LIVE
اہم خبر
ایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریکامریکہ میں نئے مکانات کی فروخت میں کمی، قیمتیں بھی ایک سال میں کم ہو گئیںاینتھروپک کے 63 ارب ڈالر کے چپ معاہدے نے ذہین کمپیوٹنگ کی دوڑ کو نئی رفتار دے دیزہریلی زمین کی تحقیق برٹش جرنلزم ایوارڈز 2026 کی حتمی فہرست میں شاملمیر رضا قتل کیس میں نئی پیش رفت: سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاکیو ٹی ایس کا 14 ملین ڈالر کا اعلان: فیئٹ کاؤنٹی کے 800 سے زیادہ گھر زیادہ توانائی بچانے والے بنیں گےحکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور، قانون سازی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاقلاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاچین کی ہوا اور شمسی توانائی کی صلاحیت 2 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر گئیاسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، نئے میثاق جمہوریت پر اتفاقپاکستان کی فضائی حدود تائیوانی ایئرلائنز کے لیے بند، یورپی پروازوں کے راستے تبدیلیورپی یونین کا موسمیاتی لچک فریم ورک: گرمی، سیلاب اور خشک سالی سے یورپ کی تیاریایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایاڈھاکہ ٹریول فیئر میں پائیدار سیاحت مرکز توجہ، بی ٹی ٹی ایف 2026 کا آغازسماٹرا کے بکیت تیگاپولو میں ہاتھیوں کے لیے چارہ گاہ لگائی گئیڈینون نے بھی پلاسٹک بوتلوں پر ری سائیکلنگ کے دعووں کی اصلاح پر اتفاق کر لیاکاپ31 میں اسکاٹ لینڈ کا منصفانہ موسمیاتی مالیات اور نقصان کے فنڈ کا مطالبہامریکی بازاروں میں چپ کمپنیوں کی قیادت میں تیزی، فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر نظریںدنیا کے بہترین سیاحتی مقامات: یورپ سے امریکہ، ایشیا سے جزیروں اور خلیج تک ایک مکمل سفرنامہدواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم امریکہ میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بن رہے ہیںویلنشیا میں بحیرہ روم کے کھانوں کا بڑا میلہ، 252 نمائش کنندگان اور 200 سے زیادہ ماہرین شریکامریکہ میں نئے مکانات کی فروخت میں کمی، قیمتیں بھی ایک سال میں کم ہو گئیںاینتھروپک کے 63 ارب ڈالر کے چپ معاہدے نے ذہین کمپیوٹنگ کی دوڑ کو نئی رفتار دے دیزہریلی زمین کی تحقیق برٹش جرنلزم ایوارڈز 2026 کی حتمی فہرست میں شاملمیر رضا قتل کیس میں نئی پیش رفت: سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاکیو ٹی ایس کا 14 ملین ڈالر کا اعلان: فیئٹ کاؤنٹی کے 800 سے زیادہ گھر زیادہ توانائی بچانے والے بنیں گےحکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور، قانون سازی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاقلاہور کی سرتال اکیڈمی کے بچوں کی گائیکی نے نارویجن موسیقار کو بھی جھومنے پر مجبور کر دیاچین کی ہوا اور شمسی توانائی کی صلاحیت 2 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر گئیاسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، نئے میثاق جمہوریت پر اتفاقپاکستان کی فضائی حدود تائیوانی ایئرلائنز کے لیے بند، یورپی پروازوں کے راستے تبدیلیورپی یونین کا موسمیاتی لچک فریم ورک: گرمی، سیلاب اور خشک سالی سے یورپ کی تیاری
کالم

فضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)

News Desk 6شائع شدہ 2 اکتوبر، 2026
فضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)
Share this story

یہ ایک تجزیاتی کالم ہے؛ اس میں پیش کردہ آراء مصنف کی ہیں، جبکہ تمام حقائق مستند ذرائع سے لیے گئے ہیں۔

اسلام آباد: بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب (30 ستمبر) پاکستان کے جنگی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے کیے۔ اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی تصدیق کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک ہوئے — جن میں زیادہ تر بچے تھے — اور 9 زخمی ہوئے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ یہ “منصوبہ بند” حملے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 عسکریت پسند ہلاک ہوئے — ایک ایسا دعویٰ جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دو بیانیے، دو متضاد سچائیاں، اور درمیان میں شہری لاشیں۔ یہی پاکستان-افغانستان کشیدگی کی تلخ حقیقت ہے۔

FAKTA

  • حملے کی رات: یکم اکتوبر 2026؛ اہداف: کنڑ (مشرقی) اور ہلمند (جنوبی) افغانستان
  • اقوام متحدہ (UNAMA): کم از کم 10 شہری ہلاک (زیادہ تر بچے)، 9 زخمی
  • طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد: 3 شہری گھر تباہ، 9 ہلاک اور 11 زخمی
  • پاکستان کا دعویٰ: عسکریت پسندوں کے ٹھکانے نشانہ؛ 22 عسکریت پسند ہلاک (غیر تصدیق شدہ)
  • 2026 میں اب تک سرحد پار تشدد سے 1,100 سے زائد شہری ہلاک و زخمی (UNAMA)

دو متضاد بیانیے

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا کہ حملے دو مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کابل میں طالبان انتظامیہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے — ایک الزام جسے کابل مسترد کرتا ہے اور پاکستان کے اندرونی عدم تحفظ کو اسلام آباد کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔

دوسری طرف افغانستان کی طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ حملے رہائشی علاقوں پر ہوئے: کنڑ کے ضلع شلتن کے علاقے چوگام اور ہلمند کے ضلع گرمسیر کے علاقے سفر میں تین گھر تباہ ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے شہری ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے مزید نقصان کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

نکتہ پاکستان کا دعویٰ کابل / اقوام متحدہ کا موقف
ہدف عسکریت پسندوں کے ٹھکانے شہری گھر اور رہائشی علاقے
ہلاکتیں 22 عسکریت پسند (آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی) کم از کم 10 شہری، زیادہ تر بچے (اقوام متحدہ کی تصدیق)
نقصان ہتھیار و گولہ بارود تباہ (پاکستانی دعویٰ) 3 گھر تباہ، 9 زخمی

شہریوں کی قیمت

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق 21 ستمبر کو کنڑ میں ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 3 شہری ہلاک اور 4 زخمی ہوئے تھے۔ رواں برس 2026 میں سرحد پار مسلح تشدد سے افغانستان کے اندر 1,100 سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سمیت کئی عالمی شخصیات نے تازہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: اگر ہر حملے کے بعد شہری ہلاکتوں پر عالمی مذمت ہوتی ہے اور عسکریت پسندی کا خطرہ جوں کا توں رہتا ہے، تو یہ حکمت عملی کس کے لیے کام کر رہی ہے؟ رپورٹس کے مطابق ایک برس سے بھی کم عرصے میں پاکستان افغانستان کی سرزمین پر کم از کم 15 فضائی حملے کر چکا ہے — مگر طالبان انتظامیہ نہ جھکی ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

پاکستان افغانستان کشیدگی: افغانستان کے پہاڑی علاقے
افغانستان کے پہاڑی علاقے: سرحد پار تشدد کا بوجھ سب سے زیادہ عام شہری اٹھا رہے ہیں۔

ڈیٹرنس اور تحمل کے درمیان کابل کا امتحان

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کابل خاموش تماشائی ہے۔ افغان حکام نے پاکستانی حملوں کی کھل کر مذمت کی ہے، سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستانی فورسز سے مقابلہ کیا ہے، اور کشیدگی روکنے کی سفارتی کوششوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کابل نے جواب دیا یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کیا کابل کا موجودہ ردعمل بار بار کے پاکستانی حملے روک سکتا ہے، اور ساتھ ہی اپنے عوام کی یہ توقع بھی پوری کر سکتا ہے کہ ان کی سرزمین اور شہریوں کا تحفظ ہوگا؟

یہ ایک مشکل توازن ہے: عوامی مذمت سیاسی مخالفت تو ظاہر کرتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ روک (ڈیٹرنس) پیدا کرے؛ اور عسکری جوابی کارروائی جواب دینے کی صلاحیت تو دکھاتی ہے مگر اس سے مزید کشیدگی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان افغانستان کشیدگی: طورخم سرحدی گزرگاہ
طورخم سرحدی گزرگاہ: بند سرحد اور کشیدہ تعلقات دونوں طرف تجارت اور عام لوگوں کی زندگی متاثر کر رہے ہیں۔

راستہ کہاں سے نکلے گا؟

رپورٹس کے مطابق پاک-افغان سرحد اکتوبر 2025 سے بند ہے — جس سے قیمتوں میں اضافہ، طبی سفر میں رکاوٹیں اور دونوں طرف معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ سفارتی تعلقات نچلی سطح پر ہیں اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی عوامی فریم ورک موجود نہیں۔ ایسے میں فضائی حملے ایک “حل” کے بجائے ایک چکر بنتے جا رہے ہیں: حملہ، مذمت، جوابی الزام، اور پھر اگلا حملہ۔

اقوام متحدہ کا مطالبہ واضح ہے: کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کا احترام۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا مسئلہ بمباری سے حل نہیں ہوا — یہ سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا۔ جب تک دونوں دارالحکومت ایک میز پر بیٹھ کر دہشت گردی، سرحدی انتظام اور تجارت پر ایک قابل عمل معاہدہ نہیں کرتے، کنڑ اور ہلمند کے گھروں میں مزید بچے اس چکر کی قیمت چکاتے رہیں گے۔

نتیجہ

یکم اکتوبر کے حملے ایک پالیسی کی ناکامی کی تازہ مثال ہیں — ایسی پالیسی جو عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور شہریوں کی لاشوں پر ختم ہوتی ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی کے خدشات کا پورا حق ہے، مگر جس حکمت عملی سے خطرہ کم ہونے کے بجائے دشمنی بڑھ رہی ہو، اس پر نظرثانی دانشمندی ہوگی، کمزوری نہیں۔ اور کابل کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سرزمین کے تحفظ کا دعویٰ صرف مذمت سے نہیں، اپنے ہمسائے کے جائز خدشات دور کر کے پورا ہوتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

ٹی ٹوئنٹی قیادت میں تبدیلی: صاحبزادہ فرحان نئے کپتان، سلمان علی آغا اسکواڈ سے باہربلاگ

ٹی ٹوئنٹی قیادت میں تبدیلی: صاحبزادہ فرحان نئے کپتان، سلمان علی آغا اسکواڈ سے باہر

پاکستان کرکٹ میں ایک اور کپتان بدل گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ اکتوبر کو سلمان علی آغا سے ٹی ٹوئنٹی قیادت واپس لے کر صاحبزادہ فرحان کو ٹیم کی کمان سونپ دی۔ یہ فیصلہ صرف ایک کھلاڑی کی قسمت نہیں بدلتا، بلکہ یہ پرانا سوال پھر تازہ کر دیتا ہے: کیا پاکستان کرکٹ کا قیادتی بحران واقعی فارم کے نام پر حل

مزید پڑھیں
معیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟بلاگ

معیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟

سرکاری تقاریر میں معیشت کی بحالی کے قصے سنائیے جا رہے ہیں، شرح نمو بڑھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور عالمی ادارے استحکام کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ مگر بازار میں کھڑا عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ یہ بحالی میرے گھر کے باورچی خانے تک کب پہنچے گی۔ اعداد و شمار کی یہ کہانی دلچسپ ہے، کیونکہ یہیں سے بحث شروع ہوت

مزید پڑھیں
مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ کو سزائے موت: کیا ہے پورا معاملہ؟بلاگ

مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ کو سزائے موت: کیا ہے پورا معاملہ؟

مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ مصر کے ایک عدالتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔ سارہ خلیفہ: کون ہیں یہ مصری ٹی وی اینکر؟ 39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایا
نمایاں خبر

ایشیا کے مقامی نوجوانوں نے کاپ31 سے پہلے ہوگو اعلامیہ اپنایا

ایشیا بھر سے 100 سے زیادہ مقامی نوجوانوں نے کوٹا کنابالو میں ہوگو اعلامیہ اپنایا، جس میں الگ حقوق کے حامل لوگوں کے طور پر تسلیم اور نوجوانوں کی قیادت والے کام کے لیے براہ راست کئی برس کی مالی مدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔