لاہور فضائی آلودگی کی شدت برقرار ہے اور شہر مسلسل چوتھے روز بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست رہا ہے۔ عالمی ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ کے مطابق جمعرات کی صبح شہر کا مجموعی فضائی معیار کا اشاریہ 294 تک پہنچ گیا، جو صحت کے لیے نہایت مضر درجے میں آتا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں فضا اس سے بھی زیادہ بوجھل ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات کا سامنا ہے۔
اہم نکات
- لاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست رہا۔
- شہر کا مجموعی فضائی معیار کا اشاریہ 294 تک پہنچ گیا۔
- کاہنہ نو میں اشاریہ 352 اور اقبال ٹاؤن میں 342 ریکارڈ ہوا۔
- محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں اشاریہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
- موسم مسلسل خشک رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
- 201 سے 300 کے درمیان اشاریہ صحت کے لیے نہایت مضر سمجھا جاتا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں صورتحال
شہر کے مجموعی اشاریے کے مقابلے میں بعض علاقوں میں آلودگی کی سطح کہیں زیادہ رہی۔ کاہنہ نو میں اشاریہ 352 اور اقبال ٹاؤن میں 342 ریکارڈ کیا گیا، جو خطرناک درجے کے قریب ہے۔ فضائی نگرانی کے اعداد کے مطابق جمعرات کی صبح لاہور کے بعد دہلی کا اشاریہ 235 اور جکارتہ کا 174 تھا، یعنی لاہور اس فہرست میں واضح فرق کے ساتھ سب سے آگے رہا۔
دن کے مختلف اوقات میں اشاریے میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے، کیونکہ ہوا کی رفتار، درجہ حرارت اور ٹریفک کا دباؤ فضا پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ تاہم مجموعی صورتحال یہی رہی کہ شہر کی فضا پورا دن صحت کے لیے مضر درجے میں رہی۔

لاہور فضائی آلودگی اور آئندہ دنوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آئندہ آنے والے دنوں میں فضائی معیار کا اشاریہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ موسم مسلسل خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور بارش کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا گیا، جس کے باعث فضا میں موجود باریک ذرات کے بیٹھنے یا چھٹنے کی امید کم ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں کی آمد کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جب گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانے کا دھواں مل کر شہر کی فضا کو بوجھل کر دیتا ہے۔ خشک موسم میں یہ ذرات زیادہ دیر فضا میں معلق رہتے ہیں۔
صحت کے لیے احتیاطی تدابیر
ماہرین صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں جب آلودگی زیادہ ہوتی ہے۔ باہر نکلتے وقت مناسب ماسک کا استعمال کیا جائے اور بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے مریضوں کا خاص خیال رکھا جائے، کیونکہ یہ گروہ آلودہ فضا سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گھروں میں کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنے اور ہوا صاف رکھنے کی تدابیر بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر سانس لینے میں دشواری، کھانسی یا آنکھوں میں جلن بڑھ جائے تو فوری طور پر طبی مشورہ لینا چاہیے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وتن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































