وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکج کے تحت صوبے میں ترقیاتی کاموں کیلئے 160 ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ پشاور میں قبائلی اضلاع کے عمائدین پر مشتمل ترقیاتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کو تمام وسائل فراہم کرے گا اور ترقیاتی منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کیے جائیں گے۔ اس موقع پر قبائلی مشران نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے وہ حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
اہم نکات
- خیبر پختونخوا کے ترقیاتی کاموں کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان
- پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس اور قبائلی عمائدین سے ملاقات
- دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کی جانب سے تمام وسائل فراہم کرنے کا اعلان
- قبائلی اضلاع میں گندم کی فراہمی، پولیس کی تربیت اور سیف سٹی کی جلد تکمیل کی ہدایات
- قبائلی عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین
خیبر پختونخوا ترقیاتی پیکج کا اعلان
وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ قبائلی عمائدین کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی تاکہ صوبے کے عوام کو ان کے حقوق اور بنیادی سہولتیں جلد میسر آ سکیں۔
اجلاس میں قبائلی عمائدین نے ترقیاتی کاموں کی صورتحال پر اپنے خیالات پیش کیے اور کہا کہ امن کے قیام کیلئے وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دن رات محنت کی جائے گی اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے حقوق دلائے جائیں گے۔

امن اور دہشت گردی کے خلاف عزم
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عمائدین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام نے بے انتہا قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام ضروریات پوری کی جائیں گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔
اس سے قبل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا دور واپس لانے کیلئے وفاق اور عسکری قیادت مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کوہستان منصوبے میں 37 ارب روپے کی بدعنوانی کا بھی ذکر کیا۔
گندم، پولیس تربیت اور سیف سٹی
وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ گورنر اور چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ قبائلی اضلاع کو جتنی گندم چاہیے، فراہم کی جائے۔ اجلاس میں قبائلی اضلاع میں گندم کی فراہمی اور پولیس کی تربیت پر بھی بات ہوئی، جبکہ سیف سٹی منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں امن ہوتا تو شاید ایمرجنسی کی ضرورت نہ پڑتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقیاتی پیکج اور امن کی کوششوں سے صوبے کے عوام کی زندگی میں بہتری آئے گی۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔






























