یوکرین کے وسطی شہر دنیپرو میں روسی حملوں کے بعد بجلی کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے اور لاکھوں صارفین اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے میزائل اور ڈرون حملوں نے بجلی کی ترسیل کے نظام کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد شہر اور اس کے گرد و نواح میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی بند کرنا پڑی۔
اہم نکات
- دنیپرو اور اس کے نواحی علاقوں میں ابتدائی طور پر تقریباً ساڑھے تین لاکھ صارفین بجلی سے محروم ہوئے۔
- 30 اکتوبر تک بھی دو لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی۔
- گرڈ آپریٹر نے دنیپرو شہر، ملحقہ اضلاع اور پاولوہراد کے بعض علاقوں میں ہنگامی کٹوتیاں نافذ کیں۔
- اس سے ایک روز قبل دنیپرو ریلوے اسٹیشن پر ڈرون حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- یوکرینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں سے پہلے توانائی کے نظام پر حملے شہری زندگی کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

رات بھر کے حملے اور بجلی نظام کو نقصان
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات کے وقت کئی علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جن میں دنیپروپیٹروفسک کا علاقہ بھی شامل تھا۔ حملوں کے نتیجے میں دنیپرو شہر میں بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر معطل ہو گئی اور بجلی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔
بجلی کمپنی کے مطابق گرڈ آپریٹر نے صورت حال کو سنبھالنے کے لیے دنیپرو شہر، اس کے نواحی اضلاع اور پاولوہراد کے بعض حصوں میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے کے کارکن اہم تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاہم مرمت میں وقت لگ سکتا ہے۔
دنیپروپیٹروفسک کے علاقائی گورنر نے بتایا کہ ابتدا میں شہر اور قریبی بستیوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوئے، جب کہ بعد میں بیشتر صارفین کی بجلی بحال کر دی گئی، لیکن 30 اکتوبر کو بھی دو لاکھ سے زائد صارفین بجلی کے بغیر تھے۔ انھوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ دوبارہ حملوں اور بجلی، پانی اور مواصلات میں طویل تعطل کا امکان ذہن میں رکھا جائے۔
ریلوے اسٹیشن پر حملہ اور سردیوں کی تشویش
بجلی کے بحران سے ایک روز قبل، 29 اکتوبر کو دنیپرو ریلوے اسٹیشن کے ایک مصروف پلیٹ فارم پر ڈرون حملہ ہوا تھا، جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یوکرینی صدر نے اس حملے کو ہولناک قرار دیا تھا۔ اسی رات دارالحکومت کیف میں بھی حملے ہوئے، جن میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس جنگ کے دوران مسلسل توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ملک کی مزاحمت کمزور کی جا سکے۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران روس کے مختلف علاقوں میں ایک ہزار سے زائد یوکرینی ڈرون مار گرائے۔
یوکرینی حکام کے مطابق سردیوں کی آمد سے پہلے بجلی اور حرارتی نظام پر حملوں کے باعث لاکھوں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو متبادل انتظامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔































