امریکی حکومت حراست میں لیے گئے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے ان کے وطن واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عدالتی دستاویزات سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پہلی پروازیں پیر سے روانہ ہو سکتی ہیں، اور اس منصوبے کے تحت 150 سے زیادہ افراد کو بھیجا جانا متوقع ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ واپس لوٹائے جانے والے افراد کی زندگیوں کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں افغان پناہ گزینوں کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے افغانستان میں امریکی فوج اور امدادی اداروں کے ساتھ کام کیا تھا، اور 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جان کے خطرے کے باعث اپنا ملک چھوڑا تھا۔
اہم نکات
- امریکی انتظامیہ حراست میں لیے گئے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
- عدالتی دستاویزات کے مطابق پہلی پروازیں پیر سے ریاست لوزیانا سے روانہ ہو سکتی ہیں۔
- اس منصوبے کے تحت 150 سے زیادہ افغان شہریوں کو بھیجے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
- انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ واپس بھیجے جانے والوں کو طالبان کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
- امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے مستقبل کی ملک بدری کی کارروائیوں پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔
منصوبہ کیا ہے؟
عدالتی دستاویزات کے مطابق افغان شہریوں کو ابتدائی طور پر پیر سے ملک بدر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے امریکی ریاست لوزیانا سے پاکستان کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے حراستی اور کارروائی کے مراکز موجود ہیں۔
امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا، اس لیے وہ افغان شہریوں کو براہ راست افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے پاکستان کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ افغان شہریوں کو پاکستان پہنچنے کے بعد افغانستان منتقل کیا جانا ہے۔
افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے ملک بدر کرنے کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے بلومبرگ نے دی تھی۔ اس کے بعد نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ان افراد کو پاکستان پہنچنے کے بعد افغانستان بھیجا جائے گا۔
عدالتی دستاویزات میں کیا درج ہے؟
جمعے کو ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں امیگریشن حکام کے ایک سینئر اہلکار نے تسلیم کیا کہ ایک افغان شہری کو لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے پاکستان جانے والی آئندہ چارٹر پرواز میں شامل کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں مزید سفر کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جانا تھا۔ یہ دستاویز ایک ایسے افغان شہری کے مقدمے میں جمع کرائی گئی جو حراست میں نہیں اور جو اسے ملک بدر کرنے کی کوششوں کو عدالت میں چیلنج کر رہا ہے۔
اوکلاہوما کی ایک اور وفاقی عدالت میں استغاثہ نے پیر کو جمع کرائی گئی دستاویز میں انکشاف کیا کہ ایک اور افغان شہری کو آئندہ ہفتے کسی وقت افغانستان ملک بدر کیا جانا تھا۔ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ نے ہفتے کو بتایا کہ اس نے لوزیانا سے پاکستان جانے والی منگل کی ایک پرواز کی تصدیق کی ہے، جس میں افغان شہری سوار ہوں گے۔

خدشات اور حکام کا مؤقف
تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کو طالبان کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان میں سے ہزاروں افراد نے افغانستان میں امریکی فوج اور امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے باعث جان کے خطرے کے پیش نظر ملک چھوڑا تھا۔ افغان شہریوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے صدر شان وین ڈائیور نے اس اقدام کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قانون اور انسانی حقوق کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔
بہت سے مقدمات میں امریکی امیگریشن جج یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ اگر ان افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا گیا تو ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد میں سے کسی کے حق میں ایسا عدالتی حکم موجود ہے یا نہیں جو انہیں وہاں بھیجنے سے روکتا ہو۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک ترجمان نے ہفتے کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ امیگریشن حکام مستقبل میں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کرتے، کیونکہ اس کا تعلق آپریشنل سکیورٹی اور اہلکاروں کے تحفظ سے ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اس بارے میں بھیجی گئی ای میلز کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ یہ منصوبہ ابھی باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































