LIVE
اہم خبر
لیلونگوے میں 10 ملین پودوں کی نرسری کا منصوبہ، شہر کی سبز شناخت بحال ہوگیکوپن ہیگن میں استعمال شدہ ڈائپروں کی الگ ری سائیکلنگ شروعنیپال اور بھوٹان کا کاپ31 میں ہمالیائی موسمیاتی ایجنڈے کا مطالبہنومبر 2026 کی اسکرین: میتھیو پیری کی دستاویزی فلم اور نئی فلموں کی بہارنیویارک سٹی میراتھن 2026: سویڈن کے اینڈریاس المگرین اور کینیا کی شیلا چپکیروئی فاتحمصنوعی ذہانت کی چار بڑی کمپنیوں کا ایک مشترکہ تربیتی اشارے پر اتفاقبائننس نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کے بعد رقوم کی واپسی مرحلہ وار بحال کر دییورپ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج: فرانس میں تین لاکھ بیس ہزار افراد سڑکوں پر، جرمنی میں بھی مظاہرےڈنمارک بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاںخواجہ آصف: مولانا فضل الرحمان سے اختلاف پرانا ہے، مگر اس بار معاملہ آگے نکل گیا2 نومبر کی دو بریفنگز صحافیوں کو انطالیہ میں کاپ31 کی کوریج کے لیے تیار کریں گیپیٹرول کی قیمت طے کرنے کا نیا فارمولا جاری، صارفین کو ریلیف کی امیدہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میںپانچ شہروں نے پائیدار شہری ترقی کا 2026 شنگھائی ایوارڈ جیت لیاڈی جی آئی ایس پی آر کا طالبان رجیم کو انتباہ: دہشت گردوں کی حمایت بند کرو ورنہ سنگین قیمت چکانا پڑے گیشوکت یوسف زئی کا وزیراعظم کے خیبرپختونخوا پیکج پر ردعمل، بڑے پیکج کی امید ظاہر کر دیچین کے صحرائی ہوا اور شمسی مراکز ایک سو ستاون گیگا واٹ سے تجاوز کر گئےیورپی یونین کا موسمیاتی لچک منصوبہ: تین ڈگری گرمی کے لیے تیاریپاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی فور کی صدارت سنبھال لیسی ای پی ایس کا موسمیاتی قیادت پروگرام: آٹھ نوجوان موسمیاتی رہنماؤں کی تلاشلیلونگوے میں 10 ملین پودوں کی نرسری کا منصوبہ، شہر کی سبز شناخت بحال ہوگیکوپن ہیگن میں استعمال شدہ ڈائپروں کی الگ ری سائیکلنگ شروعنیپال اور بھوٹان کا کاپ31 میں ہمالیائی موسمیاتی ایجنڈے کا مطالبہنومبر 2026 کی اسکرین: میتھیو پیری کی دستاویزی فلم اور نئی فلموں کی بہارنیویارک سٹی میراتھن 2026: سویڈن کے اینڈریاس المگرین اور کینیا کی شیلا چپکیروئی فاتحمصنوعی ذہانت کی چار بڑی کمپنیوں کا ایک مشترکہ تربیتی اشارے پر اتفاقبائننس نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کے بعد رقوم کی واپسی مرحلہ وار بحال کر دییورپ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج: فرانس میں تین لاکھ بیس ہزار افراد سڑکوں پر، جرمنی میں بھی مظاہرےڈنمارک بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاںخواجہ آصف: مولانا فضل الرحمان سے اختلاف پرانا ہے، مگر اس بار معاملہ آگے نکل گیا2 نومبر کی دو بریفنگز صحافیوں کو انطالیہ میں کاپ31 کی کوریج کے لیے تیار کریں گیپیٹرول کی قیمت طے کرنے کا نیا فارمولا جاری، صارفین کو ریلیف کی امیدہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میںپانچ شہروں نے پائیدار شہری ترقی کا 2026 شنگھائی ایوارڈ جیت لیاڈی جی آئی ایس پی آر کا طالبان رجیم کو انتباہ: دہشت گردوں کی حمایت بند کرو ورنہ سنگین قیمت چکانا پڑے گیشوکت یوسف زئی کا وزیراعظم کے خیبرپختونخوا پیکج پر ردعمل، بڑے پیکج کی امید ظاہر کر دیچین کے صحرائی ہوا اور شمسی مراکز ایک سو ستاون گیگا واٹ سے تجاوز کر گئےیورپی یونین کا موسمیاتی لچک منصوبہ: تین ڈگری گرمی کے لیے تیاریپاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی فور کی صدارت سنبھال لیسی ای پی ایس کا موسمیاتی قیادت پروگرام: آٹھ نوجوان موسمیاتی رہنماؤں کی تلاش
شوبز

ہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میں

News Desk 2شائع شدہ 1 نومبر، 2026
ہینگنگ بائی اے وائر: بٹگرام کے کیبل کار حادثے کی کہانی اب آسکر کی دوڑ میں
Share this story

پاکستان کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے عالمی سینما میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے اس فلم کو ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم منتخب کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے اس کیٹیگری میں کسی دستاویزی فلم کو اپنی نمائندگی کے لیے چنا ہو، اور یہی بات اس انتخاب کو پاکستانی سینما کی تاریخ میں ایک خاص مقام دیتی ہے۔

اس انتخاب کا اعلان کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے کینیڈا میں منعقدہ موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول کے دوران کیا، جہاں فلم کی نمائش بھی ہوئی۔ اسی میلے میں فلم کو جرأت مندانہ سینما کے لیے صبین محمود ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جو اس کہانی کی انسانی گہرائی اور فنی معیار دونوں کی گواہی ہے۔

اہم نکات

  • ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم ہے۔
  • یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان نے اس کیٹیگری میں کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے۔
  • فلم کی ہدایت کاری اور تحریر محمد علی نقوی نے کی ہے، جبکہ بلال سمیع اس کی تحریر اور پروڈکشن میں شریک ہیں۔
  • فلم اگست ۲۰۲۳ میں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار حادثے کی کہانی بیان کرتی ہے، جس میں آٹھ افراد گہری کھائی کے اوپر پھنس گئے تھے۔
  • فلم کا عالمی پریمیئر ۲۰۲۶ کے سنڈانس فلم فیسٹیول میں ہوا، اور ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ سے یہ پیراماؤنٹ پلس پر بھی پیش کی جا رہی ہے۔
  • پاکستان میں فلم کی نمائش کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔

وہ دن جب پوری دنیا کی نظریں بٹگرام پر تھیں

۲۲ اگست ۲۰۲۳ کی صبح خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے بٹگرام میں ایک مقامی کیبل کار، جسے علاقے میں ڈولی کہا جاتا ہے، اسکول جانے والے بچوں اور دیگر مسافروں کو لے کر وادی عبور کر رہی تھی کہ اچانک اس کی ایک تار ٹوٹ گئی۔ کار گہری کھائی کے اوپر ہوا میں معلق رہ گئی، جس میں چھ اسکول کے بچوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک معمول کا اسکول کا سفر اچانک زندگی اور موت کی کشمکش میں بدل گیا۔

گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد، جس میں مقامی رضاکاروں اور پاک فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا، رات گئے تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس ریسکیو آپریشن کی خبریں اور ویڈیوز اسی دن پوری دنیا میں پھیل گئی تھیں، اور لاکھوں لوگوں نے سانس روک کر اس کی خبر لی تھی۔ ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ اسی دن کی کہانی کو پردے پر لاتی ہے — نہ صرف حادثے کو، بلکہ ان خاندانوں، بچوں اور امدادی کارکنوں کے جذبات کو بھی، جنہوں نے وہ گھنٹے ہوا میں معلق گزارے یا زمین پر بے چینی سے انتظار کیا۔

سنیما ہال میں دستاویزی فلم کی نمائش دیکھتے ناظرین
سنیما ہال میں دستاویزی فلم کی نمائش — ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے عالمی میلوں میں ناظرین کی توجہ حاصل کی ہے۔

فلم کیسے بنی

ہدایت کار محمد علی نقوی نے اس فلم میں اسی دن موقع پر موجود لوگوں کی بنائی ہوئی ویڈیوز، زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اور سنیما کے انداز میں دوبارہ عکس بندی کو یکجا کیا ہے۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ دوبارہ عکس بندی میں وہی امدادی کارکن بھی شامل ہیں جنہوں نے اصل ریسکیو میں حصہ لیا تھا، جس سے کہانی کی سچائی اور جذباتیت مزید گہری ہو جاتی ہے۔ فلم پاکستان، امریکا اور برطانیہ کی مشترکہ پروڈکشن ہے۔

فلم کا عالمی پریمیئر ۲۰۲۶ کے سنڈانس فلم فیسٹیول میں ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے کے دوران ہوا، جس کے بعد اسے ٹرائی بیکا، سڈنی اور سیئٹل سمیت کئی عالمی میلوں میں پیش کیا گیا۔ برطانیہ میں اس کی سینما نمائش کی ذمہ داری ڈاگ ووف نے سنبھالی، جبکہ امریکا میں ابراموراما نے اسے پیش کیا۔ ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ سے یہ فلم پیراماؤنٹ پلس پر بھی دستیاب ہے، جس سے عالمی ناظرین کی ایک بڑی تعداد تک اس کی رسائی ممکن ہوئی ہے۔

پہاڑی علاقے میں امدادی کارکن رسیوں اور سامان کے ساتھ تیاری کرتے ہوئے
پہاڑی علاقے میں امدادی تیاری کا منظر — بٹگرام ریسکیو میں مقامی رضاکاروں اور امدادی ٹیموں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کے آسکر سفر میں ایک نیا باب

پاکستان نے اس کیٹیگری میں پہلی مرتبہ ۱۹۵۹ میں فلم جمع کرائی تھی، اور اب تک بھیجی گئی فلموں میں سے کوئی بھی آسکر نامزدگی حاصل نہیں کر سکی۔ سب سے قریب کامیابی ۲۰۲۲ میں ملی، جب صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ شارٹ لسٹ تک پہنچی۔ اس تناظر میں ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کا انتخاب ایک نیا باب ہے، کیونکہ یہ پہلی دستاویزی فلم ہے جو اس کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے اس سے پہلے مختصر دستاویزی فلم کی کیٹیگری میں دو مرتبہ آسکر جیت چکی ہیں، مگر وہ ایک مختلف کیٹیگری تھی۔ ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کی اہمیت یہ ہے کہ ایک سچی پاکستانی کہانی، جو ایک دور دراز پہاڑی گاؤں سے شروع ہوئی تھی، اب دنیا کے سب سے بڑے فلمی اعزاز کی دوڑ میں ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اکیڈمی کی شارٹ لسٹ کا اعلان دسمبر میں متوقع ہے، اور پاکستانی سینما کے مداح اس لمحے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

’ہینگنگ بائی اے وائر‘ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی سب سے طاقتور کہانیاں اس کی اپنی زمین، اس کے لوگوں اور ان کی ہمت سے جنم لیتی ہیں۔ بٹگرام کے بچوں کی کہانی اب دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچ رہی ہے — اور یہی پاکستانی سینما کی اصل کامیابی ہے۔

مزید اردو خبریں اور فلموں کی تازہ معلومات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

درِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکششوبز

درِ نجات اب عربی زبان میں: ۶ دسمبر کو مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین کے لیے پیشکش

پاکستانی ڈراما ’درِ نجات‘ ۶ دسمبر ۲۰۲۶ سے ایم بی سی بالی وڈ پر عربی زبان میں نشر ہوگا۔ عمیرہ احمد کی تحریر اور ثاقب خان کی ہدایت کاری میں بننے والا یہ ڈراما اب مشرقِ وسطیٰ کے ناظرین تک پہنچے گا۔

مزید پڑھیں
فاران طاہر کی مارول میں واپسی: ۱۸ سال بعد رضا کا کردار پھر پردے پرشوبز

فاران طاہر کی مارول میں واپسی: ۱۸ سال بعد رضا کا کردار پھر پردے پر

پاکستانی نژاد امریکی اداکار فاران طاہر نے ۱۸ سال بعد مارول کی دنیا میں واپسی کی ہے — ’ویژن کویسٹ‘ کی چھٹی قسط میں وہ ایک بار پھر رضا کے کردار میں نظر آئے ہیں، جس نے ۲۰۰۸ کی فلم ’آئرن مین‘ کی کہانی کی بنیاد رکھی تھی۔

مزید پڑھیں
لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاشوبز

لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیا

لاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی کی ویڈیو وائرل ہو گئی؛ نارویجن موسیقار ولیم گیمبورگ نے اسے انسٹاگرام پر شیئر کیا اور رپورٹس کے مطابق دو دن میں اسے کروڑوں افراد نے دیکھا۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

لیلونگوے میں 10 ملین پودوں کی نرسری کا منصوبہ، شہر کی سبز شناخت بحال ہوگی
نمایاں خبر

لیلونگوے میں 10 ملین پودوں کی نرسری کا منصوبہ، شہر کی سبز شناخت بحال ہوگی

لیلونگوے سٹی کونسل نے 2026 سے 2028 کے درمیان 10 ملین پودے تیار کرنے والی جدید نرسری کا منصوبہ بنایا ہے — چار ملین شہر کے لیے اور چھ ملین ضلع کے لیے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔