LIVE
اہم خبر
حنا جاوید کیس میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ، آصفہ بھٹو لواحقین سے ملاقات میں حمایت کا اعلانبرطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکملاقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہکیپس کالج حاصل پور کی فرسٹ ایئر میں نمایاں کامیابی؛ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی مبارکبادتیز رفتار آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سینیٹ کی قرارداد منظورگھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پرسست خنجراب سرحد پر زرعی تجارت کے لیے پاک چین گرین چینل کا آغازامریکہ میں قابل تجدید توانائی نے بجلی کا 28 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کر لیااقوام متحدہ کی رپورٹ: سمندر کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کمزور، سمندری کاربن انٹیلی جنس کی ضرورتتہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گےانسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قیدآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب جہاز میں آگ لگ گئی، عملے کی حالت معلوم نہیںنائیجیریا کے موسمیاتی قانون کے محرک سیم اونوئیگبو کو سولر انرجی فیلوشپ مل گئیبلوچستان میں ٹرینوں کی آمدورفت آج ایک روز کے لیے بنداسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم: 68 افراد ہلاک، تین روزہ قومی سوگ کا اعلانآل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہےحنا جاوید کیس میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ، آصفہ بھٹو لواحقین سے ملاقات میں حمایت کا اعلانبرطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکملاقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہکیپس کالج حاصل پور کی فرسٹ ایئر میں نمایاں کامیابی؛ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی مبارکبادتیز رفتار آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سینیٹ کی قرارداد منظورگھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پرسست خنجراب سرحد پر زرعی تجارت کے لیے پاک چین گرین چینل کا آغازامریکہ میں قابل تجدید توانائی نے بجلی کا 28 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کر لیااقوام متحدہ کی رپورٹ: سمندر کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کمزور، سمندری کاربن انٹیلی جنس کی ضرورتتہران اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں وضاحتبنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دیلرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گےانسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قیدآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب جہاز میں آگ لگ گئی، عملے کی حالت معلوم نہیںنائیجیریا کے موسمیاتی قانون کے محرک سیم اونوئیگبو کو سولر انرجی فیلوشپ مل گئیبلوچستان میں ٹرینوں کی آمدورفت آج ایک روز کے لیے بنداسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم: 68 افراد ہلاک، تین روزہ قومی سوگ کا اعلانآل انرجی آسٹریلیا 2026: ملبورن میں صاف توانائی کے 16,500 سے زائد ماہرین جمعپاکستان نے انگور اڈہ واقعے سے متعلق افغان موقف مسترد کر دیاسنگاپور کی موسمیاتی تیار گھر نمائش پنگول کے بعد جورونگ پہنچ رہی ہے
شوبز

گھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پر

News Desk 2شائع شدہ 29 اکتوبر، 2026
گھوسٹ اسکول: عدالت سے سینما تک، ایک بچی کی تعلیم کی کہانی ۳۰ اکتوبر کو پردے پر
Share this story

پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ جمعہ، ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو پاکستان کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ یہ فلم ایک دس سالہ بچی کی کہانی ہے جو اپنے گاؤں کے بند اسکول کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے۔ دنیا بھر کے فلمی میلوں میں پذیرائی حاصل کرنے کے بعد یہ فلم اب اپنے وطن کے ناظرین تک پہنچ رہی ہے، اور اس کی پاکستان آمد کا سفر عدالت کے فیصلے سے ہو کر گزرا ہے۔

اہم نکات

  • پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو پاکستان کے سینما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہے۔
  • فلم کی ہدایت کارہ برطانوی پاکستانی فلم ساز سیماب گل ہیں، اور یہ ان کی پہلی فیچر فلم ہے۔
  • مرکزی کردار رابعہ کا کردار نوجوان اداکارہ نزولیا ارسلان نے ادا کیا ہے، جب کہ ان کی والدہ کے کردار میں سمینہ سحر نظر آئیں گی۔
  • فلم کا عالمی پریمیئر ستمبر ۲۰۲۵ میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا تھا۔
  • سندھ ہائی کورٹ نے ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو سنسر بورڈ کی بیشتر کٹوتیاں ختم کر دیں، جس کے بعد فلم کی نمائش کی راہ ہموار ہوئی۔
  • وفاقی اور پنجاب کے سنسر بورڈز نے فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے کلیئر کر دیا تھا۔

کہانی: ایک بچی کا سوال

فلم کی کہانی سندھ کے ایک گاؤں کی دس سالہ بچی رابعہ کے گرد گھومتی ہے، جسے اسکول جانا سب سے زیادہ عزیز ہے۔ ایک صبح وہ اسکول پہنچتی ہے تو دروازہ زنجیر سے بند ملتا ہے۔ گاؤں میں یہ بات پھیل جاتی ہے کہ اسکول پر کسی آسیب کا سایہ ہے، اس لیے اسے بند کر دیا گیا ہے۔ زیادہ تر بچے اس غیر متوقع چھٹی پر خوش ہوتے ہیں، مگر رابعہ مطمئن نہیں ہوتی۔

رابعہ دروازے دروازے اور دفتر دفتر جا کر سوال کرتی ہے کہ اسکول آخر کیوں بند ہے۔ اس کی تلاش میں آہستہ آہستہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل مسئلہ کسی مافوق الفطرت کہانی میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کے مفادات میں چھپا ہے جو گاؤں کے نظام کو چلاتے ہیں۔ فلم کی یہی خوبی ہے کہ وہ ایک بچے کی معصوم نظر سے بڑوں کی دنیا کے پیچیدہ راز کھولتی ہے۔

گاؤں کی گلی میں اسکول کی طالبہ
گاؤں کی گلی میں اسکول جانے والی ایک طالبہ — فلم کی کہانی بھی ایک بچی کی تلاش کے گرد گھومتی ہے

’گھوسٹ اسکول‘ کا مطلب کیا ہے؟

فلم کا عنوان دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک طرف گاؤں میں یہ افواہ ہے کہ اسکول میں آسیب ہے، اور دوسری طرف ’گھوسٹ اسکول‘ اس سرکاری اسکول کو بھی کہتے ہیں جو کاغذوں میں موجود ہو، اس کی عمارت اور بجٹ بھی درج ہو، مگر عملی طور پر وہاں کوئی بچہ پڑھتا نہ ہو۔ ہدایت کارہ سیماب گل نے بتایا ہے کہ ۲۰۲۲ میں پاکستان کے دورے کے دوران سندھ اور بلوچستان میں ویران اسکولوں کی عمارتیں دیکھ کر انہیں یہ فلم بنانے کا خیال آیا۔ ان کا مقصد بچیوں کی تعلیم کی کہانی کو پردے پر لانا تھا۔

یہ مسئلہ پاکستان میں پرانا اور دستاویزی ہے۔ کئی اسکول برسوں سے بند پڑے ہیں، جب کہ ان کے اخراجات اور عملہ کاغذوں میں موجود رہتا ہے۔ فلم اسی خاموش حقیقت کو ایک بچی کی کہانی کے ذریعے ناظرین کے سامنے لاتی ہے، اور یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب اسکول کا دروازہ بند ہو جائے تو بچوں کا مستقبل کہاں جائے۔

سنسر بورڈ سے عدالت تک کا سفر

اگست ۲۰۲۶ میں سندھ بورڈ آف فلم سنسرز نے فلم کو نمائش کے لیے سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا اور صرف یہ لکھا کہ یہ فلم ’عوامی نمائش کے لیے موزوں نہیں‘، مگر کوئی تفصیلی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ہدایت کارہ نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، کیونکہ ان کے مطابق فلم کا موضوع صرف تعلیم ہے۔ اس کے بعد فلم سازوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت کی ہدایت پر بورڈ نے ستمبر میں دوسرا فیصلہ سنایا، جس میں آٹھ کٹوتیوں کی شرط پر فلم کو عام نمائش کی کیٹیگری دینے کی پیشکش کی گئی۔ ان کٹوتیوں میں بعض الفاظ اور فلم کے آخری حصے کے دو مناظر شامل تھے۔ ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے، جس کی سربراہی جسٹس یوسف علی سعید کر رہے تھے، ان میں سے بیشتر کٹوتیاں ختم کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ بورڈ نے مختلف اعتراضات کو ایک جیسا سمجھا اور بیشتر پر کوئی وجہ نہیں دی، جب کہ وفاقی اور پنجاب کے بورڈز نے اسی ورژن کو بغیر کٹوتی پاس کر دیا تھا۔ صرف وہ ایک کٹوتی برقرار رہی جس پر فلم سازوں نے خود اتفاق کر لیا تھا۔ عدالت نے بورڈ کو دس دن میں سرٹیفکیٹ پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی۔

دیہی اسکول کا خالی کمرہ جماعت
دیہی اسکول کا ایک کمرہ جماعت — فلم بند اسکولوں کے مسئلے کو ایک بچی کی نظر سے دکھاتی ہے

عالمی میلوں میں پذیرائی

’گھوسٹ اسکول‘ نے دنیا کے بڑے فلمی میلوں میں اپنا سفر ستمبر ۲۰۲۵ میں ٹورنٹو سے شروع کیا، جہاں اس کا عالمی پریمیئر ہوا اور اسے بہترین فلم کی کیٹیگری میں نامزدگی ملی۔ دسمبر ۲۰۲۵ میں یہ فلم ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی، جب کہ فروری ۲۰۲۶ میں برلن فلم فیسٹیول میں اسے گرینڈ پرکس کی نامزدگی ملی۔ مئی ۲۰۲۶ میں برطانیہ ایشین فلم فیسٹیول میں سیماب گل کو بہترین ہدایت کارہ کا ایوارڈ ملا، اور اپریل ۲۰۲۶ میں لاس اینجلس کے انڈین فلم فیسٹیول میں فلم کو جیوری کی خصوصی ستائش حاصل ہوئی۔

ناقدین نے خاص طور پر نزولیا ارسلان کی فطری اداکاری اور فلم کی عکاسی کی تعریف کی ہے۔ فلم کی سینماٹوگرافر زمرین وحدت ہیں، جن کی گاؤں کی منظر کشی کو تنقیدی حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ کاسٹ میں سمینہ سحر کے علاوہ عدنان شاہ ٹیپو بھی شامل ہیں۔ ہدایت کارہ نے یہ فلم خود اپنے وسائل سے بنائی اور اس کی تقسیم کا خرچ بھی خود برداشت کر رہی ہیں۔ فلم جرمنی کے سینما گھروں میں بھی دکھائی جا چکی ہے، اور پاکستان میں اس کی نمائش پنجاب اور سندھ میں متوقع ہے، جہاں سندھ میں حتمی سرٹیفکیٹ عدالت کے حکم کے مطابق بورڈ کے نئے فیصلے سے مشروط ہے۔

’گھوسٹ اسکول‘ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ تعلیم کے حق کی کہانی ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ جب ایک بچی سوال کرنا نہیں چھوڑتی، تو بند دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ ۳۰ اکتوبر کو سینما گھروں میں یہ فلم ان ناظرین کے لیے ایک اہم تجربہ ہو سکتی ہے جو پاکستانی سینما میں سنجیدہ، بامعنی اور سماجی موضوعات پر بنی کہانیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

وطن نیوز کی مزید شوبز خبریں یہاں پڑھیں۔

متعلقہ خبریں

لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاشوبز

لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیا

لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی کی ویڈیو وائرل ہو گئی؛ نارویجن موسیقار ولیم گیمبورگ نے اسے انسٹاگرام پر شیئر کیا اور رپورٹس کے مطابق دو دن میں اسے کروڑوں افراد نے دیکھا۔

مزید پڑھیں
پنجاب فلم سٹی: 15 دسمبر کو افتتاح، پنجابی فلموں پر 35 اور اردو فلموں پر 20 فیصد ریبیٹ کا اعلانشوبز

پنجاب فلم سٹی: 15 دسمبر کو افتتاح، پنجابی فلموں پر 35 اور اردو فلموں پر 20 فیصد ریبیٹ کا اعلان

پنجاب کے پہلے جدید فلم سٹی کے آغاز کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں؛ 15 دسمبر کو افتتاح ہوگا۔ پنجابی فلموں کے لیے 35 فیصد اور اردو فلموں کے لیے 20 فیصد ریبیٹ کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کے پہلے فلم رائلٹی قانون کی تیاری بھی منظور کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں
آسکر کی دوڑ میں پاکستانی مختصر فلم: دی لاسٹ گلانس نے سیئٹل میں جیوری ایوارڈ جیت لیاشوبز

آسکر کی دوڑ میں پاکستانی مختصر فلم: دی لاسٹ گلانس نے سیئٹل میں جیوری ایوارڈ جیت لیا

پاکستانی مختصر فلم دی لاسٹ گلانس نے عالمی سینما کی سب سے بڑی دوڑ میں ایک اہم قدم رکھ دیا ہے۔ ہدایت کار کامران فائق کی بارہ منٹ کی یہ فلم امریکہ کے شہر سیئٹل میں ہونے والے تصویر فلم فیسٹیول میں بہترین مختصر فلم کا جیوری ایوارڈ جیت کر 2028 کے آسکر کے لیے

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

برطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکمل
نمایاں خبر

برطانیہ میں سماجی رہائش کے 74,900 گھروں کی توانائی بہتری مکمل

برطانیہ کی حکومت کے اکتوبر 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق سماجی رہائش کے 74,900 گھرانوں میں توانائی کی بچت کے تقریباً 163,800 اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سب سے عام کام موصلیت کا تھا۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔