LIVE
اہم خبر
ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ؛ ایک شخص جاں بحق، 13 زخمیلاہور میں سموگ کا زور؛ اے کیو آئی 419 تک پہنچا، اسکولوں کی بندش پر تاحال خاموشیکاغذ کی ری سائیکلنگ خطرے میں: یورپ کے نئے ڈیجیٹل نظام پر صنعت کا انتباہکاپ31 میں کانگو بیسن کی آواز: انطالیہ سے پہلے ترکی کا کانگو سے قریبی رابطہعالمی خوراک کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر، عالمی بینک نے مزید اضافے کی پیش گوئی کر دیفخر زمان کی سنچری نے پاکستان کو سہ ملکی سیریز کا ٹائٹل دلا دیا، سری لنکا کو فائنل میں شکستفالکن 9 کی سات سوویں پرواز: اسپیس ایکس نے اکتوبر کا اختتام 27 سٹارلنک سیٹلائٹس کے ساتھ کیاکاپ31: انتالیا میں وعدوں سے عمل تک کا سفر، دنیا کی نظریں نومبر کے موسمیاتی اجلاس پریوروزون کی معیشت نے توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی، تیسری سہ ماہی میں 0.4 فیصد نمومصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے مواد کے استعمال پر اب ایک ہی مشترکہ روک ممکناسٹیفنی وال کرافٹ نے ۲۰۲۶ کا اے جے اے سی ماحولیاتی صحافت کا ایوارڈ جیت لیاوفاقی آئینی عدالت: حتمی فیصلوں پر دوبارہ مقدمہ بازی نہیں ہو سکتینوشہرہ: فائرنگ میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ زخمی، پشاور اسپتال منتقلدرِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکشکراچی: جناح اسپتال میں بجلی کا اندرونی فالٹ 36 گھنٹے سے برقرار، تشخیصی خدمات متاثرامریکہ میں چھتوں پر شمسی توانائی نے پائیدار گھروں کا نیا دور شروع کر دیامصدر نیوزی لینڈ میں ایک ارب ڈالر کی قابل تجدید توانائی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرے گااڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ، ڈاکٹروں نے مکمل جانچ کییورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہامریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحانٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ؛ ایک شخص جاں بحق، 13 زخمیلاہور میں سموگ کا زور؛ اے کیو آئی 419 تک پہنچا، اسکولوں کی بندش پر تاحال خاموشیکاغذ کی ری سائیکلنگ خطرے میں: یورپ کے نئے ڈیجیٹل نظام پر صنعت کا انتباہکاپ31 میں کانگو بیسن کی آواز: انطالیہ سے پہلے ترکی کا کانگو سے قریبی رابطہعالمی خوراک کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر، عالمی بینک نے مزید اضافے کی پیش گوئی کر دیفخر زمان کی سنچری نے پاکستان کو سہ ملکی سیریز کا ٹائٹل دلا دیا، سری لنکا کو فائنل میں شکستفالکن 9 کی سات سوویں پرواز: اسپیس ایکس نے اکتوبر کا اختتام 27 سٹارلنک سیٹلائٹس کے ساتھ کیاکاپ31: انتالیا میں وعدوں سے عمل تک کا سفر، دنیا کی نظریں نومبر کے موسمیاتی اجلاس پریوروزون کی معیشت نے توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی، تیسری سہ ماہی میں 0.4 فیصد نمومصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے مواد کے استعمال پر اب ایک ہی مشترکہ روک ممکناسٹیفنی وال کرافٹ نے ۲۰۲۶ کا اے جے اے سی ماحولیاتی صحافت کا ایوارڈ جیت لیاوفاقی آئینی عدالت: حتمی فیصلوں پر دوبارہ مقدمہ بازی نہیں ہو سکتینوشہرہ: فائرنگ میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ زخمی، پشاور اسپتال منتقلدرِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکشکراچی: جناح اسپتال میں بجلی کا اندرونی فالٹ 36 گھنٹے سے برقرار، تشخیصی خدمات متاثرامریکہ میں چھتوں پر شمسی توانائی نے پائیدار گھروں کا نیا دور شروع کر دیامصدر نیوزی لینڈ میں ایک ارب ڈالر کی قابل تجدید توانائی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرے گااڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ، ڈاکٹروں نے مکمل جانچ کییورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہامریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحان
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت: حتمی فیصلوں پر دوبارہ مقدمہ بازی نہیں ہو سکتی

News Desk 2شائع شدہ 31 اکتوبر، 2026
وفاقی آئینی عدالت: حتمی فیصلوں پر دوبارہ مقدمہ بازی نہیں ہو سکتی
Share this story

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ جن عدالتی فیصلوں کو حتمیت حاصل ہو چکی ہو، انہیں بار بار چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی تنازع کو مختلف عدالتی فورموں پر مسلسل اٹھانا عدالتی عمل کا ناجائز استعمال ہے، اور قانونی جنگ کا سلسلہ کہیں نہ کہیں ختم ہونا چاہیے۔

اہم نکات

  • یہ فیصلہ بھکر میں لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر کے لیے مختص زمین کی ملکیت کے مقدمے میں سنایا گیا۔
  • انوری بی بی کے ورثا کی جانب سے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی گئی، اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
  • دو رکنی بینچ میں جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا۔
  • حتمی فیصلہ صرف اس صورت میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے جب فراڈ، غلطی یا متعلقہ عدالت کے دائرہ اختیار میں کمی ثابت ہو جائے۔
  • زمین کی تقسیم اور دوبارہ الاٹمنٹ کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ تک جا چکا تھا، اس لیے عملدرآمد کی کارروائی میں اسے دوبارہ نہیں چھیڑا جا سکتا۔
  • عملدرآمد کرنے والی عدالت ڈگری پر عمل درآمد تو کروا سکتی ہے، مگر پہلے سے طے شدہ حقوق میں تبدیلی یا ڈگری کے دائرہ کار سے تجاوز نہیں کر سکتی۔

مقدمے کا پس منظر

یہ تنازع بھکر میں لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر کے لیے مختص زمین کی ملکیت سے متعلق تھا۔ زمین کی تقسیم اور دوبارہ الاٹمنٹ کے سوال پر طویل قانونی جنگ لڑی گئی، اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ اس کے باوجود عملدرآمد کی کارروائی کے دوران طے شدہ معاملے کو دوبارہ چھیڑنے کی کوشش کی گئی۔

انوری بی بی کے ورثا نے اپیل کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جسے وفاقی آئینی عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے نتیجے میں اس مقدمے میں پہلے سے طے شدہ پوزیشن برقرار رہی۔

عدالت کا کمرہ، نمائندہ تصویر
عدالت کا کمرہ — نمائندہ تصویر

وفاقی آئینی عدالت کا موقف

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فیصلوں کی حتمی حیثیت انصاف کے نظام کے تسلسل، قانونی استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہر حتمی فیصلے کو نئی کارروائیوں کے ذریعے بار بار کھولا جاتا رہے تو کوئی تنازع کبھی ختم نہیں ہوگا، اور فریقین غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حتمی فیصلے کو دوبارہ کھولنے کا دروازہ بہت محدود ہے۔ صرف فراڈ، واضح غلطی یا متعلقہ عدالت کے دائرہ اختیار میں کمی ثابت ہونے کی صورت میں ہی ایسا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ، عملدرآمد کرنے والی عدالت کا کام ڈگری پر عمل درآمد کروانا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ حقوق کو بدلنا یا ڈگری کے دائرہ کار سے آگے بڑھنا۔

فیصلے کی اہمیت

یہ فیصلہ فریقین اور اداروں کے لیے یقین کی صورتحال پیدا کرتا ہے کہ ایک بار حتمی ہونے والا فیصلہ بار بار کی کارروائیوں کی نذر نہیں ہوگا۔ خاص طور پر زمین اور جائیداد کے تنازعات میں یہ اصول اہم ہے، جہاں عملدرآمد کے مرحلے پر پرانے فیصلوں کو دوبارہ چھیڑنے کی کوششیں عام رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے عدالتی وقت کی بچت ہوگی اور مقدمہ بازی کے غیر ضروری سلسلے کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ اب یہ واضح ہے کہ قانونی جنگ کا اختتام بھی قانون کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔ مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کاغذ کی ری سائیکلنگ خطرے میں: یورپ کے نئے ڈیجیٹل نظام پر صنعت کا انتباہ
نمایاں خبر

کاغذ کی ری سائیکلنگ خطرے میں: یورپ کے نئے ڈیجیٹل نظام پر صنعت کا انتباہ

کاغذ کی ری سائیکلنگ کرنے والوں نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ دوبارہ حاصل شدہ کاغذ کے لیے ڈیواس نظام کو کم از کم چھ ماہ موخر کیا جائے، کیونکہ ایشیائی کارخانے بڑی حد تک رجسٹر نہیں ہوئے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔