پاکستانی نژاد امریکی اداکار فاران طاہر نے ۱۸ سال کے طویل وقفے کے بعد مارول کی دنیا میں واپسی کی ہے۔ وہ مارول کی نئی سیریز ’ویژن کویسٹ‘ کی چھٹی قسط میں ایک بار پھر رضا کے کردار میں نظر آئے ہیں — وہی کردار جس نے ۲۰۰۸ کی فلم ’آئرن مین‘ کی کہانی کی بنیاد رکھی تھی اور جسے مداح برسوں سے مردہ سمجھ رہے تھے۔
اس واپسی کی خبر نے دنیا بھر میں مارول کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ رضا وہ پہلا بڑا مخالف تھا جس کا سامنا ٹونی اسٹارک کو آئرن مین بننے سے پہلے کرنا پڑا تھا۔ اب، تقریباً دو دہائیوں بعد، وہی کردار ایک نئی کہانی، ایک نئے شہر اور ایک نئے شکار کے ساتھ واپس آ گیا ہے۔
اہم نکات
- فاران طاہر نے ’ویژن کویسٹ‘ کی چھٹی قسط میں ۱۸ سال بعد رضا کا کردار دوبارہ ادا کیا ہے۔
- رضا نے ۲۰۰۸ کی فلم ’آئرن مین‘ میں ٹونی اسٹارک کو اغوا کیا تھا، اور اسی قید کے دوران اسٹارک نے پہلا آئرن مین زرہ بنائی تھی۔
- نئی قسط میں رضا میڈریپور شہر میں ویژن کا شکار کرنے کے لیے مسلح ساتھیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
- فلم میں اس کی موت کبھی پردے پر دکھائی نہیں گئی تھی، اور نئی سیریز نے اب یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ زندہ بچ گیا تھا۔
- فاران طاہر پاکستانی فنکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ’اسٹار ٹریک‘ اور ’ایلیسیئم‘ جیسی بڑی فلموں میں بھی نظر آ چکے ہیں۔
۲۰۰۸ میں رضا کون تھا؟
’آئرن مین‘ کے آغاز میں رضا ٹین رنگز نامی گروہ کے افغانستان میں موجود دستے کا سربراہ تھا۔ اس کے ساتھیوں نے ٹونی اسٹارک کو اغوا کیا اور اس سے جیریکو میزائل بنوانا چاہا۔ اسٹارک نے قید میں موجود سامان سے میزائل کے بجائے ایک زرہ بنا لی، جس کی مدد سے وہ فرار ہوا — اور یوں آئرن مین کی کہانی شروع ہوئی۔
فلم کے آگے چل کر یہ بات سامنے آئی کہ رضا نے اوبیڈیا اسٹین کے ساتھ مل کر اسٹارک کے خلاف سازش کی تھی، مگر اسٹین نے بعد میں اسے دھوکا دیا اور ایک صوتی آلے سے مفلوج کر دیا۔ اس کے بعد اسٹین کے آدمیوں کی گولیاں سنائی دیں، اور ناظرین نے یہی سمجھا کہ رضا مارا گیا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کی موت پردے پر کبھی دکھائی ہی نہیں گئی تھی — اور یہی وہ خلا تھا جسے ’ویژن کویسٹ‘ نے اب بھر دیا ہے۔

’ویژن کویسٹ‘ کی چھٹی قسط میں کیا ہوا؟
نئی سیریز کی چھٹی قسط، جس کا عنوان ’ڈیڈلاک‘ ہے، میں ویژن اپنے بیٹے ٹامی میکسیموف کو بچانے کے لیے میڈریپور جاتا ہے، جو مجرموں کے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہاں اس کا سامنا انعام کے شکاری پالاڈن سے ہوتا ہے، جو ویژن کو پکڑنا چاہتا ہے۔ اسی کشمکش کے دوران رضا اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ آ پہنچتا ہے — اور وہ بھی ویژن کا شکار کرنے آیا ہے۔
پالاڈن رضا کی آواز پہچان لیتا ہے اور حیرت سے کہتا ہے کہ اسٹین اور ٹین رنگز کے ہاتھوں سے گزرنے کے بعد اسے تو مر جانا چاہیے تھا یا قید میں ہونا چاہیے تھا۔ اس مکالمے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ رضا اب ٹین رنگز سے الگ ہو چکا ہے اور میڈریپور میں ایک آزاد شکاری کے طور پر کام کر رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ ویژن کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والی ایڈمینٹیم گولیاں بھی ساتھ لایا تھا۔
مگر اس کی واپسی اس کی توقع کے مطابق نہیں رہی۔ تلوار کی لڑائی میں پالاڈن اس پر غالب آ جاتا ہے، اور رضا بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے — مگر زندہ رہتا ہے۔ یعنی یہ کردار کہانی سے باہر نہیں ہوا، اور مستقبل میں اس کی واپسی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اس کردار کی کاسٹنگ کی خبر جنوری ۲۰۲۵ میں ہی سامنے آ گئی تھی، مگر ناظرین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ کہانی میں اس کی آمد کس طرح ہوگی۔
فاران طاہر: پاکستان سے ہالی ووڈ تک
فاران ہارون طاہر ۱۶ فروری ۱۹۶۳ کو لاس اینجلس میں پیدا ہوئے، مگر ان کا بچپن زیادہ تر پاکستان میں گزرا۔ ان کے والد نعیم طاہر اداکار اور مصنف تھے، اور والدہ یاسمین طاہر ریڈیو پاکستان کی معروف آوازوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے نانا امتیاز علی تاج اور نانی حجاب امتیاز علی بھی ادب کی دنیا کے بڑے نام تھے۔ فاران ۱۹۸۰ میں امریکہ واپس گئے، کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے سے تھیٹر میں ڈگری لی اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے اداکاری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے فلمی سفر کا آغاز ۱۹۹۴ میں ڈزنی کی فلم ’جنگل بک‘ میں ناتھو کے کردار سے کیا۔ اس کے بعد وہ ۲۰۰۹ کی فلم ’اسٹار ٹریک‘ میں کیپٹن روباؤ اور ۲۰۱۳ کی فلم ’ایلیسیئم‘ میں صدر پٹیل کے کرداروں میں نظر آئے۔ ۲۰۱۶ میں انہوں نے واشنگٹن میں شیکسپیئر تھیٹر کمپنی کی پیشکش میں ’اوتھیلو‘ کا مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ سیریز کے ذمہ دار ٹیری میٹالس اس سے پہلے ’ٹویل مونکیز‘ میں ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں، اور اسی پرانی رفاقت نے اس واپسی کی راہ ہموار کی۔

اس واپسی کی اہمیت کیا ہے؟
رضا کی واپسی صرف ایک پرانے کردار کی جھلک نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مارول کی کہانی کا آغاز کہاں سے ہوا تھا — ایک غار، ایک قیدی، اور ایک زرہ جس نے ایک عام انسان کو ہیرو بنا دیا۔ اگر رضا نے اسٹارک کو اغوا نہ کیا ہوتا، تو شاید آئرن مین کی کہانی کبھی شروع ہی نہ ہوتی، اور اس کے بغیر ویژن کا کردار بھی وجود میں نہ آتا۔
پاکستانی ناظرین کے لیے یہ خبر اس لیے بھی خاص ہے کہ فاران طاہر جیسے فنکار نے پاکستان کی مٹی سے جڑی پرورش کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان کی واپسی یہ پیغام دیتی ہے کہ اچھی اداکاری اور مستقل محنت کی عمر نہیں ہوتی — اٹھارہ سال بعد بھی ایک کردار واپس آ سکتا ہے، اور ایک فنکار دوبارہ سب کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
وطن نیوز کی مزید شوبز خبریں یہاں پڑھیں۔






























