ٹوکیو سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جاپان کے مرکزی بینک نے 30 اکتوبر 2026 کو اپنی پالیسی شرح سود 1.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بینک کی پالیسی بورڈ کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ہی بینک نے پہلی بار یہ اعلان بھی کیا کہ ملک میں بنیادی مہنگائی دو فیصد کے ہدف سے عمومی طور پر ہم آہنگ ہو گئی ہے، جو 2013 میں ہدف مقرر ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اس نوعیت کا جائزہ ہے۔
اہم نکات
- جاپان کے مرکزی بینک نے پالیسی شرح سود 1.25 فیصد پر برقرار رکھی۔
- فیصلہ آٹھ کے مقابلے میں ایک ووٹ سے ہوا؛ ایک رکن نے شرح ڈیڑھ فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی۔
- بینک نے پہلی بار کہا کہ بنیادی مہنگائی دو فیصد کے ہدف سے عمومی طور پر ہم آہنگ ہے۔
- جنوری 2027 سے حصص کے فنڈز کی سالانہ فروخت کی رفتار 330 ارب ین سے بڑھ کر 860 ارب ین ہو جائے گی۔
- مالی سال 2027 کے لیے بنیادی مہنگائی کی پیش گوئی 2.4 فیصد سے بڑھا کر 2.6 فیصد کر دی گئی۔
فیصلے کی تفصیل
بینک کے اعلان کے مطابق پالیسی بورڈ نے آٹھ کے مقابلے میں ایک ووٹ سے راتوں رات قرض کی شرح 1.25 فیصد کے قریب رکھنے کی ہدایت برقرار رکھی۔ بورڈ کے رکن حاجیمے تاکاتا نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور شرح کو ڈیڑھ فیصد تک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ ان کا موقف تھا کہ بنیادی مہنگائی ہدف تک پہنچ چکی ہے، اس لیے شرح کو معمول کی سطح کے قریب لانے کی رفتار تیز ہونی چاہیے۔ اکثریت نے ان کی تجویز مسترد کر دی۔
یہ شرح ستمبر میں ایک فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کی گئی تھی، جو 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ بینک نے اس مرتبہ شرح برقرار رکھ کر یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ ستمبر کے اضافے کے اثرات کا جائزہ لینا چاہتا ہے اور جلد بازی میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
جاپان شرح سود کا آئندہ راستہ
بینک نے اپنے سہ ماہی اقتصادی جائزے میں کہا کہ بنیادی مہنگائی اس سطح پر رہنے کی توقع ہے جو دو فیصد کے ہدف سے ہم آہنگ ہے، اور مہنگائی کو اسی سطح کے گرد مستحکم رکھنا ضروری ہے۔ بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ شرح میں مزید تبدیلی کا فیصلہ معاشی صورت حال، قیمتوں اور مالی حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا، اس لیے شرح برقرار رکھنے کا مطلب اضافوں کے سلسلے کا خاتمہ نہیں ہے۔
رپورٹوں کے مطابق بازار میں دسمبر کے اجلاس میں اضافے کا امکان زیر بحث ہے، اور ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا کہ 29 اکتوبر کی سہ پہر تک دسمبر میں اضافے کا امکان 80 فیصد تک ظاہر ہو رہا تھا۔ بینک کے گورنر کازو اویدا نے کہا کہ بینک مہنگائی کو دو فیصد کے گرد مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی میں مناسب تبدیلی کرتا رہے گا۔
حصص کے فنڈز کی فروخت کی رفتار میں اضافہ
شرح کے فیصلے کے ساتھ بینک نے متفقہ طور پر اپنے پاس موجود حصص کے فنڈز کی فروخت کی سالانہ رفتار بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا۔ جنوری 2027 سے سالانہ فروخت کتابی قیمت کے حساب سے 330 ارب ین سے بڑھ کر 860 ارب ین ہو جائے گی۔ بینک کا کہنا ہے کہ جنوری 2026 سے جاری فروخت سے بازار پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑا، جب کہ بازار میں لین دین کا حجم بڑھا ہے۔ بینک نے یہ بھی کہا کہ مالی حالات کے مطابق وہ فروخت میں عارضی تبدیلی یا وقفہ بھی کر سکتا ہے۔

ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج کی عمارت؛ جاپان کے مرکزی بینک کے فیصلے کے دن ایشیائی بازاروں میں ٹیکنالوجی حصص کی فروخت دیکھی گئی۔
مارکیٹوں کا ردعمل
فیصلے کے دن ایشیائی بازاروں میں ملا جلا رجحان رہا۔ ٹوکیو کا مرکزی اشاریہ 2.12 فیصد گرا، جس سے تین روز کی مسلسل بہتری کا سلسلہ ٹوٹ گیا، جب کہ جنوبی کوریا کا مرکزی اشاریہ 3.48 فیصد نیچے آیا۔ ہانگ کانگ اور بھارت کے بازار اس کے برعکس بہتر رہے۔ بازار کے مبصرین کے مطابق ایشیائی ٹیکنالوجی حصص پر دباؤ کی بڑی وجہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کمزور نتائج کے بعد مصنوعی ذہانت پر بھاری اخراجات کے فائدے کے بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات تھے۔
اسی ہفتے امریکی مرکزی بینک نے بھی اپنی شرح 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں برقرار رکھی تھی۔ عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی محتاط پالیسی اور ٹیکنالوجی حصص کی فروخت نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کا اثر کرنسی اور حصص بازاروں دونوں پر نظر آ رہا ہے۔
اہم اعداد ایک نظر میں
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| پالیسی شرح سود | 1.25 فیصد پر برقرار |
| بورڈ کا ووٹ | آٹھ کے مقابلے میں ایک |
| اختلافی تجویز | شرح ڈیڑھ فیصد تک بڑھانا |
| مالی سال 2027 کی مہنگائی پیش گوئی | 2.6 فیصد (پہلے 2.4 فیصد) |
| حصص فنڈز کی سالانہ فروخت | جنوری 2027 سے 860 ارب ین |
نتیجہ
جاپان کے مرکزی بینک کا فیصلہ ایک توازن کی کوشش ہے: ایک طرف مہنگائی کا ہدف پہلی بار پورا ہونے کا اعلان مستقبل میں مزید اضافوں کی گنجائش کھولتا ہے، دوسری طرف شرح برقرار رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بینک جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔ اب سب کی نظریں دسمبر کے اجلاس پر ہیں، جہاں یہ واضح ہو گا کہ بینک مہنگائی کے ہدف کی تکمیل کے بعد کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ مزید کاروباری خبریں وتن نیوز کے اردو صفحے پر پڑھی جا سکتی ہیں۔
عام سوالات
جاپان کے مرکزی بینک نے کیا فیصلہ کیا ہے؟
بینک نے اپنی پالیسی شرح سود 1.25 فیصد پر برقرار رکھی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ بنیادی مہنگائی دو فیصد کے ہدف سے عمومی طور پر ہم آہنگ ہو گئی ہے۔
اس فیصلے میں اختلاف کس بات پر تھا؟
بورڈ کے ایک رکن نے شرح کو فوری طور پر ڈیڑھ فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی تھی، کیونکہ ان کے خیال میں مہنگائی ہدف تک پہنچ چکی ہے۔ اکثریت نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
حصص کے فنڈز کی فروخت کی رفتار کیوں بڑھائی گئی؟
بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ فروخت سے بازار پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑا اور لین دین کا حجم بڑھا ہے، اس لیے جنوری 2027 سے سالانہ فروخت 860 ارب ین تک بڑھائی جا رہی ہے۔
اگلا فیصلہ کب متوقع ہے؟
بینک کا اگلا پالیسی اجلاس دسمبر میں ہو گا، اور بازار میں اس اجلاس میں شرح میں اضافے کے امکان پر بحث جاری ہے۔ حتمی فیصلہ اس وقت کے معاشی اعداد پر منحصر ہو گا۔
ذرائع: ٹریڈنگ ویو اور آجو پریس کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں۔






























