LIVE
اہم خبر
ایونپول نے یورپی روڈ سائیکلنگ کا تاج جیت لیابرطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلانپاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقاتتصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہرٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہوومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانیڈنمارک ہوم گارڈ کی بڑی مشق بلوٹانڈ مکملمعیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہکیون سلیوان: کم عمر ترین بین الاقوامی گول سکورر بن گئےفرانس: طلبہ کے احتجاج کے باعث 500 اسکول بند، تعلیم معطلپاکستان میں سولر پاور کی مقبولیت میں اضافہ: نیا رجحانکییف پر روسی حملوں کے دوران فریڈرک مرز کا یوکرین کا دورہاسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستانی اسکواش ہیروز کا شاندار استقبالکوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزازآئرلینڈ: بوائلر اسکریپیج کے لیے 2 ہزار یورو کی گرانٹ کا اعلان — 6 اکتوبر سے گھریلو توانائی سہولتوں میں اضافہانگلینڈ میں جنگل کی آگ سے نمٹنے کا حکومتی منصوبہ خفیہ طور پر ختممشی گن میں 100 میگاواٹ کا کولڈ کریک سولر پارک مکمل: فورڈ کے کارخانوں کو صاف بجلیایونپول نے یورپی روڈ سائیکلنگ کا تاج جیت لیابرطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلانپاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقاتتصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہرٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہوومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانیڈنمارک ہوم گارڈ کی بڑی مشق بلوٹانڈ مکملمعیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہکیون سلیوان: کم عمر ترین بین الاقوامی گول سکورر بن گئےفرانس: طلبہ کے احتجاج کے باعث 500 اسکول بند، تعلیم معطلپاکستان میں سولر پاور کی مقبولیت میں اضافہ: نیا رجحانکییف پر روسی حملوں کے دوران فریڈرک مرز کا یوکرین کا دورہاسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستانی اسکواش ہیروز کا شاندار استقبالکوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزازآئرلینڈ: بوائلر اسکریپیج کے لیے 2 ہزار یورو کی گرانٹ کا اعلان — 6 اکتوبر سے گھریلو توانائی سہولتوں میں اضافہانگلینڈ میں جنگل کی آگ سے نمٹنے کا حکومتی منصوبہ خفیہ طور پر ختممشی گن میں 100 میگاواٹ کا کولڈ کریک سولر پارک مکمل: فورڈ کے کارخانوں کو صاف بجلی
کالم

معیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟

Usman javed
معیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟
Share this story

سرکاری تقاریر میں معیشت کی بحالی کے قصے سنائیے جا رہے ہیں، شرح نمو بڑھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور عالمی ادارے استحکام کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ مگر بازار میں کھڑا عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ یہ بحالی میرے گھر کے باورچی خانے تک کب پہنچے گی۔ اعداد و شمار کی یہ کہانی دلچسپ ہے، کیونکہ یہیں سے بحث شروع ہوتی ہے کہ اصل پیمانہ کیا ہے: شرح نمو کا ہندسہ، یا غریب کی جیب میں بڑھتی ہوئی قوت خرید؟

اہم نکات

  • پاکستان میں اوسط ماہانہ اجرت چار سال میں 24,028 روپے سے بڑھ کر 39,042 روپے ہوئی، یعنی برائے نام 62 فیصد اضافہ
  • اسی عرصے میں خوراک، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں نے تنخواہ میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا
  • اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 63 فیصد پاکستانی صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے
  • عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 25.3 فیصد تک پہنچ گئی اور تقریباً 13 ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے
  • ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شرح نمو کا بڑھنا خوشحالی کی ضمانت نہیں، اصل امتحان عام آدمی کی حقیقی آمدنی ہے

اعداد و شمار کی زبان میں معاشی بحالی

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو 3.70 فیصد رہی اور فی کس آمدنی 2025 کے 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 1,901 ڈالر بتائی گئی ہے۔ عالمی بینک بھی پاکستانی معیشت میں استحکام، مہنگائی میں کمی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بظاہر خوش آئند ہیں، اور حکومت کی جانب سے انہیں معاشی بحالی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ رپورٹ بھی ایک طرف ہے، جس نے مالی سال 2026-27 کے لیے شرح نمو کی پیشگوئی 4.1 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد کر دی ہے، جبکہ مہنگائی کا تخمینہ 7 فیصد سے بڑھا کر 8.4 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ معیشت کا راستہ ابھی بھی دشوار گزار ہے۔

عام آدمی کی جیب کا سچ

اس کے برعکس زمینی حقیقت کچھ اور بیان کرتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق 2021 میں اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 24,028 روپے تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 39,042 روپے ہوگئی۔ بظاہر یہ 62 فیصد کا اضافہ لگتا ہے، مگر اسی عرصے میں خوراک، بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں نے اس اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ 2024-25 میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 82,179 روپے تھی، جبکہ اسی گھرانے کا اوسط ماہانہ خرچ 79,150 روپے تک پہنچ چکا تھا۔ یعنی اوسط آمدنی اور اوسط اخراجات کے درمیان فرق محض تقریباً 3,000 روپے رہ گیا۔ ایسے گھر میں بچت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قرض کا سہارا لینا مجبوری بن جاتا ہے۔

بازار میں سبزیاں خریدتے پاکستانی شہری، پاکستان معیشت تجزیہ
مہنگائی کی وجہ سے عام شہری کا گھریلو بجٹ شدید دباؤ میں ہے اور متوازن خوراک بھی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

خوراک کی سلامتی: سب سے بڑا سوالیہ نشان

اقوام متحدہ کی ’اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026‘ رپورٹ نے صورتحال کا ایک تشویشناک پہلو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی 63 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، ایک وقت کی مناسب اور صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ جنوبی ایشیا میں صحت بخش خوراک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اسے خرید پانے والے پاکستانیوں کا تناسب خطے میں کم ترین سطح پر ہے۔

معاشی ماہر عابد قیوم سلہری نے ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہاؤس ہولڈ انکم اینڈ ایکسپینڈیچر سروے پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق غربت میں اضافے کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان فرق بھی بڑھ رہا ہے۔ جب گھر کا زیادہ تر بجٹ خوراک، کرایے، بجلی اور گیس جیسے اخراجات میں چلا جائے تو تعلیم اور صحت کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے، جس کے اثرات بچوں کے مستقبل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بچوں کی غذائیت کا پہلو تو اور بھی افسوسناک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر تین میں سے ایک پاکستانی بچہ عمر کے لحاظ سے مطلوبہ جسمانی نشوونما حاصل نہیں کر پاتا، جبکہ غذائی قلت اور خون کی کمی بھی بڑے مسائل میں شامل ہیں۔

پاکستانی کریانہ کی دکان پر خریداری، پاکستان معیشت تجزیہ
بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کو خوراک کی مقدار اور معیار دونوں کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

غربت کے بڑھتے اعداد و شمار

2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 41,545 روپے سے بڑھ کر 82,179 روپے ہوئی، لیکن اسی عرصے میں فی کس غربت کی لکیر بھی 3,758 روپے سے بڑھ کر 8,484 روپے ہوگئی۔ مہنگائی کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔

عالمی بینک کے مطابق 2023-24 تک غربت کی شرح بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ تقریباً 13 ملین مزید پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ شرح نمو اب بھی کمزور ہے اور غربت میں کمی ایک بڑا چیلنج برقرار ہے۔

گیلپ پاکستان کے اعداد و شمار بھی ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں: 2019 سے 2025 کے دوران اوسط گھریلو آمدنی شہری پاکستان میں 11 فیصد کم ہوئی، جبکہ دیہی علاقوں میں معمولی اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر گھریلو آمدنی میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

برائے نام اور حقیقی: موازنہ

اشاریہ برائے نام صورتحال حقیقی صورتحال
اوسط ماہانہ اجرت 24,028 سے 39,042 روپے (62 فیصد اضافہ) مہنگائی نے اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا
ماہانہ گھریلو آمدنی 41,545 سے 82,179 روپے حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی
غربت کی شرح شرح نمو 3.70 فیصد 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد
خوراک کی استطاعت فی کس آمدنی 1,901 ڈالر 63 فیصد آبادی صحت بخش خوراک سے محروم

کالم نگار کی رائے

یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مجموعی معیشت بہتر ہورہی ہے تو اس بہتری کا اثر عام آدمی کی جیب میں کیوں محسوس نہیں ہورہا؟ اگر ایک مزدور، ملازم، چھوٹے دکاندار یا متوسط گھرانے کو مہینے کے آخر میں یہ سوچنا پڑے کہ بجلی کا بل دیں، بچوں کی فیس دیں، راشن خریدیں یا دوا لیں، تو اس معاشی بحالی کا عام آدمی کے لیے عملی مطلب کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں برائے نام آمدنی بڑھی ہے، مگر حقیقی قوت خرید اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ حکومت کے لیے معاشی استحکام ایک کامیابی ہوسکتا ہے، لیکن گھر کے بجٹ میں مسلسل کمی عام شہری کے لیے اسے کامیابی محسوس نہیں ہونے دیتی۔

عام پاکستانی کو شرح نمو کے خوبصورت ہندسے نہیں، اپنی جیب میں بڑھتی ہوئی قوت خرید چاہیے۔ اسے یہ جاننے سے زیادہ دلچسپی ہے کہ اس کی تنخواہ سے مہینے کا راشن پورا ہوتا ہے یا نہیں، بچوں کی فیس ادا ہوسکتی ہے یا نہیں اور بجلی کا بل دینے کے بعد گھر چلانے کے لیے کچھ باقی بچتا ہے یا نہیں۔ اسی لیے وطن نیوز کی اردو ویب سائٹ پر معاشی موضوعات پر ہونے والی ہر بحث اسی نکتے پر آکر ٹھہرتی ہے۔

چنانچہ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ حکومت کتنے فیصد شرح نمو کا اعلان کرتی ہے یا عالمی ادارے کتنے اچھے تبصرے کرتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ عام آدمی کی حقیقی آمدنی، روزگار، بچت اور معیار زندگی میں کیا بہتری آئی۔ اگر یہ بہتری نظر نہیں آتی تو صرف معاشی بحالی کے دعوے عوام کے غصے اور بے چینی کو کم نہیں کریں گے بلکہ سرکاری دعووں اور عوامی تجربے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ مزید بداعتمادی پیدا کرسکتا ہے۔

خلاصہ

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اسی اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی کی حقیقی آمدنی کم ہوئی، غربت بڑھی اور صحت بخش خوراک کروڑوں کی پہنچ سے دور ہوگئی۔ جب تک معاشی پالیسی کا مرکز شرح نمو کے ہندسے نہیں بلکہ عوام کی قوت خرید اور معیار زندگی ہوگا، تب تک یہ بحالی عام آدمی کے لیے محض ایک دعویٰ رہے گی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

فضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)بلاگ

فضائی حملوں کی سیاست: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کہاں جا رہے ہیں؟ (کالم)

یکم اکتوبر 2026 کو کنڑ اور ہلمند میں پاکستانی فضائی حملوں میں اقوام متحدہ کے مطابق 10 شہری ہلاک ہوئے۔ یہ کالم اس سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ بار بار کے حملوں کی پالیسی کس کے لیے کام کر رہی ہے — اور سیاسی حل کا راستہ کہاں سے نکلے گا۔

مزید پڑھیں
مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ کو سزائے موت: کیا ہے پورا معاملہ؟بلاگ

مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ کو سزائے موت: کیا ہے پورا معاملہ؟

مصری ٹی وی اینکر سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ مصر کے ایک عدالتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔ سارہ خلیفہ: کون ہیں یہ مصری ٹی وی اینکر؟ 39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزاز
نمایاں خبر

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزاز

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ نے ۱۲۰۰ سے زائد اندراجات میں سے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز کے ۴۹ فاتحین کا اعلان کر دیا — سال کے تین صحافی اور دی گارڈین کی فیونا ہاروے کو لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز۔

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔