LIVE
اہم خبر
برازیل: انتخاب میں شکست کے بعد فلاویو بولسونارو امریکا پہنچ گئے، پاسپورٹ منسوخی کے باوجود داخلے کی اجازتاولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیاسعودی عرب میں حوثی میزائلوں کی روک تھام: مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب میزائل تباہ، کشیدگی برقرارچیف جسٹس کے کوریا کے دورے کے دوران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیالانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026: گرمی سے اموات ریکارڈ سطح پر، عالمی صحت ایمرجنسی کا مطالبہپیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا: 28 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذبھارت کے 57 ہزار سے زائد اسکولوں نے ملک گیر مہم میں 4 لاکھ 27 ہزار الیکٹرانک فضلے کی اشیا جمع کیںبیلویو میں نوجوانوں کے لیے موسمیاتی فنڈ: 50,000 ڈالر کی گرانٹس، درخواستیں 5 نومبر تکتین میں سے چار سیاح اب پائیدار سفر کو اہمیت دیتے ہیں، ٹرپ ڈاٹ کام نے مائی ٹریول امپیکٹ متعارف کرا دیااینجی کا برطانیہ بھر میں نئے جنگلات کے لیے دو لاکھ سے زیادہ کاربن یونٹس کا تعاوندبئی میں بیس لاکھ پلاسٹک بوتلیں اسکول بیگ بن گئیںعالمی جنوب کے شہر دہلی اعلامیہ لے کر کاپ31 انطالیہ جا رہے ہیںڈنمارک کی وزیر سگنے منک ذہنی دباؤ کے باعث مستعفیڈانس کی خوشی سے متاثر نیا فیشن مجموعہ پیشہیری کین نے پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز جیت لیایورپی یونین نے موسمیاتی لچک کا نیا قانون پیش کر دیاایونٹے نے ذہین مراعات پلیٹ فارم کے لیے 30 ملین ڈالر حاصل کر لیےایپل نے ایم 6 چپ والے نئے میک بک پرو اور آئی میک پیش کر دیےانطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہوزیراعظم اور جماعت اسلامی میں پیٹرول ریلیف پر مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہبرازیل: انتخاب میں شکست کے بعد فلاویو بولسونارو امریکا پہنچ گئے، پاسپورٹ منسوخی کے باوجود داخلے کی اجازتاولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیاسعودی عرب میں حوثی میزائلوں کی روک تھام: مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب میزائل تباہ، کشیدگی برقرارچیف جسٹس کے کوریا کے دورے کے دوران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیالانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026: گرمی سے اموات ریکارڈ سطح پر، عالمی صحت ایمرجنسی کا مطالبہپیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا: 28 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذبھارت کے 57 ہزار سے زائد اسکولوں نے ملک گیر مہم میں 4 لاکھ 27 ہزار الیکٹرانک فضلے کی اشیا جمع کیںبیلویو میں نوجوانوں کے لیے موسمیاتی فنڈ: 50,000 ڈالر کی گرانٹس، درخواستیں 5 نومبر تکتین میں سے چار سیاح اب پائیدار سفر کو اہمیت دیتے ہیں، ٹرپ ڈاٹ کام نے مائی ٹریول امپیکٹ متعارف کرا دیااینجی کا برطانیہ بھر میں نئے جنگلات کے لیے دو لاکھ سے زیادہ کاربن یونٹس کا تعاوندبئی میں بیس لاکھ پلاسٹک بوتلیں اسکول بیگ بن گئیںعالمی جنوب کے شہر دہلی اعلامیہ لے کر کاپ31 انطالیہ جا رہے ہیںڈنمارک کی وزیر سگنے منک ذہنی دباؤ کے باعث مستعفیڈانس کی خوشی سے متاثر نیا فیشن مجموعہ پیشہیری کین نے پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز جیت لیایورپی یونین نے موسمیاتی لچک کا نیا قانون پیش کر دیاایونٹے نے ذہین مراعات پلیٹ فارم کے لیے 30 ملین ڈالر حاصل کر لیےایپل نے ایم 6 چپ والے نئے میک بک پرو اور آئی میک پیش کر دیےانطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہوزیراعظم اور جماعت اسلامی میں پیٹرول ریلیف پر مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ
مضامین

برآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانی

News Desk 6شائع شدہ 2 اکتوبر، 2026
برآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانی
Share this story

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 3.56 ارب ڈالر رہا — ماہ بہ ماہ 7.99 فیصد اور سال بہ سال 6.15 فیصد اضافہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مہینے برآمدات میں نمایاں بہتری بھی آئی: برآمدات 2.94 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو اگست کے مقابلے میں 16.07 فیصد اور گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 17.61 فیصد زیادہ ہیں۔ پھر خسارہ کیوں نہ گھٹا؟ جواب درآمدات کی تیز رفتار میں چھپا ہے۔

FAKTA

  • ستمبر 2026 کا تجارتی خسارہ: 3.56 ارب ڈالر (+7.99% ماہانہ، +6.15% سالانہ)
  • ستمبر کی برآمدات: 2.94 ارب ڈالر (+16.07% ماہانہ، +17.61% سالانہ)
  • ستمبر کی درآمدات: 6.49 ارب ڈالر (+11.5% ماہانہ، +11.05% سالانہ)
  • پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر، مالی سال 27): خسارہ 10.79 ارب ڈالر (+15.13% سالانہ)
  • ذرائع: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد و شمار

اعداد کیا کہتے ہیں

ستمبر میں برآمدات میں تقریباً 40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، مگر درآمدات میں تقریباً 67 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو گیا — یعنی درآمدات کی مطلق نمو برآمدات کی نمو سے کہیں زیادہ رہی۔ نتیجہ یہ کہ تجارتی خلا اگست کے مقابلے میں 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مزید وسیع ہو گیا۔

اشارہ اگست 2026 ستمبر 2026 سالانہ تبدیلی
برآمدات 2.53 ارب ڈالر 2.94 ارب ڈالر +17.61%
درآمدات 5.82 ارب ڈالر 6.49 ارب ڈالر +11.05%
تجارتی خسارہ 3.29 ارب ڈالر 3.56 ارب ڈالر +6.15%
درآمدی بل کی برآمداتی کوریج ~43% ~45% بہتری مگر ناکافی

روپے میں بات کریں تو ستمبر کی برآمدات 815.1 ارب روپے اور درآمدات 1.80 کھرب روپے رہیں، یوں ماہانہ خسارہ تقریباً 988.4 ارب روپے بنا۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا مجموعی خسارہ 10.79 ارب ڈالر (3 کھرب روپے سے زائد) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے 9.37 ارب ڈالر سے 15.13 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں درآمدات 13.21 فیصد بڑھ کر 19.22 ارب ڈالر ہوئیں جبکہ برآمدات 10.84 فیصد اضافے کے ساتھ 8.42 ارب ڈالر رہیں — اور برآمدات کی درآمدی کوریج 45 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 44 فیصد رہ گئی۔

تجارتی خسارہ: کراچی گیٹ وے ٹرمینل پر کنٹینر جہاز
کراچی گیٹ وے ٹرمینل: درآمدات و برآمدات کا مرکزی دروازہ — درآمدی بل میں اضافہ تجارتی خلا بڑھا رہا ہے۔

درآمدات کی رفتار کیوں تیز ہے؟

یہ سوال محض اعداد کا نہیں، ڈھانچے کا ہے۔ درآمدات کا ایک بڑا حصہ توانائی اور خام مال پر مشتمل ہے — ایسی اشیا جن کی مانگ معاشی سرگرمی کے ساتھ بڑھتی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں: مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں خلیج کے ساتھ تجارتی خسارہ 3.45 ارب ڈالر رہا، اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات مجموعی طور پر علاقے سے توانائی کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ یعنی تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست پاکستان کے تجارتی توازن پر اثر ڈالتا ہے۔

وزارت خزانہ کی ستمبر کی “اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک” رپورٹ میں بھی بیرونی شعبے کا بنیادی خطرہ بلند عالمی تیل قیمتوں کو قرار دیا گیا ہے، جو لاگت بڑھاتی ہیں، قوت خرید کمزور کرتی ہیں اور درآمدی بل بڑھاتی ہیں۔

سہارے کہاں سے مل رہے ہیں؟

اچھی خبر یہ ہے کہ بیرونی کھاتے کا دباؤ صرف تجارت سے نہیں ماپا جاتا۔ اسی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ برس کے 85 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا — اس کی بڑی وجہ ترسیلات زر میں 14.7 فیصد اضافہ ہے۔ یعنی بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم تجارتی خلا کا ایک حصہ پورا کر رہی ہیں۔

دوسری طرف حکومت بیرونی مالی معاونت کے نئے راستے بھی تلاش کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ستمبر کو کہا کہ چین کے ساتھ 30 ارب یوآن کی کرنسی سویپ لائن مکمل طور پر استعمال ہو چکی ہے اور 2027 میں اس کی تجدید کے وقت اس میں توسیع کی درخواست کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج استحکام سہولت پر دو ماہ میں جواب کی توقع ہے، اور امریکی ایکزم بینک و ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن سے بھی بات چیت جاری ہے۔

تجارتی خسارہ: برآمدی ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام
ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام: برآمدی شعبے کی کارکردگی تجارتی توازن کے لیے فیصلہ کن ہے۔

اصل مسئلہ ڈھانچہ ہے، صرف اعداد نہیں

ستمبر کے اعداد ایک متضاد تصویر پیش کرتے ہیں: برآمدات کی شرح نمو درآمدات سے زیادہ ہے (17.61 فیصد بمقابلہ 11.05 فیصد سالانہ)، مگر مطلق ڈالر میں درآمدات کا اضافہ برآمدات کے اضافے سے کہیں بڑا ہے۔ یہی وہ ریاضی ہے جو خسارہ بڑھاتی ہے — جب آپ کا درآمدی بل آپ کی برآمدات سے دگنا ہو، تو یکساں شرح نمو بھی خلا کو وسیع کرتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ برآمدات کی کارکردگی ناکام ہے؛ 2.94 ارب ڈالر کی ماہانہ برآمدات ایک مضبوط اشارہ ہے۔ مگر جب تک برآمدات درآمدی بل کا صرف 45 فیصد پورا کریں گی، ہر مہینہ بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ مستقل حل درآمدات کو دبانے میں نہیں — توانائی اور خام مال کی درآمد تو پیداوار کے لیے ضروری ہے — بلکہ برآمدات کی بنیاد وسیع کرنے میں ہے: نئی منڈیاں، زیادہ قیمت والی مصنوعات، اور وہ شعبے جو ڈالر کمائیں نہ کہ خرچ کریں۔

نتیجہ

ستمبر 2026 کے اعداد و شمار پاکستان کی معیشت کی ایک پرانی کہانی دہراتے ہیں: محنت رنگ لا رہی ہے، مگر دوڑ ابھی برابر کی نہیں۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں — یہ کامیابی ہے۔ مگر درآمدات تیز تر بڑھ رہی ہیں — یہ چیلنج ہے۔ اس خلا کو پاٹنے کے لیے ترسیلات زر اور بیرونی قرضے عارضی سہارے تو دے سکتے ہیں، مگر پائیدار جواب ایک ہی ہے: برآمدات کو اس رفتار سے بڑھانا کہ وہ درآمدی بل کا پیچھا نہیں، اس سے آگے نکلیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہمضامین

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کے حوالے سے دنیا کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں اے آئی اور انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ ایک سمٹ سے پیر 5 اکتوبر 2026 کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں اور ملکوں کے درمیان

مزید پڑھیں
کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہمضامین

کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہ

کراچی میں 3 اکتوبر 2026 کو ایک ایسے منصوبے کا افتتاح ہوا جو شہر کے دیرینہ پانی کے بحران کے حل کی ایک نئی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہارون آباد کے گٹر باغیچہ میں 35 ملین گیلن یومیہ گنجائش کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ٹی پی 1) کا افتتاح کیا، جبکہ مزید 65 ملی

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

اولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیا
نمایاں خبر

اولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیا

جمہوریہ کانگو میں اولم ایگری کے لکڑی کے کاروبار نے رائٹرز گلوبل سسٹین ایبلٹی ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیتا ہے، جو 21 لاکھ ہیکٹر جنگل کے پائیدار انتظام کا اعتراف ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔