آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تجربہ گاہ نے شہر کے 2026 کے موسمیاتی ایوارڈز میں اعلیٰ انعام جیت لیا ہے، جب اس نے پلاسٹک، توانائی اور آمد و رفت کے استعمال کا طریقہ بدل دیا۔ سر ولیم ڈن اسکول آف پیتھالوجی کی ریف لیب کو تیسرے سالانہ آکسفورڈ کلائمیٹ ایوارڈز میں مجموعی فاتح قرار دیا گیا، جن کی تقریب 15 اکتوبر 2026 کو آکسفورڈ ٹاؤن ہال میں ہوئی۔
اس تجربہ گاہ نے کلائمیٹ ایکشن میں جدت کا ایوارڈ بھی جیتا۔ اس کی لیبارٹری مینیجر ڈاکٹر سروج سوریا کو الگ سے کلائمیٹ ایکشن چیمپئن 2026 قرار دیا گیا، جو ان کی تجربہ گاہ کی ماحول دوست تبدیلی کی قیادت کا اعتراف ہے۔
یہ ایوارڈز آکسفورڈ ٹائمز، آکسفورڈ سٹی کونسل، آکسفورڈ میل اور لوکل آئی کیو کے زیر اہتمام ہوتے ہیں، اور آکسفورڈ شائر بھر میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد، اداروں، کاروباروں، کونسلوں اور کمیونٹی گروپوں کو سراہتے ہیں۔ یہ شہر کی تحقیقی برادری سے آکسفورڈ کلائمیٹ چیمپئن کی تازہ ترین کامیابی کی کہانی ہے۔
تجربہ گاہ نے کیا بدلا؟
انتظام کے نئے طریقوں کے تحت ریف لیب اب اپنا تقریباً تمام پلاسٹک کا سامان دوبارہ استعمال یا ری سائیکل کرتی ہے، جیسا کہ ایوارڈز کی مقامی رپورٹنگ میں بتایا گیا۔ ان تبدیلیوں سے تجربہ گاہ کو سالانہ کم از کم 15,000 پاؤنڈ کی بچت ہو رہی ہے۔
تجربہ گاہ نے اپنے فریزرز کی کارکردگی بھی بہتر کی ہے اور عملے کو کام پر آنے جانے کے لیے زیادہ پائیدار طریقے اپنانے کی ترغیب دی ہے۔ تجربہ گاہیں ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک اور توانائی سے چلنے والے کولڈ اسٹوریج کا بہت زیادہ استعمال کرتی ہیں، اس لیے روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی تبدیلیاں بھی ایک بڑے تحقیقی شعبے میں تیزی سے جمع ہو جاتی ہیں۔

ججز نے ایک تجربہ گاہ کا انتخاب کیوں کیا؟
آکسفورڈ سٹی کونسل کی ڈپٹی لیڈر کونسلر اینا ریلٹن مجموعی انعام کے ججز میں شامل تھیں، یہ انعام کونسل کی سرپرستی میں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے میں قابل توسیع ہونا فیصلہ کن رہا: آکسفورڈ میں بہت سی تجربہ گاہیں کام کرتی ہیں، اس لیے ریف لیب کے طریقے دوسری اسی جیسی سہولتیں آسانی سے اپنا سکتی ہیں۔
یہی نکتہ اس کہانی کا مرکز ہے۔ ایک تجربہ گاہ کی بچت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن وہ طریقہ جسے دوسری تجربہ گاہیں نقل کر سکیں، بغیر نئی ٹیکنالوجی یا بڑے خرچ کے، اس کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
آکسفورڈ کلائمیٹ چیمپئن ڈاکٹر سروج سوریا کون ہیں؟
ڈاکٹر سوریا ریف لیب کی لیبارٹری مینیجر اور ڈن اسکول گرین گروپ کی چیئر ہیں، یہ گروپ شعبے کے کاربن اثرات کم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ وہ 2010 میں ریف لیب سے وابستہ ہوئیں اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وہاں کام کر رہی ہیں۔
ماحولیاتی پائیداری کے لیے ان کا کام پرانا ہے۔ ریف لیب نے مسلسل کئی برس لیبارٹری انوائرمینٹل اسیسمنٹ فریم ورک کے گولڈ ایوارڈز حاصل کیے ہیں، اور ڈاکٹر سوریا کو 2023 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا انوائرمینٹل سسٹین ایبلٹی اسٹاف ایوارڈ ملا تھا۔ نئے ایوارڈز قبول کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اجتماعی عمل بہت ضروری ہے، اور کوئی فرد اکیلا یہ سب حاصل نہیں کر سکتا۔
تقریب میں دیگر فاتحین
تقریب کی میزبانی سابق عالمی رگبی ریفری نائجل اوونز نے کی، اور 12 زمروں میں فاتحین کا اعلان ہوا، جبکہ ریف لیب نے مجموعی انعام بھی جیتا۔ ان میں 13 سالہ جو راجا پکشا بھی شامل تھے، جنہوں نے مسلسل دوسرے سال یوتھ کلائمیٹ ایکشن چیمپئن ایوارڈ جیتا۔
وادھم کالج کو سسٹین ایبل فردر ایجوکیشن اسکول و کالج آف دی ایئر قرار دیا گیا، وٹنی ٹاؤن کونسل نے بائیو ڈائیورسٹی اور ایکولوجی ایوارڈ جیتا، اور ہارویل سائنس اینڈ انوویشن کیمپس نے گرین بلڈنگ اینڈ ڈیزائن ایوارڈ حاصل کیا۔ مکمل فہرست اسکولوں، کاروباروں، کونسلوں اور کمیونٹی گروپوں پر محیط ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ مقامی موسمیاتی عمل کتنا وسیع ہو چکا ہے۔
یہ اعزاز اس سال سراہے گئے کلائمیٹ چیمپئنز کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہے۔ وطن نیوز نے حال ہی میں 25 نوجوانوں کی زیر قیادت موسمیاتی گروپوں کے عالمی ایوارڈ میں ایک ایک ملین ڈالر جیتنے کی خبر دی تھی، جو یاد دلاتی ہے کہ چیمپئن کی قیادت میں تبدیلی ہر سطح پر ہو رہی ہے، ایک تجربہ گاہ کی میز سے لے کر 33 ممالک میں کام کرنے والے اداروں تک۔
تجربہ گاہوں کی پائیداری کیوں اہم ہے؟
تحقیقی تجربہ گاہیں بڑی مقدار میں ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک استعمال کرتی ہیں، جیسے پائپٹ ٹپس، ٹیوبیں اور پیٹری ڈشز، اور ان کے فریزر اور وینٹی لیشن چوبیس گھنٹے چلتے ہیں۔ برسوں تک اس پلاسٹک کا زیادہ تر حصہ ناقابل ری سائیکل سمجھا جاتا تھا، اور توانائی کے استعمال کو ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔
ڈن اسکول گرین گروپ برسوں سے اس سوچ کو چیلنج کر رہا ہے۔ 2022 میں اس نے مشترکہ طور پر ہائی شیرف کلائمیٹ ایکشن ہیروز ایوارڈ جیتا تھا، اور اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ ڈن اسکول کی لیف سے منظور شدہ تجربہ گاہیں سالانہ 100 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی بچت کریں گی۔ آکسفورڈ ایوارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شعبوں کے اندر رضاکارانہ، مستقل کام اب شہر بھر میں پہچان حاصل کر رہا ہے۔
اہم نکات: آکسفورڈ کلائمیٹ ایوارڈز 2026 ایک نظر میں
- مجموعی فاتح: ریف لیب، سر ولیم ڈن اسکول آف پیتھالوجی، آکسفورڈ یونیورسٹی
- مزید اعزاز: کلائمیٹ ایکشن میں جدت کا ایوارڈ
- کلائمیٹ ایکشن چیمپئن 2026: ڈاکٹر سروج سوریا، ریف لیب کی لیبارٹری مینیجر اور ڈن اسکول گرین گروپ کی چیئر
- تقریب: آکسفورڈ ٹاؤن ہال، 15 اکتوبر 2026؛ تیسرے سالانہ ایوارڈز
- اہم نتیجہ: تقریباً تمام لیبارٹری پلاسٹک ری سائیکل یا دوبارہ استعمال؛ سالانہ کم از کم 15,000 پاؤنڈ کی بچت
- اہمیت: ججز نے ان طریقوں کی تعریف کی جنہیں آکسفورڈ کی دوسری تجربہ گاہیں نقل کر سکتی ہیں
آکسفورڈ کی یہ کامیابی دنیا بھر کے تحقیقی اداروں کے لیے ایک عملی سبق ہے: موسمیاتی عمل کے لیے ہمیشہ کسی انقلابی ایجاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی صرف ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جو ڈبوں، فریزرز اور آمد و رفت پر دوبارہ غور کرنے کو تیار ہو، اور برسوں تک اس پر قائم رہے۔



























