ڈھاکہ میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل دو نے جمعرات 29 اکتوبر کو عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محبوب العالم حنیف کو سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ کوشٹیا میں جولائی 2024 کی تحریک کے دوران چھ افراد کی ہلاکت سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سنایا گیا ہے۔
ٹریبونل نے اسی مقدمے میں تین دیگر ملزمان کو موت تک قید کی سزا سنائی ہے۔ چاروں ملزمان مفرور ہیں اور ان کا مقدمہ ان کی غیر حاضری میں چلایا گیا۔
اہم نکات
- فیصلہ 29 اکتوبر 2026 کو ڈھاکہ میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل دو نے سنایا۔
- محبوب العالم حنیف کو پہلے الزام پر سزائے موت اور دوسرے و تیسرے الزام پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
- صدر الدین خان، اصغر علی اور عطا الرحمن کو پہلے الزام پر موت تک قید اور دیگر الزامات پر عمر قید سنائی گئی۔
- چاروں ملزمان مفرور ہیں اور مقدمہ ان کی غیر حاضری میں چلا۔
- چاروں ملزمان کی نصف غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- ضبط شدہ جائیداد کی فروخت سے حاصل رقم جولائی 2024 کی تحریک میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کو جولائی فاؤنڈیشن کے ذریعے دی جائے گی۔
- تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس نذرالاسلام چوہدری نے کی۔
فیصلہ کیا سنایا گیا
ٹریبونل نے حنیف کو پہلے الزام کے تحت سزائے موت سنائی، جب کہ دوسرے اور تیسرے الزام پر انہیں عمر قید کی سزا دی گئی۔ دیگر تین ملزمان صدر الدین خان، اصغر علی اور عطا الرحمن کو پہلے الزام پر موت تک قید کی سزا سنائی گئی، اور انہیں بھی دیگر الزامات پر عمر قید کی سزائیں دی گئیں۔
ٹریبونل نے چوتھے اور پانچویں الزام پر بھی چاروں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ٹریبونل نے حکم دیا کہ ہر ملزم کی نصف غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جولائی 2024 کی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں اور زخمیوں کو جولائی فاؤنڈیشن یا کسی دیگر قانونی ادارے کے ذریعے بطور معاوضہ دی جائے۔
صدر الدین خان کوشٹیا ضلع عوامی لیگ کے صدر اور سابق ضلع کونسل چیئرمین ہیں، اصغر علی کوشٹیا ضلع عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری ہیں، اور عطا الرحمن کوشٹیا میونسپل عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

مقدمہ کس بارے میں تھا
یہ مقدمہ جولائی 2024 کی تحریک کے دوران کوشٹیا میں چھ افراد کی ہلاکت سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس معاملے کی تفتیش گزشتہ برس 25 مارچ کو شروع ہوئی تھی اور تفتیشی ادارے نے اپنی رپورٹ 11 ستمبر کو چیف پراسیکیوٹر کے دفتر میں جمع کرائی تھی۔
استغاثہ نے 6 اکتوبر 2025 کو ٹریبونل میں باقاعدہ چارج شیٹ داخل کی تھی، جس کے بعد ٹریبونل نے ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ٹریبونل نے 2 نومبر 2025 کو چاروں ملزمان کے خلاف تین الزامات عائد کیے تھے۔ ملزمان گرفتار نہ ہو سکے، اس لیے مقدمہ ان کی غیر حاضری میں چلایا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان پر کوشٹیا شہر میں چھ افراد کی ہلاکت کا الزام تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہوں نے شہادتیں دیں، جس کے بعد ٹریبونل نے فیصلہ سنایا۔
ردعمل اور آگے کیا ہوگا
بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے بروقت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کے اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔
چاروں ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ پہلے ہی جاری ہو چکے تھے، اور سزاؤں پر عمل درآمد ان کی گرفتاری سے جڑا ہوا ہے۔
یہ فیصلہ بنگلہ دیش میں جولائی 2024 کی تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق مقدمات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔































