افغانستان کے سابق کپتان اور لیگ اسپنر راشد خان نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ انہوں نے انتیس اکتوبر کو شارجہ میں زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران مردوں کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دو سو وکٹیں مکمل کرنے والے پہلے بولر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

تاریخی وکٹ کیسے ملی
راشد خان نے یہ سنگ میل نویں اوور میں حاصل کیا، جب انہوں نے زمبابوے کے بلے باز تدیواناشے مارومانی کو صرف دو رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ یہ ان کے ایک سو بیسویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں دو سواں وکٹ تھی۔ ان کی اوسط تیرہ اعشاریہ چھیانوے اور اکانومی ریٹ چھ اعشاریہ تیرہ رہا ہے، اور ان کے ریکارڈ میں دو مرتبہ پانچ وکٹیں لینا بھی شامل ہے، جبکہ ان کی بہترین کارکردگی پانچ وکٹیں تین رنز کے عوض ہے۔
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر انگلستان کے عادل راشد ہیں، جن کی وکٹوں کی تعداد ایک سو اکہتر ہے۔ یعنی راشد خان اب اپنے قریبی حریف سے انتیس وکٹیں آگے ہیں، جو اس سنگ میل کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
میچ کی کہانی: تباہی سے بحالی تک
یہ میچ خود بھی ایک یادگار مقابلہ تھا۔ افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ابتدائی تباہی کا سامنا کیا اور صرف اڑتیس رنز پر پانچ وکٹیں گنوا دیں۔ اس کے بعد عظمت اللہ عمرزئی اور اعجاز احمد احمدزئی نے شاندار بحالی کی۔ عمرزئی نے صرف پچاس گیندوں پر ایک سو سولہ رنز بنائے، جن میں پانچ چوکے اور بارہ چھکے شامل تھے، جبکہ اعجاز نے ستائیس گیندوں پر باون رنز بنائے۔ دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے ایک سو بیالیس رنز کی شراکت قائم کی، جو ٹی ٹوئنٹی میں چھٹی یا اس سے نیچے کی وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت ہے۔
افغانستان نے مقررہ بیس اوورز میں سات وکٹوں پر دو سو اکیس رنز بنائے۔ جواب میں زمبابوے کے کپتان سکندر رضا نے سنچری بنائی، لیکن افغانستان نے انیس رنز سے کامیابی حاصل کر کے تین میچوں کی سیریز میں ناقابل تسخیر برتری حاصل کر لی۔ سیریز کا پہلا میچ افغانستان نے سینتیس رنز سے جیتا تھا، اور تیسرا میچ یکم نومبر کو کھیلا جائے گا۔
اہم نکات
- راشد خان مردوں کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دو سو وکٹیں لینے والے پہلے بولر بن گئے۔
- یہ سنگ میل انتیس اکتوبر کو شارجہ میں زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں حاصل ہوا۔
- راشد نے یہ کارنامہ اپنے ایک سو بیسویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انجام دیا، ان کی اوسط تیرہ اعشاریہ چھیانوے ہے۔
- دوسرے نمبر پر انگلستان کے عادل راشد ہیں، جن کی وکٹیں ایک سو اکہتر ہیں۔
- اسی میچ میں افغانستان نے دو سو اکیس رنز بنا کر انیس رنز سے کامیابی حاصل کی اور سیریز میں ناقابل تسخیر برتری لے لی۔
نتیجہ
دو سو ٹی ٹوئنٹی وکٹیں صرف ایک عدد نہیں، بلکہ مستقل مزاجی، مہارت اور لمبی عمر کی علامت ہیں۔ اٹھائیس سالہ راشد خان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مختصر فارمیٹ کے عظیم ترین بولروں میں سے ایک ہیں، اور ان کا یہ ریکارڈ آنے والے برسوں تک کرکٹ کی تاریخ میں نمایاں رہے گا۔






























