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئیمصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیسادہ تبدیلیوں سے گھریلو خوراک کا ضیاع 28 فیصد کم ہوا، یورپی مطالعے کا نتیجہموناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہےسنہ 2022 سے اب تک ملک میں 349 ریلوے حادثات، نیا ٹریک بچھانے کا اعلانخیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان، وزیراعظم کی قبائلی عمائدین سے ملاقاتحرمت: تعلیم اور آزادی کی کہانی، دنانیر مبین اور شاہ ویر جعفری کی نئی ڈراما سیریلنیکسٹ ایرا کا قابل تجدید توانائی بیک لاگ 36.7 گیگا واٹ تک پہنچ گیاصدر زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر روانہ، برلن میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہوں گییورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 مینڈیٹ: فوسل ایندھن سے تیز اخراج اور زیادہ موسمیاتی مالیات کا مطالبہسرکاری افسران کی غیر ملکی شہریت کی تفصیلات طلب، ایک ہفتے میں ڈیکلیئریشن جمع کرانے کی ہدایتڈیزیرمیڈ موسمیاتی سفیر: بحیرہ روم میں موافقت کی مقامی کہانیاںآکسفورڈ کی ریف لیب نے اعلیٰ انعام جیت لیا، ڈاکٹر سروج سوریا کلائمیٹ ایکشن چیمپئن 2026 قرار پائیںلاہور ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کیس میں سیکریٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو طلب کر لیا
فاؤنڈرز

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی

News Desk 6شائع شدہ 22 اکتوبر، 2026
مصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی
Share this story

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی نے 325 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری 20 اکتوبر 2026 کو مکمل ہوئی اور اس کی قیادت اسپارک کیپیٹل نے کی۔ اس سرمایہ کاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار حقیقی دنیا میں استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

اہم نکات

  • اے ایس آئی نے 325 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
  • سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی قدر تین ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
  • اس دور کی قیادت اسپارک کیپیٹل نے کی اور کئی بڑے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔
  • کمپنی بوسٹن میں قائم ہے اور فضائی ٹریفک، بجلی کے نظام اور فوجی آپریشنز کے لیے سافٹ ویئر بناتی ہے۔
  • کمپنی نے حال ہی میں امریکی فوج سے 99 ملین ڈالر اور ہوا بازی کے ادارے سے 875 ملین ڈالر کے معاہدے حاصل کیے ہیں۔

اے ایس آئی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تفصیل

سرمایہ کاری کے اس دور میں اسپارک کیپیٹل کے علاوہ سٹاڈیل سیکیورٹیز سے منسلک اداروں، میریٹیک کیپیٹل اور کرافٹ وینچرز نے بھی حصہ لیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ رقم توانائی، رسد اور فوجی ماحول میں اپنی مصنوعات کی تنصیب بڑھانے اور بوسٹن میں تحقیق اور انجینئرنگ کی ٹیموں کو وسعت دینے پر خرچ کی جائے گی۔

اے ایس آئی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو فلپ بکنڈورف نے کہا کہ ان کی کمپنی کا مرکز وہ مصنوعی ذہانت کے نظام ہیں جو جسمانی اثاثوں کا انتظام اور کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا نے الفاظ اور تحریر پر بہت زیادہ سرمایہ لگایا ہے، لیکن ان کی کمپنی حقیقی نظاموں کو چلانے پر توجہ دیتی ہے۔

جدید دفتر میں مصنوعی ذہانت کے نظام کی سکرین
اے ایس آئی کے نظام پیچیدہ نظاموں میں خلل کی پیش گوئی میں مدد دیتے ہیں۔

کمپنی کی ٹیکنالوجی کیا کرتی ہے؟

اے ایس آئی ایسا سافٹ ویئر تیار کرتی ہے جو فضائی ٹریفک، بجلی کے گرڈ اور فوجی آپریشنز جیسے پیچیدہ نظاموں میں خلل کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ نظام گھنٹوں، دنوں اور ہفتوں پہلے خبردار کر سکتا ہے، جس سے ادارے پہلے سے تیاری کر سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت اسے عام مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے مختلف بناتی ہے۔

کمپنی نے اکتوبر میں امریکی فوج سے پانچ برس کے لیے 99 ملین ڈالر کا معاہدہ حاصل کیا، جو فوجی کمان کے نظام سے متعلق ہے۔ جون میں اس نے ہوا بازی کے ادارے سے بارہ برس کے لیے 875 ملین ڈالر کا معاہدہ حاصل کیا تھا، جو فضائی ٹریفک کے انتظام سے متعلق ہے۔ یہ معاہدے کمپنی کی ٹیکنالوجی پر اداروں کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔

بانی کا وژن اور آئندہ منصوبے

فلپ بکنڈورف نے کمپنی کی بنیاد اس سوچ پر رکھی کہ مصنوعی ذہانت کو صرف الفاظ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے حقیقی دنیا کے نظام چلانے چاہئیں۔ نئی سرمایہ کاری سے کمپنی اپنی ٹیم بڑھائے گی اور توانائی اور رسد کے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا کے استعمال والی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے، کیونکہ حکومتیں اور بڑے ادارے ایسے نظام چاہتے ہیں جو ان کے روزمرہ کے کاموں میں براہ راست مدد کریں۔ اے ایس آئی کی حالیہ کامیابی اسی رجحان کی ایک مثال ہے۔

نتیجہ

تین ارب ڈالر کی قدر تک پہنچنا اے ایس آئی کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے۔ بڑے معاہدوں اور نئی سرمایہ کاری کے ساتھ کمپنی اب اپنے نظاموں کو مزید شعبوں تک پھیلانے کی پوزیشن میں ہے۔ آنے والے برسوں میں اس شعبے میں مقابلہ مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں اور اسی خبر کا صفحہ یہاں دیکھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

انٹرو بائیو سسٹمز نے ٹیک کرنچ ڈسٹرپٹ 2026 کا اسٹارٹ اپ بیٹل فیلڈ جیت لیا — معدے کے خلیوں سے ادویات کی جانچبانیان

انٹرو بائیو سسٹمز نے ٹیک کرنچ ڈسٹرپٹ 2026 کا اسٹارٹ اپ بیٹل فیلڈ جیت لیا — معدے کے خلیوں سے ادویات کی جانچ

سان فرانسسکو (وتن نیوز) — ٹیک کرنچ ڈسٹرپٹ 2026 کے اسٹارٹ اپ بیٹل فیلڈ مقابلے کا فاتح اعلان کر دیا گیا: ڈینور کی بائیو ٹیک اسٹارٹ اپ انٹرو بائیو سسٹمز نے اسٹارٹ اپ بیٹل فیلڈ کپ اور ایک لاکھ ڈالر کا انعام جیت لیا۔ یہ کمپنی لیبارٹری میں انسانی آنت کے چھوٹے نمونے — جنہیں

مزید پڑھیں
برطانوی اسٹارٹ اپ یونیورسل کوانٹم نے 100 ملین ڈالر کی ریکارڈ سیریز اے فنڈنگ حاصل کر لیبانیان

برطانوی اسٹارٹ اپ یونیورسل کوانٹم نے 100 ملین ڈالر کی ریکارڈ سیریز اے فنڈنگ حاصل کر لی

برطانیہ کی کوانٹم کمپیوٹنگ اسٹارٹ اپ یونیورسل کوانٹم نے 8 اکتوبر 2026 کو 100 ملین ڈالر سے زائد کی سیریز اے فنڈنگ حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو برطانوی کوانٹم صنعت کی تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں
ڈیپ سیک کم از کم 12 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے قریب، ٹین سینٹ اور سی اے ٹی ایل سب سے بڑے سرمایہ کاربانیان

ڈیپ سیک کم از کم 12 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے قریب، ٹین سینٹ اور سی اے ٹی ایل سب سے بڑے سرمایہ کار

بلومبرگ کے مطابق ڈیپ سیک 80 ارب یوآن (تقریباً 12 ارب ڈالر) کی فنڈنگ حاصل کرنے کے قریب ہے؛ ٹین سینٹ اور سی اے ٹی ایل اس راؤنڈ کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔ کمپنی 2027 میں ممکنہ آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں
روبکو یونیکورن بن گیا: جرمن روبوٹکس اسٹارٹ اپ کی قدر ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیبانیان

روبکو یونیکورن بن گیا: جرمن روبوٹکس اسٹارٹ اپ کی قدر ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی

جرمن روبوٹکس اسٹارٹ اپ روبکو کی قدر ایک ارب ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ کمپنی کے ملازمین نے چالیس ملین ڈالر کے حصص سرمایہ کاروں کو فروخت کیے، جبکہ بانی اور چیف ایگزیکٹو رومن ہولزل امریکہ منتقل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

جنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شامل
نمایاں خبر

جنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شامل

جنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے عالمی الیکٹرانکس مینجمنٹ پروگرام میں شامل ہوا ہے جو 16 ممالک میں مرمت، دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ کو فروغ دے گا۔

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔