امریکی شہر وینکوور میں قائم اسٹارٹ اپ پاور لیٹس نے مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز کی بجلی کی ضرورت کم کرنے کے مشن میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ کمپنی نے 30 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی ایک مالیاتی دستاویز کے مطابق 86 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس میں اب تک 18 سرمایہ کار شریک ہو چکے ہیں۔ یہ رقم کمپنی کی گزشتہ مجموعی سرمایہ کاری سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب اے آئی کی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو ایک سنجیدہ کاروباری موقع سمجھ رہے ہیں۔
پاور لیٹس سرمایہ کاری کی یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز بجلی اور ٹھنڈک کی حدود سے ٹکرا رہے ہیں۔ اے آئی چپس جتنی زیادہ طاقتور ہو رہی ہیں، ان کی بجلی کی کھپت بھی اتنی ہی بڑھ رہی ہے، اور یہی وہ مسئلہ ہے جسے پاور لیٹس کے بانی حل کرنا چاہتے ہیں۔
اہم نکات
- نئی سرمایہ کاری 86 ملین ڈالر ہے، جبکہ دستاویز میں مجموعی ہدف 111 ملین ڈالر بتایا گیا ہے۔
- اس سرمایہ کاری میں اب تک 18 سرمایہ کار شریک ہیں، تاہم ان کے نام اور سرمایہ کاری کے مرحلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
- کمپنی 2023 میں قائم ہوئی تھی اور اس سے پہلے مجموعی طور پر 31 ملین ڈالر حاصل کر چکی تھی۔
- کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کمپیوٹنگ کی بجلی کی ضرورت کو نصف سے زیادہ کم کر سکتی ہے۔
- اسی ہفتے کمپنی نے ایک نئی مربوط وولٹیج ریگولیٹر چپ کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔
پاور لیٹس سرمایہ کاری کی تفصیل
رپورٹ کے مطابق نئی سرمایہ کاری اس وقت سامنے آئی جب کمپنی گزشتہ سال نومبر میں منظر عام پر آئی تھی اور اس وقت اس نے 25 ملین ڈالر کا پہلا بڑا مرحلہ مکمل کیا تھا۔ اس مرحلے کی قیادت پلے گراؤنڈ گلوبل اور سیلسٹا کیپیٹل نے کی تھی۔ اب نئی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی 111 ملین ڈالر تک سرمایہ اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور 86 ملین ڈالر پہلے ہی حاصل ہو چکے ہیں۔ کمپنی نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کے نام تاحال سامنے نہیں آئے۔
| مرحلہ | رقم | تفصیل |
|---|---|---|
| پہلا بڑا مرحلہ، نومبر 2025 | 25 ملین ڈالر | منظر عام پر آنے کے وقت کا مرحلہ |
| اس سے پہلے کی مجموعی سرمایہ کاری | 31 ملین ڈالر | پہلے مرحلے سمیت مجموعی رقم |
| نئی سرمایہ کاری، اکتوبر 2026 | 86 ملین ڈالر | 18 سرمایہ کاروں کی شرکت کے ساتھ |
| دستاویز میں مجموعی ہدف | 111 ملین ڈالر | جس کی طرف سرمایہ اکٹھا کیا جا رہا ہے |
بانیوں کا پس منظر
پاور لیٹس کی بنیاد 2023 میں تین تجربہ کار انجینئروں نے رکھی تھی۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پینگ زو ہیں، جبکہ گینگ رین اور سجیت ڈرمل بھی شریک بانی ہیں۔ تینوں بانیوں کا تجربہ بڑی چپ ساز کمپنیوں سے جڑا ہے، جن میں کوالکوم، انٹیل اور نیوویا شامل ہیں۔ نیوویا وہ اسٹارٹ اپ تھا جسے کوالکوم نے 2021 میں خرید لیا تھا۔
تجربے کی بنیاد پر اعتماد
بانیوں کے پس منظر نے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی کے بورڈ میں انٹیل کے سابق چیف ایگزیکٹو پیٹ گیلزنگر بھی شامل ہیں، جو اب پلے گراؤنڈ گلوبل میں جنرل پارٹنر ہیں، جبکہ سیلسٹا کیپیٹل کے اسٹیو فو بھی بورڈ کے رکن ہیں۔ گیلزنگر نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اے آئی سرمائے سے نہیں، بلکہ بجلی سے محدود ہو رہا ہے، اور یہی جملہ پاور لیٹس کے مشن کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کیوں اہم ہے
پاور لیٹس ایک چھوٹا سا جزو بناتی ہے جسے پاور ڈیلیوری چپلٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جزو پروسیسر کے پیکج کے اندر لگتا ہے اور بجلی کو کمپیوٹنگ کے حصے کے بہت قریب پہنچاتا ہے۔ روایتی نظام میں بجلی کو لمبے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے توانائی ضائع ہوتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ راستہ مختصر کرنے سے توانائی کا ضیاع کم ہوتا ہے اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
ڈیٹا سینٹرز پر اثر
اے آئی چپس بہت زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں اور بہت زیادہ حرارت پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے ڈیٹا سینٹر چلانے والی کمپنیوں کو بجلی کی فراہمی اور ٹھنڈک کے نظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر بجلی کی ضرورت کم ہو جائے تو ایک ہی ڈیٹا سینٹر میں زیادہ کام ممکن ہو سکتا ہے، اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور ماحول پر دباؤ بھی گھٹ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی بچت کی ٹیکنالوجی اب چپ کی صنعت میں مرکزی موضوع بن گئی ہے۔

آگے کا راستہ
کمپنی نے گزشتہ سال بتایا تھا کہ وہ گرافکس پروسیسرز، عام پروسیسرز اور خصوصی اے آئی ایکسلریٹرز کے لیے انجینئرنگ نمونے فراہم کر رہی ہے۔ اسی ہفتے کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے صنعت کی پہلی یک ٹکڑا مربوط وولٹیج ریگولیٹر چپ کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں کنٹرولر، پاور ٹرانزسٹر اور انڈکٹر ایک ہی سلیکون پر موجود ہیں۔ آزمائش میں اس چپ نے نئی نسل کے اے آئی ایکسلریٹرز کے تیزی سے بدلتے ہوئے بجلی کے بوجھ کی نقل کرنے والے آلے کو بجلی فراہم کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کئی چپس کو ملا کر ایک نظام کے طور پر چلایا جا سکتا ہے، تاکہ چپ ڈیزائن کرنے والے اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب بنا سکیں۔
کمپنی کے دفاتر وینکوور کے علاوہ چینڈلر، سان ہوزے اور ہسنچو میں بھی ہیں۔ نئی سرمایہ کاری سے پیداوار بڑھانے، صارفین کے ساتھ آزمائشیں وسیع کرنے اور ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے، تاہم کمپنی نے ابھی مستقبل کے منصوبوں کی تفصیل جاری نہیں کی۔
نتیجہ
پاور لیٹس کی کہانی صرف ایک اسٹارٹ اپ کی سرمایہ کاری کی کہانی نہیں، بلکہ اس بڑے سوال کی کہانی ہے کہ اے آئی کا مستقبل کتنی بجلی پر چلے گا۔ تین تجربہ کار بانیوں نے ایک تکنیکی مسئلے کو کاروباری موقع میں بدلا ہے، اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب صنعت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی بڑے چپ سازوں کے نظام میں کس حد تک جگہ بناتی ہے۔
مزید بانیوں کی کہانیاں یہیں پڑھیں۔






























