LIVE
اہم خبر
برازیل: انتخاب میں شکست کے بعد فلاویو بولسونارو امریکا پہنچ گئے، پاسپورٹ منسوخی کے باوجود داخلے کی اجازتاولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیاسعودی عرب میں حوثی میزائلوں کی روک تھام: مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب میزائل تباہ، کشیدگی برقرارچیف جسٹس کے کوریا کے دورے کے دوران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیالانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026: گرمی سے اموات ریکارڈ سطح پر، عالمی صحت ایمرجنسی کا مطالبہپیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا: 28 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذبھارت کے 57 ہزار سے زائد اسکولوں نے ملک گیر مہم میں 4 لاکھ 27 ہزار الیکٹرانک فضلے کی اشیا جمع کیںبیلویو میں نوجوانوں کے لیے موسمیاتی فنڈ: 50,000 ڈالر کی گرانٹس، درخواستیں 5 نومبر تکتین میں سے چار سیاح اب پائیدار سفر کو اہمیت دیتے ہیں، ٹرپ ڈاٹ کام نے مائی ٹریول امپیکٹ متعارف کرا دیااینجی کا برطانیہ بھر میں نئے جنگلات کے لیے دو لاکھ سے زیادہ کاربن یونٹس کا تعاوندبئی میں بیس لاکھ پلاسٹک بوتلیں اسکول بیگ بن گئیںعالمی جنوب کے شہر دہلی اعلامیہ لے کر کاپ31 انطالیہ جا رہے ہیںڈنمارک کی وزیر سگنے منک ذہنی دباؤ کے باعث مستعفیڈانس کی خوشی سے متاثر نیا فیشن مجموعہ پیشہیری کین نے پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز جیت لیایورپی یونین نے موسمیاتی لچک کا نیا قانون پیش کر دیاایونٹے نے ذہین مراعات پلیٹ فارم کے لیے 30 ملین ڈالر حاصل کر لیےایپل نے ایم 6 چپ والے نئے میک بک پرو اور آئی میک پیش کر دیےانطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہوزیراعظم اور جماعت اسلامی میں پیٹرول ریلیف پر مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہبرازیل: انتخاب میں شکست کے بعد فلاویو بولسونارو امریکا پہنچ گئے، پاسپورٹ منسوخی کے باوجود داخلے کی اجازتاولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیاسعودی عرب میں حوثی میزائلوں کی روک تھام: مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب میزائل تباہ، کشیدگی برقرارچیف جسٹس کے کوریا کے دورے کے دوران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیالانسٹ کاؤنٹ ڈاؤن 2026: گرمی سے اموات ریکارڈ سطح پر، عالمی صحت ایمرجنسی کا مطالبہپیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا: 28 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذبھارت کے 57 ہزار سے زائد اسکولوں نے ملک گیر مہم میں 4 لاکھ 27 ہزار الیکٹرانک فضلے کی اشیا جمع کیںبیلویو میں نوجوانوں کے لیے موسمیاتی فنڈ: 50,000 ڈالر کی گرانٹس، درخواستیں 5 نومبر تکتین میں سے چار سیاح اب پائیدار سفر کو اہمیت دیتے ہیں، ٹرپ ڈاٹ کام نے مائی ٹریول امپیکٹ متعارف کرا دیااینجی کا برطانیہ بھر میں نئے جنگلات کے لیے دو لاکھ سے زیادہ کاربن یونٹس کا تعاوندبئی میں بیس لاکھ پلاسٹک بوتلیں اسکول بیگ بن گئیںعالمی جنوب کے شہر دہلی اعلامیہ لے کر کاپ31 انطالیہ جا رہے ہیںڈنمارک کی وزیر سگنے منک ذہنی دباؤ کے باعث مستعفیڈانس کی خوشی سے متاثر نیا فیشن مجموعہ پیشہیری کین نے پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز جیت لیایورپی یونین نے موسمیاتی لچک کا نیا قانون پیش کر دیاایونٹے نے ذہین مراعات پلیٹ فارم کے لیے 30 ملین ڈالر حاصل کر لیےایپل نے ایم 6 چپ والے نئے میک بک پرو اور آئی میک پیش کر دیےانطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہوزیراعظم اور جماعت اسلامی میں پیٹرول ریلیف پر مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ
مضامین

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہ

News Desk 6شائع شدہ 6 اکتوبر، 2026
مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہ
Share this story

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کے حوالے سے دنیا کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں اے آئی اور انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ ایک سمٹ سے پیر 5 اکتوبر 2026 کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں اور ملکوں کے درمیان جاری بے رحم دوڑ انسانیت کی بقا سمیت انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ ان کے بقول، اب مزید انتظار یا محض خیر سگالی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

اہم نکات

  • وولکر ترک نے کہا کہ اے آئی کے اوزار چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہیں، بغیر عوامی نگرانی کے، اور وہ کام کر رہے ہیں جن کا خود ان کے بنانے والوں کو بھی پورا اندازہ نہیں۔
  • ان کے مطابق اے آئی برابری، آزادی، پرائیویسی اور عوامی بحث کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہے اور پوری آبادیوں کو ایک بٹن دبانے پر مواصلات، صاف پانی، حرارت اور مالی خدمات سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
  • انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشینوں کو کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے سے فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ اے آئی جنگ کی صورت پہلے ہی بدل رہی ہے۔
  • اسی دن نیویارک سٹی کونسل نے اے آئی کے خطرات پر غیر معمولی اجلاس منعقد کیا اور اے آئی کی نگرانی کے 10 بلوں پر غور شروع کیا۔
  • انہوں نے لازمی انسانی حقوق کے تحفظات، ذمہ داری کے اصولوں اور عالمی اتفاق رائے کا مطالبہ کیا، اور 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے رضاکارانہ معاہدے کو ناکافی قرار دیا۔

طاقت چند ہاتھوں میں

وولکر ترک نے اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت سائنس، صحت، تعلیم اور یہاں تک کہ انسانی حقوق کے کام میں حیران کن ترقی لا سکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ طاقتور اوزار گنے چنے افراد اور اداروں کے کنٹرول میں بنائے جا رہے ہیں، جن پر عوامی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ یہی تشویش کی اصل جڑ ہے: وہ نظام جو اربوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گے، ان کے بارے میں فیصلے چند بورڈ رومز میں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ایک کھلا خط بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات کو روکنے اور مستقبل کے خود مختار نظاموں کو انسانی حفاظتوں سے بچنے سے روکنے کے لیے کہیں ناکافی ہے۔ ان کے الفاظ میں، زیادہ طاقتور اے آئی کی موجودہ دوڑ زندگی کے ہر پہلو کے لیے وجودی خطرات کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

خاموش ڈسٹوپیا کا خطرہ

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی بحث: ایک جدید ڈیٹا سینٹر جس میں اے آئی نظام چل رہے ہیں
مصنوعی ذہانت کو چلانے والا ایک جدید ڈیٹا سینٹر۔ ترک کے بقول، اس ٹیکنالوجی کا کنٹرول چند ہاتھوں میں مرکوز ہے۔

سب سے پریشان کن انتباہ یہ تھا کہ اے آئی برابری، آزادی، پرائیویسی اور عوامی بحث کو بظاہر چھوٹے چھوٹے طریقوں سے کمزور کر سکتی ہے، یوں کہ ڈسٹوپیا چپکے سے آ جائے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پوری کی پوری آبادیوں کو ایک بٹن دبانے پر مواصلات، صاف پانی، حرارت اور مالی خدمات سے کاٹا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تحقیقات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق وہ طلبہ جو اے آئی پر انحصار کرتے ہیں، کم یاد رکھتے ہیں اور کم آزادانہ سوچتے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ کیا دنیا اس مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی بھی اس ٹیکنالوجی کو سمجھ نہ سکے، اس پر سوال نہ اٹھا سکے اور اس کی رہنمائی بھی نہ کر سکے؟

جنگ میں مشین کے فیصلے

حقوق انسانی کے سربراہ نے فوری اقدام کا مطالبہ کیا کہ مشینوں کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی جنگ کی صورت پہلے ہی بدل رہی ہے، اور اگر اس موڑ پر لکیر نہ کھینچی گئی تو نتائج ناقابل تصور ہو سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، اگر ہم تیزی سے آگے نہ بڑھے تو ہم اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ناقابل پیشگوئی نتائج کا خطرہ مول لیں گے۔

مصنوعی ذہانت کے ضابطے: تجویز کردہ اقدامات

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر اقوام متحدہ کی تجاویز: جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے رکن ممالک کے جھنڈے
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے رکن ممالک کے جھنڈے۔ ترک نے عالمی اتفاق رائے اور ملٹی لیٹرل اداروں کے ذریعے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک نے لازمی انسانی حقوق کے تحفظات اور ذمہ داری کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تیار ہوں۔ جو ممالک اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرتے ہیں یا ان کی سپلائی چین پر اثر رکھتے ہیں، انہیں کمپنیوں کو ذمہ دارانہ رویے پر مجبور کرنا چاہیے اور خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ ان کے بقول، ہر جواب موجودہ قانون میں نہیں ملے گا اور کچھ شعبوں میں نئے قانونی راستے درکار ہوں گے، لیکن ذمہ داری، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے اصولوں کو اپ ڈیٹ کرنا عبوری تحفظ دے سکتا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے دو نئے اقدامات — اے آئی گورننس پر عالمی مکالمے اور اے آئی پر آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل — کا خیر مقدم کیا، ساتھ ہی 29 ممالک اور یورپی یونین کے اس مشترکہ مطالبے کی حمایت کی جس میں فرنٹیئر اے آئی ماڈلز پر سخت کنٹرول مانگا گیا ہے۔

ضابطے کی قسم اطلاق نفاذ اور جوابدہی تازہ مثال
رضاکارانہ (خود ساختہ ضابطے) صرف دستخط کرنے والی کمپنیاں خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں؛ معاہدے کو اخلاقی طور پر پابند قرار دیا گیا 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور چھ اے آئی کمپنیوں کے سربراہان کا معاہدہ
لازمی (حکومتی ضابطے) تمام کمپنیاں، خاص طور پر وہ ممالک جو فرنٹیئر کمپنیوں کی میزبانی کرتے ہیں سنگین واقعات کی رپورٹنگ، صلاحیتوں کی تصدیق اور انسانی حقوق کی جانچ پڑتال لازمی نیویارک سٹی کونسل کے زیر غور 10 بل؛ 29 ممالک اور یورپی یونین کا مشترکہ مطالبہ

ترک نے کہا کہ بہت کم لوگ بات پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے تین ہفتے قبل ممالک اور فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کو خط لکھ کر فوری اقدام کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک اکیلے اس ٹیکنالوجی کو قابو نہیں کر سکتا، کوئی کمپنی خود یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ دنیا کو کون سے خطرات قبول کرنے ہیں، اور کسی انسان سے یہ نہیں مانگا جا سکتا کہ وہ تکنیکی ترقی کے دعوؤں کے بدلے اپنے انسانی حقوق چھوڑ دے۔

اسی پس منظر میں اینتھروپک کے ایک سابق محقق نے استعفیٰ دے کر خبردار کیا تھا کہ اے آئی بنانے والے خود سچے دل سے مانتے ہیں کہ یہ دہائی کے آخر تک سب کو مار سکتی ہے، جبکہ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اپنے مضمون میں تجویز دی تھی کہ ترقی جاری رہے لیکن تیسرے فریق کی جانچ اور حکومتوں کے تعاون سمیت کافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔ ترک نے اس تجویز کا خیر مقدم تو کیا، مگر زور دیا کہ حکومتوں کو بھی فوری طور پر ضابطے بنانے ہوں گے۔

نتیجہ

وولکر ترک کا پیغام دو ٹوک ہے: مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے اور رضاکارانہ وعدے کافی نہیں۔ یا تو دنیا ابھی لازمی تحفظات، جوابدہی اور عالمی تعاون کا ڈھانچہ کھڑا کرے، یا پھر آنے والی نسلیں ان فیصلوں کے نتائج بھگتیں گی جو ان کی رائے کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے کہا، ہم مزید انتظار یا خیر سگالی پر انحصار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مزید تجزیاتی مضامین کے لیے وٹن نیوز کی اردو خبروں کا صفحہ ملاحظہ کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہمضامین

کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہ

کراچی میں 3 اکتوبر 2026 کو ایک ایسے منصوبے کا افتتاح ہوا جو شہر کے دیرینہ پانی کے بحران کے حل کی ایک نئی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہارون آباد کے گٹر باغیچہ میں 35 ملین گیلن یومیہ گنجائش کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ٹی پی 1) کا افتتاح کیا، جبکہ مزید 65 ملی

مزید پڑھیں
برآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانیمضامین

برآمدات بڑھیں مگر خسارہ نہ گھٹا: ستمبر 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کی کہانی

ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 3.56 ارب ڈالر رہا جبکہ برآمدات 2.94 ارب ڈالر تک پہنچیں — شرح نمو برآمدات کی زیادہ، مگر ڈالر میں اضافہ درآمدات کا۔ یہ مضمون ان اعداد کے پیچھے چھپی معاشی کہانی کا جائزہ لیتا ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

اولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیا
نمایاں خبر

اولم ایگری کے کانگو جنگلات کے کاروبار نے رائٹرز ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیت لیا

جمہوریہ کانگو میں اولم ایگری کے لکڑی کے کاروبار نے رائٹرز گلوبل سسٹین ایبلٹی ایوارڈز 2026 میں بائیو ڈائیورسٹی چیمپئن کا اعزاز جیتا ہے، جو 21 لاکھ ہیکٹر جنگل کے پائیدار انتظام کا اعتراف ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔