یہ ایک تجزیاتی کالم ہے؛ اس میں پیش کردہ آراء مصنف کی ہیں، جبکہ تمام حقائق مستند ذرائع سے لیے گئے ہیں۔
اسلام آباد: یکم اکتوبر 2026 کی رات پاکستان کے جنگی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے کیے۔ اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی تصدیق کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک ہوئے — جن میں زیادہ تر بچے تھے — اور 9 زخمی ہوئے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ یہ “منصوبہ بند” حملے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 عسکریت پسند ہلاک ہوئے — ایک ایسا دعویٰ جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دو بیانیے، دو متضاد سچائیاں، اور درمیان میں شہری لاشیں۔ یہی پاکستان-افغانستان کشیدگی کی تلخ حقیقت ہے۔
FAKTA
- حملے کی رات: یکم اکتوبر 2026؛ اہداف: کنڑ (مشرقی) اور ہلمند (جنوبی) افغانستان
- اقوام متحدہ (UNAMA): کم از کم 10 شہری ہلاک (زیادہ تر بچے)، 9 زخمی
- طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد: 3 شہری گھر تباہ، 9 ہلاک اور 11 زخمی
- پاکستان کا دعویٰ: عسکریت پسندوں کے ٹھکانے نشانہ؛ 22 عسکریت پسند ہلاک (غیر تصدیق شدہ)
- 2026 میں اب تک سرحد پار تشدد سے 1,100 سے زائد شہری ہلاک و زخمی (UNAMA)
دو متضاد بیانیے
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا کہ حملے دو مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کابل میں طالبان انتظامیہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروہوں کو اپنی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے — ایک الزام جسے کابل مسترد کرتا ہے اور پاکستان کے اندرونی عدم تحفظ کو اسلام آباد کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔
دوسری طرف افغانستان کی طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ حملے رہائشی علاقوں پر ہوئے: کنڑ کے ضلع شلتن کے علاقے چوگام اور ہلمند کے ضلع گرمسیر کے علاقے سفر میں تین گھر تباہ ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے شہری ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے مزید نقصان کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔
| نکتہ | پاکستان کا دعویٰ | کابل / اقوام متحدہ کا موقف |
|---|---|---|
| ہدف | عسکریت پسندوں کے ٹھکانے | شہری گھر اور رہائشی علاقے |
| ہلاکتیں | 22 عسکریت پسند (آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی) | کم از کم 10 شہری، زیادہ تر بچے (اقوام متحدہ کی تصدیق) |
| نقصان | ہتھیار و گولہ بارود تباہ (پاکستانی دعویٰ) | 3 گھر تباہ، 9 زخمی |
شہریوں کی قیمت
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق 21 ستمبر کو کنڑ میں ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 3 شہری ہلاک اور 4 زخمی ہوئے تھے۔ رواں برس 2026 میں سرحد پار مسلح تشدد سے افغانستان کے اندر 1,100 سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سمیت کئی عالمی شخصیات نے تازہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: اگر ہر حملے کے بعد شہری ہلاکتوں پر عالمی مذمت ہوتی ہے اور عسکریت پسندی کا خطرہ جوں کا توں رہتا ہے، تو یہ حکمت عملی کس کے لیے کام کر رہی ہے؟ رپورٹس کے مطابق ایک برس سے بھی کم عرصے میں پاکستان افغانستان کی سرزمین پر کم از کم 15 فضائی حملے کر چکا ہے — مگر طالبان انتظامیہ نہ جھکی ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

ڈیٹرنس اور تحمل کے درمیان کابل کا امتحان
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کابل خاموش تماشائی ہے۔ افغان حکام نے پاکستانی حملوں کی کھل کر مذمت کی ہے، سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستانی فورسز سے مقابلہ کیا ہے، اور کشیدگی روکنے کی سفارتی کوششوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کابل نے جواب دیا یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کیا کابل کا موجودہ ردعمل بار بار کے پاکستانی حملے روک سکتا ہے، اور ساتھ ہی اپنے عوام کی یہ توقع بھی پوری کر سکتا ہے کہ ان کی سرزمین اور شہریوں کا تحفظ ہوگا؟
یہ ایک مشکل توازن ہے: عوامی مذمت سیاسی مخالفت تو ظاہر کرتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ روک (ڈیٹرنس) پیدا کرے؛ اور عسکری جوابی کارروائی جواب دینے کی صلاحیت تو دکھاتی ہے مگر اس سے مزید کشیدگی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

راستہ کہاں سے نکلے گا؟
رپورٹس کے مطابق پاک-افغان سرحد اکتوبر 2025 سے بند ہے — جس سے قیمتوں میں اضافہ، طبی سفر میں رکاوٹیں اور دونوں طرف معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ سفارتی تعلقات نچلی سطح پر ہیں اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی عوامی فریم ورک موجود نہیں۔ ایسے میں فضائی حملے ایک “حل” کے بجائے ایک چکر بنتے جا رہے ہیں: حملہ، مذمت، جوابی الزام، اور پھر اگلا حملہ۔
اقوام متحدہ کا مطالبہ واضح ہے: کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کا احترام۔ تاریخ گواہ ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا مسئلہ بمباری سے حل نہیں ہوا — یہ سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا۔ جب تک دونوں دارالحکومت ایک میز پر بیٹھ کر دہشت گردی، سرحدی انتظام اور تجارت پر ایک قابل عمل معاہدہ نہیں کرتے، کنڑ اور ہلمند کے گھروں میں مزید بچے اس چکر کی قیمت چکاتے رہیں گے۔
نتیجہ
یکم اکتوبر کے حملے ایک پالیسی کی ناکامی کی تازہ مثال ہیں — ایسی پالیسی جو عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور شہریوں کی لاشوں پر ختم ہوتی ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی کے خدشات کا پورا حق ہے، مگر جس حکمت عملی سے خطرہ کم ہونے کے بجائے دشمنی بڑھ رہی ہو، اس پر نظرثانی دانشمندی ہوگی، کمزوری نہیں۔ اور کابل کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سرزمین کے تحفظ کا دعویٰ صرف مذمت سے نہیں، اپنے ہمسائے کے جائز خدشات دور کر کے پورا ہوتا ہے۔





















